Thursday, October 29, 2026

جنت کی راہیں

 آیت ٥ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی ۔ ” تو جس نے عطا کیا اور تقویٰ اختیار کیا۔ “- ظاہر ہے یہ خیر کا راستہ ہے اور اس راستے کا پہلا وصف یا پہلا سنگ میل ” اِعطاء “ یا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ سورة البلد میں اس عمل کو انسان کے لیے ایک بہت مشکل گھاٹی قرار دے کر اس کی وضاحت یوں فرمائی گئی : فَکُّ رَقَـبَۃٍ - اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَـبَۃٍ - یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ - اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ - ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ” کسی گردن کا چھڑا دینا ۔ یا کھانا کھلا دینا بھوک کے دن ‘ اس یتیم کو کہ جو قرابت دار بھی ہے ‘ یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔ پھر وہ شامل ہوا‘ ان لوگوں میں جو ایمان لائے…“- یعنی جو انسان اس ” مشکل گھاٹی “ کو عبور کرنے کے بعد اہل ایمان کی صف میں شامل ہوگا وہ ان شاء اللہ ابوبکر صدیق ‘ عمر فاروق ‘ عثمان غنی اور علی مرتضیٰ - کا پیروکار بنے گا ۔ لیکن جس نے یہ امتحان پاس کیے بغیر ہی کلمہ پڑھ لیا تو اس کے بارے میں خدشہ ہے کہ توحید و رسالت کی گواہی دینے کے بعد بھی اس کے ایمان کی بوباس عبداللہ بن ابی کے ایمان کی سی ہوگی۔ ظاہر ہے جو کلمہ حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان اور حضرت علی - نے پڑھا تھا وہی کلمہ عبداللہ بن ابی نے بھی پڑھا تھا۔ یعنی ایمان کا بیج تو دونوں طرف ایک سا تھا ‘ مگر یہ زمین اور تھی ‘ وہ زمین اور تھی۔ اس زمین میں انفاق فی سبیل اللہ کا ہل چل چکا تھا اور اس زمین میں ُ حب ِدنیا اور شکوک و تردّد کے جھاڑ جھنکاڑ نے قبضہ جما رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کے دل کی زمین میں ایمان کے بیج کا جمائو ممکن ہی نہ ہوا۔ اس حوالے سے اگر سورة آل عمران کی آیت ٩٢ کے اس جملے کو مدنظر رکھا جائے تو انفاق و اِعطاء کے اس فلسفے کو سمجھنا بہت آسان ہوجاتا ہے : لَــنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَط یعنی جب تک تم لوگ اپنی عزیز ترین چیز کو اللہ کی راہ میں نہ دے ڈالو تم نیکی کی گردکو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہیے تو مال کی قربانی دو اور قربانی بھی بہترین چیز کی۔ یہ نہیں کہ چھانٹ کر بےکار چیزیں کسی کو دے کر سمجھو کہ تم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ہے۔ - اس راستے کا دوسر اوصف یا سنگ میل تقویٰ ( وَاتَّقٰی) ہے ۔ یعنی انسان کا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرتے رہنا۔ ہر لمحہ برائی کی خاردار جھاڑیوں سے اپنا دامن بچانے کی فکر میں رہنا اور مسلسل کوشش کرتے رہنا کہ میں کسی کا دل نہ دکھائوں اور کسی کا حق نہ ماروں۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ وہ اخلاقی حس زندہ و بیدار ہو جس کا ذکر سورة الشمس کی آیت فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا ۔ میں آیا ہے۔ اگر اس کی اخلاقی حس کی شمع ہوا و ہوس کے طوفان کی نذر ہوچکی ہو تو پھر ظاہر ہے کہاں کا تقویٰ اور کس کا ڈر

آیت ٦ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ۔ ” اور اس نے تصدیق کی اچھی بات کی۔ “- یہ خیر کے راستے کی تیسری شرط یا اس کا تیسرا وصف ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھلائی اور حق کی کوئی بات انسان کے سامنے آئے اور اس کا دل گواہی دے دے کہ ہاں یہ بات حق ہے تو وہ بلاتردّد اس کی تصدیق کردے۔ یعنی وہ بھلائی ‘ سچائی اور حق کی تصدیق کرنے کے لیے عواقب و نتائج کی پروا نہ کرے۔ حق کو حق جان کر اس کی تصدیق و توثیق کے لیے سود و زیاں کا ترازو نصب کر کے نہ بیٹھ جائے اور نہ ہی اس حوالے سے اپنی انا کو آڑے آنے دے۔ جیسے کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں اکثر ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کی بحث کے دوران ایک آدمی پر واضح ہوجاتا ہے کہ دوسرے کی بات درست ہے مگر وہ صرف اپنی انا کی وجہ سے اس کے موقف کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

