«صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ»
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ [الفاتحة:6]
Friday, March 13, 2026
The Importance of Purity and Gratitude in Faith
Abu Malik Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: "Purity is half of iman (faith)'.Al-hamdu lillah (all praise and gratitude belong to Allah)’ fills the scales, and 'subhan-Allah (how far is Allah from every imperfection) and 'Al-Hamdulillah (all praise and gratitude belong to Allah)’ fill that which is between heaven and earth". Muslim.
Riyad as-Salihin 1413 (Book 15, Hadith 6)
صدقہ و خیرات
آیت ١٨ اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَھُمْ وَلَھُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ ۔ ” یقینا صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو قرض دیں اللہ کو قرض حسنہ ‘ ان کو کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا اور ان کے لیے بڑا باعزت اجر ہے۔ “- سورة البقرۃ کے رکوع ٣٥ اور ٣٦ کے مطالعہ کے دوران بھی یہ نکتہ واضح کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے مال خرچ کرنے کی دو مدیں ہیں۔۔۔۔ یعنی ایک صدقہ اور دوسری انفاق فی سبیل اللہ یا اللہ کے لیے قرض حسنہ۔ چناچہ وہ مال جو اللہ کی رضا کے لیے غربائ ‘ مساکین ‘ بیوائوں ‘ یتیموں ‘ بیماروں ‘ مسافروں ‘ مقروضوں ‘ محتاجوں اور ضرورت مند انسانوں کی مدد اور حاجت روائی کے لیے خرچ کیا جائے وہ صدقہ ہے۔ اسی مفہوم میں سورة التوبہ کی آیت ٦٠ میں زکوٰۃ کو بھی ” صدقہ “ قرار دیا گیا ہے ۔ کیونکہ زکوٰۃ بنیادی طور پر غرباء و مساکین اور محتاجوں کے لیے ہے۔ اس میں اللہ کے لیے (فی سبیل اللہ) صرف ایک مد رکھی گئی ہے۔ اس حوالے سے دوسری اصطلاح ” انفاق فی سبیل اللہ “ یا اللہ کے لیے قرض حسنہ کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ باقاعدہ ایک اصطلاح کی بات ہو رہی ہے ‘ ورنہ عرفِ عام میں تو صدقہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہے ‘ کیونکہ وہ بھی اللہ کے لیے اور اس کی رضاجوئی کے لیے ہی دیا جاتا ہے۔ بہرحال ایک باقاعدہ اصطلاح کے اعتبار سے انفاق فی سبیل اللہ ایسا انفاق ہے جو اللہ کے دین کے لیے ‘ دین کی نشرو اشاعت کے لیے اور اس کے غلبہ و اقامت کی جدوجہد کے لیے کیا جائے اور یہی وہ انفاق ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے ۔- اللہ کی مشیت سے مردہ زمین کے زندہ ہوجانے کے ذکرکے بعد یہاں صدقہ اور اللہ کے لیے قرض حسنہ کی ترغیب میں گویا دل کی مردہ زمین کو پھر سے ایمان کی فصل کے لائق بنانے کی ترکیب پنہاں ہے ۔ یعنی اگر تم نے دل کی مردہ زمین کو زندہ کرنا ہے تو اس میں انفاقِ مال کا ہل چلائو اور اس میں سے ُ حب ِدنیا کی جڑوں کو کھود کھود کر نکال باہر کرو۔ یقین رکھو کہ جیسے جیسے تم اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرتے جائو گے ‘ ویسے ویسے تمہارے دل کی زمین میں ایمان کی فصل جڑیں پکڑتی چلی جائے گی۔ دنیا کی محبت کو میں عام طور پر گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دیا کرتا ہوں۔ جس طرح گاڑی کو بریک لگی ہو تو وہ حرکت میں نہیں آسکتی ‘ اسی طرح اگر دنیا کی محبت آپ کے دل میں پیوست ہوچکی ہے تو اس میں اللہ کے راستے پر گامزن ہونے کی امنگ پیدا نہیں ہوسکتی۔ چناچہ دل کی گاڑی کو رضائے الٰہی کی شاہراہ پر رواں دواں کرنے کے لیے اس کی بریک سے پائوں اٹھانا بہت ضروری ہے۔ یعنی اس کے لیے مال کی محبت کو دل سے نکالنا ناگزیر ہے ۔ اور اس محبت کو دل سے نکالنے کی ترکیب یہی ہے کہ اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے۔
نور ایمانی
نور ایمانی کا انحصار ایمان کی کمی بیشی پر :۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت پیش آئے گا جب میدان محشر میں فیصلہ کے بعد مومن مردوں اور عورتوں کو جنت کا پروانہ راہداری مل جائے گا۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ جنت کو جو راستہ جاتا ہے وہ جہنم سے ہو کرجاتا ہے اور ہر جنتی کو لازماً جہنم پر وارد ہونا ہوگا۔ (١٩: ٧١) اور پل صراط سے گزرنا ہوگا اور اس راستہ میں سخت تاریکی ہوگی۔ وہاں مومنوں کے اعمال صالحہ کا نور ہی کام آئے گا۔ جس قدر کسی کا ایمان پختہ اور نیک اعمال زیادہ ہوں گے اتنا ہی اس کا نور یا روشنی بھی زیادہ ہوگی۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ مومنوں کی روشنی اتنی دور تک پہنچے گی جیسے مدینہ اور عدن کا درمیانی فاصلہ ہے۔ بعض کا نور مدینہ سے صنعاء تک کے فاصلہ تک پہنچ رہا ہوگا اور بعض ایسے بھی ہوں گے جن کی روشنی ان کے اپنے قدموں سے آگے نہیں بڑھے گی اس روشنی کی کمی بیشی کی ایک توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جس شخص کی کوششوں سے اسلام جتنی دور تک پھیلا ہوگا اور لوگوں کو ہدایت حاصل ہوئی ہوگی اس نسبت سے اس کے نور میں کمی بیشی ہوگی۔ نیک اعمال اور دائیں جانب کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ اہل جنت کو اعمال نامہ بھی دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک شخص اندھیرے میں روشنی کا کوئی آلہ مثلاً لالٹین، لیمپ یا ٹارچ عموماً اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر چلتا ہے۔ اس کی روشنی سامنے اور دائیں ہاتھ تو خوب پڑتی ہے۔ مگر بائیں ہاتھ یا پیچھے بھی روشنی پڑتی تو ہے مگر بہت کم۔ یہی صورت حال اس دن ہوگی اور آگے جو روشنی پڑے گی اس کا تعلق دل سے ہے جس قدر کسی کا دل ایمان کی پختگی اور اس کے نور سے منور ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کے آگے روشنی ہوگی اور دائیں طرف کی روشنی کا تعلق اس کے اعمال صالحہ سے ہوگا۔
قَرۡضًا حَسَنًا
قرض حسنہ کے سلسلہ میں دس ہدایات :۔ قرض حسنہ سے مراد ہر وہ مال ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے اس کی ہدایات و احکام کے مطابق خرچ کیا جائے۔ خواہ وہ فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہو یا واجبی صدقات ہوں یا نفلی ہوں اور خواہ وہ فی سبیل اللہ خرچ کیا جائے یا کسی محتاج کی احتیاج کو دور کرنے کے لیے اسے دیا جائے۔ قرض حسنہ کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل دس امور کا لحاظ رکھنا اسے افضل صدقہ بنادیں گے۔- (١) حلال کمائی سے خرچ کیا جائے کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ قبول نہیں، (٢) صدقہ میں ناقص مال نہ دے، (٣) اس وقت صدقہ کرے جبکہ خود بھی اسے احتیاج ہو، (٤) اپنی احتیاج پر دوسرے کی احتیاج کو مقدم رکھے، (٥) صدقہ چھپا کردینا زیادہ بہتر ہے۔ (٦) صدقہ دینے کے بعد احسان نہ جتلائے اور نہ ہی کسی دوسری صورت میں اس کا معاوضہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہ باتیں صدقہ کو برباد کردیتی ہیں، (٧) صدقہ میں نمودو نمائش یعنی ریا کا شائبہ تک نہ ہو۔ یہ بات بھی صدقہ کو برباد کردیتی ہے، (٨) اپنے دیئے ہوئے صدقہ کو حقیر جانے۔ صدقہ دے کر اس کا نفس اس نیکی پر پھول نہ جائے، (٩) اگر صدقہ میں اپنا بہترین اور پسندیدہ مال دے تو یہ اس کے اپنے حق میں بہت بہتر ہے۔ (١٠) محتاج کو صدقہ دینے کے بعد یہ نہ سمجھے کہ میں نے اس پر احسان کیا ہے بلکہ یہ سمجھے کہ میرے مال میں اس کا یہ حق تھا اور میں نے اس کا حق ادا کیا ہے اور مستحق کو حق دے کر اپنے سر سے بوجھ ہلکا کیا ہے۔
قرضہ حسنہ کے دو فائدے :۔ قرضہ حسنہ دینے والوں سے اللہ تعالیٰ نے دو وعدے فرمائے ایک یہ کہ اللہ اسے کئی گناہ زیادہ کرکے واپس کرے گا۔ دنیا میں بھی ایسے خرچ کیے ہوئے مال کی واپسی کا اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے۔
(٣٤: ٣٩)
اور آخرت میں تو سات سو گنا یا اس سے بڑھ کر بھی اضافہ ہوسکتا ہے یعنی قرضہ حسنہ کی مندرجہ بالا شرائط کو جتنا زیادہ ملحوظ رکھا جائے گا۔ اسی تناسب سے اس کے اجر میں اضافہ ہوگا۔ اور دوسرا وعدہ یہ کہ انہیں عمدہ اجر عطا کرے گا۔ یہ فقرہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ہی عطا کردہ مال میں سے انسان اس مال کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے کہنے کے مطابق خرچ کردے تو انسان کو بدلہ ملنے کا حق کہاں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ ایسے قرض حسنہ دینے والوں کو بہت عمدہ اجرعطا فرمائے گا۔ واضح رہے کہ اللہ کا بندے کو اصل سے دوگنا یا زیادہ دینے کا معاملہ کوئی سود بیاج کا معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ معاملہ آقا اور اس کے غلام کے درمیان ہے۔ اور غلام کی خدمات کا مالک جتنا بھی صلہ دے دے، برابر برابر دے دوگنا دے، دس بیس گنا دے وہ سود بیاج نہیں کہلا سکتا۔ البتہ یہ اندازہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ آقا اپنے غلام کی خدمات کا کس قدر قدر شناس اور کریم النفس ہے۔


.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)