Friday, February 13, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

پہاڑوں کے فوائد

 آیت ١٥ (وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ )- یہاں اَنْہٰرًا وَّسُبُلاً کے اکٹھے ذکر کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو عملی طور پر بھی ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ پہاڑی سلسلوں میں عام طور پر ندیوں کی گزر گاہوں کے ساتھ ساتھ ہی راستے بنتے ہیں۔ اسی طرح پہاڑوں کے درمیان قدرتی وادیاں انسانوں کی گزر گاہیں بھی بنتی ہیں اور پانی کے ریلوں کو راستے بھی فراہم کرتی ہیں۔

یہ پہاڑوں کا فائدہ بیان کیا جا رہا ہے اور اللہ کا ایک احسان عظیم بھی ہے، کیونکہ اگر زمین ہلتی رہتی تو اس میں سکونت ممکن ہی نہ رہتی۔ اس کا اندازہ ان زلزلوں سے کیا جاسکتا ہے جو چند سکینڈوں اور لمحوں کے لئے آتے ہیں، لیکن کس طرح بڑی بڑی مضبوط عمارتوں کو پیوند زمین اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیتے ہیں۔   نہروں کا سلسلہ بھی عجیب ہے، کہاں سے وہ شروع ہوتی ہیں اور کہاں کہاں، دائیں بائیں، شمال، جنوب، مشرق و مغرب ہر جہت کو سہراب کرتی ہیں۔ اس طرح راستے بنائے، جن کے ذریعے تم منزل مقصود پر پہنچتے ہو۔

آیت ١٦ (وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ )- اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی مدد کے لیے زمین میں طرح طرح کی علامتیں بنائیں تاکہ مختلف علاقوں اور راستوں کی پہچان ہو سکے۔ اسی طرح آسمان کے ستاروں کو بھی سمتوں اور راستوں کے تعین کا ایک ذریعہ بنا دیا۔ پرانے زمانے میں سمندری اور صحرائی سفر رات کے وقت ستاروں کی مدد سے ہی ممکن ہوتے تھے۔

 نشان راہ کی اہمیت :۔ کسی جگہ کوئی ٹیلہ ہے یا کوئی ندی نالا بہہ رہا ہے یا گھاٹی ہے۔ ایسی علامت اور بعض دیگر عارضی علامات جیسے کوئی بلند درخت، یا قصبہ، یا بلند عمارت وغیرہ۔ ایسی چیزوں کے دوسرے فوائد کے ساتھ ساتھ ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مسافر ان علامات کے ذریعہ یہ معلوم کرسکتا ہے کہ وہ ٹھیک راستہ پر جارہا ہے۔ ان علامات کی صحیح قدر و قیمت اس وقت معلوم ہوتی ہے جب انسان کو کسی ایسے لق ودق صحرا میں سفر کرنا پڑے۔ جہاں کوئی نشان راہ اور علامت نہ ہو۔ ایسی جگہ پر راہ بھول جانے اور بھول بھلیوں میں پڑجانے کا سخت اندیشہ ہوتا ہے۔ اور اگر ایک دفعہ کوئی راہ بھول جائے تو دوبارہ راستہ ملنا بڑا دشوار ہوتا ہے۔-  ستاروں سے رہنمائی :۔ رات کے وقت انسان ستاروں کی چال سے وقت بھی معلوم کرسکتا ہے کہ رات کا کتنا حصہ گزر چکا ہے اور کتنا باقی ہے اور سمت بھی۔ رات کے وقت سفر میں ستارے پوری رہنمائی کا کام دیتے ہیں خواہ یہ سفر بحری ہو یا بری۔ آج کل سفر میں عموماً قطب نما سے مدد لی جاتی ہے جبکہ حقیقتاً یہ بھی ستاروں سے بالواسطہ رہنمائی ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں قطب نما کی سوئی ہمیشہ عین شمال یا قطبی ستارہ کی طرف ہوجاتی ہے جس سے دوسری سمتوں کے نشان اس قطب نما پر لگا دیئے جاتے ہیں۔