آیت ٧ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی ۔ ” تو اس کو ہم رفتہ رفتہ آسان منزل (جنت) تک پہنچادیں گے۔ “- اس حوالے سے سورة الاعلیٰ کی یہ آیت بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی ۔ ” اور ہم رفتہ رفتہ پہنچائیں گے آپ کو آسان منزل تک “۔ لیکن سورة الاعلیٰ کی نسبت یہاں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔ اب اس کے مقابلے میں اگلی آیات میں دوسرے راستے اور اس کے تین سنگ ہائے میل کا ذکر آ رہا ہے :

Bayan ul Quran
by Dr. Israr Ahmed

نفسِ مطمئنہ

اور قسم ہے

 آیت ٦ وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰٹہَا ۔ ” اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کہ اسے بچھا دیا۔ “- نوٹ کیجیے یہ تمام قسمیں جوڑوں کی صورت میں آئی ہیں۔ پہلے سورج اور چاند کا ‘ پھر دن اور رات کا اور اب آسمان اور زمین کا ذکر ہوا۔ ان ظاہری تضادات کی مثالوں سے دراصل نفس انسانی کے روشن اور تاریک پہلوئوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جس طرح کائنات میں ہر جگہ تم لوگوں کو تضادات نظر آتے ہیں ‘ سورج ہے تو اس کے ساتھ چاند ہے ‘ اندھیرا ہے تو اس کے ساتھ اجالا ہے ‘ بلندی ہے تو اس کے ساتھ پستی ہے ‘ اسی طرح انسان کی ذات یا شخصیت کے بھی دو رُخ ہیں ۔ بظاہر دیکھنے میں تو تمام انسان ایک جیسے نظر آتے ہیں ‘ لیکن حقیقت میں یہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی حیوانی اور نفسانی خواہشات کے راستے پر چل رہا ہے تو کسی نے اپنے نفس کا تزکیہ کر کے فلاح کی منزل حاصل کرلی ہے۔

آیت ٨ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا ۔ ” پس اس کے اندر نیکی اور بدی کا علم الہام کردیا۔ “- اب اگلی دو آیات میں ان قسموں کے جواب مذکور ہے۔

Bayan ul Quran
by Dr. Israr Ahmed

Righteous deeds

جہنم سے نجات کے ضامن

 یہ گھاٹی دراصل اخلاقی بلندیاں ہیں اور ان پر چڑھنے کا راستہ دشوار گزار اس لحاظ سے ہے کہ ایسے راستے عموماً انسان کی خواہش کے خلاف اور طبیعت کے لئے ناگوار اور گرانبار ہوتے ہیں۔

آیت ١٤ اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۔ ” یا کھانا کھلا دینا بھوک کے دن میں۔ “- یعنی کسی شخص کا قحط سالی کے دوران بھوکوں کو کھانا کھلانا ۔ خصوصی طور پر ایسی صورت حال میں جب اسے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضرورت کا خیال بھی پریشان کیے دے رہا ہو۔

آیت ١٦ اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ ۔ ” یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔ “- یہ وہ فلسفہ ہے جس پر سورة الحدید کے مطالعہ کے دوران تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ یہ مشکل گھاٹی دراصل ُ حب ِمال کی وہ چٹان ہے جو متعلقہ انسان کے لیے بھلائی کے راستے کو مسدود کیے کھڑی ہے۔ سورة الحدید کی آیت ١٨ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے اسے گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی تھی۔ چناچہ مذکورہ گھاٹی کو عبور کرنے یا گاڑی کی بریک کو کھولنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے مال کو اللہ کی رضا کے لیے محتاجوں اور ناداروں کی مدد کرنے اور بھلائی کے دوسروں کاموں پر دل کھول کر خرچ کرے۔ یعنی مال کی محبت کی آلودگی کو دل سے صاف کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ اپنے پیارے مال کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر قربان کردیا جائے۔ یاد رکھیں حب مال کی گندگی کو دل سے نکالے بغیر انسان کو ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوسکتی۔ (اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحدید آیات ١٧ تا ٢٠ کی تشریح۔ )

