Sunday, June 14, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

انسان بڑا ہی ناشکرا ہے

جو نیکی

  انسان کے کام آنے والا وہی مال ہے جو اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا  ۔  حفص بن میسرہ نے علاء (بن عبدالرحمٰن) سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، اس لیے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں: جو اس نے کھایا اور فنا کر دیا، جو پہنا اور بوسیدہ کر دیا، یا جو کسی کو دے کر (آخرت کے لیے) ذخیرہ کر لیا۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے تو وہ (بندہ جانے والا اور اس (مال) کو لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7422]  ۔  انسان کے کام صرف وہی مال آئے گا جسے اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا یا حاجت مندوں کی احتیاج کو دور کیا، یہی وہ مال ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ اجرعطا کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ 

نماز کی پابندی

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”پانچ نمازیں دن رات میں فرض ہیں۔“ اس نے پوچھا: اس کے سوا بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باقی سب نوافل ہیں۔“ [صحیح بخاری:46] ‏ ۔  ‏پھر فرماتا ہے ” اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ “ یعنی راہ اللہ صدقہ خیرات کرتے رہو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں بہت بہتر اور اعلیٰ اور پورا بدلہ دے گا ‏ ۔  جیسے اور جگہ ہے «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] ۔‏ ” ایسا کون ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے اور اللہ اسے بہت کچھ بڑھائے چڑھائے۔“ تم جو بھی نیکیاں کر کے بھیجو گے وہ تمہارے لیے اس چیز سے جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ کر جاؤ گے بہت ہی بہتر اور اجر و ثواب میں بہت ہی زیادہ ہے ۔ ابو یعلیٰ موصلی کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ایک مرتبہ پوچھا: ” تم میں سے ایسا کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے تو ایک بھی ایسا نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اور سوچ لو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہی بات ہے فرمایا: ” سنو تمہارا مال وہ ہے جسے تم راہ اللہ دے کر اپنے لیے آگے بھیج دو اور جو چھوڑ جاؤ گے وہ تمہارا مال نہیں وہ تو تمہارے وارثوں کا مال ہے۔‏“ یہ حدیث بخاری شریف اور نسائی میں بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6442] ‏ ۔  

قرآن پڑھنا

Saturday, June 13, 2026

یہ قرآن

 آیت ١٩ اِنَّ ہٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌج ” یقینا یہ ایک یاددہانی ہے۔ “- فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا ۔ ” تو جو کوئی بھی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔ “- اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو قرآن مجید کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے۔  آمین

مشرق و مغرب کا پروردگار

یعنی مشرق و مغرب کا مالک و مربی وہی ہے، ہر وقت اسی کا ذکر کرو، عبات بھی اسی کی کرو اور بھروسہ بھی اسی پر رکھو، جب وہ معبود اور وکیل ہے تو تمام دنیا سے بےپروا ہوجانے میں فکر کس بات کی ؟ عبادت و توکل دونوں کو اللہ کیلئے خاص کرنے کا حکم کئی آیات میں آیا ہے، جیسے فرمایا :(فاعبدہ و توکل علیہ) (ھود : ١٢٣)” سو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔ “ اور فرمایا :(ایاک نعبد وایاک نستعین) (الفاتحۃ : ٣)” ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ “ ” وکیلاً “ ” وکل یکل “ (ض) سپرد کرنا۔ وکیل وہ ہے جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے، یعنی اپنی پوری جدوجہد کے باوجود اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر رکھو اور اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دو ۔ یہی بات اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر سے فرما رہے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود تو پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوجائیے اور اپنے سب معاملات اپنے پروردگار کے سپرد کردیجیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باقی سب معاملات وہ درست کر دے گا۔