یا رب

ناپ تول میں انصاف

 آیت ٩ وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ ۔ ” اور قائم رکھو وزن کو انصاف کے ساتھ اور میزان میں کوئی کمی نہ کرو۔ “- کسی بھی نظام میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اس نظام کے اندر عدل قائم رکھنا یعنی اس کی ہرچیز کو اس کی اصل جگہ پر رکھنا ضروری ہے ‘ کیونکہ کسی بھی قسم کی کمی بیشی نظام میں خرابی اور عدم توازن کا باعث بنتی ہے ۔ اسی لیے زیادتی سے بھی منع کردیا گیا (لَا تَطْغَوْا) اور کمی کرنے سے بھی روک دیا گیا (لَا تُخْسِرُوا) ۔ خالق کائنات نے اس کائنات کا پورا نظام توازن اور عدل و قسط پر قائم کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنے دائرئہ اختیار میں اسی طرح توازن اور عدل وقسط کو ملحوظ رکھے۔ اس میزان میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے ‘ ورنہ سارے نظام معاش و معیشت میں فساد پھیل جائے گا۔ یہاں کوئی بڑا ظلم تو درکنار ‘ ترازو میں ڈنڈی مار کر اگر کوئی شخص خریدار کے حصے کی تھوڑی سی چیز بھی مار لیتا ہے تو میزانِ عالم میں خلل برپا کردیتا ہے

میزان کا مفہوم

آیت ٧ وَالسَّمَآئَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ ۔ ” اور آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کی۔ “- یہاں میزان سے مراد کائناتی نظام کے اندر پایا جانے والا مربوط اور خوبصورت توازن  ہے جس کی وجہ سے یہ کائنات قائم ہے۔ یہ توازن تمام اجرامِ سماویہ کے اندر موجود کشش ثقل کی وجہ سے قائم ہے۔ تمام اجرامِ فلکی اس کشش کی وجہ سے آپس میں بندھے ہوئے ہیں۔ قدرت کی طرف سے ہر ُ کرے ّکا دوسرے کرے سے فاصلہ ‘ اس کی کشش کی طاقت کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ اگر کہیں یہ فاصلہ ایک طرف سے معمولی سا کم ہوجائے اور دوسری طرف سے معمولی سا بڑھ جائے تو یہ سارا نظام تلپٹ ہوجائے اور تمام کرے آپس میں ٹکرا جائیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تمام چیزوں میں ایک توازن قائم کر رکھا ہے۔ -

 میزان کا مفہوم :۔ اس آیت میں میزان سے اکثر مفسرین نے میزان عدل مراد لی ہے۔ جس کے سہارے یہ زمین و آسمان قائم ہیں جیسا کہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔ اس صورت میں ان کے عدل سے مراد وہ توازن و تناسب ہے۔ جو ہر سیارے میں قوت جاذبہ یعنی کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کے درمیان رکھ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ہر سیارے کا درمیانی فاصلہ، ان کی رفتار اور ان میں باہمی تعلق بھی شامل ہے اور یہ اتنا لطیف اور خفیف تعلق ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے اور اس توازن و تناسب کو میزان کے لفظ سے اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ انسان کو سمجھانے کے لیے اس لفظ کے مفہوم کے قریب تر کوئی لفظ نہ تھا۔

آیت ٨ اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْْمِیْزَانِ ۔ ” تاکہ تم میزان میں زیادتی مت کرو۔ “- اس کائناتی توازن کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات میں رہتے ہوئے تم بھی عدل و انصاف پر قائم رہو۔

ایک اٹل ضابطہ

 آیت ٥ اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ۔ ” سورج اور چاند ایک حساب کے ساتھ گردش کرتے ہیں۔ “- سورج اور چاند کی گردش ایک قطعی اور مربوط نظام کا حصہ ہے۔ ان کی گردش سے ہی دن رات بنتے ہیں اور دنوں ‘ مہینوں اور سالوں کا حساب ممکن ہوتا ہے۔