آیت ١٧ ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ” پھر وہ شامل ہو ان لوگوں میں جو ایمان لائے “- یہاں پر لفظ ثُمَّ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ یعنی پہلے انسان اس مشکل گھاٹی کو عبور کرے  ‘  اپنے دل کی زمین میں انفاق فی سبیل اللہ کا ہل چلائے ‘ اس کے ذریعے سے دل کی زمین سے حب مال کا جھاڑ جھنکاڑ صاف کرے ‘ اور پھر (ثُمَّ ) اس میں ایمان کا بیج ڈالے۔ اگر وہ اس ترتیب اور اس انداز سے محنت کرے گا تو تبھی ایمان کا پودا اس کے دل کی زمین میں اپنی جڑیں پھیلائے گا اور برگ و بار لائے گا۔- وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ ۔ ” اور جنہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی اور باہم ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کی۔ “- یہ مضمون سورة العصر میں بایں الفاظ آیا ہے : اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ لا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ۔ ” سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے ‘ اور باہم ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی “۔ الفاظ اور مفہوم کے اعتبار سے ان دونوں آیات میں گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ البتہ دونوں جگہ مذکور اصطلاحات کی ترتیب مختلف ہے۔ سورة العصر کی اس آیت میں ایمان کے بعد عمل صالح کا بیان ہے جبکہ آیت زیر مطالعہ میں عمل صالح (غرباء و مساکین اور یتیموں کے حقوق کی ادائیگی) کے بعد ایمان کا ذکر ہے۔ سورة العصر میں تواصی بالحق کے بعد تواصی بالصبر کا تذکرہ ہے ‘ جبکہ یہاں پر پہلے تواصی بالصبر اور بعد میں تواصی بالمرحمہ کا ذکر آیا ہے۔ اس پہلو سے دونوں آیات کے تقابلی مطالعہ سے بہت سے حقائق و رموز کی نشاندہی ہوتی ہے۔

آیت ١٨ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ ” یہ ہوں گے داہنے والے۔ “- یعنی یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے ۔  لفظ یمن کے معنی خوش بختی کے بھی ہیں۔ اس معنی میں آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہوں گے جو رشد و ہدایت کے راستے پر چلتے ہوئے فوز و فلاح کی منازل تک پہنچ گئے۔

Bayan ul Quran
by Dr. Israr Ahmed

اے اطمینان والی روح

 آیت ٢٧ یٰٓــاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ ” اے نفس ِمطمئنہ “ ّ- جو اس امتحانی زندگی میں مطمئن ہو کر یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی میں لگا رہا اور اس کے دین کے ساتھ چمٹارہا۔

یایھا النفس المطمینۃ :” النفس المطمئنۃ “ اطمینان والی جان ، جسے اللہ ، اس کے رسول اور ان کے احکام کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، بلکہ پوری تسلی ہے۔

آیت ٢٨ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۔ ” اب لوٹ جائو اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تم اس سے راضی ‘ وہ تم سے راضی۔ “- سورة البینہ کی آیت ٨ میں ایسے خوش قسمت لوگوں کی یہی کیفیت رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط ” اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی “ کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔

آیت ٢٩ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ۔ ” تو داخل ہو جائو میرے (نیک) بندوں میں۔ “- اللہ تعالیٰ کے ان نیک بندوں کی نشاندہی سورة النساء کی اس آیت میں کی گئی ہے : - وَمَنْ یُّطِـعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَج وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا ۔ - ” اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں معیت حاصل ہوگی ان کی جن پر اللہ کا انعام ہوا ‘ یعنی انبیاء کرام ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین۔ اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے “

آیت ٣٠ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۔ ” اور داخل ہو جائو میری جنت میں “- چناچہ اس نَفسِ مُطمَئنّہ سے کہا جائے گا کہ آئو میرے ان انعام یافتہ بندوں کی صف میں شامل ہو جائو۔ ایسے خوش قسمت لوگوں کے مراتب کی بلندی کے تصور اور اپنی تہی دامنی کے احساس کے پیش نظر ہمارا ان کی معیت کے لیے دعا مانگنا اگرچہ ” چھوٹا منہ بڑی بات “ کے زمرے میں آتا ہے مگر پھر بھی دل سے بےاختیار دعا نکلتی ہے : اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ۔۔۔۔ آمین

Bayan ul Quran
by Dr. Israr Ahmed

Repentance and Forgiveness in Islam

Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Messenger ﷺ saying". By Allah! I ask for forgiveness from Allah and turn to Him in repentance more than seventy times a day".

Sahih al-Bukhari 6307 (Book 80, Hadith 4) -

QUICK LESSONS:
Ask for forgiveness & repent sincerely everyday .

EXPLANATIONS:

In this hadith narrated by Abu Huraira, the Prophet Muhammad (PBUH) teaches us about the importance of repentance and forgiveness in Islam. He said that he asked for forgiveness from Allah and turned to Him in repentance more than seventy times a day. This shows us how important it is to seek repentance from our Lord as much as possible. It also shows us that we should never give up on seeking His mercy even if we have made mistakes or done wrong things. We should always turn back to Him with sincere repentance so that He may forgive us our sins and grant us His mercy. Furthermore, this hadith also teaches us about the importance of being humble before our Lord; no matter how many good deeds we do or how righteous we are, it is still important to ask for His forgiveness every single day because none of us can ever be perfect enough without His help.