Tuesday, December 23, 2025
اللہ تعالیٰ سےامید بھی اورخوف بھی
- یقینا میں غفور اور رحیم ہوں مگر دوسری طرف میرا عذاب بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص نڈر اور نچنت بھی نہ ہوجائے ‘ بلکہ میرے بندوں کو ہر وقت ” بین الخوف و الرجا “ کی کیفیت میں رہنا چاہیے۔ وہ میری رحمت اور مغفرت کی امید بھی رکھیں اور میرے عذاب سے ڈرتے بھی رہیں۔
۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا اکٹھا ذکر کردیا۔ تاکہ لوگ نہ تو اللہ تعالیٰ کی بخشش پر ہی تکیہ کرکے بےخوف ہوجائیں اور گناہ کے کاموں پر دلیر ہوجائیں اور نہ ہی اللہ سے اتنا زیادہ ڈرنے لگیں کہ اس کی رحمت سے مایوس ہوجائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کے بعد بھی اپنے نیک اعمال پر تکیہ کرکے بےخوف نہ ہوجانا چاہیے بلکہ اپنی بعض تقصیرات کی وجہ سے اس سے ڈرتے بھی رہنا چاہیے
مساوات
اس آیت کریمہ نے مساوات کا یہ عظیم اصول بیان فرمایا ہے کہ کسی کی عزت اور شرافت کا معیار اس کی قوم اس کا قبیلہ یا وطن نہیں ہے، بلکہ تقوی ہے۔ سب لوگ ایک مرد و عورت یعنی حضرت آدم و حواء علیہما السلام سے پیدا ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے مختلف قبیلے خاندان یا قومیں اس لیے نہیں بنائیں کہ وہ ایک دوسرے پر اپنی بڑائی جتائیں، بلکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ بے شمار انسانوں میں باہمی پہچان کے لیے کچھ تقسیم قائم ہوجائے۔
اللہ تعالیٰ نے عزوشرف کا معیار تقویٰ قرار دیا۔ یعنی جتنا کوئی شخص گناہوں سے بچنے والا اور اللہ سے ڈرنے والا ہوگا۔ اتنا ہی وہ اللہ کے نزدیک معزز و محترم ہوگا۔ اسی مضمون کو رسول اللہ نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں، جو نہایت اہم دستوری دفعات پر مشتمل تھا، یوں بیان فرمایا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔ فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے۔ کیونکہ تم سبھی آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔
Seeking Refuge with Allah
Narrated Mus'ab bin Sa'd: Sa'd bin Abi Waqqas used to recommend these five (statements) and say that the Prophet ﷺ said so (and they are): "O Allah! I seek refuge with You from miserliness, and seek refuge with You from cowardice, and seek refuge with You from being brought back to geriatric old age, and seek refuge with You from the afflictions of the world, and seek refuge with You from the punishment of the grave".
Sahih al-Bukhari 6370 (Book 80, Hadith 67) #6121
مذاق اڑانے سے پرہیز
آیت ١١ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ ” اے اہل ایمان تم میں سے کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے ‘ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں “- ممکن ہے مدمقابل شخص کی کوئی خوبی اس کے ظاہری عیب کے مقابلے میں بہت بڑی ہو۔ مثلاً آپ جس شخص کی بھدی ناک یا چھوٹے کان کا مذاق اڑا رہے ہوں ممکن ہے اس کے دل کا تقویٰ تمہارے تقویٰ کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہو۔ یا ممکن ہے وہ تمہارے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہزار گنا زیادہ محبت کرتا ہو۔ - وَلَا نِسَآئٌ مِّنْ نِّسَآئٍ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُنَّ خَیْرًا مِّنْہُنَّ ” (اسی طرح) عورتیں بھی دوسری عورتوں کا مذاق نہ اڑائیں ‘ ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ “- گویا پہلے حکم میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنے اپنے حلقوں میں ایک دوسرے کا مذاق اور تمسخر اڑانے سے منع کیا گیا ہے۔ اب اس سلسلے کا دوسرا حکم ملاحظہ ہو :- وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ” اور اپنے آپ کو عیب مت لگائو “- اپنے بھائی بندوں پر عیب لگانے سے منع کرنے کا یہ بہت ہی بلیغ انداز ہے کہ اپنے آپ کو عیب نہ لگائو۔ یعنی کسی کو عیب لگانے سے پہلے یہ ضرور سوچ لو کہ وہ تمہاری اپنی ہی ملت کا ایک فرد ہے اور اپنی ملت کے کسی فرد کو عیب لگانا گویا خود اپنے آپ ہی کو عیب لگانے کے مترادف ہے۔- وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ” اور نہ آپس میں ایک دوسرے کے چڑانے والے نام رکھا کرو۔ “- یہ تیسرا حکم ہے کہ کسی فرد یا کسی گروہ کے اصل نام کو چھوڑ کر اس کے لیے کوئی ایسا نام نہ رکھ لوجو اسے پسند نہ ہو۔ یہ ایک مذموم اور ناپسندیدہ حرکت ہے۔- بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ ” ایمان کے بعد تو برائی کا نام بھی برا ہے۔ “- تم تو وہ لوگ ہو جن کے دل ایمان کے نور سے منور ہوچکے ہیں۔ یہ بہت بڑی فضیلت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو نوازا ہے۔ ایسے اعلیٰ مقام و مرتبے پر فائز ہوجانے کے بعد ایسی گھٹیا حرکات کا ارتکاب اب تمہارے شایانِ شان نہیں۔- وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ” اور جو باز نہیں آئیں گے وہی تو ظالم ہیں۔ “- پچھلے فقرے میں معیوب روش کو ترک کرنے کے لیے ترغیب و تشویق کی جھلک تھی جبکہ ان الفاظ میں اس روش سے تائب ہو کر باز نہ آنے والوں کے لیے زجرو توبیخ کا انداز پایا جاتا ہے۔ ممکن ہے کوئی شخص بادی النظر میں مذکورہ برائیوں کو معمولی سمجھے ‘ لیکن کسی معاشرے یا تنظیم میں ایسی برائیوں کا عادتاً رائج ہوجانا انتہائی نقصان دہ ہے۔ - گزشتہ آیت میں جن تین برائیوں کا ذکر ہوا ہے ان کا ارتکاب عام طور پر دوسرے فریق کے رو برو کیا جاتا ہے ۔
The Benefits of Reciting the Quran
Friday, December 12, 2025
قیامت کا یقین
کافر یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں گے یا ہماری خاک کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا تو ہم دوبارہ کیسے پیدا کیے جائیں گے۔ یہ اعتراض کرنے والے لوگ نہ تو اللہ کی صفت حکمت کی معرفت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کے لامحدود علم کی وسعت کی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سب سے کو دوبارہ پیدا کرے پھر انھیں ان کے اچھے یا برے اعمال کی جزا و سزا دے اور اس کا علم اس قدر وسیع ہے کہ وہ ان کی خاک کے منتشر شدہ ذرات تک کو جانتا ہے اور انھیں اکٹھا کرکے انھیں دوبارہ زندگی بخش کر اپنے پاس حاضر کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
استغفار کا حکم
کوئی مومن جس درجے کا بھی وہ مومن ہو اسے اللہ کے حضور اپنے عجزو قصور کا اعتراف کرتے رہنا چاہئے۔ قصور کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی جس قدر عبادت اور اطاعت کا ہم پر حق تھا وہ ہم پوری طرح نبھا نہیں سکے۔ اور ایسا اعتراف تمام انبیاء بھی کرتے آئے ہیں۔ حالانکہ انبیاء سے گناہ کا اور بالخصوص دیدہ دانستہ گناہ کا سرزد ہونا محالات سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسی ارشاد کے مطابق آپ ایک دن میں سو سے زیادہ مرتبہ استغفار فرمایا کرتے تھے۔ اور تمام مسلمان بھی اپنی نمازوں کے دوران اور نمازوں کے بعد بہ تکرار استغفار کرتے رہتے ہیں۔ اس آیت میں رسول اللہ کو اپنے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ آپ کی دعا اللہ کی بارگاہ میں دوسروں کی نسبت بہت زیادہ مستجاب ہے۔- [٢٣] یعنی اللہ تعالیٰ تم سے ہر ایک شخص کی، خواہ وہ مومن ہے یا کافر، نقل و حرکت کو اور اس کی سرگرمیوں کو خوب جانتا ہے کہ وہ کس راہ میں صرف ہو رہی ہیں۔ پھر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کس جگہ مر کر دفن ہوگا اور مَثْوٰکُمْ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے ہر شخص کو مرنے کے بعد جنت یا دوزخ میں جو ٹھکانا ملے گا۔ اللہ اسے بھی خوب جانتا ہے۔
