Wednesday, August 26, 2026

آسان حساب

 ۔(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ…: آسان حساب کا مطلب یہ ہے کہ کرید کرید کر اصلی حساب نہیں ہوگا، فقط اعمال نامہ پیشہ ہو گا اور غلطیاں بھی سامنے لائی جائیں گی ، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(لیس احد یحاسب الا ھلک قالت قلت یا رسول اللہ جعلنی اللہ فذائک الیس یقول اللہ عزو جل :(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوق یحاسب حساباً یسیراً ) (الانشقاق : ٨، ٨) قال ذالک العرض یعرضون، ومن نوقش الحساب ھلک) (بخاری، التفسیر، باب :(فسوق یحاسب حسابا یسیرا): ٣٩٣٩)” جس کسی کا بھی حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا ۔ “ عائشہ (رض) نے عرض کی :” یا رسول اللہ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتے کہ جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس کا حساب آسان ہوگا ؟ “ آپ نے فرمایا :” یہ صرف پیشی ہے (جس میں صرف اس کے اعمال) پیش کئے جائیں گے اور جس سے حساب میں پڑتال کی گئی وہ ہلاک ہو یا۔ “- جن بندوں پر اللہ کی نظر عنایت ہوگی ان کے آسان حساب کی ایک صورت وہ ہوگی جو ابن عمر (رض) عنہما نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(یدنواحدکم من ربہ حتی یضع کنفہ علیہ فیقول عملت کذا و کذا ؟ فیقول نعم و یقول عملت کذا و کذا ؟ فیقول نعم، فیقررہ ثم یقول انی سترت علیک فی الدنیا، فانا اغفرھا لک الیوم) (بخاری، الادب، باب ستر المومن علی نفسہ : ٦٠٨)” تم میں سے ایک (بندہ) اپنے رب کے قریب ہوگا، یہاں تک کہ وہ اپنا دامن اس پر رکھے گا (کہ کسی اور کو خبر نہ ہو ) ، پھر فرمائے گا :” تو نے یہ کام کئے ؟ “ وہ کہے گا :” ہاں “ اور فرمائے گا :” تو نے یہ یہ کام (بھی ) کئے ؟ “ وہ کہے گا :” ہاں “ پس اللہ تعالیٰ اس سے اقرار کروا لے گا، پھر فرمائے گا :” میں نے دنیا میں تجھ پر پردہ ڈالا، سو آج میں تمہیں وہ گناہ معاف کرتا ہوں ۔ “ آسان حساب کی ایک صورت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا تھوڑی نیکی کا ثواب بہت زیادہ عطا فرما دے گا جیسا کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) عنہما نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی امت کے ایک آدمی کے گناہوں کے حد نگاہ تک پھیلے ہوئے نانوے (٩٩) دفتر کاغذ کے ایک پرزے کے مقابلے میں ہلکے ہوجائیں گے جس پر ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ “ لکھا ہوگا۔ (دیکھیے ترمذی، الایمان، باب ما جاء فیمن یموت وھو یشھد ان لا الہ الا اللہ : ٢٦٣٩ و صحیحہ الالبانی) غرض اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے گا حساب آسان کر دے گا، مگر شرط یہے کہ آدمی ہر طرح کے شرک ظاہری اور شرک باطنی یعنی ریا سے پاک ہو، پھر اگر گناہ گار توبہ کے بغیر بھی مرگیا تو اللہ کی ذات سے رحمت اور آسانی حساب کی توقع ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ان اللہ لایغفران یشرک بہ وغفر مادون ذلک لمن یشآئ) (النسائ : ٣٨) بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے جسے چاہے گا بخش دے گا۔ “ مشرک کے لئے معافی نہیں، دوسروں کی مغفرت اللہ کی مشیت پر ہے۔ اس لئے نہ اس کے غضب سے بےخوف ہونا چاہیے اور نہ اس کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے



رب کی طرف

 آیت ٦ یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ ۔ ” اے انسان تو مشقت پر مشقت برداشت کرتے جا رہا ہے اپنے رب کی طرف ‘ پھر تو اس سے ملنے والا ہے۔ “- یہ دنیا انسان کے لیے دارالمِحن یعنی مشقتوں کا گھر ہے۔ انسانی زندگی کی اس تلخ حقیقت کو سورة البلد میں یوں بیان فرمایا گیا : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ۔ کہ انسان تو پیدا ہی مشقت میں کیا گیا ہے۔ گویا مشقتیں برداشت کرنا ‘ دکھ اٹھانا اور سختیاں جھیلنا انسان کا مقدر ہے۔ اس سے کسی انسان کو رستگاری نہیں۔ مزدور ہے تو وہ صبح سے شام تک جسمانی سختیاں سہہ رہا ہے۔ کارخانہ دار ہے تو انتظامی گتھیوں کو سلجھانے میں جگر خون کر رہا ہے۔ اگر کوئی کسی دفتر کی کرسی پر بیٹھا ہے تو ذہنی مشقت کی چکی ّمیں ِپس رہا ہے۔ پھر اپنی اور اہل و عیال کی بیماریاں ‘ معاشی مشکلات ‘ معاشرتی الجھنیں ‘ مال و جان کی حفاظت کی فکر وغیرہ کی صورت میں ذہنی و نفسیاتی پریشانیاں الگ ہیں جو ہر انسان کے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں۔ دوسروں سے مسابقت اور مقابلے کا غم اس کے علاوہ ہے جو ہر انسان نے اپنے دل و دماغ میں کسی نہ کسی سطح پر ضرور پال رکھا ہے۔ پیدل چلنے والا سائیکل سوار کو رشک بھری نظروں سے دیکھتا ہے ‘ سائیکل سوار کار والے کے حسد میں مبتلا ہے۔ چھوٹی کاروالا بڑی کار والے سے جلن کا شکار ہے۔ غرض مشقت ‘ تکلیف یا غم کی نوعیت تو مختلف ہوسکتی ہے مگر کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی دکھ ‘ پریشانی یا مشقت میں مبتلا نہ ہو۔ ان مشقتوں ‘ تکلیفوں اور پریشانیوں کا سامنا انسان کو روز اوّل سے ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا۔ جیتے جی کوئی انسان اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا۔ مرزا غالب ؔنے اس حوالے سے بڑے پتے کی بات کہی ہے : ؎- قید ِحیات و بند ِغم اصل میں دونوں ایک ہیں - موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں - ان مشقتوں اور مصیبتوں میں گھری انسانی زندگی کی یہ سختیاں اور پریشانیاں اپنی جگہ ‘ لیکن انسان کا اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر اور پریشان کن ہے۔ اور وہ مسئلہ ہے کہ : ؎- اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے - مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ؟- (ابراہیم ذوق) - انسان کے اخروی احتساب کا تصور ذہن میں لائیں اور پھر موازنہ کریں کہ باقی جانداروں کے مقابلے میں ” انسان “ کس قدر مشکل میں ہے۔ ایک بار بردار جانور کی زندگی کا معمول چاہے جتنا بھی مشکل ہو لیکن اس کی مشقت اور تکلیف اس کی زندگی کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے ایک بیل جب ہل یا رہٹ چلاتے چلاتے مرجاتا ہے تو اس مشقت سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں ایک انسان ہے جو کو فت پر کو فت برداشت کرتا اور تکلیف پر تکلیف جھیلتا جب اس دنیا سے جائے گا تو اسے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی دنیوی زندگی کے ایک ایک پل کا حساب دینا ہوگا۔ اس ضمن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : - (لَا تَزُوْلُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدِ رَبِّہٖ حَتّٰی یُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ : عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَا اَفْنَاہُ ، وَعَنْ شَبَابِہٖ فِیْمَا اَبْلَاہُ ، وَمَالِہٖ مِنْ اَیْنَ اکْتَسَبَہٗ وَفِیْمَ اَنَفَقَہٗ ، وَمَاذَا عَمِلَ فِیْمَا عَلِمَ ) (١)- ” ابن آدم کے پائوں قیامت کے روز اپنے رب کے حضور اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کا حساب نہ لے لیا جائے : اس کی عمر کے بارے میں کہ کہاں فنا کی ؟ اس کی جوانی (کی قوتوں ‘ صلاحیتوں اور امنگوں ) کے دور کے بارے میں کہ کیسے گزارا ؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ (حلال ذرائع سے کمایا یا حرام طریقے سے اور اللوں ّتللوں میں خرچ کیا یا ادائے حقوق کے لیے ؟ ) اور جو علم حاصل ہوا تھا اس پر کتنا عمل کیا ؟ “- یعنی دنیا میں باربرداری بھی کرو ‘ جسمانی ‘ ذہنی اور نفسیاتی اذیتیں بھی برداشت کرو۔ مال وجان اور اولاد سے متعلق رنگا رنگ صدمے جھیلتے جھیلتے زندگی بھر کانٹوں پر بھی لوٹتے رہو اور پھر مرنے کے بعد ایک ایسی ہستی کے سامنے کھڑے ہو کر پل پل کا حساب بھی دو جس سے تمہارے قلوب و اذہان کی گہرائیوں میں پیدا ہونے والے جذبات و خیالات بھی پوشیدہ نہیں ۔ یہ ہے ” انسان “ کی اصل ٹریجڈی - یہ مرحلہ ایک انسان کے لیے ایسا مشکل ہے کہ اسے یاد کر کے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اکثر رویا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ کاش میں ایک چڑیا ہوتا - دیکھا جائے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درج بالا فرمان میں مذکور سوالات میں سے آخری سوال سب سے مشکل ہے۔ جس کسی نے دین اور قرآن کا علم جس قدر زیادہ سیکھا اس کے لیے اس کا حساب دینا اسی قدر مشکل ہوگا۔ اگر کسی انسان تک قرآن کی یہ دعوت پہنچ ہی نہیں پائی تو ممکن ہے کہ اس کی طرف سے کوئی عذر بھی قبول ہوجائے۔ (ایسی صورت میں اس کوتاہی کا کچھ نہ کچھ بوجھ ان لوگوں پر بھی ضرور پڑے گا جنہوں نے اسے دعوت پہنچانے میں تساہل برتا ) لیکن جن لوگوں تک قرآن کی دعوت پہنچ گئی اور انہوں نے اپنی استعداد کے مطابق قرآن کے پیغام کو سمجھ بھی لیا تو ظاہر ہے ان کے لیے اس آخری سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہوگا۔

ہمیشہ یاد رکھو

صبر

استغفار

کردار

سچی عاجزی