Thursday, August 6, 2026

قیامت اور آخرت کے حالات

  یہاں سے آیت نمبر 14 تک قیامت اور آخرت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں۔ سورج کو لپیٹنے کی کیا کیفیت ہوگی؟ اس کی حقیقت تو اﷲ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں سورج میں روشنی باقی نہیں رہے گی۔ چنانچہ بعض حضرات نے اس آیت کا ترجمہ یہ بھی فرمایا ہے کہ: ’’جب سورج بے نور ہوجائے گا۔‘‘ چونکہ لپیٹنے کو عربی میں ’’تکویر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس لئے اس سورت کا نام سورۃ تکویر ہے۔

واذا النجوم انکدرت : انکدرت “ طبری نے اس کے دو معانی نقل فرمائے ہیں، پہلا ” تناثرت یعنی بکھر کر گرجائیں گے اور دوسرا ” تغیرت “ یعنی متغیر ہوجائیں گے ۔ کدورت صفائی کی ضد ہے۔ دونوں ملحوظ رکھے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ ستارے بکھر کر گرجائیں گے، ان کی روشنی اورصفائی ختم ہو جائیگی اور وہ بےنورہوجائیں گے۔

ٴ۔  وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ: اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے اندر گاڑ رکھا ہے اور زمین میں وہ کشش رکھی ہے جو انہیں باندھ کر رکھے ہوئے ہے۔ اللہ کے حکم سے قیامت کے دن وہ کشش ختم ہوجائے گی اور یہ جامد پہاڑ ڈھنی ہوئی اون کی طرح ذرہ ذرہ ہو کر بادلوں کی طرح چل پڑیں گے، حتیٰ کہ سراب کی طرح ہوجائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(و سیرت الجبال فکانت سراباً ) (النبا : ٢٠)” اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔

آیت ٤ وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ۔ ” اور جب گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی۔ “- العِشار سے دس مہینوں کے حمل والی اونٹنیاں مراد ہیں ‘ یعنی ایسی اونٹنیاں جن کے وضع حمل کا وقت بہت قریب ہو۔ عربوں کے ہاں ایسی اونٹنی بہت قیمتی سمجھی جاتی تھی اور اس لحاظ سے وہ لوگ اس کی خصوصی حفاظت اور خدمت کرتے تھے ۔ آیت میں اس حوالے سے قیامت کی ہولناک کیفیت کی تصویر دکھائی گئی ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو بہت قیمتی اونٹنیاں بھی لاوارث ہوجائیں گی ‘ انہیں کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا۔ ظاہرہے اس وقت جبکہ خود عورتوں کو اپنے حمل کی کوئی فکر نہیں ہوگی تو اونٹنیوں کی کسے ہوش ہوگی۔

آیت ٥ وَاِذَا الْــوُحُوْشُ حُشِرَتْ ۔ ” اور جب وحشی جانور جمع کردیے جائیں گے۔ “- عام طور پر جنگلی جانور ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں ، لیکن اس دن خوف کے مارے ان کی وحشت بھی جاتی رہے گی اور مختلف اقسام کے جانور بھی اکٹھے ہوجائیں گے۔

آیت ٦ وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ۔ ” اور جب سمندر دہکا دیے جائیں گے۔ “- اگلی سورت یعنی سورة الانفطار میں سمندروں کے پھاڑے جانے وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ۔ کا ذکر ہے۔ ان دونوں آیات پر غور کریں تو یوں لگتا ہے کہ جب زمین کو کھینچ کر پھیلایا جائے گا وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۔ (الانشقاق) تو اس کی اندرونی تپش اوپری سطح پر آجائے گی۔ چناچہ دہکتے ہوئے لاوے کے عین اوپر سمندراُبل رہے ہوں گے اور اس طرح سمندروں کا پانی بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہوجائے گا۔ 

آیت ٧ وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۔ ” اور جب جانوں کے جوڑ ملائے جائیں گے۔ “- یعنی پوری نسل انسانی کے مختلف افراد کی گروہ بندی کردی جائے گی۔ یہ گروہ بندی لوگوں کے اعمال اور انجام کے حوالے سے ہوگی جیسے سورة النمل ، آیت ٨٣ اور سورة حٰمٓ السجدۃ ‘ آیت ١٩ میں اہل جہنم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیے جانے کا ذکر آیا ہے۔ اس آیت کا مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ جب جانیں جسموں کے ساتھ جوڑ دی جائیں گی۔

