Friday, July 31, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

 

قیامت میں کوئی شک نہیں

جو کوئی ڈرتا رہا

آیت ٤٠ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ ” اور جو کوئی ڈرتا رہا اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے (کے خیال) سے “- سورة الحاقہ میں اس پیشی کی کیفیت یوں بیان کی گئی ہے : یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰی مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ ۔ ” جس دن تم پیش کیے جائو گے تمہاری کوئی مخفی سے مخفی شے بھی چھپی نہیں رہے گی۔ “- وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ۔ ” اور اس نے روکے رکھا اپنے نفس کو خواہشات سے۔ “- اس نے اپنی زندگی میں اپنے نفس کی باگیں ہمیشہ کھینچ کر رکھیں اور غلط خواہشات کے معاملے میں اسے منہ زوری نہ کرنے دی۔

 اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔

آیت ٤١ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاْوٰی ۔ ” تو یقینااُس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے۔

 یعنی اس دن ساری مخلوق دو گروہوں میں بٹ جائے گی۔ ایک وہ جو آخرت کے منکر تھے انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور اپنے اعمال کی جوابدہی کا نہ کوئی تصور تھا اور نہ خطرہ تھا۔ لہذا وہ دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ کر اس پر فریفتہ رہے اور آخرت سے بالکل بےفکر بنے رہے ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ وہ جب جہنم پر پہنچیں گے تو فوراً ، اس میں داخل کردیئے جائیں گے۔ دوسرے وہ جنہیں آخرت میں اپنے اعمال کی جوابدہی کا ہر وقت خطرہ لا حق رہتا تھا۔ لہذا انہوں نے اپنے اخروی مفاد کی خاطر ہر وقت اپنے نفس کی خواہشات کو دبائے رکھا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نہایت محتاط اور ذمہ دارانہ زندگی گزاری ہوگی ۔ ایسے ہی لوگ جنت کے حق دار قرار پائیں گے اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کیا جائے گا۔

- اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ‘ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ۔ آمین

الطَّآمَّۃُ الۡکُبۡرٰی

 (فاذا جآء ت الطآمۃ الکبری :” الطآمۃ اس مصیبت کو کہتے ہیں جو ہر چیز پر چھا جائے ، مراد قیامت ہے۔ مزید ہولناکی بیان کرنے کے لئے فرمایا ” الکبری “ کہ جو سب سے بڑی (مصیبت ) ہے۔

روز قیامت

 آیت ٤٠ اِنَّآ اَنْذَرْنٰـکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًاج ” دیکھو ہم نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے اس عذاب سے جو بالکل قریب ہے۔ “- تصور کیجیے ‘ یہ عذاب انسان کے کتنا قریب ہے ادھر انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے ‘ ادھر اسے قبر میں اتارنے کا بندوبست کردیا جاتا ہے۔ اور قبر کیا ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ (اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ )  ” قبر یا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ گویا ہر زندہ انسان اس باغیچے یا گڑھے سے صرف چند گھنٹوں کے فاصلے پر بیٹھا ہے۔- یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰٹہُ ” جس دن انسان دیکھ لے گا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا “- وَیَـقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰبًا ۔ ” اور کافر کہے گا : کاش کہ میں مٹی ہوتا “- کاش مجھے شرفِ انسانیت ملا ہی نہ ہوتا 

اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ میں پیدا ہی نہ کیا جاتا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد مٹی میں مل کر مٹی ہی بنا رہتا۔ مجھے دوبارہ زندگی نہ عطا کی جاتی اور نہ یہ سختی کا دن دیکھنا پڑتا۔ تیسرا مطلب سیدنا ابوہریرہ (رض) کی اس حدیث سے ماخوذ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جانور، چرند اور پرند سب کا حشر ہوگا حتیٰ کہ سینگ والی بکری کا بدلہ بےسینگ بکری سے لیا جائے گا جس نے دنیا میں اسے مارا ہوگا۔ (مسلم کتاب ، البرو الصلہ ( باب تحریم الظلم) پھر ان سے کہا جائے گا کہ اب تم خاک بن جاؤ۔ اس وقت کافر آرزو کرے گا کہ کاش میں بھی ان جانوروں کی طرح خاک بن جاتا۔

یہ دن حق ہے

 آیت ٣٩ ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ ” یہ دن حق ہے “

یعنی قیامت کا دن ایک اٹل حقیقت ہے ‘ جیسا کہ سورة الواقعہ میں فرمایا گیا : اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ - لَیْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ۔ ” جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہوجائے گا۔ (اور جان لو) اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے “۔ سورة الحاقہ میں قیامت کے اٹل ہونے کا ذکر اس طرح آیا ہے : اَلْحَآقَّۃُ - مَا الْحَآقَّۃُ - وَمَآ اَدْرٰٹکَ مَا الْحَآقَّۃُ ۔ ” وہ حق ہوجانے والی ۔ کیا ہے وہ حق ہوجانے والی ؟ اور تم نے کیا سمجھا کہ وہ حق ہونے والی کیا ہے ؟ “- فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰبًا ۔ ” تو جو چاہے اپنے رب کی طرف اپنا ٹھکانہ بنا لے۔