Sunday, February 15, 2026

آدم کے پہلے کی تخلیق کے مراحل

 آیت ١٤ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ۔ ” اس نے پیدا کیا انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔ “- حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے حوالے سے سورة الحجر کے تیسرے رکوع میں تین مرتبہ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ 4 کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے مراد ایسا گارا ہے جس میں سڑاند پیدا ہوچکی ہو ‘ یعنی سنا ہوا گارا۔ ایسا گارا خشک ہونے پر سخت ہوجاتا ہے اور ٹھوکر لگنے سے کھنکنے لگتا ہے۔ یہاں پر صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِسے ایسا ہی سوکھا ہوا گارا مراد ہے ‘ یعنی ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتا ہوا گارا۔

سیدنا آدم کے پہلے کی تخلیق کے مراحل :۔ یہ سیدنا آدم کے پتلے کی تخلیق کا ساتواں اور آخری مرحلہ ہے اور ان سات مراحل کی ترتیب یوں ہے۔ (١) تراب بمعنی خشک مٹی سے، (المومن : ٦٧) (2) ارض بمعنی عام مٹی یا زمین، (نوح : ١٧) (٣) طین بمعنی گیلی مٹی یا گارا، (الانعام : ٢) (٤) طِیْنٍ لاَّزِبٍ بمعنی لیسدار اور چپکدار مٹی، (الصافات : ١١) (٥) حَمَإٍ مَّسْنُوْنٍ بمعنی بدبودار کیچڑ،۔ (الحجر : ٢٦) (٦) صَلَصَالٍ ٹھیکرا یا حرارت سے پکائی ہوئی مٹی، (ایضاً ) (٧) صَلْصََالٍ کَاْلفَخَّارٍ بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری، (الرحمن : ١٤) - پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح سے پھونکا تو یہ بشر بن گیا۔ اس کو مسجود ملائک بنایا گیا۔ پھر اسی سے اس کا زوج پیدا کیا گیا (٤: ١) پھر اس کے بعد حقیر پانی کے ست سے اس کی نسل چلائی گئی جس کے لیے دوسرے مقامات پر نطفہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

آیت ١٥ وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ۔ ” اور جنات کو اس نے پیدا کیا آگ کی لپٹ سے۔ “- مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍسے آگ کی لویا لپٹ مراد ہے۔ اس کا اطلاق آگ کے شعلے کے اس حصے پر ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا لیکن انتہائی گرم ہوتا ہے۔ شعلے کے اندر سب سے زیادہ درجہ حرارت اسی نظر نہ آنے والے حصے میں ہوتا ہے۔ سورة الحجر کی آیت ٢٧ میں آگ کی اس لپٹ کو نَارِ السَّمُوْمِ کا نام دیا گیا ہے۔