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ : ۔  نُشِرَتْ : نَشَرَ کے معنی کسی چیز کو کھولنا، کھول کر پھیلا دینا اور کوئی خبر مشہور کرنا ہے۔ اور اس کی ضد طوٰی بمعنی لپیٹنا ہے ، کہتے ہیں نَشَرْتُ الْکِتَابَ ثُمَّ طَوَیْتُہ ، یعنی میں نے کتاب کھولی پھر بند کردی۔ یعنی اس دن لوگوں کے اعمال نامے کھول کر ان کے ہاتھوں میں تھما دیئے جائیں گے۔

آیت ١ ١ وَاِذَا السَّمَآئُ کُشِطَتْ ۔ ” اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی۔ “- یعنی آسمان پر سے پردہ اٹھادیا جائے گا اور اس کے وہ سب رموز اور مناظر جو انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ تھے ان پر ظاہر ہوجائیں گے۔ اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ آسمان اس دن کھال اترے ہوئے کسی جانور کے جسم کی طرح سرخ نظر آئے گا ‘ جیسا کہ سورة الرحمن کی اس آیت میں بھی بتایا گیا ہے : فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ ۔ ” پھر جب آسمان پھٹ جائے گا اور ہوجائے گا گلابی ‘ تیل کی تلچھٹ جیسا۔ “

آیت ١٣ وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ ۔ ” اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی۔ “- یعنی میدان حشر میں جب لوگوں کے مقدمات کی سماعت ہو رہی ہو گی اس وقت جہنم کی دھکتی ہوئی آگ بھی سب کو نظر آ رہی ہو گی اور جنت بھی اپنی ساری نعمتوں کے ساتھ سب کے سامنے موجود ہو گی تاکہ بد بھی جان لیں کہ وہ کس چیز سے محروم ہو کر کہاں جانے والے ہیں ، اور نیک بھی جان لیں کہ وہ کس چیز سے بچ کر کن نعمتوں سے سرفراز ہونے والے ہیں ۔

آیت ١٤ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ ۔ ” (اُس دن) ہر جان جان لے گی کہ اس نے کیا کچھ حاضر کیا ہے۔ “- یعنی ہر انسان کے تمام اعمال کی پوری تفصیل اس کے سامنے آجائے گی۔


نفخ صور کی قیامت خیز آواز

 آیت ٣٣ فَاِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ ۔ ” تو جب وہ آجائے گی کان پھوڑنے والی (آواز) ۔ “ - یعنی جب قیامت برپا کرنے کے لیے صور میں پھونکا جائے گا تو اس کی آواز سے کان پھٹ جائیں گے۔ اس آیت کی مشابہت سورة النازعات کی اس آیت سے ہے : فَاِذَا جَآئَ تِ الطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی ۔ ” پھر جب وہ آجائے گا بڑا ہنگامہ۔ “

 یوم یفر المرء من اخیہ…: اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن آدمی کے ان لوگوں سے بھگانے کا ذکر فرمایا جن سے محبت ہوتی ہے اور ترتیب میں محبت کے درجات کو محلوظ رکھا، پہلے اس کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ کم محبت ہوتی ہے، بڑھتے بڑھتے آخر میں بیٹوں کا ذکر فرمایا جن کے ساتھ مقدم الذکر تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ (التسہیل) جب اپنے پیاروں سے بھاگے گا تو دوسروں کا کیا ذکر ؟ -

بھاگنے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ان عزیزوں کو ، جو دنیا میں اسے سب سے زیادہ پیارے تھے ، مصیبت میں مبتلا دیکھ کر بجائے اس کے ان کی مدد کو دوڑے ، الٹا ان سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اسے مدد کے لیے پکار نہ بیٹھیں ۔ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا میں خدا سے بے خوف اور آخرت سے غافل ہو کر جس طرح یہ سب ایک دوسرے کی خاطر گناہ اور ایک دوسرے کو گمراہ کرتے رہے ، اس کے برے نتائج سامنے آتے دیکھ کر ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اپنی گمراہیوں اور گناہ گاریوں کی ذمہ داری اس پر نہ ڈالنے لگے ۔ بھائی کو بھائی سے ، اولاد کو ماں باپ سے ، شوہر کو بیوی سے ، اور ماں باپ کو اولاد سے خطرہ ہو گا کہ یہ کم بخت اب ہمارے خلاف مقدمے کے گواہ بننے والے ہیں 

آیت ٣٧ لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ۔ ” اس دن ان میں سے ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے (ہر ایک سے) بےپروا کر دے گی۔ “- اس دن ہر انسان نفسا نفسی کی کیفیت میں ہوگا۔ ہرانسان کو اپنی پریشانی کی وجہ سے اپنے عزیز ترین رشتوں سمیت کسی دوسرے کی کوئی پروا نہیں ہوگی۔