Saturday, July 4, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

قرآن نسخہ کیمیا اور شفا بخش

آیت ٨٢ (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ )- یہاں پر پھر قرآن کا لفظ ملاحظہ ہو۔ نوٹ کیجیے کہ خود قرآن کا ذکر اس سورت میں جتنی مرتبہ آیا ہے کسی اور سورت میں نہیں آیا۔ اس آیت میں قرآن کے احکام کو اہل ایمان کے لیے شفا اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہی مضمون سورة یونس میں اس طرح بیان ہوا ہے : (یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ) ” اے لوگو آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں ( کے امراض) کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت “ ۔ یعنی قرآن ایک مؤمن کے سینے کو تمام آلائشوں اور بیماریوں (مثلاً کفر شرک تکبر حسد حب مال حب جاہ حب اولاد وغیرہ) سے صاف اور پاک کردیتا ہے۔- (وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا)- جیسا کہ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : (يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا ۙ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا ۭ وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ ) ۔

The Consequences of Debt

Narrated 'Aisha: Allah's Messenger  used to invoke Allah in the prayer saying, "O Allah, I seek refuge with you from all sins, and from being in debt". Someone said, O Allah's Messenger ! (I see you) very often you seek refuge with Allah from being in debt. He replied, "If a person is in debt, he tells lies when he speaks, and breaks his promises when he promises".

Sahih al-Bukhari 2397 (Book 43, Hadith 13)

QUICK LESSONS:
Pay off debts quickly; Be honest with your words; Keep your promises; Strive for financial responsibility.

EXPLANATIONS:

In this hadith, narrated by 'Aisha, Allah's Messenger is teaching us about the consequences of being in debt. He says that if someone is in debt, they will tell lies when they speak and break their promises when they make them. This teaches us to be careful with our finances and to avoid getting into debt as much as possible. It also reminds us to be honest with our words and keep our promises so we can stay away from the consequences of being in debt. We should strive to pay off any debts we have as soon as possible so that we can remain truthful and trustworthy people.

حب دنیا

 آیت ٢٧ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ہُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا ۔ ” یقینا یہ لوگ فوری ملنے والی چیز (دنیا) سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن جو ان کے پیچھے آنے والا ہے ، اس کا دھیان چھوڑے بیٹھے ہیں۔ “- یعنی قیامت کا سخت دن : یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا ۔ (المزمل) ” وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا “۔ اس آیت کے مضمون کا ربط سورة القیامہ کی ان آیات کے ساتھ ہے : کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ - وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ۔ ” ہرگز نہیں اصل میں تم لوگ عاجلہ (جلد ملنے والی چیز) سے محبت کرتے ہو۔ اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ “

بتدریج قرآن نازل کیا

تخلیق انسانی کی ابتداء کا بیان

آیت ٢ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ” ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ملے جلے نطفے سے “- موجودہ دور میں سائنس نے اس آیت کا مفہوم بہت اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ مرد کی طرف سے اور ماں کی طرف سے ملتے ہیں تو وجود میں آتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے پندرہ سو سال پہلے صحرائے عرب کا ایک بدو تو لفظ ” اَمْشَاج “ کو اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق ہی سمجھا ہوگا۔ گویا قرآن مجید کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم ہر زمانے کے ہر قسم کے انسانوں کے لیے قابل فہم رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان الفاظ کے معانی و مطالب میں نئی نئی جہتیں بھی دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ - نَّـبْـتَلِیْہِ ” ہم اس کو الٹتے پلٹتے رہے “- یعنی رحم مادر میں ہم نے اس ” نُطْفَۃٍ اَمْشَاج “ کو مختلف مراحل سے گزارا۔ نطفہ سے اسے علقہ بنایا۔ علقہ کو مغضہ کی شکل میں تبدیل کیا اور پھر اس کے اعضاء درست کیے۔ ” نَـبْـتَلِیْہِ “  کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے ” تاکہ ہم اس کو آزمائیں “۔ یعنی ہم نے انسان کو امتحان اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔- فَجَعَلْنٰـہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا ۔ ” پھر ہم نے اس کو بنا دیا سننے والا ‘ دیکھنے والا۔ “

 - (٢) نبتلیہ : ہم اسے آزماتے ہیں ، یعنی انسان کو پیدا کرنے کا مقصد اس کی آزمائش ہے کہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے، جیسے فرمایا، (لیبلوکم ایکم احسن عملاً ) ۔  (الملک : ٢) ۔ ”(اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کو اس لئے پیدا فرمایا) تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔ “- (٣) فجعلنہ سمیعاً بصیراً :” ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنایا “ اگرچہ جانور بھی سنتے اور دیکھتے ہیں مگر انہیں ” سمیع وبصیر “ نہیں کہاجاتا کیونکہ وہ عقل کی نعمت سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سننے اور دیکھنے کی ایسی قوتیں دی ہیں جن سے وہ اچھے برے میں تمیز کرسکتا ہے اور بہت دور تک سوچ سکتا ہے۔ گویا دوسرے جانور اس کے مقابل بہرے اور اندھے ہیں۔

حیات بعد موت

آیت ٤٠ اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰی ۔ ” تو کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ُ مردوں کو زندہ کردے ؟ “- کیا تم لوگ جانتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گندے پانی کی بوند سے پیدا کیا ہے ؟ اولادِ آدم (علیہ السلام) میں سے افلاطون ، بقراط اور سقراط کی تخلیق بھی اسی بوند سے ہوئی اور تمام انبیاء اور اولیاء اللہ بھی ایسے ہی پیدا ہوئے۔ صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے استثناء کے علاوہ نسل انسانی کے تمام افراد ، اللہ تعالیٰ نے اسی طریقے سے پیدا کیے۔ اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِط ۔ (قٓ: ١٥) ۔ ” تو کیا پہلی مرتبہ تم لوگوں کو پیدا کرنے کے بعد اب ہم عاجز آگئے ہیں ؟ “ تو اے عقل کے اندھو! کیا تم یہ بھی نہیں سوچتے کہ جو ذات پانی کی ایک بوند سے زندہ سلامت ، خوبصورت ، بہترین صلاحیتوں کے مالک انسان کو پیدا کرسکتی ہے ، کیا وہ مردہ انسانوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوگی ؟ اس آیت کا انداز چونکہ سوالیہ ہے اس لیے اسے سن کر یا پڑھ کر ہماری زبانوں پر بےساختہ یہ الفاظ آجانے چاہئیں : ” کیوں نہیں اے ہمارے پروردگار تیری ذات پاک ہے۔ ہم گواہ ہیں کہ تو ُ مردوں کو زندہ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ “- متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس آیت کو پڑھتے تو اس سوال کے جواب میں کبھی بَلٰی (کیوں نہیں ) اور کبھی سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ فَـبَلٰی (پاک ہے تیری ذات ، اے اللہ کیوں نہیں) جیسے الفاظ فرمایا کرتے تھے۔