«صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ»
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ [الفاتحة:6]
Thursday, August 13, 2026
باقیات صالحات
آیت ٤٦ (اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا)- اس سورت میں دنیوی زندگی کی زیب وزینت کا ذکر یہاں تیسری مرتبہ آیا ہے۔ اس سے پہلے ہم آیت ٧ میں پڑھ آئے ہیں کہ روئے زمین کی آرائش و زیبائش اور تمام رونقیں انسانوں کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہیں : (اِنَّاجَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) پھر آیت ٢٨ میں رسول اللہ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا : (تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) کہ اے نبی کہیں ان لوگوں کو یہ گمان نہ ہو کہ آپ کا مطلوب و مقصود بھی دنیوی زندگی کی آرائش و زیبائش ہی ہے (معاذ اللہ ) ۔ گویا یہ موضوع اس سورت کے مضامین کا عمود ہے۔ لہٰذا یہ حقیقت ہروقت ہمارے ذہن میں مستحضر رہنی چاہیے کہ یہ زندگی اور دنیوی مال و متاع سب عارضی ہیں۔ یہاں کے رشتے ناطے اور تمام تعلقات بھی اسی چار روزہ زندگی تک محدود ہیں۔ انسان کی آنکھ بند ہوتے ہی تمام رشتے اور تعلقات منقطع ہوجائیں گے اور اللہ کی عدالت میں ہرانسان کو تن تنہا پیش ہونا ہوگا : (وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا) ( مریم) وہاں نہ باپ اولاد کی مدد کرے گا نہ بیٹا والدین کو سہارا دے گا اور نہ بیوی شوہر کا ساتھ دے گی۔ اس دن کے محاسبے کا سامنا ہر شخص کو اکیلے ہی کرنا ہوگا۔- (وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ اَمَلًا)- اس مختصر زندگی کی کمائی میں اگر کسی چیز کو بقا حاصل ہے تو وہ نیک اعمال ہیں۔ آخرت میں صرف وہی کام آئیں گے۔ چناچہ دنیوی مال و اسباب سے امیدیں نہ لگاؤ اولاد سے توقعات مت وابستہ کرو۔ یہ سب عارضی چیزیں ہیں جو تمہاری موت کے ساتھ ہی تمہارے لیے بےوقعت ہوجائیں گی۔ آخرت کا سہارا چاہیے تو نیک اعمال کا توشہ جمع کرو اوراسی پونجی سے اپنی امیدیں وابستہ کرو۔
باقیات صالحات :۔ یہ مال و دولت اور بیٹے وغیرہ انسان کے لیے دلچسپی کا سامان ضرور ہیں لیکن ان چیزوں پر ایسا فریفتہ نہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اور اخروی زندگی کو بھول ہی جائے اور انہی چیزوں پر تکیہ کر بیٹھے بلکہ اسے ایسی چیزوں پر امید وابستہ رکھنی چاہیے جو فنا ہونے والی نہیں بلکہ باقی رہنے والی ہیں اور وہ اس کے نیک اعمال ہیں جن کا بدلہ بھی بہت اچھا ملے گا اور ان پر توقع بھی لگائی جاسکتی ہے اور آپ نے فرمایا کہ یہ کلمات : (سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولا الّٰہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ) باقیات صالحات ہیں۔ بعض دفعہ انسان ایسے نیک اعمال کی داغ بیل ڈال جاتا ہے کہ بعد میں مدتوں لوگ اس سے مستفیض ہوتے رہتے ہیں ایسے اعمال کا اجر اسے اس کی موت کے بعد بھی ملتا رہتا ہے جیسے کوئی شخص نیک اولاد چھوڑ جائے جو اس کے حق میں دعا کرتی رہے یا کوئی دینی مدرسہ قائم کر جائے جب تک اس میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رہے گا اس کو حصہ رسدی ثواب پہنچتا رہے گا یا کوئی رفاہ عامہ کا کام کر جائے جیسے کنواں یا سرائے، ہسپتال یا باغ یا کوئی اور چیز عام لوگوں کے فائدہ کے لیے وقف کرجائے (مسلم:کتاب الوصیت:باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاته:1631 )۔ یہی چیزیں اس لائق ہیں جن میں انسان کو اپنی کوششیں صرف کرنا چاہییں۔ دنیا کی فانی چیزوں میں مستغرق نہ ہونا چاہیے۔
Appreciating Food with Gratitude
Narrated Abu Huraira: The Prophet ﷺ never criticized any food (presented him), but he would eat it if he liked it; otherwise, he would leave it (without expressing his dislike).