 اصل الفاظ ہیں مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ۔ نار سے مراد ایک خاص نوعیت کی آگ ہے نہ کہ وہ آگ جو لکڑی یا کوئلہ جلانے سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس مارج کے معنی ہیں خالص شعلہ جس میں دھواں نہ ہو اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلا انسان مٹی سے بنایا گیا ، پھر تخلیق کے مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے اس کا لبد خاکی نے گوشت پوست کے زندہ بشر کی شکل اختیار کی اور آگے اس کی نسل نطفہ سے چلی ، اسی طرح پہلا جن خالص آگ کے شعلے ، یا آگ کی لَپَٹ سے پیدا کیا گیا ، اور بعد میں اس کی ذریت سے جِنوں کی نسل پیدا ہوئی ۔ اس پہلے جن کی حیثیت جِنوں کے معاملہ میں وہی ہے جو آدم علیہ السلام کی حیثیت انسانوں کے معاملہ میں ہے ۔ زندہ بشر بن جانے کے بعد حضرت آدم اور ان کی نسل سے پیدا ہونے والے انسانوں کے جسم کو اس مٹی سے کوئی مناسبت باقی نہ رہی جس سے ان کو پیدا کیا گیا تھا ۔ اگرچہ اب بھی ہمارا جسم پورا کا پورا زمین ہی کے اجزاء سے مرکب ہے ، لیکن ان اجزاء نے گوشت پوست اور خون کی شکل اختیار کر لی ہے اور جان پڑنے کے بعد وہ تودہ خاک کی بہ نسبت ایک بالکل ہی مختلف چیز بن گیا ہے ۔ ایسا ہی معاملہ جنوں کا بھی ہے ۔ ان کا وجود بھی اصلاً ایک آتشیں وجود ہی ہے ، لیکن جس طرح ہم محض تودہ خاک نہیں ہیں اسی طرح وہ بھی محض شعلہ آتش نہیں ہیں ۔ اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ۔ ایک یہ کہ جن مجّرد روح نہیں ہیں بلکہ ایک خاص نوعیت کے مادی اجسام ہی ہیں ، مگر چونکہ وہ خالص آتشیں اجزاء سے مرکب ہیں اس لیے وہ خاکی اجزاء سے بنے ہوئے انسانوں کو نظر نہیں آتے ۔ اسی چیز کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اِنَّہ یَرٰکُمْ ھُوَ وَقَبِیْلُہ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَھُمْ ۔ شیطان اور اس کا قبیلہ تم کو ایسی جگہ سے دیکھ رہا ہے جہاں تم اس کو نہیں دیکھتے ۔ ( الاعراف ۔ 27 ) ۔ اسی طرح جِنوں کا سریع الحرکت ہو نا ، ان کا بہ آسانی مختلف شکلیں اختیار کر لینا ، اور ان مقامات پر غیر محسوس طریقے سے نفوذ کر جانا جہاں خاکی اجزاء سے بنی ہوئی چیزیں جہاں خاکی اجزاء سے بنی ہوئی چیزیں نفوذ نہیں کر سکتیں ، یا نفوذ کرتی ہیں تو ان کا نفوذ محسوس ہو جاتا ہے ، یہ سب امور بھی اسی وجہ سے ممکن اور قابل فہم ہیں کہ وہ فی الاصل آتشیں مخلوق ہیں ۔ دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ جن نہ صرف یہ کہ انسان سے بالکل الگ نوعیت کی مخلوق ہیں ، بلکہ ان کا مادہ تخلیق ہی انسان ، حیوان ، نباتات اور جمادات سے قطعی مختلف ہے یہ صریح الفاظ میں ان لوگوں کے خیال کی غلطی ثابت کر رہی ہے جو جنوں کو انسانوں ہی کی ایک قسم قرار دیتے ہیں ۔ وہ اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ مٹی سے انسان کو اور آگ سے جن کو پیدا کرنے کا مطلب دراصل دو قسم کے لوگوں کی مزاجی کیفیت کا فرق بیان کرنا ہے ، ایک قسم کے انسان منکسر المزاج ہوتے ہیں جنہیں آدمی کے بجائے شیطان کہنا زیادہ صحیح ہوتا ہے ۔ لیکن یہ قرآن کی تفسیر نہیں بلکہ تحریف ہے ۔ اوپر حاشیہ نمبر 14 میں ہم نے تفصیل کے ساتھ یہ دکھایا ہے کہ قرآن مجید مٹی سے انسان کے پیدا کیے جانے کا مطلب کتنی وضاحت کے ساتھ خود بیان کرتا ہے ۔ کیا ان ساری تفصیلات کو پڑھ کر کوئی معقول آدمی یہ معنی لے سکتا ہے کہ ان ساری باتوں کا مقصد محض اچھے انسانوں کے منکسر المزاج ہونے کی تعریف بیان کرنا ہے؟ پھر آخر یہ بات کسی صحیح العقل آدمی کے ذہن میں کیسے آسکتی ہے کہ انسان کی تخلیق سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے کرنے ، اور جن کی تخلیق خالص آگ کے شعلے سے کرنے کا مطلب ایک ہی نوع انسان کے دو مختلف المزاج افراد یا گرہوں کی جدا گانہ اخلاقی خصوصیات کا فرق ہے؟ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، تفسیر سورہ ذاریات ، حاشیہ 53 ) ۔

