Saturday, July 11, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

اعجاز قرآن

The Reward of Supplication!

Abu Dharr reported that Allah's Messenger  said: There is no believing servant who supplicates for his brother behind his back (in his absence) that the Angels do not say: The same be for you too.

Sahih Muslim 2732a (Book 48, Hadith 119) 

QUICK LESSONS:
Pray and Make Du'a For Others Even If They Are Not Present With Us . Have Good Intentions When Making Du'as . Think Positively About Our Fellow Muslims .

EXPLANATIONS:
This hadith is about the reward of supplicating for others in their absence. It is narrated by Abu Dharr that the Prophet Muhammad said that when a believer supplicates for his brother behind his back in his absence, the angels will say "The same be for you too". This means that Allah will reward the person who supplicates with an equal or greater reward than what they asked for. This hadith teaches us to always pray and make du'a for our brothers and sisters even if they are not present with us. It also encourages us to have good intentions when we make du'a and to think positively about our fellow Muslims. We should always remember that whatever we ask from Allah He will give us something better in return if we are sincere in our intentions.

یا حیُّ یا قیّومُ

رب کے شکرگزار

طرز زندگی

قیامت اور آخرت

 آیت ٧ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَـوَاقِعٌ ۔ ” جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کر رہے گی۔ “- یعنی جس قیامت کے بارے میں تم لوگوں کو بار بار متنبہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آکر رہے گی۔ واضح رہے کہ سورة قٓ سے لے کر سورة الناس تک مکی سورتوں کا موضوع انذارِ آخرت ہے ۔ اس لیے سورة الذاریات کی قسموں کا مقسم علیہ بھی انذارِ آخرت ہی سے متعلق تھا : اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ - وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۔ ” جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی “۔ البتہ سورة الصافات کے آغاز میں مذکور قسموں کا انداز تو بالکل ایسا ہی ہے لیکن وہاں ان قسموں کے مقسم علیہ کا تعلق توحید سے ہے : اِنَّ اِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ ۔ ” یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے “۔ اس لیے کہ سورة الصافات کا تعلق سورتوں کے جس گروپ سے ہے اس گروپ کا مرکزی مضمون ہی توحید ہے۔

آیت ٨ فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ ۔ ” پس جب ستارے مٹا دیے جائیں گے۔ “- یعنی بےنور کردیے جائیں گے اور ان کی روشنی ختم ہوجائے گی۔

آیت ٩ وَاِذَا السَّمَآئُ فُرِجَتْ ۔ ” اور جب آسمان میں شگاف پڑجائیں گے۔ “- ایسی آیات ہمارے لیے آیات متشابہات کا درجہ رکھتی ہیں ۔ البتہ توقع کی جاسکتی ہے کہ جیسے جیسے سائنسی ترقی کی بدولت انسان کی معلومات بڑھیں گی ‘ ان آیات کا مفہوم بتدریج واضح ہوتا چلا جائے گا۔

آیت ١٠ وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ ۔ ” اور جب پہاڑ (ریت بنا کر) اُڑا دیے جائیں گے۔ “- قیامت کے زلزلے کے باعث پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ریت کے ٹیلوں کی مانند ہوجائیں گے اور ان ٹیلوں کے ذرّات ہوا میں اڑتے پھریں گے۔

آیت  ١١ وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ۔ ” اور جب رسولوں (علیہ السلام) (کے کھڑے ہونے) کا وقت آپہنچے گا۔ “- جب انبیاء ورسل - اللہ تعالیٰ کی عدالت میں شہادتیں دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