Sahih al-Bukhari 3563 (Book 61, Hadith 73)-
نگران فرشتے
وان علیکم لحفظین…: حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں، یعنی فرشتے۔ ” حافظین “ یعنی کوئی عمل ان کی نگرانی سے باہر نہیں۔ ” کراماً “ عزت والے، اس لئے کہ وہ لکھنے میں کوئی خیانت نہیں کرتے، نہ کوئی بات لکھنے سے چھوڑتے ہیں اور نہ زیادہ لکھتے ہیں۔
آیت ١٢ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ ” وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو۔ “- اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے بطورنگران مقرر کر رکھے ہیں جو اس کا ایک ایک عمل لکھ رہے ہیں۔ اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں کا محاسبہ کرنا منظورنہیں ہے تو گویا وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کا فرشتوں کو بطور نگران مقرر کرنا اور ان فرشتوں کا ایک ایک انسان کے ایک ایک عمل کا ریکارڈ مرتب کرنا سب کا رعبث ہے۔ ایسے خیالات کے حامل لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ” کارِعبث “ اللہ کے شایانِ شان نہیں ‘ وہ احتساب ضرور کرے گا اور اس احتساب کے نتائج بھی ضرور نکلیں گے ‘ جن کا ذکر اگلی آیات میں ہے :
اے انسان
آیت ٦ یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ ۔ ” اے انسان تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اپنے ربّ کریم کے بارے میں۔ “- ظاہر ہے یہ کام شیطان لعین ہی کرتا ہے۔ وہی انسان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکے میں ڈالتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بنی نوع انسان کو باربار خبردار کیا گیا ہے ‘ مثلاً سورة لقمان میں فرمایا : وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَـرُوْرُ ۔ کہ وہ بڑا دھوکے باز تم لوگوں کو اللہ کے بارے میں کہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام تر تنبیہات کے باوجود اکثرانسان شیطان کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے شیطان مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف چالیں اورحربے آزماتا ہے۔ مثلاً ایک دیندار شخص کو اہم فرائض سے ہٹانے کے لیے وہ نوافل اور ذکر و اذکار کا پرکشش پیکج پیش کرسکتا ہے کہ تم اقامت دین اور دوسرے فرائض دینی کا خیال چھوڑو اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے راتوں کو جاگنے اور تہجد کی پابندی پر توجہ دو ۔ عام مسلمانوں کے لیے اس کی بہت ہی تیر بہدف چال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غفورٌ رحیم ہے ‘ وہ کوئی خوردہ گیر نہیں کہ اپنے مومن بندوں کو چھوٹی چھوٹی خطائوں پر پکڑے۔ وہ تو بہت بڑے بڑے گناہگاروں کو بھی معاف کردیتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں بےعملی کی سب سے بڑی وجہ شیطان کی یہی چال ہے ‘ بلکہ اس دلیل کے سہارے اکثر لوگ گناہوں کے بارے میں حیران کن حد تک جری اور بےباک ہوجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ ہم میں سے ہر ایک کو دعوت فکر دے رہی ہے کہ اے اللہ کے بندے تمہاری بےعملی کی وجہ کہیں یہ تو نہیں ہے کہ شیطان نے تمہیں اللہ تعالیٰ کی شان غفاری کے نام پر دھوکے میں مبتلا کردیا ہے ؟
