Friday, March 20, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

Warning Against Hypocrisy

Narrated Abu Huraira: The Prophet  said, "The signs of a hypocrite are three: I Whenever he speaks, he tells a lie. II Whenever he promises, he always breaks it (his promise ). III If you trust him, he proves to be dishonest. (If you keep something as a trust with him, he will not return it)"

Sahih al-Bukhari 33 (Book 2, Hadith 26)

QUICK LESSONS:
Be honest in your words and actions; strive for truthfulness in your dealings with others; maintain good relationships; gain Allah's pleasure.

EXPLANATIONS:
The Prophet Muhammad warned his followers about the signs of a hypocrite. He said that if someone speaks, they tell lies; if they make a promise, they break it; and if you trust them with something, they will not return it. This hadith teaches us to be honest in our words and actions so that we can stay away from hypocrisy. It also teaches us to be careful when trusting people with our belongings or secrets as some people may not keep their word or be dishonest. We should always strive to be truthful in our dealings with others so that we can maintain good relationships and gain Allah's pleasure.

دودھ کی پیدائش میں اللہ کی قدرتیں

 آیت ٦٦ (وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً )- چوپایوں کی تخلیق میں بھی تمہارے لیے بڑا سبق ہے۔ ان کو دیکھو غور کرو اور اللہ کی حکمتوں کو پہچانو

۔ فرث کا اطلاق صرف اس قسم کی لید یا گوبر پر ہوتا ہے جو پیٹ یا معدہ میں موجود ہو اور جب مقعد کے راستہ گوبر وغیرہ کی صورت میں نکل آئے تو وہ فرث نہیں ہے بلکہ اسے روث کہتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانی کے بعد دوسری بڑی مشروب نعمت دودھ کا ذکر فرمایا۔ دودھ کی پیدائش حیرت انگیز طریقے سے مادہ کے پیٹ میں ہوتی ہے۔ اسی طرف اس آیت میں توجہ دلائی گئی ہے۔ اس میں ایک تو اللہ کی قدرت یہ ہے کہ ایک ہی جنس کے نر ہوں یا مادہ ۔ دونوں ایک جیسی خوراک کھاتے ہیں۔ اس خوراک میں سے کام کی چیز جس سے انسان کی زندگی قائم رہتی ہے خون بنتا ہے۔ باقی فضلہ مقعد وغیرہ کے راستہ خارج ہوجاتا ہے لیکن مادہ میں اسی ایک ہی خوراک سے ایک تیسری چیز دودھ بھی بنتا ہے اور وہ صرف مادہ میں ہی بنتا ہے نر میں نہیں بنتا۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ خون اور گوبر جیسی دو حرام اور گندی چیزوں سے تیسری چیز دودھ جو حاصل ہوتا ہے وہ حلال، نہایت سفید، خوش رنگ، پاکیزہ، خوشگوار اور مزیدار ہوتا ہے پھر یہ محض ایک مشروب ہی نہیں بلکہ انسانی جسم کی تربیت کے لیے مکمل غذا کا کام دیتا ہے۔ یہ صرف پیاس کو نہیں بجھاتا بلکہ بھوک بھی مٹا دیتا ہے۔ اور شیردار جانور کے بچوں کی ابتدائی تربیت اسی دودھ پر ہی ہوتی ہے۔ پھر مویشیوں کے پیٹ میں یہ دودھ اس قدر افراط سے پیدا ہوتا ہے کہ ان کے بچوں کی تربیت کے بعد مویشیوں کے مالکوں کو بھی خاصی مقدار میں دودھ حاصل ہوجاتا ہے۔ دودھ پلانے والی مادہ کے جسم میں دودھ تیار کرنے والے اعضاء تو اس کی بلوغت کے وقت نمودار ہوجاتے ہیں جنہیں عرف عام میں پستان کہا جاتا ہے۔ اور دودھ کے بننے کے بارے میں سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مادہ کے پستان یا دودھ بنانے والی یہ مشینری صرف اس وقت اپنا کام شروع کرتی ہے جب مادہ کو حمل قرار پا جاتا ہے۔ اس سے پہلے اگرچہ پستان موجود ہوتے ہیں مگر وہ کوئی کام نہیں کرتے اور جب حمل قرار پاتا ہے تو یہ مشینری اپنے فطری کام کا آغاز کردیتی ہے۔ حتیٰ کہ بچہ کی پیدائش تک مادہ کا خون دودھ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور نوزائیدہ بچہ کو بروقت اللہ تعالیٰ اس کی خوراک مہیا کردیتا ہے اور بچہ کو دودھ پینے کا سلیقہ بھی سکھا دیتا ہے۔ اور یہ کام کچھ اس انداز سے سرانجام پاتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرتوں، حکمتوں اور مصلحتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

