«صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ»
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ [الفاتحة:6]
Wednesday, August 26, 2026
سارا ، اختیار اللہ ہی کے لیے ہے
آیت ٤٤ (هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ )- ولایت کے معنی یہاں حکومت اور اقتدار کے ہیں ۔ ” والی “ کسی ملک یا علاقے کے مالک یا حکمران کو کہتے ہیں اور اسی سے یہ لفظ ولایت (واؤ کی زبر کے ساتھ) بنا ہے۔ اس لحاظ سے آیت کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ کل کا کل اقتدار و اختیار اللہ کے لیے ہے جو ” الحق “ ہے۔ اسی مادہ سے لفظ ” ولی “ بھی ہے جس کے معنی دوست اور پشت پناہ کے ہیں ۔ اسی مادے سے ولایت (واؤ کی زیر کے ساتھ) بنا ہے اور یہ دوستی اور محبت کے معنی دیتا ہے۔ درج ذیل آیات میں اسی ولایت کا ذکر ہے : (اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ) (البقرۃ : ٢٥٧) اور (اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ) ( یونس ) ۔ - (هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ عُقْبًا)- انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے۔
The Insignificance of This World
This hadith has been narrated through five different chains of transmitters and all of them are narrated on the authority of Mustaurid, brother of Bani Fihr, that Allah's Messenger ﷺ said: By Allah, this world (is so insignificant in comparison) to the Hereafter that if one of you should dip his finger- (and wnile saying this Yahyg pointed with his forefinger) -in the ocean and then he should see as to what has stuck to it. This hadith has been narrated through another chain of transmitters also but with a slight variation of wording.
Sahih Muslim 2858 (Book 53, Hadith 66)-
اللہ جل جلالہ
آیت ١٣ اِنَّہٗ ہُوَ یُـبْدِئُ وَیُعِیْدُ ۔ ” وہی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی اعادہ بھی کرے گا ۔ “- جب اس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے تو دوسری مرتبہ وہ اسے پیدا کرنے پر بھلا کیونکر قادر نہیں ہوگا ؟
کبھی نہ ختم ہونے والا اجر
آیت ٢٥ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوالصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ۔ ” البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ‘ ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ “- مَنَّ یَمُنُّ مَنًّا کے لغوی معنی کسی چیز کو کاٹ دینے کے ہیں ۔ ظاہر ہے جب کسی چیز کو کاٹ دیا جاتا ہے تو اس کی انتہا ہوجاتی ہے۔ چناچہ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْن سے مراد ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔
.jpg)
.jpg)

.jpg)