آیت ٧ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰٹکَ فَعَدَلَکَ ۔ ” جس نے تمہیں تخلیق کیا ‘ پھر تمہارے نوک پلک سنوارے ‘ پھر تمہارے اندر اعتدال پیدا کیا۔ “- اللہ تعالیٰ نے تمہارے قوائے جسمانی اور قوائے نفسیاتی میں ہر طرح سے اعتدال اور توازن پیدا کیا ہے۔ گویا تمہاری تخلیق اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کی مظہر ہے۔ تمہاری تخلیق کے اندر توازن اور خوبصورتی کا یہ پہلو گویا اس حقیقت پر گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں عدل و اعتدال کو پسند فرماتا ہے اور یہ کہ وہ تم انسانوں کے ساتھ آخرت میں بھی عدل و انصاف کا معاملہ فرمائے گا ‘ تاکہ گناہگاروں کو قرار واقعی سزا مل سکے اور نیکوکار اپنی نیکیوں کا پورا پورا بدلہ پائیں ۔ تمہاری مبنی براعتدال تخلیق و ترکیب کا تقاضا تو یہ تھا کہ تمہارے خیالات و اعمال بھی اعتدال اور توازن کا مظہر ہوتے ‘ مگر تم لوگ ہو کہ اپنے خالق کے بارے میں ہی دھوکے میں مبتلا ہوگئے ہو۔ تم اس کی شان غفاری کو تو بہت اہتمام سے یاد رکھتے ہو جبکہ اس کی صفت عدل سمیت بہت سی دوسری صفات کو بالکل ہی بھولے ہوئے ہو ۔ تمہاری یہ بےاعتدالی تمہارے اس خالق کو بالکل پسند نہیں ہے جس نے تمہاری تخلیق کا خمیر ہی اعتدال سے اٹھایا ہے۔
آیت ٨ فِیْٓ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآئَ رَکَّبَکَ ۔ ” پھر جس شکل میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔ “- اللہ تعالیٰ ہر انسان کی شکل اور اس کے مختلف اعضاء اپنی مرضی و مشیت کے مطابق بناتا ہے۔ ظاہر ہے اس معاملے میں کسی انسان کو کوئی اختیار نہیں۔ اس موضوع کی مناسبت سے مجھے حضرت حسان بن ثابت (رض) کے نعتیہ اشعار یاد آگئے ہیں۔ آپ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں فرماتے ہیں :- وَاَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ- وَاَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَائُ- خُلِقْتَ مُبَرَّئً ‘ ا مِنْ کُلِّ عَیْبٍ- کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَائُ- ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر جمیل عورتوں نے جنا ہی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر عیب اور نقص سے مبراپیدا ہوئے ہیں۔ گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح پیدا ہوئے ہیں جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود چاہا۔ “
قیامت کے دن
اِنْفَطَرَتْ : فطر کے معنی کسی چیز کو لمبائی میں یوں پھاڑنا کہ اس میں شگاف پڑجائے اور فطور شگاف کے معنی میں آتا ہے۔ اس لحاظ سے انفطر کا معنی چِر جانا بھی درست ہے اور پھٹ جانا بھی۔ جو صورت بھی ہو اس سے آسمان میں شگاف پڑجائیں گے۔
انتثار کا لغوی مفہوم :۔ اِنْتَثرَتْ : نثر ہراس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز سے جھڑ کر پراگندہ ہوجائے۔ اور انتثار ناک جھاڑنے کو کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح ناک کی رطوبت کے اجزا نہایت بےترتیبی سے جھڑ کر زمین پر ادھر ادھر جا پڑتے ہیں بس یہی اس لفظ کا معنی ہے۔ نیز واضح رہے کہ یہ لفظ صرف غیر جاندار چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ستاروں کی آپس میں باہمی کشش ختم ہوجانے کی وجہ سے وہ نہایت بےترتیبی سے ادھر ادھر گرپڑیں گے۔