چاند اور سورج میں نظم کی بنا پر انسانوں کو پہنچنے والے فائدے :۔ سورج اور چاند کا ایک مقررہ رفتار کے مطابق چلنا۔ پھر اس میں ایک لحظہ کی بھی تاخیر نہ ہونا انسان کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ سورج سے دن رات ادل بدل کر آتے رہتے ہیں اور موسموں میں بتدریج تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ نمازوں کے اوقات کا تعلق بھی سورج سے ہے۔ فصلوں کے پکنے کا انحصار بھی سورج سے ہے۔ چاند سے ہمیں رات کو روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ہم مہینوں اور سالوں کا حساب رکھ سکتے ہیں اور یہی حقیقی اور فطری تقویم ہے۔ اسی لیے رمضان کے روزے، حج، عیدیں اور دوسری قابل شمار مدتوں مثلاً مدت حمل، مدت رضاعت و عدت وغیرہ کا تعلق چاند سے ہوتا ہے۔ پھر سورج اور زمین کے درمیان ایسا مناسب فاصلہ رکھا گیا ہے۔ کہ اس میں کمی بیشی سے اس زمین پر انسان اور دوسرے سب جانداروں کی زندگی ہی ناممکن ہے۔ اور سب فائدے اسی صورت میں حاصل ہورہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان عظیم الجثہ کروں کو ایسے طبعی قوانین میں جکڑ رکھا ہے جس سے وہ ادھر ادھر ہو ہی نہیں سکتے اور اپنے مقرر مداروں پر مقررہ رفتار سے ہمہ وقت محو گردش رہتے ہیں۔

آیت ٦ وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ ۔ ” اور ستارے اور درخت (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں۔ “- نَجْم کے معروف معنی ستارے کے ہیں ‘ لیکن عربی میں یہ لفظ ایسے پودوں اور بیل بوٹوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے جن کا تنا نہیں ہوتا۔ مثلاً جھاڑیاں اور خربوزے اور تربوز کی بیلیں وغیرہ۔ جس طرح لاتعداد ستارے آسمان پر بکھرے نظر آتے ہیں بالکل اسی طرح بیشمار جھاڑیاں اور بیل بوٹے زمین پر پھیلے دکھائی دیتے ہیں۔ چناچہ پچھلی آیت میں سورج اور چاند کے ذکر کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہاں النَّجْم سے ستارے مراد ہوں گے ‘ لیکن اگلے لفظ الشَّجَرکے حوالے سے جھاڑیاں یا بیلیں کا ترجمہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔

 نجم کے معنی ستارا بھی ہے اور بےتنا درخت بھی جس میں جھاڑ جھنکار، جڑی بوٹیاں، بیلیں اور بےتنہ پودے سب شامل ہیں اور یہاں یہ دوسرا معنی ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور سجدہ ریز ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے جو طبعی قوانین ان کے لیے مقرر کردیئے ہیں ان سے سرتابی نہیں کرتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ فی الواقع اللہ کو سجدہ کر رہے ہوں۔ لیکن انسان اس کیفیت اور ماہیت کو سمجھنے سے قاصر ہو۔ نیز انسان ان سے جو بھی فائدہ اٹھانا چاہے وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنتے۔

