Saturday, June 13, 2026

یہ قرآن

 آیت ١٩ اِنَّ ہٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌج ” یقینا یہ ایک یاددہانی ہے۔ “- فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا ۔ ” تو جو کوئی بھی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔ “- اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو قرآن مجید کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے۔  آمین

مشرق و مغرب کا پروردگار

یعنی مشرق و مغرب کا مالک و مربی وہی ہے، ہر وقت اسی کا ذکر کرو، عبات بھی اسی کی کرو اور بھروسہ بھی اسی پر رکھو، جب وہ معبود اور وکیل ہے تو تمام دنیا سے بےپروا ہوجانے میں فکر کس بات کی ؟ عبادت و توکل دونوں کو اللہ کیلئے خاص کرنے کا حکم کئی آیات میں آیا ہے، جیسے فرمایا :(فاعبدہ و توکل علیہ) (ھود : ١٢٣)” سو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔ “ اور فرمایا :(ایاک نعبد وایاک نستعین) (الفاتحۃ : ٣)” ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ “ ” وکیلاً “ ” وکل یکل “ (ض) سپرد کرنا۔ وکیل وہ ہے جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے، یعنی اپنی پوری جدوجہد کے باوجود اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر رکھو اور اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دو ۔ یہی بات اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر سے فرما رہے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود تو پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوجائیے اور اپنے سب معاملات اپنے پروردگار کے سپرد کردیجیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باقی سب معاملات وہ درست کر دے گا۔

رب کے نام کا ذکر

آیت ٨ وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَـبَتَّلْ اِلَـیْہِ تَـبْتِیْلًا ۔ ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں اور ہر طرف سے کٹ کر بس اسی کے ہو رہیں۔ “- تبتّلکا معروف مفہوم تو یہی ہے کہ سب سے کٹ کر کسی ایک کا  ہو جانا  ‘ لیکن عملی طور پر اس حکم کے ذریعے ایک بندہ مومن سے ” بےہمہ و باہمہ “ کی کیفیت مطلوب ہے۔ یعنی رشتوں اور تعلقات کے ہجوم میں بظاہر سب کے ساتھ نظر آؤ ‘ لیکن حقیقت میں تمہارا تعلق کسی کے ساتھ بھی نہ ہو۔ جیسے قیامت کے دن ہر انسان کو انفرادی حیثیت سے اللہ کے حضور کھڑے ہونا ہوگا۔ اس وقت ماں باپ ‘ اولاد ‘ بیوی ‘ شوہر کوئی بھی ساتھ نہیں ہوگا۔ بہرحال ایک بندئہ مومن کو فریضہ دعوت و تبلیغ کی ادائیگی کے لیے بظاہر تو معاشرے میں رہنا ہے اور خود سے متعلقہ لوگوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا ہے ‘ لیکن باطنی طور پر اسے تمام لوگوں سے ذہنی و قلبی رشتے ‘ دوستیاں ‘ امیدیں اور توقعات توڑ کر صرف اللہ تعالیٰ سے رشتہ استوار کرنا چاہیے ۔ یہ ہے وَتَـبَتَّلْ اِلَـیْہِ تَـبْتِیْلًا کے حکم کا اصل مدعا۔

علم غیب

علم غیب سے متعلق اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ یہ علم کسی کو نہیں بتاتا کہ قیامت کب آئے گی۔ ہاں غیب کی کچھ باتیں کسی رسول کو بتا بھی دیتا ہے اور یہ باتیں وہ ہوتی ہیں جن کا بتانا دین کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ قیامت ضرور آئے گی۔ ایک وقت آئے گا جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔ یا یہ کہ قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی یا یہ کہ روز محشر میں اللہ کا لوگوں سے حساب لینا اور جنت اور دوزخ کے حالات۔ یہ سب چیزیں غیب سے تعلق رکھتی ہیں جو اللہ نے وحی کے ذریعہ رسول کو بتادیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت تک پہنچا دیں۔ اس کا بھی ضابطہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ جبریل کے ذریعہ ایسی وحی بھیجتا ہے تو اس کے آگے پیچھے نگران اور محافظ بھی بھیجتا ہے تاکہ یہ وحی بحفاظت تمام و کمال اور بلا کسی آمیزش کے رسول تک پہنچ جائے۔

 اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں ہے، البتہ وہ اپنے جس پیغمبر کو چاہتا ہے، وحی کے ذریعے غیب کی خبریں پہنچا دیتا ہے، اور ایسے موقع پر فرشتوں کو اُس وحی کا محافظ بنا کر بھیجا جاتا ہے، تاکہ کوئی شیطان اس میں کوئی خلل نہ ڈال سکے۔

انسانیت

سچ تو یہ ہے

دلوں پر پردے