«صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ»
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ [الفاتحة:6]
Friday, May 1, 2026
The Consequences of Debt
Narrated 'Aisha: Allah's Messenger ﷺ used to invoke Allah in the prayer saying, "O Allah, I seek refuge with you from all sins, and from being in debt". Someone said, O Allah's Messenger ﷺ! (I see you) very often you seek refuge with Allah from being in debt. He replied, "If a person is in debt, he tells lies when he speaks, and breaks his promises when he promises".
Sahih al-Bukhari 2397 (Book 43, Hadith 13)
زبردست حکمت والا
آیت ١٨ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ ” جاننے والا ہے چھپے اور کھلے سب کا ‘ وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔ “- یعنی وہ غائب و حاضر ‘ چھپے اور کھلے سب کا جاننے والا ہے۔ اس میں ایک جانب تقویٰ ‘ اطاعت اور انفاق پر کاربند رہنے والے اہل ِایمان کے لیے بشارت اور یقین دہانی مضمر ہے کہ وہ مطمئن رہیں کہ ان کی کوئی نیکی ضائع جانے والی نہیں ہے اور دوسری طرف اعراض و انکار کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے تہدید و تنبیہہ بھی ہے کہ تمہاری کوئی حرکت اللہ سے پوشیدہ نہیں اور وہ تمہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کامل غلبہ و اقتدار کا مالک ہے۔ اس لیے کہ وہ ” العزیز “ ہے۔ اور اگر وہ تمہاری گرفت فوری طور پر نہیں کر رہا بلکہ تمہیں مہلت اور ڈھیل دیے جارہا ہے تو یہ اس کی حکمت ِکاملہ کا مظہر ہے ‘ اس لیے کہ جہاں وہ ” العزیز “ ہے وہاں وہ ” الحکیم “ بھی ہے۔
اللہ کوقرض حسنہ
آیت ١٧ اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَــکُمْ وَیَغْفِرْ لَـکُمْ ” اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو گے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا ۔ “- وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ ۔ ” اور اللہ شکور (یعنی قدر دان) بھی ہے اور حلیم (یعنی بردبار) بھی ۔ “- وہ ایسا شکور ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ اس کی قدر کرتا ہے اور حلیم ایسا ہے کہ اس کے بار بار ترغیب دلانے کے باوجود بھی اگر کوئی شخص کچھ نہیں دیتا وہ فوری طور پر اس کی گردن نہیں ناپتا۔
اﷲ تعالیٰ کو قرض دینے سے مراد یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر نیک کاموں میں خرچ کیا جائے، اس تعبیر میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح کسی کو قرض دیتے وقت اِنسان کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ قرض اسے کسی وقت واپس مل جائے گا، اسی طرح نیک کاموں میں خرچ کرتے وقت اِنسان کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ ﷲ تعالیٰ اس کے بدلے میں بہترین اجر عطا فرمائیں گے، اور اچھی طرح قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ اِنسان نیک کاموں میں اخلاص سے خرچ کرے، نام ونمود اور دِکھاوا مقصود نہ ہو
.jpg)


.jpg)
.jpg)

.jpg)