آیت ١٠ وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا لِلْاَنَامِ ۔ ” اور زمین کو اس نے بچھا دیا مخلوق کے لیے۔ “- ظاہر ہے مخلوق میں انسان بھی شامل ہیں اور جنات بھی ۔ نوٹ کیجیے کہ پہلے آسمان ‘ سورج اور چاند کا ذکر ہوا ہے اور اب زمین کا ۔ گویا ترتیب تدریجاً اوپر سے نیچے کی طرف آرہی ہے۔
انام کا لغوی مفہوم :۔ انام سے مراد ہر وہ جاندار مخلوق ہے جو روئے زمین پر پائی جاتی ہے۔ خواہ وہ چرند ہوں، یا پرند، مویشی ہوں یا درندے، انسان ہوں یا جن، اور انام سے مراد انسان اور جن لینا اس لحاظ سے زیادہ مناسب ہے کہ آگے انہیں دو انواع کا ذکر آرہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کا رزق ہم نے زمین سے ہی وابستہ کردیا ہے۔ یہی ان کی جائے پیدائش، یہی ان کا مسکن اور یہی ان کا مدفن ہے
آیت ١ ١ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ لا وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ ۔ ” اس میں میوے ہیں اور کھجوریں ہیں ‘ جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ “
آیت ١٢ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ ۔ ” اور ُ بھس والا اناج بھی ہے اور خوشبودار پھول بھی۔ “- بعض مترجمین ” الرَّیْحَان “ سے مختلف النوع غذائیں بھی مراد لیتے ہیں۔
آیت ١٣ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ ” تو تم دونوں (گروہ) اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “- عام طور پر اٰلَآئِ کا ترجمہ ” نعمتیں “ کیا جاتا ہے ‘ لیکن اس لفظ میں نعمتوں کے ساتھ ساتھ قدرتوں کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ چناچہ اس سورت میں بھی اس لفظ سے کہیں اللہ کی نعمتیں مراد ہیں اور کہیں اس کی قدرتیں۔ تُکَذِّبٰنِ تثنیہ کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سورت میں جنوں اور انسانوں سے مسلسل ایک ساتھ خطاب ہو رہا ہے ۔
.jpg)

.jpg)

.jpg)
.jpg)