میرا رب

بخل

 آیت ٢٤ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْـبُخْلِ ” جو لوگ بخل سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں۔ “- جو شخص اپنی دولت پر اتراتا ہے وہ اسے بہت سنبھال سنبھال کر بھی رکھتا ہے ‘ کیونکہ اسی دولت کے بل پر تو اس کی اکڑ قائم ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اس دولت کو بچا بچا کر رکھتا ہے اور نہ صرف خود بخل سے کام لیتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتا ہے ۔ دراصل اسے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ جب دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کریں گے تو اس کے بخل کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اس لیے وہ دوسروں کو بڑے مخلصانہ انداز میں سمجھاتا ہے کہ میاں ذرا اپنی ضروریات کا بھی خیال رکھو ‘ تم نے تو اپنے دونوں ہاتھ کھلے چھوڑ رکھے ہیں۔ آخر تمہارے ہاں چار بیٹیاں ہیں ‘ ان کے ہاتھ بھی تم نے پیلے کرنے ہیں۔ آج کی بچت ہی کل تمہارے کام آئے گی… - وَمَنْ یَّـتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ ” اور جو کوئی رخ پھیرے گا تو (وہ سن رکھے کہ) اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔ “- وہ غنی ہے ‘ اسے کسی کی احتیاج نہیں ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اگر وہ اقامت دین کی جدوجہد میں اپنے جان و مال سے شریک نہ ہوگا تو یہ کام نہیں ہوگا۔ اسے کسی کی حمد و ثنا کی بھی کوئی احتیاج نہیں ہے ‘ وہ اپنی ذات میں خودمحمود ہے۔

تنگی اورآسانی کی طرف سے ہے

 آیت ٢٢ مَـآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ نَّــبْرَاَھَا ” نہیں پڑتی کوئی پڑنے والی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری اپنی جانوں میں مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں درج ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔ “- اَصَابَ یُصِیْبُ (آپڑنا ‘ نازل ہونا) سے اسم الفاعل ” مُصِیْب “ ہے اور اس کی مونث ” مُصِیْبَۃ “ ہے ‘ جس کے معنی ہیں نازل ہونے یا آ پڑنے والی شے۔ چناچہ لغوی اعتبار سے تمام حوادث ‘ واقعات ‘ کیفیات جو ہم پر وارد ہوتی ہیں ‘ وہ سب کی سب اس میں شامل ہوجائیں گی ‘ لیکن عام طور پر یہ لفظ تکلیف دہ ‘ ناگوار اور ناپسندیدہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت کی رو سے مصیبتیں دو قسم کی ہیں۔ یا تو آفاتِ ارضی و سماوی یعنی آفاقی مصیبتیں ‘ جو زمین پر بڑے پیمانے پر نازل ہوتی ہیں ‘ مثلاً سیلاب ‘ زلزلے ‘ طوفانِ باد و باراں وغیرہ ‘ یا انسانوں کی اپنی جانوں پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے ‘ مثلاً کوئی بیماری یا کوئی عارضہ لاحق ہوگیا یا کوئی حادثہ پیش آگیا۔ یہاں واضح فرما دیا گیا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانوں پر اجتماعی یا انفرادی طور پر کسی بھی شکل میں کوئی مصیبت ‘ آفت یا تکلیف آتی ہے اس کے معرض وجود میں آنے سے قبل اس کی پوری تفصیل اللہ کے علم قدیم میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔- اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ” یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ “- انسانوں کو یہ بات بیشک عجیب یا مشکل لگے ‘ مگر اللہ کا علم مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ پر محیط ہے۔ اس کے لیے کائنات کی ایک ایک چیز کا پوری تفصیل سے احاطہ کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ یہ بات تم لوگوں کو بھلا کیوں بتائی جا رہی ہے ؟ اس لیے :

