Wednesday, February 18, 2026

دو جنتیں

 آیت ٤٦ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ۔ ” اور جو کوئی اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ “- اہل جنت کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں اپنے رب کے حضور پیشی سے لرزاں و ترساں رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا جادئہ مستقیم پر قائم رکھنے والی واحد چیز یہی اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کا خوف ہے۔- دو جنتوں کے بارے میں مفسرین نے مختلف آراء نقل کی ہیں ‘ تاہم دو جنتوں کی توجیہہ جو میری سمجھ میں آئی ہے اور مجھے اپنی اس رائے پر اطمینان اور انشراح ہے کہ یہ انسانوں اور جنوں کے لیے الگ الگ جنتوں کا بیان ہے۔ چونکہ اس سورت میں خطاب بھی مسلسل ان دونوں سے ہے اور جہنم کی وعید بھی دونوں گروہوں کو دی گئی ہے ‘ اس لیے جنت کی نوید بھی دونوں کے لیے ہونی چاہیے تھی۔ اب چونکہ انسانوں اور جنوں کا مادئہ تخلیق اور ان کی فطرتیں الگ الگ ہونے کی وجہ سے ان کی ضرورتیں ‘ پسند و ناپسند ‘ رنج و غم کے معیار ‘ راحت و سکون کے پیمانے اور کیف و سرور کے انداز ‘ سب کچھ ہی ایک دوسرے سے مختلف اور جدا ہیں ‘ اس لیے ظاہر ہے جنت میں بھی ان کے لیے الگ الگ ماحول کی ضرورت تھی۔ چناچہ میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ یہاں ان دونوں گروہوں کے لیے الگ الگ جنتوں کا ذکر ہوا ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی مدنظر رہے کہ آیت زیر مطالعہ میں جن دو جنتوں کا ذکر ہوا ہے وہ نچلے درجے کی جنتیں ہیں ‘ جبکہ آگے چل کر آیت ٦٢ میں جن دو جنتوں کا ذکر ہوا ہے وہ اونچے درجے کی جنتیں ہیں۔ گویا اس سورت میں کل چار جنتوں کا ذکر ہوا ہے ۔ ہر گروہ کے لیے دو جنتیں ہوں گی ‘ ان میں سے ایک جنت نچلے درجے میں ہوگی اور دوسری نسبتاً برتر درجے میں۔

آیت ٤٧ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ ” تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “

آیت ٤٨ ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ۔ ” دونوں بہت سی شاخوں والی ہوں گی۔

آیت ٤٩ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ ” تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “

آیت ٥٠ فِیْہِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِ ۔ ” ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔ “- یعنی ہر جنت میں ایک چشمہ رواں ہوگا۔

آیت ٥١ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ ” تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “

آیت ٥٢ فِیْہِمَا مِنْ کُلِّ فَاکِہَۃٍ زَوْجٰنِ ۔ ” ان دونوں میں ہر قسم کے میوے ہوں گے جوڑوں کی شکل میں۔ “- یعنی ہر پھل کی دو قسمیں ہوں گی۔

 یعنی ذائقے اور لذت کے اعتبار سے ہر پھل دو قسم کا ہوگا، مذید فضل خاص کی ایک صورت ہے، بعض نے کہا کہ ایک قسم خشک میوے اور دوسری تازہ میوے کی ہوگی۔

آیت ٥٣ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ ” تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “

Dr. Israr Ahmed

قبر

الحمد للہ

Tuesday, February 17, 2026

کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ

 آیت ٢٩ یَسْئَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط ” اسی سے مانگتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ “- اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لیے اللہ ہی کے در کی سوالی ہے۔ ہر کسی کو وجود بھی اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ ہر زندہ وجود کی زندگی بھی اسی کی دین ہے ‘ کسی مخلوق میں اگر کوئی صلاحیت ہے تو وہ بھی اسی کی بخشی ہوئی ہے اور تمام مخلوقات کے ایک ایک فرد کی ضرورتوں کا خبرگیر ونگہبان بھی وہی ہے ۔ اس حوالے سے سورة محمد کی آیت ٣٨ کے یہ الفاظ بہت واضح ہیں : وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُج کہ اللہ غنی اور بےنیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ یعنی تمہارا وجود ‘ تمہاری زندگی ‘ تمہاری صلاحیتیں ‘ غرض تمہارا سب کچھ اسی کا عطا کردہ ہے۔ تم اپنے تمام تر وسائل سے بس وہی کچھ کرسکتے ہو جس کی وہ اجازت دیتا ہے اور صرف اسی قدر جان سکتے ہو جس قدر وہ چاہتا ہے۔ اس کی مخلوق کے تمام افراد پر یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے : وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلاَّ بِمَا شَآئَج (البقرۃ : ٢٥٥) کہ وہ سب کے سب اس کے احاطہ علم میں مقید و محصور ہیں اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے ‘ مگر اسی قدر جس قدر وہ چاہتا ہے۔ - کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ ۔ ” ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔ “- ہر دن اس کی ایک نئی شان کا ظہور ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر امر کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة السجدۃ میں بایں الفاظ آیا ہے : یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَـیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۔ ” وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف ‘ پھر وہ (امر) چڑھتا ہے اس کی طرف ‘ (یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے) ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار برس ہے “۔ یعنی کائنات اور مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فارغ ہو کر نہیں بیٹھ گیا ‘ بلکہ اس کائنات کے نظام اور ارض و سماء میں پھیلی ہوئی مخلوقات سے متعلق تمام امور کو وہ لمحہ بہ لمحہ اپنی تدبیر سے چلا رہا ہے۔ اس تدبیر کی منصوبہ بندی کے لیے اس کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ چناچہ اس کے ہاں ایک ایک دن کی منصوبہ بندی ہوتی ہے ‘ اہم فیصلے کیے جاتے ہیں ‘ احکام جاری ہوتے ہیں ‘ ان احکام کی تعمیل و تنفیذ عمل میں لائی جاتی ہے اور پھر جائزہ رپورٹیں اسے پیش کی جاتی ہیں۔ اس طرح ہر دن کے لیے اس کی نئی شان ہے اور نئی مصروفیات

Ramadan arrives

کچھ چیزیں

Monday, February 16, 2026

ہر چیز فنا ہونے والی ہے

 آیت ٢٦ کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ ۔ ” جو کوئی بھی اس (زمین) پر ہے فنا ہونے والا ہے۔

آیت ٢٧ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ ۔ ” اور باقی رہے گا صرف تیرے رب کا چہرہ جو بہت بزرگی اور بہت عظمت والا ہے۔ “- اللہ کے چہرے کا تصور ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اس لحاظ سے اگرچہ یہ آیت آیات متشابہات میں سے ہے لیکن اس کا عمومی مفہوم بالکل واضح ہے کہ باقی رہنے والی صرف ایک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات ہے ‘ جس کے علاوہ ہرچیز فنا ہونے والی ہے۔ اس کائنات کی ہرچیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور ان میں کوئی ایک مخلوق بھی ایسی نہیں جو اپنے بل پر اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہو۔ ہرچیز اور ہر مخلوق کا وجود اللہ تعالیٰ کی منشاء ومرضی کا مرہونِ منت ہے۔ جب تک وہ چاہتا ہے کسی چیز کا وجود برقرار رہتا ہے اور جب وہ چاہتا ہے اسے فنا کردیتا ہے۔ جیسا کہ سورة القصص کی اس آیت میں فرمایا گیا ہے : کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ اِلاَّ وَجْھَہٗط لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ ” ہرچیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے۔ فرمان روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹا دیے جائو گے۔