Tuesday, June 23, 2026

تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا

 جہنمی اپنے جہنم میں جانے کے چار اسباب بیان کریں گے، پہلا یہ کہ وہ نماز ادا کرنے والوں میں شامل نہ ہوئے، دوسرا یہ کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، تیسرا یہ کہ دین کی باتوں کو مذاق کرنے اور جھٹلانے کیلئے وہ مجلسوں میں بیٹھ کر فضول بحث کیا کرتے تھے اور چوتھا یہ کہ وہ روز جزا کو جھٹلاتے تھے ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم ان لوگوں میں سے نہ تھے جنہوں نے خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کو مان کر خدا کا وہ اولین حق ادا کیا ہو جو ایک خدا پرست انسان پر عائد ہوتا ہے ، یعنی نماز ۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ نماز کوئی شخص اس وقت تک پڑھ ہی نہیں سکتا جب تک وہ ایمان نہ لایا ہو ۔ اس لیے نمازیوں میں سے ہونا آپ سے آپ ایمان لانے والوں میں سے ہونے کو مستلزم ہے ۔ لیکن نمازیوں میں سے نہ ہونے کو دوزخ میں جانے کا سبب قرار دے کر یہ بات واضح کر دی گئی کہ ایمان لا کر بھی آدمی دوزخ سے نہیں بچ سکتا اگر وہ تارکِ نماز ہو۔ قرآن میں ہے : 

إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً 

[ النساء 103]

 بے شک نماز اپنے مقررہ وقتوں میں مسلمانوں پر فرض ہے۔

ہر جان رہن ہے

آیت ٣٨ کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ رَہِیْنَۃٌ ۔ ” ہر جان رہن ہے اس کے عوض جو کچھ کہ اس نے کمایا ہے۔ “- ہر انسان نے اپنی دنیا کی زندگی میں جو کچھ کمایا ہے قیامت کے دن وہ سب کچھ اسے وصول کرنا ہوگا۔ یعنی جس طرح کوئی گروی رکھی ہوئی چیزاس وقت تک نہیں چھوٹتی جب تک وہ حق ادا نہ کردیا جائے جس کے بدلے اسے گروی رکھا گیا ہے، اسی طرح ہر شخص اپنے عمل کے عوض گروی اور گرفتار ہوگا ، جب تک وہ عمل پیش نہ کرے جس کی ادائیگی اس پر واجب تھی، رہائی نہیں پاسکتا۔ ہاں جنہیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا وہ گرفتار نہیں ہوں گے بلکہ اعمال صالحہ کی وجہ سے رہا ہو جایئں گے، جس طرح حق ادا کرنے سے گروی چھوٹ جاتی ہے۔ جس طرح قرض کی توثیق کے لئے کوئی چیز گروی (رہن) رکھی جاتی ہے، کہ اگر قرض ادا نہ ہوا تو قرض خواہ اُسے بیچ کر اپنا حق حاصل کرسکتا ہے، اسی طرح کافر اس طرح رہن رکھا ہوا ہے کہ یا تو ہدایت کا راستہ اختیار کرلے، ورنہ اس کا پورا وجود دوزخ کا ایندھن بنے گا۔

دوزخ کا وجود

  چاند کی شکلیں، ان کا گھٹنا بڑھنا، رات اور دن کا وجود اور ان کا باری باری آنا، رات کی تاریکی کے بعد سپیدہ سحر کا نمودار ہونا۔ اللہ کی یہ نشانیاں بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ چیزیں چونکہ ہر روز انسان کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں اس لیے وہ ان میں غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور جب دوزخ کا ذکر آتا ہے تو وہ فوراً اس کا انکار کردیتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اس نے تاحال دوزخ دیکھی نہیں۔ ورنہ ان اشیاء کی قسم جنہیں انسان دیکھ رہا ہے۔ جہنم کا وجود ناممکن نہیں ہے۔ اور وہ انسان کے لیے ڈر جانے کی چیز ہے۔ مذاق اڑانے کی نہیں ۔ تین نہایت اہم چیزوں کی قسموں کے بعد اللہ نے جہنم کی بڑائی اور ہولناکی کو بیان کیا ہے جس سے اس کی بڑائی میں کوئی شک نہیں رہتا۔

دوزخ کیا ہے؟

قیامت کا دن

Faith in Allah's Ability

Narrated Ibn 'Abbas: The last statement of Abraham when he was thrown into the fire was:--"Allah is Sufficient for us and He is the Best Disposer (of affairs for us)". (3.173)

Sahih al-Bukhari 4564 (Book 65, Hadith 86) 

QUICK LESSONS:
Have faith in Allah's ability to take care of you no matter what happens. Be thankful for all your blessings from Him even when times are tough.

EXPLANATIONS:
This hadith is about the faith of Prophet Abraham, peace be upon him. He was thrown into a fire by his people, but he remained steadfast in his belief that Allah is sufficient for him and will take care of him. This teaches us that no matter what happens, we should always have faith in Allah and trust that He will take care of us. We should never give up hope or despair because we know that whatever happens, it is part of His plan for us and He will make sure everything turns out alright. We should also remember to thank Him for all the blessings He has given us even when times are tough.

اللہ کی طرف دوڑو