Wednesday, June 24, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

سوراخ

کب آئے گا قیامت کا دن ؟

اصل کہانی

The Excellence of Fasting and Praying at Night

Abu Haraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger  as saying: The most excellent fast after Ramadan is God's month. al-Muharram, and the most excellent prayer after what is prescribed is prayer during the night.

Sahih Muslim 1163a (Book 13, Hadith 261)

QUICK LESSONS:
Fast in Muharram & Pray during nights
EXPLANATIONS:

This hadith speaks about the excellence of fasting and praying at night. It was narrated by Abu Haraira, who was a companion of Prophet Muhammad, peace be upon him. According to this hadith, fasting in the month of Muharram is considered to be one of the best fasts after Ramadan. Similarly, praying during the night has been given special importance as it has been mentioned that it is better than what has been prescribed for us to pray regularly. This hadith encourages us to make an effort to fast and pray during nights as much as possible so that we can reap its rewards both in this world and hereafter.

نماز کو قائم کریں

 آیت ٧٨ (اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ )- یہ حکم پنج گانہ نماز کے نظام کے بارے میں ہے۔ سورج کے ڈھلنے کے ساتھ ہی ظہر کی نماز کا وقت ہوجاتا ہے۔ پھر عصر مغرب اور عشاء کی نمازوں کا ایک سلسلہ ہے جو رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ پانچویں نماز یعنی فجر کو یہاں پر ” قرآن الفجر “ سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ اس میں طویل قرأت کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ نماز پنجگانہ کے اوقات کے بارے میں یہ حکم عمومی نوعیت کا ہے جبکہ ہر نماز کے وقت کی خصوصیت کے ساتھ نشاندہی بعد میں حضرت جبرائیل نے کی جس کی تفصیل کتب احادیث میں ملتی ہے- (اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا)- گویا فجر کا وقت نماز اور قرأت کے اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ رات بھر جسمانی اور ذہنی آرام کے بعد فجر کے وقت انسان تازہ دم ہوتا ہے۔ اس وجہ سے نماز میں اس کی حضوری قلب کی کیفیت بھی بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ فجر کا وقت فرشتوں کی حاضری کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔ دنیا کے معاملات کی نگرانی کرنے والے فرشتوں کی ڈیوٹیاں صبح اور عصر کے اوقات میں تبدیل ہوتی ہیں۔ چناچہ ان دونوں نمازوں میں دونوں جماعتوں کے فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر جانے والے فرشتے بھی اور آئندہ ڈیوٹی کا چارج لینے والے بھی۔ لہٰذا فرشتوں کی اس حاضری کی وجہ سے بھی نماز فجر خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔   

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے؟

اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَہٗ  ۔  کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں ۔ [القيامة:3] ۔  یعنی کیوں نہیں ہم انہیں جمع کریں گے، اس حال میں کہ ہم اس بات پر قادر ہیں…۔ “ - قیامت کے منکرین یہ ماننے کیلئے تیار نہ تھے کہ جب ان کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو کر ذرات کی صورت میں بکھر جائیں تو انہیں پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (انسان اگر یہ خیال کرے کہ اس کی ہڈیاں خود بخود مع نہیں ہوسکتیں یا مخلوق میں سے کوئی انہیں دوبارہ جمع نہیں کرسکتا تو اسے یہ سمجھنے کا حق ہے، مگر) کیا وہ ہمارے متعلق گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کرسکیں گے ؟ پہلی دفعہ جب اس کا نام و نشان تک نہ تھا، ہم نے ایدا کردیا تو اب اس کی ہڈیاں کیوں جمع نہیں کرسکتے ؟ یقینا ہم انہیں جمع کریں گے اور بڑی ہڈیاں ہی نہیں بلکہ ہم یہ بھی قدرت رکھتے ہیں کہ اس کے پورے ، جو نہایت باریک اور نازک ہڈیوں پر مشتمل ہیں، دوبارہ درست کر کے بنادیں۔ سورة یٰسین (77 تا 79) اور سورة بنی اسرائیل (49 تا 51) میں یہ مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ قیامت کے دن جسم دوبارہ زندہ کئیج ائیں گے اور وہ بھی حساب، عذاب اور ثواب میں روح کے ساتھ شریک ہوں گے۔ صحیح بخاری (3481) میں بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر آیا ہے جس کے بیٹوں نے اس کے کہنے کے مطابق اسے مرنے کے بعد جلا کر اور ہڈیوں کو پیس کر کچھ راکھ  ہوا میں اڑا دی اورکچھ پانی میں بہا دی، تو اللہ تعالیٰ کے کہنے کے مطابق اسے مرنے کے بعد جلا کراورہڈیوں کو پیس کر کچھ راکھ  ہوا میں اڑا دی اور کچھ پانی میں بہا د ی ، تو اللہ تعالیٰ نے ہوا اور پانی کو حکم دے کر اس کے ذرات اکٹھے کر کے اسے دوبارہ زندہ کردیا۔ اگر روح ہی سے باز پرس ہو تو ذرات جمع کر کے اسے دوبارہ سامنے کھڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ۔ بَلٰی قٰدِرِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ ۔  ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کر دیں ۔ [القيامة:4] ۔ انسان کی سوچ یہ ہے کہ ہم اس کے مرنے کے بعد اس کی گلی سڑی ہڈیوں کو کیونکر اکٹھا کرسکیں گے اور کیسے اسے دوبارہ زندہ کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی بڑی بڑی ہڈیاں تو دور کی بات ہے۔ ہم تو اس کی انگلیوں کے ایک ایک پور کو مکمل کرکے اسے اٹھا کھڑا کریں گے۔ پس اسے تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ اپنی پہلی پیدائش پر جو رحم مادر میں ہوئی ، غور کرلے تو بات اسے پوری طرح سمجھ میں آ سکتی ہے۔