«صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ»
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ [الفاتحة:6]
Friday, July 24, 2026
اچھے صفاتی نام
۔ (اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى)- ہرخیر ہر خوبی ہر بھلائی ہر حسن ہر کمال ہر جمال جس کا تم تصور کرسکتے ہو وہ بہ تمام و کمال اللہ تعالیٰ کی ذات میں موجود ہے۔- (وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا)- تمہاری نمازیں اور دعائیں نہ تو بہت زیادہ جہری ہوں نہ بالکل ہی سری ۔ بلکہ ان کے بین بین کی راہ اختیار کرو ۔
اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے مشرکین اللہ تعالیٰ کے نام رحمن کو نہیں مانتے تھے چنانچہ جب مسلمان یا اللہ یا رحمن کہہ کر دعا کرتے تو وہ مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ ایک طرف تو تم کہتے ہو کہ اللہ ایک ہے، اور دوسری طرف دو خداؤں کو پکاررہے ہو، ایک اللہ کو اور ایک رحمن کو، اس آیت میں ان کے لغو اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ اور رحمن دونوں اللہ ہی کے نام ہیں بلکہ اسکے اور بھی اچھے اچھے نام ہیں جنہیں اسمائے حسنی کہا جاتا ہے ان میں سے کسی بھی نام سے اس کو پکارا جا سکتا ہے اس سے عقیدہ ٔ توحید پر کوئی حرف نہیں آتا۔
اس کی شان نزول میں حضرت ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھپ کر رہتے تھے، جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو آواز قدرے بلند فرما لیتے، مشرکین قرآن سن کر قرآن کو اور اللہ کو گالی گلوچ کرتے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اپنی آواز کو اتنا اونچا نہ کرو کہ مشرکین سن کر قرآن کو برا بھلا کہیں اور نہ آواز اتنی پست کرو کہ صحابہ بھی نہ سن سکیں ، خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا واقعہ ہے کہ ایک رات نبی کا گزر حضرت ابوبکر صدیق کی طرف سے ہوا تو وہ پست آواز سے نماز پڑھ رہے ہیں، پھر حضرت عمر کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا تو وہ اونچی آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے دونوں سے پوچھا تو حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا ، میں جس سے مصروف مناجات تھا، وہ میری آواز سن رہا تھا، حضرت عمر نے جواب دیا کہ میرا مقصد سوتوں کو جگانا اور شیطان کو بھگانا تھا۔ آپ نے صدیق اکبر سے فرمایا ، اپنی آواز قدرے بلند کرو اور حضرت عمر سے کہا، اپنی آواز کچھ پست رکھو۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعاء کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔(بخاری و مسلم، بحوالہ فتح القدیر) ۔
جنت کی نعمتیں
مَفَازًا کا لغوی مفہوم :۔ مَفَازًا : فاز بمعنی نجات حاصل کرنا اور مصیبتوں سے نجات حاصل کرکے خیر و عافیت کے ساتھ سلامتی کی جگہ پہنچنا ہے۔ اسی لیے فاز الرجل اور فَوْزَ الرجل کے معنی مرنا اور ہلاک ہونا بھی آتا ہے اور اس میں تصور یہ ہے کہ انسان مر کر دنیا کی پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔ گویا پرہیزگاروں کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہیں قیامت کے دن کے مصائب و آلام اور دوزخ کے عذاب سے نجات مل جائے اور وہ ایسے محفوظ اور سلامتی والے مقام پر پہنچا دیئے جائیں جہاں جہنم کے عذاب کی لو تک بھی نہ پہنچ سکے۔ رہا اس کے بعد جنت میں داخلہ اور جنت کی نعمتوں کا حصول تو وہ اللہ کے فضل اور مہربانی سے زائد انعام ہوگا۔
