Saturday, February 7, 2026

نامۂ اعمال

 آیت ٥٢ وَکُلُّ شَیْئٍ فَعَلُوْہُ فِی الزُّبُرِ ۔ ” اور وہ تمام اعمال جو ان لوگوں نے کیے ہیں وہ صحیفوں میں محفوظ ہیں۔ 

آیت ٥٣ وَکُلُّ صَغِیْرٍ وَّکَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ ۔ ” اور ہر ایک چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔ “- قیامت کے دن یہ لوگ اپنے اعمال ناموں میں اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا اندراج دیکھ کر حیران و ششدر رہ جائیں گے۔ سورة الکہف کی یہ آیت اس منظر کا نقشہ دکھاتی ہے جب سرمحشر ان مجرمین کے سامنے ان کے اعمال نامے کھولے جائیں گے :- وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰٹہَا ج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ۔ - ” اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے : ہائے ہماری شامت یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ اور وہ اسے موجود پائیں گے جو عمل بھی انہوں نے کیا ہوگا ۔ اور آپ کا رب ظلم نہیں کرے گا کسی پر بھی۔ “

The Unacceptability of Visiting Diviners

Safiyya reported from some of the wives of Allah's Apostle  Allah's Apostle  having said: He who visits a diviner ('Arraf) and asks him about anything, his prayers extending to forty nights will not be accepted.

Sahih Muslim 2230 (Book 39, Hadith 173).

QUICK LESSONS:
Turn to Allah in times of need instead of relying on anyone else or anything else .

EXPLANATIONS:

This hadith is about the unacceptability of visiting diviners and asking them questions. A diviner is someone who claims to have supernatural powers to tell the future or answer questions. In this hadith, it was reported that Prophet Muhammad said that if someone visits a diviner and asks them anything, their prayers will not be accepted for forty nights. This means that Allah will not accept any prayers from this person for forty nights as a punishment for seeking help from something other than Him. It teaches us to always turn to Allah in times of need instead of relying on anyone else or anything else because only He can truly help us in our time of need.

Friday, February 6, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

سمندروں کے فوائد

 آیت ٤١ (وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا)- سمندری خوراک ہمیشہ سے انسانی زندگی میں بہت اہم رہی ہے۔ دور جدید میں اس کی افادیت مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔- (وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا)- سمندر سے موتی اور بہت سی دوسری ایسی اشیاء نکالی جاتی ہیں جن سے زیورات اور آرائش و زیبائش کا سامان تیار ہوتا ہے۔

 پھر ٹھاٹھیں مارنے والے سمندر کو اور تلاطم خیز موجوں کو اپنے مخصوص قوانین کا پابند بنادیا حتیٰ کہ انسان سمندر کے پانی کے اندر اور اوپرتصرف کرنے کے قابل بن گیا۔ ورنہ ایسے وسیع اور مہیب سمندر کے مقابلہ میں بےچارے انسان کی حقیقت ہی کیا تھی۔ اب وہ سمندری جانوروں کا شکار کرکے اپنی غذائی ضروریات بھی فراہم کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سمندر کا پانی تو سخت شور اور کڑوا ہوتا ہے جبکہ اس کے جانوروں اور بالخصوص مچھلی کا گوشت انتہائی لذیذ ہوتا ہے۔ اس میں شور کا اثر نام کو نہیں ہوتا پھر اس سے گھونگے، صدف اور مرجان اور کئی دوسری چیزیں نکال کر اپنے زیور اور آرائش کی چیزیں بھی بناتا ہے پھر کشتیوں اور جہازوں کے ذریعہ سمندر کی پشت پر سوار ہو کر ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک جاپہنچتا ہے اور اس طرح ایک ملک کی چیزیں دوسرے ملک پہنچا کر تجارتی فوائد حاصل کرتا ہے۔ اگر پانی اپنے مخصوص فطری قوانین کا پابند نہ ہوتا یا نہ رہے تو انسان اس سے کبھی ایسے فوائد حاصل نہ کرسکتا تھا۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے تمام اشیاء کے لیے مخصوص قوانین بنا دیئے ہیں جن کی وہ بہرحال پابند رہتی ہیں۔ اس طرح انسان ان سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوجاتا ہے۔