Thursday, February 12, 2026

اَلرَّحۡمٰنُ

آیت ٢ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔ ” قرآن سکھایا ۔ “- رحمن ‘ اللہ تعالیٰ کا خاص نام ہے۔ اس کا مادہ ” رحم “ ہے اور یہ فَعلان کے وزن پر ہے۔ اس وزن پر جو الفاظ آتے ہیں ان کے مفہوم میں بہت زیادہ مبالغہ پایاجاتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے دو مرتبہ (الاعراف : ١٥٠ اور طٰہ : ٨٦) غَضْبان کا لفظ آیا ہے ‘ یعنی غصے سے بہت زیادہ بھرا ہوا۔ اسی طرح اَنَا عَطْشَان کا مطلب ہے کہ میں پیاس سے مرا جا رہا ہوں اور اَنَا جَوْعَان : بھوک سے میری جان نکلی جا رہی ہے۔ چناچہ لغوی اعتبار سے رحمن کے مفہوم میں ایک طوفانی شان پائی جاتی ہے (لفظ ” طوفان “ بھی اسی وزن پر ہے ‘ اس لیے اس لفظ کے مفہوم میں بھی مبالغہ پایاجاتا ہے) ۔ اس مفہوم کو ہم اپنی زبان میں اس طرح ادا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ رحمن وہ ذات ہے جس کی رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ہے۔ اس کی رحمت تمام مخلوقات کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ کسی مخلوق کا کوئی فرد بھی اس کی رحمت سے مستغنی نہیں۔ خاص طور پر بنی نوع انسانی تو دنیا میں بھی اس کی رحمت کی محتاج ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں ایک موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کوئی شخص صرف اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت میں نہیں جاسکے گا جب تک کہ رحمت خداوندی اس کی دستگیری نہ کرے۔ اس پر صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (وَلَا اَنَا ‘ اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ ) (١) ” ہاں میں بھی نہیں اِلا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے “۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں رحمن چوٹی کا نام ہے۔ - جس طرح اللہ تعالیٰ کے ناموں میں چوٹی کا نام رحمن ہے ‘ اسی طرح اللہ نے انسان کو جو علم سکھایا ہے اس میں چوٹی کا علم قرآن ہے۔ اکتسابی علم  میں تو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق انسان رفتہ رفتہ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو جو الہامی علم  عطا ہوا ہے اس میں چوٹی کا علم قرآن ہے ‘ جو ہر قسم کے تمام علوم کا نقطہ عروج ہے۔
آیت ٣ خَلَقَ الْاِنْسَانَ ۔ ” اسی نے انسان کو بنایا۔ “- اس سلسلے کا تیسرا اہم نکتہ یہ نوٹ کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج  انسان ہے۔ انسان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ نے عالم ِامر اور عالم خلق (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : سورة النحل ‘ آیت ٤٠ کی تشریح) دونوں کو جمع فرما دیا ہے ۔ اسی لیے انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا : خَلَقْتُ بِیَدَیَّ (ص : ٧٥) کہ میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔
آیت ٤ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ ۔ ” اس کو بیان سکھایا۔ “- یعنی اسے بولنا سکھایا ‘ اسے گویائی کی صلاحیت بخشی ۔ آیات زیر مطالعہ کے حوالے سے یہاں چوتھا اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان کی صلاحیتوں میں سے جو چوٹی کی صلاحیت ہے وہ قوت بیان (گویائی) ہے۔ آج میڈیکل سائنس کی تحقیق سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انسان کی قوت گویائی کا تعلق اس کے دماغ کی خصوصی بناوٹ سے ہے۔
 بولنا وہ امتیازی وصف ہے جو انسان کو حیوانات اور دوسرے ارضی مخلوقات سے ممیز کرتا ہے ۔ یہ محض قوت ناطقہ کام نہیں کر سکتی ۔ اس لیے بولنا دراصل انسان کے ذی شعور اور ذی اختیار مخلوق ہونے کی صریح علامت ہے ۔ اور یہ امتیازی وصف جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمایا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے لئے تعلیم کی نوعیت بھی وہ نہیں ہو سکتی جو بے شعور اور بے اختیار مخلوق کی رہنمائی کے لیے موزوں ہے ۔ اسی طرح انسان کا دوسرا اہم ترین امتیازی وصف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر ایک اخلاقی حِس  رکھ دی ہے جس کی وجہ سے وہ فطری طور پر نیکی اور بدی ، حق اور ناحق ، ظلم اور انصاف ، بجا اور بے جا کے درمیان فرق کرتا ہے ، اور یہ وجدان اور احساس انتہائی گمراہی و جہالت کی حالت میں بھی اس کے اندر سے نہیں نکلتا ۔ ان دونوں امتیازی خصوصیات کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان کی شعوری و اختیاری زندگی کے لیے تعلیم کا طریقہ اس پیدائشی طریق تعلیم سے مختلف ہو جس کے تحت مچھلی کو تیرنا اور پرندے کو اڑنا ، اور خود انسانی جسم کے اندر پلک کو جھپکنا ، آنکھ کو دیکھنا ، کان کو سننا ، اور معدے کو ہضم کرنا سکھایا گیا ہے ۔ انسان خود اپنی زندگی کے اس شعبے میں استاد اور کتاب اور مدرسے اور تبلیغ و تلقین اور تحریر و تقریر اور بحث و استدلال جیسے ذرائع ہی کو وسیلہ تعلیم مانتا ہے اور پیدائشی علم و شعور کو کافی نہیں سمجھتا ۔ پھر یہ بات آخر کیوں عجیب ہو کہ انسان کے خالق پر اسکی رہنمائی کی جو ذمی داری عائد ہوتی ہے اسے ادا کرنے کے لیے اس نے رسول اور کتاب کو تعلیم کا ذریعہ بنایا ہے؟ جیسی مخلوق ویسی ہی اس کی تعلیم ۔ یہ سراسر ایک معقول بات ہے بیان جس مخلوق کو 
سکھایا گیا ہو اس کے لیے قرآن ہی ذریعہ تعلیم ہو سکتا ہے نہ کہ کوئی ایسا ذریعہ جو ان مخلوقات کے لیے موزوں ہے جنہیں بیان نہیں سکھایا گیا ہے ۔