جنت کی وسعت

 آیت ٢١ سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ “- دنیا کمانے میں تو تم لوگ خوب مسابقت کر رہے ہو۔ اس میدان میں تو تم ہر وقت ع ” ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں “ کی فکر میں لگے رہتے ہو۔ عارضی دنیا کی اس مسابقت کو چھوڑو ‘ اپنی یہی صلاحیتیں اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے صرف کرو۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے محنت کرو اور اس منزل میں بہتر سے بہتر مقام پانے کے لیے دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔- جنت کی وسعت کی مثال کے لیے یہاں ” کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ “ جبکہ سورة آل عمران کی آیت ١٣٣ میں ” عَرْضُھَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضُ “ کے الفاظ آئے ہیں۔ موجودہ دور میں سائنس کی حیرت انگیز ترقی کے باوجود ابھی تک ارض و سماء کی وسعت کے بارے میں انسان کا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہرحال اب تک میسر ہونے والی معلومات کے مطابق اس کائنات میں ارب ہا ارب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں کی وسعت اور ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں کے فاصلے کو کروڑوں نوری سالوں پرمحیط تصور کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہر کہکشاں میں اَن گنت ستارے ‘ ہمارے نظام شمسی  جیسے بیشمار نظام اور ہماری زمین جیسے لاتعداد سیارے ہیں۔ اسی طرح ہر ستارے کی جسامت اورایک ستارے سے دوسرے ستارے تک کے فاصلے کا اندازہ بھی نوری سالوں میں کیا جا سکتا ہے۔ یہاں اس آیت میں آسمان اور زمین کی وسعت سے مراد پوری کائنات کی وسعت ہے جس کا اندازہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ بہرحال اس مثال سے جنت کی وسعت کے تصور کو انسانی ذہن کی سطح پر ممکن حد تک قابل فہم بنانا مقصود ہے۔ اس حوالے سے میرا گمان یہ ہے (واللہ اعلم ) کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہلی جنت اسی زمین پر بنے گی اور اہل جنت کی ابتدائی مہمانی (نُزُل) بھی یہیں پر ہوگی۔ اس کے بعد اہل جنت کے درجات و مراتب کے مطابق ان کے لیے آسمانوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔ اس حوالے سے سورة الاعراف کی اس آیت میں واضح فرما دیا گیا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ… (آیت ٤٠) کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں تکبر کرنے والوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ بہرحال اس کے بعد اہل جنت کو ان کے مراتب کے مطابق اس جنت میں منتقل کردیا جائے گا جس کی وسعت کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ اہل جنت کو وہاں جانے کے لیے کسی راکٹ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اسی انداز سے آسمانوں پر لے جائے گا جیسے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر معراج میں زمین سے ساتویں آسمان تک چلے گئے تھے اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ساتویں آسمان سے زمین پر آتے ہیں۔- اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ ” وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ “- ” اِعداد “ (بابِ افعال) کے معنی ہیں کسی خاص مقصد کے لیے کسی چیز کو تیار کرنا۔ یعنی وہ جنت بڑے اہتمام سے تیار کی گئی ہے ‘ سجائی اور سنواری گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔- ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ ” یہ اللہ کا فضل ہے جس کو بھی وہ چاہے گا دے گا۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ “- ” فَضْل “ سے مراد ہے اللہ کی طرف سے بغیر استحقاق کے دی جانے والی شے۔ اس کے بالمقابل اجرت اور اجر کے الفاظ عام استعمال ہوتے ہیں ‘ جن کا مطلب ہے بدلہ ‘ جو کسی محنت اور مزدوری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں بالعموم جہاں بھی جنت کا تذکرہ آیا ہے وہاں لفظ ” فَضْل “ استعمال ہوا ہے۔ گویا قرآن مجید کا تصور یہ ہے کہ انسان مجرد اپنے عمل کے ذریعے سے جنت کا مستحق نہیں بن سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی دست گیری نہ کرے۔ اب اگلی آیت میں دنیوی زندگی میں پیش آنے والی تکالیف و مشکلات کو قابل برداشت بنانے کا نسخہ بتایا جا رہا ہے۔ دراصل اہل ایمان کو جس راستے کی طرف بلایا جا رہا ہے وہ بہت کٹھن اور صبر آزما راستہ ہے۔ یہ انفاق ‘ جہاد اور قتال کا راستہ ہے اور اس کی منزل ” اقامت دین “ ہے ‘ جس کا ذکر آگے آیت ٢٥ میں آ رہا ہے ۔ اس اعتبار سے آیت ٢٥ اس سورت کے ذروئہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں۔ بہرحال اہل ایمان جب اس راستے پر گامزن ہوں گے تو آزمائشیں ‘ صعوبتیں اور پریشانیاں قدم قدم پر ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے جس کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشادِربانی ہے : وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِط (آیت ١٥٥) ” اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے “۔ جبکہ سورة آل عمران میں اس قانون کا ذکر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : لَتُـبْـلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْقف وَلَـتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ مِنْ قَـبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْآ اَذًی کَثِیْرًاط (آیت ١٨٦) ” (مسلمانو یاد رکھو) تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی ‘ اور تمہیں لازماً سننا پڑیں گی بڑی تکلیف دہ باتیں ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا “۔ چناچہ مشکلات و مصائب کی اس متوقع یلغار کے دوران اہل ایمان کو سہارا دینے کے لیے یہ نسخہ بتایاجا رہا ہے