پرہیزگاروں کو نجات کے بعد زائد انعام جنت یا جنت کی نعمتوں کی صورت میں ملے گا ان میں سے چند ایک کا یہاں ذکر کیا جارہا ہو۔ ان میں پہلی چیز تو حدائق ہیں اور حدائق حدیقہ کی جمع ہے اور حدیقہ ایسے باغ کو کہتے ہیں جس کے گرد حفاظت کی خاطر چار دیواری کی گئی ہے۔ ایسے باغات میں بالخصوص انگوروں کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ یہی ایک ایسا پھل ہے جو پورے کا پورا کھایا جا سکتا ہے نہ اس کا چھلکا اتارنا پڑتا ہے اور نہ اس میں گٹھلی یا بیج ہوتے ہیں اور اگر بیج ہوتے ہیں تو صرف بڑے سائز کے انگور میں جس سے منقیٰ بنتا ہے۔ یہ بیج بھی اگر کوئی شخص کھالے تو کچھ حرج نہیں۔ اور نرم اتنا کہ منہ میں ڈالتے ہی گھل جاتا ہے۔ شیریں بھی ہوتا ہے اور مزیدار بھی۔
اور بھرے ہوئے جام شراب ہیں، جنتی جنت میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ ، اس جنت میں ایک نیکی کے بدلے دس گنا ان کو ثواب ملے گا یا یہ کہ ان کے اعمال کے موافق اس روز فرشتوں کو بغیر حکم خداوندی کلام کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔
(لایسمعون فیھا لغوا ولا کذباً : جنت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کے کان واں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ یہ سنیں گے کہ کوئی کسی کو جھوٹا کہہ رہا ہے۔ کوئی کسی سے جھگڑے گا ہی نہیں کہ اس کی بات کو جھٹلائے۔ گالی گلوچ اور دنگا فساد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کو جنت کی بڑی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے کہ آدمی کے کان وہاں بیہودہ اور جھوٹی اور گندی باتیں سننے سے محفوظ رہیں گے ۔ وہاں کوئی یاوہ گوئی اور فضول گپ بازی نہ ہو گی ، کوئی کسی سے نہ جھوٹ بولے گا نہ کسی کو جھٹلائے گا ، دنیا میں گالم گلوچ ، بہتان ، افترا ، تہمت اور الزام تراشیوں کا جو طوفان برپا ہے اس کا کوئی نام و نشان نہ ہو گا
آیت ٣٦ جَزَآئً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآئً حِسَابًا ۔ ” یہ بدلہ ہوگا آپ کے رب کی طرف سے ‘ دیا ہوا حساب سے۔ “- یہ سب کچھ ان لوگوں کی محنت اور قربانیوں کے بدلے کے طور پر انہیں عطا کیا جائے گا۔
اہل جہنم کا کچھ حال
آیت ٢١ اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا ۔ ” یقینا جہنم گھات میں ہے۔ “- جہنم تو مجرم انسانوں کی صورت میں اپنے ایندھن کا انتظار کر رہی ہے۔
گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جو شکار کو پھانسنے کے لیے بنائی جاتی ہے تاکہ وہ بے خبری کی حالت میں آئے اور اچانک اس میں پھنس جائے ۔ جہنم کے لیے یہ لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ خدا کے باغی اس سے بے خوف ہو کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے اچھل کود کرتے پھر رہے ہیں کہ خدا کی خدائی ان کے لیے ایک کھلی آماجگاہ ہے ، اور یہاں کسی پکڑ کا خطرہ نہیں ہے ، لیکن جہنم ان کے لیے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ یکایک پھنسیں گے اور بس پھنس کر ہی رہ جائیں گے ۔
مِرْصَاد بمعنی گھات یا تاک لگا کر بیٹھنے کی جگہ جہاں شکاری غافل شکار کو پھانسنے کے لیے بیٹھتا ہے۔ پھر جب شکار اس کی زد میں آجاتا ہے تو یکدم اسے قابو کرلیتا ہے۔ آخرت کے منکر بھی جہنم کے غافل شکار ہیں جو انجام سے بیخبر اور لاپروا ہو کر زمین میں آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ ان کے مرنے کی دیر ہے کہ جہنم فوراً انھیں اپنے قبضہ میں لے لے گی ۔ وہ تو پہلے ہی اس انتظار میں ہے کہ اسے کب کوئی شکار مہیا ہوتا ہے ؟
اصل عربی لفظ ’’احقاب ہے‘‘ جو ’’حقبہ‘‘ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو اِستدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذِکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لئے کہ قرآنِ کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔
مثلا دیکھئے سورۃ مائدہ(۵:۳۷)۔