جنت کے چار مشروبات کی صفات
اس آیت میں جنت کے حالات بیان کرتے ہوئے پہلے چار مشروبات اور ان کی صفات کا ذکر فرمایا۔ پہلے نمبر پر پانی کی صفت یہ بیان فرمائی کہ غَیْرَ آسِنْ ہوگا۔ یعنی نہ وہ متعفن ہوگا نہ اس کا رنگ بدلا ہوگا اور نہ ذائقہ۔ دنیا میں پانی کے کھڑے ذخیروں کا عموماً رنگ ذائقہ اور بو تینوں چیزیں بدل جاتی ہیں اور بارش کے پانی میں گردوغبار مل جاتا ہے۔ اور دریاؤں کا پانی مٹی کی آمیزش سے گدلا ہوجاتا ہے۔ جنت میں پانی کے چشموں سے جو پانی جاری ہوگا وہ نہایت صاف ستھرا، نتھرا ہوا، بےرنگ، بےبو ہوگا۔ اس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوگا بدلا ہوا نہ ہوگا۔ دوسرے نمبر پر دودھ کا ذکر فرمایا۔ دنیا میں جو دودھ جانوروں کے تھنوں سے نکلتا ہے۔ اس میں کچھ تو تھنوں کی آلائش کی آمیزش ہوجاتی ہے پھر اگر دودھ کچھ دیر پڑا رہے تو پھٹ جاتا ہے۔ اور اس کا ذائقہ ترش اور بدمزہ ہوجاتا ہے۔ جنت میں دودھ بھی پانی کی طرح چشموں سے رواں ہوگا اور اپنی اصلی حالت میں بدستور قائم رہے گا۔ اس کے ذائقہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تیسرے نمبر پر شراب کا ذکر فرمایا۔ دنیا کی شراب کا ذائقہ تلخ، بوناگوار ہوتی ہے۔ حواس کو مختل کردیتی ہے اور بعض دفعہ سر چکرانے لگتا ہے۔ جنت میں شراب بھی چشموں کی صورت میں رواں ہوگی۔ وہ مذکورہ تمام عیوب سے پاک اور مزیدار ہوگی۔ چوتھے نمبر پر شہد کا ذکر فرمایا۔ جو شہد کی مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے۔ شہد کے چھتے میں موم اور س تھے کی آمیزش ہوتی ہے اور اوپر جھاگ ہوتا ہے۔ جنت میں شہد بھی چشموں سے نکل کر رواں ہوگا۔ نہایت صاف ستھرا اور ایسے عیوب سے پاک ہوگا۔- [١٧] مشروبات کے بعد پھر مختصراً ماکولات کا ذکر فرمایا کہ کھانے کے لیے انہیں ہر طرح کے بہترین اور مزیدار پھل مہیا کئے جائیں گے۔ اور اللہ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ ان کی دنیا کی زندگی کی تمام کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیا جائے گا۔ جو کسی کے ذہن میں نہ آسکیں گی۔ اور ایسی کوتاہیوں کو اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔- [١٨] یعنی ایک طرف تو وہ شخص ہے جو جنت کی متذکرہ بالا نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اور دوسری طرف ایسا شخص ہے جو ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ میں جل رہا ہے۔ کھانے کو اسے خاردار اور زہریلا تھوہر کا درخت ملے گا اور پینے کو سخت گرم کھولتا ہوا پانی۔ کیا ان دونوں کا انجام ایک جیسا ہے۔ ؟
ہرچیزپرقادر
آیت -٣٣ :اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِیََ الْمَوْتٰی ” کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی اور ان کی تخلیق سے تھکا نہیں ‘ وہ اس پر قادر ہے کہ ُ مردوں کو زندہ کر دے “- یہ عقلی دلیل ہے اس شخص کے لیے جو اللہ کو ” خالق “ تو مانتا ہے مگر بعث بعد الموت پر یقین نہیں رکھتا۔ سورة قٓکی آیت ١٥ میں بھی ایسے ” فلسفیوں “ سے سوال کیا گیا ہے : اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ کہ کیا ہم کائنات اور اس کی مخلوقات کو ایک دفعہ تخلیق کرنے کے بعد تھک گئے ہیں ؟ کیا اب ہماری تخلیقی سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں ؟ اور کیا مزید نئی چیزیں بنانے کی ہماری صلاحیت اب ختم ہو کر رہ گئی ہے ؟- بَلٰٓی اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ” کیوں نہیں ‘ یقینا وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ “
Thursday, December 4, 2025
ہرچیز اللہ ہی کی ملکیت ہے
ہر چیز کا مالک اور وارث اللہ تعالیٰ ہے :۔ پیدائش اور موت دونوں ایسی چیزیں ہیں جن پر انسان کا ذرہ بھر بھی اختیار نہیں۔ نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے مرتا ہے۔ پھر اس کے ہاں جو اولاد ہوتی ہے وہ بھی اس کی مرضی سے نہیں ہوتی۔ پھر اس اولاد کی زندگی اور موت بھی اللہ ہی کے قبضہ ئقدرت میں ہوتی ہے۔ اور یہ سلسلہ یونہی آگے چلتا جاتا ہے۔ پھر جو کچھ انسان اپنی زندگی میں کماتا ہے۔ اس کا بھی عارضی طور پر ہی مالک ہوتا ہے۔ اس کی موت کے بعد اس کی کمائی اس کے وارثوں کے قبضہ میں چلی جاتی ہے اور یہ انتقال زر اور جائیداد بھی اضطراری ہوتا ہے جس میں انسان کا اپنا کچھ اختیار نہیں ہوتا۔ پھر یہ وارثوں کا قبضہ بھی عارضی ہوتا ہے۔ اور بالآخر یہ سب کچھ اللہ کے خزانے میں جمع ہوجاتا ہے جو حقیقتاً اصلی مالک تھا۔
اعمال کا بدلہ
آیت ١٩ وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ” اور ہر ایک کے لیے درجے (اور مقامات) ہوں گے ان کے اعمال کے اعتبار سے ۔ “- وَلِیُوَفِّیَہُمْ اَعْمَالَہُمْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ” اور تاکہ وہ پورا پورا دے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ “
مومن اور کافر دونوں کا ان کے عملوں کے مطابق اللہ کے ہاں مرتبہ ہوگا مومن مراتب عالیہ سے سرفراز ہوں گے اور کافر جہنم کے پست ترین درجوں میں ہوں گے۔ گنہگار کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی اور نیکوکار کے صلے میں کمی نہیں ہوگی۔ بلکہ ہر ایک کو خیر یا شر میں سے وہی ملے گا جس کا وہ مستحق ہوگا۔
استقامت
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا ” بیشک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے “- نوٹ کیجیے یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے پہلے ہم سورة حٰمٓ السجدۃ کی آیت ٣٠ میں پڑھ آئے ہیں۔ اس ” استقامت “ کو صرف ایک لفظ مت سمجھئے ‘ غور کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ اس ” استقامت “ میں ایک ” قیامت “ مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مان کر ہر حال میں اس کی رضا پر راضی رہنا ‘ اس کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لینا ‘ اسی پر توکل ّکرنا ‘ اس کے احکامات کی پابندی کرنا اور اس کی طرف سے عائد کردہ جملہ ذمہ داریوں کو نبھانے میں اپنا تن من دھن دائو پر لگا دینا وغیرہ سب اس استقامت میں شامل ہے۔ سورة حٰمٓ السجدۃ (آیت ٣٠) کے مطالعہ کے دوران ہم حضرت سفیان بن عبداللہ (رض) کی حدیث پڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی تھی کہ مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایک بات ایسی بتادیجیے جسے میں پلے ّباندھ لوں اور میرے لیے وہ کافی ہوجائے۔ اس کے جواب میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) ” کہو کہ میں ایمان لایا اللہ پر ‘ پھر اس پر جم جائو “ بہر حال اللہ پر ایمان لانے کے بعد استقامت یہی ہے کہ انسان کا دل اس سوچ پر جم جائے کہ اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور وہی حاجت روا ‘ وہی مشکل کشا ہے اور وہی میری دعائوں کا سننے والا ہے ‘ اور پھر انسان خود کو اللہ کے لیے وقف کر دے۔ ایک بندہ مومن کی اسی کیفیت کا نقشہ سورة الانعام کی اس آیت میں دکھایا گیا ہے : قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے : میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ “- فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ” تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔ “- ملاحظہ کیجیے سورة یونس کی آیت ٦٢ میں ” اولیاء اللہ “ کے مخصوص مقام و مرتبہ کے حوالے سے بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں : اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ ” آگاہ ہو جائو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے “۔ گویا جو لوگ ایمان لائے اور پھر ایمان پر مستقیم ہوگئے وہ اولیاء اللہ ہیں اور آخرت میں انہیں کسی قسم کے خوف اور حزن و ملال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ” یہی لوگ جنت والے ہیں ‘ اس میں ہمیشہ رہنے والے۔ یہ جزا ہوگی ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔ “- جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی قدر افزائی کے لیے جنت میں داخلے اور اس کی نعمتوں کو ان کے اعمال کا صلہ قرار دیتا ہے ‘ جبکہ اللہ کے یہ نیک بندے جنت میں پہنچ کر اللہ کا شکر کرتے ہوئے اعتراف کریں گے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل کے سبب ہی ممکن ہوا ‘ اور یہ کہ وہ اپنے اعمال کے َبل بوتے پر یہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے تھے : وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰٹنَا لِہٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰنَا اللّٰہُ (الاعراف : ٤٣) ” اور وہ کہیں گے ُ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ‘ اور ہم خود سے یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔ “- بہر حال یہ اللہ کا اپنے بندوں پر بےپایاں فضل ہے کہ وہ قرآن میں بار بار ان کے نیک اعمال کی قدر دانی فرماتا ہے کہ اگر تم لوگوں نے : اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔ (الدھر) کے اختیار کے باوجود میرے شکر گزار بندے بن کر زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور اس پر مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کیں ‘ چناچہ میں نے بھی تمہاری مدد کرتے ہوئے اس راستے پر تمہارے لیے آسانیاں پیدا کردیں ‘ تمہیں آگے بڑھنے کی توفیق عطا کی اور آج میں تمہارے ان اعمال کا بدلہ تمہیں جنت کی ابدی اور دائمی نعمتوں کی صورت میں عطا کررہا ہوں۔
سب سے بڑے گمراہ
وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہٗٓ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ” اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو اس کو جواب ہی نہیں دے سکتا قیامت کے دن تک “- وہ نہ تو ان کی دعائوں کو سن سکتے ہیں اور نہ قبول کرسکتے ہیں۔- وَہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوْنَ ” اور وہ ان کی دعا سے غافل ہیں۔ “- وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔ انہیں تو پتا ہی نہیں کہ کوئی ان سے دعا مانگ رہا ہے۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان میں کچھ تو بےجان اور بےعقل مخلوقات ہیں۔ ان کا تو اپنے پکارنے والوں کی دعائوں سے بیخبر ہونا ظاہر ہی ہے۔ ان کے علاوہ کچھ بزرگ انسانوں کو بھی پکارا جاتا ہے۔ وہ اللہ کے ہاں اس عالم َمیں ہیں کہ جہاں انسانی آوازیں ان تک نہیں پہنچتیں۔ فرض کیجیے ایک شخص کسی بڑے ولی اللہ کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے تو عِلیِّیْن میں موجود اس کی روح کو کیا معلوم کہ دنیا میں اس کا کوئی معتقد اسے پکار رہا ہے۔
کل تعریف
فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ” پس ُ کل تعریف اور کل شکر اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے اور تمام جہانوں کا رب ہے۔ “
١۔ تکبر کی مذمت۔ ٢۔ کبریائی صرف اللہ کو لائق ہے :۔ تکبر اور غرور ایسا جرم ہے جس کی سزا دنیا میں بھی مل کے رہتی ہے۔ مثل مشہور ہے کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کا ہر شخص دنیا میں ہی مشاہدہ کرلیتا ہے۔ اور آخرت میں تو متکبرین کا یہ انجام ہوگا کہ کوئی ایسا متکبر نہیں ہوگا جسے جہنم میں ذلیل و رسوا کرکے داخل نہ کیا جائے۔ بہت سی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جہنم میں زیادہ تر متکبر قسم کے لوگ ہی ہوں گے۔ نیز اعمش نے ابراہیم نخعی سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے، آگ میں داخل نہ ہو گا اور کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہے، جنت میں داخل نہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 266] گویا کبریائی اور تکبر ایسی صفت ہے جو صرف اللہ اکیلے کو سزاوار ہے اور ایک مومن کبھی متکبر نہیں ہوسکتا۔ تکبر اور ایمان ایک دوسرے کی ضد ہیں جو کسی ایک انسان میں جمع نہیں ہوسکتے۔
اللہ کی رحمت
سب کامیابیوں کا اصل اللہ کی رحمت میں داخل ہونا ہے :۔ اللہ جسے اپنی رحمت میں داخل کرلے تو اس کی واضح کامیابی کے کئی پہلو ہیں۔ ایک تو عذاب سے نجات مل جائے گی اور دوسرے قیامت کی ہولناکیوں سے امن میں رہے گا۔ تیسرے حساب کتاب بالکل سرسری اور آسان سا ہوگا۔ چوتھے جنت میں داخلہ مل جائے گا۔ پھر مزید انعامات بھی ہوتے رہیں گے۔ گویا اللہ کی رحمت میں داخل ہونا اتنی بڑی کامیابی ہے کہ باقی ہر طرح کی کامیابیاں از خود اس میں شامل ہوجاتی ہیں۔
فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت : یہاں بشارت کا ذکر پہلے فرمایا، کیونکہ اس سے بشارت میں مزید خوشی شامل ہوئی ہے۔ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جو خلاص اللہ تعالیٰ کے لئے کیا گیا ہو ، ہر قسم کے شرک حتی کہ ریا سے بھی پاک ہو اور سنت کے مطابق ہو۔ مزید دیکھیے سورة کہف کی آخری آیت۔- (٢) فیدخلھم ربھم فی رحمتہ : انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔” ربھم “ کے لفظ میں ان کے ساتھ اپنے تعلق اور اپنی محبت کا اظہار ہے اور ” اپنی رحمت “ سے مراد جنت ہے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(قال اللہ تبارک و تعالیٰ للجنۃ انت رحمتی ارحم بک من اشاء من عبادی وقال للنار انما انت عذاب اعذب بک من اشاء من عبادی) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(وتقول ھل من مزید، 3850)” اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت سے فرمایا، تو میری رحمت ہے، میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے سے رحم کروں گا اور آگ سے فرمایا : تو محض عذاب ہے، میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے عذاب دوں گا۔ “- (٣) ذلک ھوالفوز المبین : جیسا کہ فرمایا :(فمن زحزح عن النار و ادخل الجنۃ فقد قال، وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور) (آل عمران :185)” پھر جو شخص آگ سے دور کردیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ “
.jpg)
.jpg)
.jpg)

.jpg)

.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)

.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
%20(2).jpg)
%20(1).jpg)
.jpg)


%20(2).jpg)
%20(1).jpg)
.jpg)
.jpg)

.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
%20(2).jpg)
.jpg)
.jpg)



.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)

