Wednesday, August 19, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

ماشاء اللہ

Kindness Rewarded

Narrated Abu Huraira: The Prophet  said, "A man saw a dog eating mud from (the severity of) thirst. So, that man took a shoe (and filled it) with water and kept on pouring the water for the dog till it quenched its thirst. So Allah approved of his deed and made him to enter Paradise".

Sahih al-Bukhari 173 (Book 4, Hadith 39)

QUICK LESSONS:
Show kindness towards all living creatures

EXPLANATIONS:

This hadith is about the reward of kindness and mercy. It tells us that Allah rewards those who show mercy to others, even if it is an animal. The hadith narrates the story of a man who saw a dog suffering from thirst and decided to help it by pouring water into its mouth with his shoe until it quenched its thirst. As a result, Allah approved of his deed and made him enter paradise as a reward for his kind act. This hadith teaches us that we should always be kind to all living creatures, no matter how small or insignificant they may seem, because Allah will reward us for our good deeds in this life or in the hereafter. We should also remember that even small acts of kindness can have great rewards from Allah if done with sincerity and compassion.

نماز

جب قیامت برپا ہوگی

آیت ١ اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ ۔ ” جب آسمان پھٹ جائے گا۔ “- نوٹ کیجیے ان تمام سورتوں کا بنیادی موضوع ” تذکیر آخرت “ ہے۔ زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں ، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی ۔

آیت ٢ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۔ ” اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔ “- اَذِنَتْ لِرَبِّہَا کا لفظی ترجمہ یوں ہوگا کہ وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے ہوئے ہے اور جو بات کان لگا کر سنی جائے اس کے مطابق عمل بھی کیا جاتا ہے۔ اَذِنَتْ کا معنی اِسْتَمَعَتْ وَاِنْقَادَتْ کیا گیا ہے۔ یعنی اس نے غور سے سنا اور تعمیل کی۔ حُقَّتْ یہاں مجہول ہے حَقَّ یَحِقُّ سے۔ یعنی وہ اسی لائق ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ بےچون و چرا اپنے خالق کے حکم پر سرتسلیم خم کرے۔

 زمین کو کھینچ کر لمبا کرنے کا مفہوم :۔ مُدَّتْ ۔ مَدَّ بمعنی کسی چیز کو لمبائی میں کھینچ کر پھیلانا اور اسے لمبا کردینا۔ جیسے اللہ تعالیٰ سایوں کو یا بادلوں کو لمبا کرتا اور پھیلا دیتا ہے واضح رہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ زمین کو کھینچ کر چپٹی بنادے گا۔ زمین کو اللہ نے پہلے ہی پھیلا دیا اور لمبا کردیا ہے۔ اس دن صرف یہ ہوگا کہ سارے سمندر خشک کرکے زمین میں شامل کردیے جائیں گے جس سے زمین کا رقبہ چار گنا ہوجائے گا پھر پہاڑوں کو زمین بوس کردیا جائے گا اس کی اونچی اور نیچی سب جگہیں برابر کردی جائیں گی۔ اس طرح اسی زمین کا رقبہ اتنا زیادہ ہوجائے گا کہ اسی زمین پر سیدنا آدم (علیہ السلام) سے لے کے قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں اور قیامت تک جنوں کی تمام نسل کو یکجا اکٹھا کردیا جائے گا۔ یہی زمین میدان محشر بن جائے گی ۔ 

آیت ٤ وَاَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ ۔ ” اور وہ نکال باہر کرے گی جو کچھ اس کے اندر تھا اور خالی ہوجائے گی۔ “- سورة الزلزال میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے : وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا ۔ ” اور جب زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی “۔ قیامت کے دن زمین اپنے اندر مدفون تمام انسانوں کے اجسام اور ان کے تمام اجزاء کو نکال کر باہرکرے گی ۔ اس کے علاوہ بھی زمین میں جو کچھ معدنیات اور خزانے مخفی ہیں وہ قیامت کے دن نکال کر باہر پھینک دے گی۔

آیت ٥ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۔ ” اور وہ بھی اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔ “- جس طرح اطاعت وانقیاد کا مظاہرہ آسمان کرے گا ‘ اسی طرح زمین بھی حکم الٰہی بجا لائے گی۔

علیین کیا ہے؟


سجین کیا ہے؟