اللہ کا ہر چیز کواندازے سے پیدا کرنا

 آیت ٤٩ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ ۔ ” یقینا ہم نے ہرچیز ایک اندازے کے مطابق پیدا کی ‘ ہے۔

 یعنی دنیا کی کوئی چیز بھی اَلَل ٹپ نہیں پیدا کر دی گئی ہے ، بلکہ ہر چیز کی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق وہ ایک مقرر وقت پر بنتی ہے ، ایک خاص شکل اختیار کرتی ہے ، ایک خاص حد تک نشو و نما پاتی ہے ، ایک خاص مدت تک باقی رہتی ہے ، اور ایک خاص وقت پر ختم ہو جاتی ہے ۔ اسی عالمگیر ضابطہ کے مطابق خود اس دنیا کی بھی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق ایک وقت خاص تک یہ چل رہی ہے اور ایک وقت خاص ہی پر اسے ختم ہونا ہے ۔ جو وقت اس کے خاتمہ کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے نہ اس سے ایک گھڑی پہلے یہ ختم ہو گی ، نہ اس کے ایک گھڑی بعد یہ باقی رہے گی ۔ یہ نہ ازلی و ابدی ہے کہ ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ قائم رہے ۔ اور نہ کسی بچے کا کھلونا ہے کہ جب تم کہو اسی وقت وہ اسے توڑ پھوڑ کر دکھا دے ۔

آیت ٥٠ وَمَــآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍ م بِالْبَصَرِ ۔ ” اور ہمارا امر تویکبارگی ہوتا ہے ‘ جیسے نگاہ کا لپک جانا۔ “- یعنی اللہ تعالیٰ کا امر بیک دفعہ پلک جھپکنے کی طرح پورا ہوتا ہے۔ اللہ کے امر کی یہ وہی شان ہے جو قرآن میں جگہ جگہ ” کُن فَیکون “ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے ۔ یعنی وہ جب کسی چیز کو حکم دیتا ہے کہ ہو جاتو وہ اس کی مشیت کے مطابق اسی وقت ہوجاتی ہے۔

 یعنی قیامت برپا کرنے کے لیے ہمیں کوئی بڑی تیاری نہیں کرنی ہو گی اور نہ اسے لانے میں کوئی بڑی مدت صرف ہو گی ۔ ہماری طرف سے بس ایک حکم صادر ہونے کی دیر ہے ۔ اس کے صادر ہوتے ہی پلک جھپکاتے وہ برپا ہو جائے گی

 یعنی جس طرح جنین کی رحم مادر میں پرورش پانے کی مدت اللہ کے ہاں مقرر ہے، اگرچہ اس میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے تاہم ہر ایک جنین کی مدت الگ الگ اللہ کے ہاں مقرر ہے۔ اسی طرح ہر ایک کی موت کی مدت بھی مقرر ہے اور قیامت کے قائم ہونے کی بھی۔ اگرچہ اللہ کے سوا کوئی بھی انہیں جان نہیں سکتا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جب وہ مدت پوری ہوچکتی ہے تو اللہ کے حکم کے مطابق وہ فوراً ظہور پذیر ہوجاتی ہے اور اس میں ایک لمحہ کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ قیامت کا بھی یہی حال ہے جب اللہ کا حکم ہوگا پلک جھپکنے سے بھی پہلے وہ واقع ہوجائے گی۔

قرآن کی خوبیاں اورآسان زبان

 یعنی اس کے مطلب اور معانی کو سمجھنا، اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا ہم نے آسان کردیا، اسی طرح یہ دنیا کی واحد کتاب ہے، جو لفظ بہ لفظ یاد کرلی جاتی ہے ورنہ چھوٹی سی کتاب کو بھی اس طرح یاد کرلینا اور اسے یاد رکھنا نہایت مشکل ہے

رب سے دعاء