تو وہاں سے ان لوگوں کو نجات حاصل نہیں ہوگی اور دوزخ میں نہ تو وہ ٹھنڈے پانی یا یہ کہ نیند کا مزہ چکھیں گے اور نہ ٹھنڈی پینے کی چیز کا سوائے سخت گرم پانی اور زمہریر، یا یہ کہ پیپ کے ، یہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا ۔ یہ لوگ دنیا میں نہ تو عذاب آخرت سے ڈرتے تھے اور نہ اس پر ایمان ہی لاتے تھے اور ہماری کتاب اور ہمارے رسول کی تکذیب کرتے تھے۔
اصل میں لفظ غساق استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق پیپ ، لہو ، کچ لہو ، اور آنکھوں اور کھالوں سے بننے والی ان تمام رطوبتوں پر ہوتا ہے جو شدید تعذیب کی وجہ سے بہ نکلتی ہوں ۔ اس کے علاوہ یہ لفظ ایسی چیز کے لیے بھی بولا جاتا ہے جس میں سخت تعفن اور سڑاند ہو ۔
آیت ٢٦ جَزَآئً وِّفَاقًا ۔ ” بدلہ (ان کے اعمال کا) پورا پورا۔ “- ان لوگوں نے جیسے اعمال کیے ہوں گے ‘ ویسا ہی ان لوگوں کے ساتھ وہاں سلوک کیا جائے گا ۔ یہ ہے وہ سبب جس کی بنا پر وہ جہنم کے اس خوفناک عذاب کے مستحق ہوں گے ۔ ایک یہ کہ دنیا میں وہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں ، اللہ تعالی کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہو ، دوسرے یہ کہ اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے ان کی ہدایت کے لیے جو آیات بھیجی تھیں انہیں ماننے سے انہوں نے قطعی انکار کر دیا اور ان کو جھوٹ قرار دیا ۔
فیصلہ کا دن
آیت ١٧ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا ۔ ” یقینا فیصلے کا دن ایک معین وقت ہے۔ “- یہ ہے وہ اصل بات جس کے لیے بطور تمہید گزشتہ آیات میں اللہ کی رنگا رنگ نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لیے اپنی نعمتوں کا اس قدر وسیع دستر خوان بچھایا ہے تو اس نے انسانوں پر لازماً کچھ ذمہ داریاں بھی ڈالی ہوں گی ۔ جب خود انسانوں کے ہاں اصول ہے کہ ذمہ داریاں اور مراعات ایک ساتھ چلتی ہیں تو یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان پر اپنی عطائوں کی بارش تو کرتا رہے اور اس پر ذمہ داری کوئی بھی نہ ڈالے۔ اس لیے تم لوگ یہ مت سمجھو کہ تم من مانی زندگی گزارتے رہو گے اور تم سے کوئی جوابدہی نہیں ہوگی۔ نہیں ‘ تم سے ایک ایک ذمہ داری اور ایک ایک نعمت کا حساب ہوگا اور اس کے لیے ہم نے فیصلے کا ایک دن پہلے سے مقرر کر رکھا ہے ۔
آیت ١٨ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا ۔ ” جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو تم سب چلے آئو گے فوج در فوج۔ “- اس کیفیت کا نقشہ سورة المعارج میں اس طرح دکھایا گیا ہے : یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ ۔ ” جس دن وہ نکلیں گے اپنی قبروں سے دوڑتے ہوئے ‘ جیسے کہ نشان زدہ اہداف کی طرف بھاگے جا رہے ہوں۔ “
آسمان کھول دیا جائے گا ۔ سے مراد یہ ہے کہ عالم بالا میں کوئی بندش اور رکاوٹ باقی نہ رہے گی اور ہر طرف سے ہر آفت سماوی اس طرح ٹوٹی پڑ رہی ہو گی کہ معلوم ہو گا گویا اس کے آنے کے لیے سارے دروازے کھلے ہیں اور اس کو روکنے کے لیے کوئی دروازہ بھی بند نہیں رہا ہے ۔ پہاڑوں کے چلنے اور سراب بن کر رہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھتے دیکھتے پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اڑیں گے اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر اس طرح پھیل جائیں گے کہ جہاں پہلے کبھی پہاڑ تھے وہاں ریت کے وسیع میدانوں کے سوا اور کچھ نہ ہو گا ۔ اس کیفیت کو سورہ طہٰ میں یوں بیان کیا گیا ہے یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ اس سے کہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ تک نہ دیکھو گے ۔ آیات 105 تا 107 مع حاشیہ 83 ) ۔
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)