فُجِّرَتْ : فجر بمعنی کسی چیز کو وسیع پیمانے پر پھاڑنا اور فجر کو فجر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سارے افق پر نمودار ہوتی ہے اور فجر کے معنی پانی وغیرہ کو پھاڑ کر وسیع علاقے تک چلانا یا جاری کرنا۔ گویا سمندروں کو پھاڑ کر اس کے پانی کو دور دور علاقوں پر زمین میں بہا دیا جائے گا۔ پیچھے سورت التکویر میں سمندروں کے لیے سُجّرَتْ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی ان میں تلاطم بپا ہوجائے گا اور پانی باہر دور دور تک پھیل جائے گا۔ پھر یہی پانی گیسوں میں تبدیل ہو کر جلنے لگے گا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بہرحال یہ مختلف اوقات کی مختلف حالتیں مذکور ہوئی ہیں۔
بعثر کا لغوی مفہوم :۔ بُعْثِرَتْ ۔ بعثر دراصل دو لفظوں کا مرکب ہے۔ بعث اور عثر کا۔ بعث کا ایک معنی (زمین وغیرہ کا) کھودنا اورڈھونڈنا یا ڈھونڈھ نکالنا بھی ہے۔ اورعثر کے معنی کسی دوسری چیز کے دوران کسی اور چیز کا خود بخود ظاہر ہوجانا، کھل جانا یا سامنے آجانا۔ مطلب یہ ہے کہ جب قبروں کو الٹ پلٹ کیا اور کھودا جائے گا تو مردے خود بخود زمین سے باہر نکل پڑیں گے۔
آیت ٥ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ ۔ ” (اُس وقت) ہر جان ‘ جان لے گی کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ “- اس دن ہر شخص کو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس نے کیا کیا اچھے یا برے اعمال آگے بھیجے تھے اور ان کے آثار و نتائج کی شکل میں کیا کچھ وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا۔ اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورة القیامہ کی آیت ١٣ کے تحت بھی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو بتادیا جائے گا کہ اس نے کس شے کو آگے کیا تھا اور کس شے کو پیچھے رکھا تھا۔ یعنی دنیا اور آخرت میں سے اس نے کس کو مقدم رکھا تھا اور کس کو موخر کیا تھا۔ آیت کے اس مفہوم سے واضح ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کسی انسان کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار کلی طور پر اس ” طرزِعمل “ پر ہے جو وہ اپنی زندگی میں دنیا اور آخرت کے بارے میں اختیار کرتا ہے۔ یعنی انسان کا ایک طرزعمل یہ ہوسکتا ہے کہ میرا اصل مطلوب و مقصود تو آخرت ہے ‘ دنیا کا کیا ہے جو مل گیا وہی غنیمت ہے اور اگر کبھی نہ بھی ملے تب بھی کوئی بات نہیں۔ دوسرا ممکنہ رویہ یہ ہے کہ میرا اصل مقصود تو دنیا ہے ‘ اس کے ساتھ ساتھ اگر آخرت بھی مل جائے تو اچھا ہے ‘ چاہے وہ کسی کی سفارش سے مل جائے یا کسی اور حیلے سے۔ لیکن میری پہلی ترجیح بہرحال دنیا اور اس کا مال و متاع ہے ‘ اور زندگی میں میری ساری تگ و دو اسی کے لیے ہے۔
جب تک اللہ نہ چاہے
آیت ٢٩ وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ ” اور تمہارے چاہے بھی کچھ نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔ “- یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ‘ یعنی کسی انسان کو ہدایت تبھی ملے گی جب وہ خود بھی اس کے لیے ارادہ کرے اور پھر اللہ بھی اسے ہدایت دینا چاہے۔ ظاہر ہے ہر کام اللہ ہی کے اذن اور اسی کی توفیق سے ہوتا ہے ۔ لیکن ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ انسان کی اپنی خواہش اور طلب کا شامل ہونا بہت ضروری ہے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ زبردستی کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرتا۔ اگر ایسا ہو تو پھر سزا اور جزا کا سارا فلسفہ ہی غلط ہوجاتا ہے۔
.jpg)