Friday, February 13, 2026

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ

 آیت ١٠ وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا لِلْاَنَامِ ۔ ” اور زمین کو اس نے بچھا دیا مخلوق کے لیے۔ “- ظاہر ہے مخلوق میں انسان بھی شامل ہیں اور جنات بھی ۔ نوٹ کیجیے کہ پہلے آسمان ‘ سورج اور چاند کا ذکر ہوا ہے اور اب زمین کا ۔ گویا ترتیب تدریجاً اوپر سے نیچے کی طرف آرہی ہے۔

 انام کا لغوی مفہوم :۔ انام سے مراد ہر وہ جاندار مخلوق ہے جو روئے زمین پر پائی جاتی ہے۔ خواہ وہ چرند ہوں، یا پرند، مویشی ہوں یا درندے، انسان ہوں یا جن، اور انام سے مراد انسان اور جن لینا اس لحاظ سے زیادہ مناسب ہے کہ آگے انہیں دو انواع کا ذکر آرہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کا رزق ہم نے زمین سے ہی وابستہ کردیا ہے۔ یہی ان کی جائے پیدائش، یہی ان کا مسکن اور یہی ان کا مدفن ہے

آیت ١ ١ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ لا وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ ۔ ” اس میں میوے ہیں اور کھجوریں ہیں ‘ جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ “

آیت ١٢ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ ۔ ” اور ُ بھس والا اناج بھی ہے اور خوشبودار پھول بھی۔ - بعض مترجمین ” الرَّیْحَان “ سے مختلف النوع غذائیں بھی مراد لیتے ہیں۔

آیت ١٣ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ ” تو تم دونوں (گروہ) اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “- عام طور پر اٰلَآئِ کا ترجمہ ” نعمتیں “ کیا جاتا ہے ‘ لیکن اس لفظ میں نعمتوں کے ساتھ ساتھ قدرتوں کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ چناچہ اس سورت میں بھی اس لفظ سے کہیں اللہ کی نعمتیں مراد ہیں اور کہیں اس کی قدرتیں۔ تُکَذِّبٰنِ تثنیہ کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سورت میں جنوں اور انسانوں سے مسلسل ایک ساتھ خطاب ہو رہا ہے ۔

Forgiveness for Unspoken Sins

Narrated Abu Huraira: The Prophet  said, "Allah has accepted my invocation to forgive what whispers in the hearts of my followers, unless they put it to action or utter it".

Sahih al-Bukhari 2528 (Book 49, Hadith 12).


QUICK LESSONS:
Think good thoughts & Speak good words

EXPLANATIONS:

This hadith speaks of the mercy and forgiveness that Allah has bestowed upon us. The Prophet Muhammad ﷺ asked Allah to forgive any sins that are committed in our hearts but not acted upon or spoken out loud. This shows us how merciful and forgiving Allah is; He will even forgive us for thoughts we have never expressed or acted on. It also teaches us to be mindful of our thoughts and words; if we think something wrong but don’t act on it or say it out loud, then we can still be forgiven by Allah. We should strive to keep our thoughts pure and clean so that we can receive His mercy and forgiveness.

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

پہاڑوں کے فوائد

 آیت ١٥ (وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ )- یہاں اَنْہٰرًا وَّسُبُلاً کے اکٹھے ذکر کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو عملی طور پر بھی ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ پہاڑی سلسلوں میں عام طور پر ندیوں کی گزر گاہوں کے ساتھ ساتھ ہی راستے بنتے ہیں۔ اسی طرح پہاڑوں کے درمیان قدرتی وادیاں انسانوں کی گزر گاہیں بھی بنتی ہیں اور پانی کے ریلوں کو راستے بھی فراہم کرتی ہیں۔

یہ پہاڑوں کا فائدہ بیان کیا جا رہا ہے اور اللہ کا ایک احسان عظیم بھی ہے، کیونکہ اگر زمین ہلتی رہتی تو اس میں سکونت ممکن ہی نہ رہتی۔ اس کا اندازہ ان زلزلوں سے کیا جاسکتا ہے جو چند سکینڈوں اور لمحوں کے لئے آتے ہیں، لیکن کس طرح بڑی بڑی مضبوط عمارتوں کو پیوند زمین اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیتے ہیں۔   نہروں کا سلسلہ بھی عجیب ہے، کہاں سے وہ شروع ہوتی ہیں اور کہاں کہاں، دائیں بائیں، شمال، جنوب، مشرق و مغرب ہر جہت کو سہراب کرتی ہیں۔ اس طرح راستے بنائے، جن کے ذریعے تم منزل مقصود پر پہنچتے ہو۔

