Saturday, June 27, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

 

تہجد کی نماز

Seeking Refuge from Unwanted Dreams

Jabir reported Allah's Messenger  as saying: If anyone sees a dream which he does not like, he should spit on his left side three times, and seek refuge with Allah from the Satan three times, and let him turn over from the side on which he was sleeping.

Sahih Muslim 2262 (Book 42, Hadith 8) 

QUICK LESSONS:
Spitting on your left side 3x and seeking refuge with Allah 3x when having an unwanted dream

EXPLANATIONS:
This hadith teaches us that if we have a dream that we do not like or find disturbing, we should take certain steps to protect ourselves. We should first spit on our left side three times as this is believed to ward off any evil spirits or bad dreams. Then we must seek refuge with Allah from the Satan three times as this will help us feel safe and secure. Finally, it is recommended that we turn over onto our other side in order to get back into a peaceful sleep. By following these steps, it is believed that one can protect themselves from any unwanted dreams or nightmares.

موت ، سکرات کی کیفیت

  اپنی موت کو نہ بھولے موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صالح کی طرف آجائے تا کہ آخرت میں نجات ملے۔ آیت مذکورہ میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا کہ غفلت شعار انسان بھول میں رہتا ہے یہاں تک کہ موت سر پر آ کھڑی ہو اور روح ترقوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آ پھنسے اور تیماردار لوگ دوا وعلاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے والوں کو تلاش کرنے لگیں اور ایک پاؤں کی پنڈلی دوسری پر لپٹنے لگے تو یہ وقت اللہ کے پاس جانیکا آ گیا۔ اب نہ توبہ قبول ہوتی ہے نہ کوئی عمل اسلئے عقلمند پرلازم ہے کہ اس وقت سے پہلے اصلاح کی فکر کرے والْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاق میں لفظ ساق کے مشہور معنے پاؤں کی پنڈلی کے ہیں اور پنڈلی کے ایک دوسرے پر لپٹنے کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت اضطراب اور بےچینی سے ایک پنڈلی دوسری پر مارتا ہے اور یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ اس وقت اگر ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا ہے اور اس کو حرکت دے کر ہٹانا چاہتا ہے تو وہ اس کی قدرت میں نہیں ہوتا (کما قال الشعبی والحسن) - اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہاں دو ساقوں سے مراد دوعالم دنیا وآخرت کے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اس وقت دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن جمع ہوا ہے اسلئے دوہری مصیبت میں گرفتار ہے دنیا سے جدائی کا غم اور آخرت کے معاملے کی فکر۔

Friday, June 26, 2026

دنیا سے محبت

 کلا بل تحبون العاجلۃ …: یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے جو ” لاتحریک بہ لسانک “ سے پہلے چل رہا تھا۔ فرمایا تمہارے قیامت کا انکار کرنے کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ یہ ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور اس کی محبت میں آخرت کو چھوڑ ہی بیٹھے ہو، کیونکہ دنیا جلدی ملنے والی اور نقد ہے جب کہ آخرت بعد میں آئے گی اور ادھار ہے، حالانکہ اس نقد کی راحتیں اور رنج عارضی ہیں اور آخرت ہمیشہ رہنے والی اور کہیں بہتر ہے، جیسا کہ فرمایا :

(بل توثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی)

(الاعلی : ١٦، ١٨)

 بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔ 

آیت ٢١ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ۔ ” اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ “- یہاں خطاب کا رخ کفار کی طرف ہے ۔ یعنی تمہارا اصل مرض ہی یہ ہے کہ تم لوگ ” حب ِعاجلہ “ میں مبتلا ہو ‘ اپنی دنیا کی زندگی اور دنیا کے مال و اسباب سے محبت کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں آخرت کو بالکل ہی نظر انداز کیے ہوئے ہو۔

عافیت

نفس دشمن ہے