آیت ١٦ (وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ )- اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی مدد کے لیے زمین میں طرح طرح کی علامتیں بنائیں تاکہ مختلف علاقوں اور راستوں کی پہچان ہو سکے۔ اسی طرح آسمان کے ستاروں کو بھی سمتوں اور راستوں کے تعین کا ایک ذریعہ بنا دیا۔ پرانے زمانے میں سمندری اور صحرائی سفر رات کے وقت ستاروں کی مدد سے ہی ممکن ہوتے تھے۔

 نشان راہ کی اہمیت :۔ کسی جگہ کوئی ٹیلہ ہے یا کوئی ندی نالا بہہ رہا ہے یا گھاٹی ہے۔ ایسی علامت اور بعض دیگر عارضی علامات جیسے کوئی بلند درخت، یا قصبہ، یا بلند عمارت وغیرہ۔ ایسی چیزوں کے دوسرے فوائد کے ساتھ ساتھ ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مسافر ان علامات کے ذریعہ یہ معلوم کرسکتا ہے کہ وہ ٹھیک راستہ پر جارہا ہے۔ ان علامات کی صحیح قدر و قیمت اس وقت معلوم ہوتی ہے جب انسان کو کسی ایسے لق ودق صحرا میں سفر کرنا پڑے۔ جہاں کوئی نشان راہ اور علامت نہ ہو۔ ایسی جگہ پر راہ بھول جانے اور بھول بھلیوں میں پڑجانے کا سخت اندیشہ ہوتا ہے۔ اور اگر ایک دفعہ کوئی راہ بھول جائے تو دوبارہ راستہ ملنا بڑا دشوار ہوتا ہے۔-  ستاروں سے رہنمائی :۔ رات کے وقت انسان ستاروں کی چال سے وقت بھی معلوم کرسکتا ہے کہ رات کا کتنا حصہ گزر چکا ہے اور کتنا باقی ہے اور سمت بھی۔ رات کے وقت سفر میں ستارے پوری رہنمائی کا کام دیتے ہیں خواہ یہ سفر بحری ہو یا بری۔ آج کل سفر میں عموماً قطب نما سے مدد لی جاتی ہے جبکہ حقیقتاً یہ بھی ستاروں سے بالواسطہ رہنمائی ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں قطب نما کی سوئی ہمیشہ عین شمال یا قطبی ستارہ کی طرف ہوجاتی ہے جس سے دوسری سمتوں کے نشان اس قطب نما پر لگا دیئے جاتے ہیں۔

یا رب

ناپ تول میں انصاف

 آیت ٩ وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ ۔ ” اور قائم رکھو وزن کو انصاف کے ساتھ اور میزان میں کوئی کمی نہ کرو۔ “- کسی بھی نظام میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اس نظام کے اندر عدل قائم رکھنا یعنی اس کی ہرچیز کو اس کی اصل جگہ پر رکھنا ضروری ہے ‘ کیونکہ کسی بھی قسم کی کمی بیشی نظام میں خرابی اور عدم توازن کا باعث بنتی ہے ۔ اسی لیے زیادتی سے بھی منع کردیا گیا (لَا تَطْغَوْا) اور کمی کرنے سے بھی روک دیا گیا (لَا تُخْسِرُوا) ۔ خالق کائنات نے اس کائنات کا پورا نظام توازن اور عدل و قسط پر قائم کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنے دائرئہ اختیار میں اسی طرح توازن اور عدل وقسط کو ملحوظ رکھے۔ اس میزان میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے ‘ ورنہ سارے نظام معاش و معیشت میں فساد پھیل جائے گا۔ یہاں کوئی بڑا ظلم تو درکنار ‘ ترازو میں ڈنڈی مار کر اگر کوئی شخص خریدار کے حصے کی تھوڑی سی چیز بھی مار لیتا ہے تو میزانِ عالم میں خلل برپا کردیتا ہے