Friday, March 20, 2026
Warning Against Hypocrisy
Narrated Abu Huraira: The Prophet ﷺ said, "The signs of a hypocrite are three: I Whenever he speaks, he tells a lie. II Whenever he promises, he always breaks it (his promise ). III If you trust him, he proves to be dishonest. (If you keep something as a trust with him, he will not return it)"
Sahih al-Bukhari 33 (Book 2, Hadith 26)
دودھ کی پیدائش میں اللہ کی قدرتیں
آیت ٦٦ (وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً )- چوپایوں کی تخلیق میں بھی تمہارے لیے بڑا سبق ہے۔ ان کو دیکھو غور کرو اور اللہ کی حکمتوں کو پہچانو
۔ فرث کا اطلاق صرف اس قسم کی لید یا گوبر پر ہوتا ہے جو پیٹ یا معدہ میں موجود ہو اور جب مقعد کے راستہ گوبر وغیرہ کی صورت میں نکل آئے تو وہ فرث نہیں ہے بلکہ اسے روث کہتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانی کے بعد دوسری بڑی مشروب نعمت دودھ کا ذکر فرمایا۔ دودھ کی پیدائش حیرت انگیز طریقے سے مادہ کے پیٹ میں ہوتی ہے۔ اسی طرف اس آیت میں توجہ دلائی گئی ہے۔ اس میں ایک تو اللہ کی قدرت یہ ہے کہ ایک ہی جنس کے نر ہوں یا مادہ ۔ دونوں ایک جیسی خوراک کھاتے ہیں۔ اس خوراک میں سے کام کی چیز جس سے انسان کی زندگی قائم رہتی ہے خون بنتا ہے۔ باقی فضلہ مقعد وغیرہ کے راستہ خارج ہوجاتا ہے لیکن مادہ میں اسی ایک ہی خوراک سے ایک تیسری چیز دودھ بھی بنتا ہے اور وہ صرف مادہ میں ہی بنتا ہے نر میں نہیں بنتا۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ خون اور گوبر جیسی دو حرام اور گندی چیزوں سے تیسری چیز دودھ جو حاصل ہوتا ہے وہ حلال، نہایت سفید، خوش رنگ، پاکیزہ، خوشگوار اور مزیدار ہوتا ہے پھر یہ محض ایک مشروب ہی نہیں بلکہ انسانی جسم کی تربیت کے لیے مکمل غذا کا کام دیتا ہے۔ یہ صرف پیاس کو نہیں بجھاتا بلکہ بھوک بھی مٹا دیتا ہے۔ اور شیردار جانور کے بچوں کی ابتدائی تربیت اسی دودھ پر ہی ہوتی ہے۔ پھر مویشیوں کے پیٹ میں یہ دودھ اس قدر افراط سے پیدا ہوتا ہے کہ ان کے بچوں کی تربیت کے بعد مویشیوں کے مالکوں کو بھی خاصی مقدار میں دودھ حاصل ہوجاتا ہے۔ دودھ پلانے والی مادہ کے جسم میں دودھ تیار کرنے والے اعضاء تو اس کی بلوغت کے وقت نمودار ہوجاتے ہیں جنہیں عرف عام میں پستان کہا جاتا ہے۔ اور دودھ کے بننے کے بارے میں سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مادہ کے پستان یا دودھ بنانے والی یہ مشینری صرف اس وقت اپنا کام شروع کرتی ہے جب مادہ کو حمل قرار پا جاتا ہے۔ اس سے پہلے اگرچہ پستان موجود ہوتے ہیں مگر وہ کوئی کام نہیں کرتے اور جب حمل قرار پاتا ہے تو یہ مشینری اپنے فطری کام کا آغاز کردیتی ہے۔ حتیٰ کہ بچہ کی پیدائش تک مادہ کا خون دودھ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور نوزائیدہ بچہ کو بروقت اللہ تعالیٰ اس کی خوراک مہیا کردیتا ہے اور بچہ کو دودھ پینے کا سلیقہ بھی سکھا دیتا ہے۔ اور یہ کام کچھ اس انداز سے سرانجام پاتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرتوں، حکمتوں اور مصلحتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
بخل
آیت ٢٤ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْـبُخْلِ ” جو لوگ بخل سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں۔ “- جو شخص اپنی دولت پر اتراتا ہے وہ اسے بہت سنبھال سنبھال کر بھی رکھتا ہے ‘ کیونکہ اسی دولت کے بل پر تو اس کی اکڑ قائم ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اس دولت کو بچا بچا کر رکھتا ہے اور نہ صرف خود بخل سے کام لیتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتا ہے ۔ دراصل اسے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ جب دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کریں گے تو اس کے بخل کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اس لیے وہ دوسروں کو بڑے مخلصانہ انداز میں سمجھاتا ہے کہ میاں ذرا اپنی ضروریات کا بھی خیال رکھو ‘ تم نے تو اپنے دونوں ہاتھ کھلے چھوڑ رکھے ہیں۔ آخر تمہارے ہاں چار بیٹیاں ہیں ‘ ان کے ہاتھ بھی تم نے پیلے کرنے ہیں۔ آج کی بچت ہی کل تمہارے کام آئے گی… - وَمَنْ یَّـتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ ” اور جو کوئی رخ پھیرے گا تو (وہ سن رکھے کہ) اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔ “- وہ غنی ہے ‘ اسے کسی کی احتیاج نہیں ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اگر وہ اقامت دین کی جدوجہد میں اپنے جان و مال سے شریک نہ ہوگا تو یہ کام نہیں ہوگا۔ اسے کسی کی حمد و ثنا کی بھی کوئی احتیاج نہیں ہے ‘ وہ اپنی ذات میں خودمحمود ہے۔
تنگی اورآسانی کی طرف سے ہے
آیت ٢٢ مَـآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ نَّــبْرَاَھَا ” نہیں پڑتی کوئی پڑنے والی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری اپنی جانوں میں مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں درج ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔ “- اَصَابَ یُصِیْبُ (آپڑنا ‘ نازل ہونا) سے اسم الفاعل ” مُصِیْب “ ہے اور اس کی مونث ” مُصِیْبَۃ “ ہے ‘ جس کے معنی ہیں نازل ہونے یا آ پڑنے والی شے۔ چناچہ لغوی اعتبار سے تمام حوادث ‘ واقعات ‘ کیفیات جو ہم پر وارد ہوتی ہیں ‘ وہ سب کی سب اس میں شامل ہوجائیں گی ‘ لیکن عام طور پر یہ لفظ تکلیف دہ ‘ ناگوار اور ناپسندیدہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت کی رو سے مصیبتیں دو قسم کی ہیں۔ یا تو آفاتِ ارضی و سماوی یعنی آفاقی مصیبتیں ‘ جو زمین پر بڑے پیمانے پر نازل ہوتی ہیں ‘ مثلاً سیلاب ‘ زلزلے ‘ طوفانِ باد و باراں وغیرہ ‘ یا انسانوں کی اپنی جانوں پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے ‘ مثلاً کوئی بیماری یا کوئی عارضہ لاحق ہوگیا یا کوئی حادثہ پیش آگیا۔ یہاں واضح فرما دیا گیا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانوں پر اجتماعی یا انفرادی طور پر کسی بھی شکل میں کوئی مصیبت ‘ آفت یا تکلیف آتی ہے اس کے معرض وجود میں آنے سے قبل اس کی پوری تفصیل اللہ کے علم قدیم میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔- اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ” یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ “- انسانوں کو یہ بات بیشک عجیب یا مشکل لگے ‘ مگر اللہ کا علم مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ پر محیط ہے۔ اس کے لیے کائنات کی ایک ایک چیز کا پوری تفصیل سے احاطہ کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ یہ بات تم لوگوں کو بھلا کیوں بتائی جا رہی ہے ؟ اس لیے :
جنت کی وسعت
آیت ٢١ سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ” ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ “- دنیا کمانے میں تو تم لوگ خوب مسابقت کر رہے ہو۔ اس میدان میں تو تم ہر وقت ع ” ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں “ کی فکر میں لگے رہتے ہو۔ عارضی دنیا کی اس مسابقت کو چھوڑو ‘ اپنی یہی صلاحیتیں اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے صرف کرو۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے محنت کرو اور اس منزل میں بہتر سے بہتر مقام پانے کے لیے دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔- جنت کی وسعت کی مثال کے لیے یہاں ” کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ “ جبکہ سورة آل عمران کی آیت ١٣٣ میں ” عَرْضُھَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضُ “ کے الفاظ آئے ہیں۔ موجودہ دور میں سائنس کی حیرت انگیز ترقی کے باوجود ابھی تک ارض و سماء کی وسعت کے بارے میں انسان کا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہرحال اب تک میسر ہونے والی معلومات کے مطابق اس کائنات میں ارب ہا ارب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں کی وسعت اور ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں کے فاصلے کو کروڑوں نوری سالوں پرمحیط تصور کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہر کہکشاں میں اَن گنت ستارے ‘ ہمارے نظام شمسی جیسے بیشمار نظام اور ہماری زمین جیسے لاتعداد سیارے ہیں۔ اسی طرح ہر ستارے کی جسامت اورایک ستارے سے دوسرے ستارے تک کے فاصلے کا اندازہ بھی نوری سالوں میں کیا جا سکتا ہے۔ یہاں اس آیت میں آسمان اور زمین کی وسعت سے مراد پوری کائنات کی وسعت ہے جس کا اندازہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ بہرحال اس مثال سے جنت کی وسعت کے تصور کو انسانی ذہن کی سطح پر ممکن حد تک قابل فہم بنانا مقصود ہے۔ اس حوالے سے میرا گمان یہ ہے (واللہ اعلم ) کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہلی جنت اسی زمین پر بنے گی اور اہل جنت کی ابتدائی مہمانی (نُزُل) بھی یہیں پر ہوگی۔ اس کے بعد اہل جنت کے درجات و مراتب کے مطابق ان کے لیے آسمانوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔ اس حوالے سے سورة الاعراف کی اس آیت میں واضح فرما دیا گیا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ… (آیت ٤٠) کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں تکبر کرنے والوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ بہرحال اس کے بعد اہل جنت کو ان کے مراتب کے مطابق اس جنت میں منتقل کردیا جائے گا جس کی وسعت کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ اہل جنت کو وہاں جانے کے لیے کسی راکٹ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اسی انداز سے آسمانوں پر لے جائے گا جیسے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر معراج میں زمین سے ساتویں آسمان تک چلے گئے تھے اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ساتویں آسمان سے زمین پر آتے ہیں۔- اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ ” وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ “- ” اِعداد “ (بابِ افعال) کے معنی ہیں کسی خاص مقصد کے لیے کسی چیز کو تیار کرنا۔ یعنی وہ جنت بڑے اہتمام سے تیار کی گئی ہے ‘ سجائی اور سنواری گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔- ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ ” یہ اللہ کا فضل ہے جس کو بھی وہ چاہے گا دے گا۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ “- ” فَضْل “ سے مراد ہے اللہ کی طرف سے بغیر استحقاق کے دی جانے والی شے۔ اس کے بالمقابل اجرت اور اجر کے الفاظ عام استعمال ہوتے ہیں ‘ جن کا مطلب ہے بدلہ ‘ جو کسی محنت اور مزدوری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں بالعموم جہاں بھی جنت کا تذکرہ آیا ہے وہاں لفظ ” فَضْل “ استعمال ہوا ہے۔ گویا قرآن مجید کا تصور یہ ہے کہ انسان مجرد اپنے عمل کے ذریعے سے جنت کا مستحق نہیں بن سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی دست گیری نہ کرے۔ اب اگلی آیت میں دنیوی زندگی میں پیش آنے والی تکالیف و مشکلات کو قابل برداشت بنانے کا نسخہ بتایا جا رہا ہے۔ دراصل اہل ایمان کو جس راستے کی طرف بلایا جا رہا ہے وہ بہت کٹھن اور صبر آزما راستہ ہے۔ یہ انفاق ‘ جہاد اور قتال کا راستہ ہے اور اس کی منزل ” اقامت دین “ ہے ‘ جس کا ذکر آگے آیت ٢٥ میں آ رہا ہے ۔ اس اعتبار سے آیت ٢٥ اس سورت کے ذروئہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں۔ بہرحال اہل ایمان جب اس راستے پر گامزن ہوں گے تو آزمائشیں ‘ صعوبتیں اور پریشانیاں قدم قدم پر ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے جس کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشادِربانی ہے : وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِط (آیت ١٥٥) ” اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے “۔ جبکہ سورة آل عمران میں اس قانون کا ذکر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : لَتُـبْـلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْقف وَلَـتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ مِنْ قَـبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْآ اَذًی کَثِیْرًاط (آیت ١٨٦) ” (مسلمانو یاد رکھو) تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی ‘ اور تمہیں لازماً سننا پڑیں گی بڑی تکلیف دہ باتیں ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا “۔ چناچہ مشکلات و مصائب کی اس متوقع یلغار کے دوران اہل ایمان کو سہارا دینے کے لیے یہ نسخہ بتایاجا رہا ہے
دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا
آیت ٢٠ اِعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھْوٌ وَّزِیْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌ بَیْنَـکُمْ وَتَـکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ” خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ‘ دل لگی کا سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ ہے اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔ “- گزشتہ سطور میں دنیا کی محبت کو گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ُ حب ِدنیا انسان کو اللہ کے راستے پر چلنے سے ایسے روک دیتی ہے جیسے ایک گاڑی کو اس کی بریک جامد و ساکت کردیتی ہے۔ اب اس آیت میں اس بریک یعنی حب دنیا کی اصل حقیقت کو بےنقاب کیا گیا ہے۔ تو آیئے اس آیت کے آئینے میں دیکھئے انسانی زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟ انسانی زندگی کا آغاز کھیل کود (لعب) سے ہوتا ہے ۔ بچپن میں انسان کو کھیل کود کے علاوہ کسی اور چیز سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ باپ امیر ہے یا غریب ‘ اس کا کاروبار ٹھیک چل رہا ہے یا مندے کا شکار ہے ‘ بچے کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ‘ اسے تو کھیلنے کو دنے کا موقع ملتے رہنا چاہیے اور بس۔ پھر جب وہ لڑکپن کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کا کھیل کود محض ایک معصوم مشغولیت تک محدود نہیں رہتا ‘ بلکہ اس میں کسی نہ کسی حد تک تلذذ کا عنصر بھی شامل ہوجاتا ہے۔ اس مشغولیت کو آیت میں لَـھْو کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ عام طور پر قرآن میں انسان کی دنیوی زندگی کی حقیقت بیان کرنے کے لیے لَہْو و لَعب کی ترکیب استعمال ہوئی ہے ‘ لیکن یہاں ان الفاظ کی ترتیب بدل دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں عمر کی تقسیم کے حساب سے انسانی زندگی کے مراحل کا ذکر ہو رہا ہے اور اس حوالے سے لعب یعنی کھیل کود کا مرحلہ پہلے آتا ہے جبکہ اس میں لَـہْو کا عنصر بعد کی عمر میں شامل ہوتا ہے۔- جوانی کی اسی عمر میں انسان پر اپنی شخصیت کی ظاہری ٹیپ ٹاپ (زِیْنَۃ) کا جنون سوار ہوتا ہے ۔ عمر کے اس مرحلے میں وہ شکل و صورت کے بنائو سنگھار ‘ ملبوسات وغیرہ کی وضع قطع ‘ معیار اور فیشن کے بارے میں بہت حساس ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے بعد جب عمر ذرا اور بڑھتی ہے تو تَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْکا مرحلہ آتا ہے ۔ یہ انسانی زندگی کا چوتھا اور اہم ترین مرحلہ ہے۔ اس عمر میں انسان پر ہر وقت تفاخر کا بھوت سوار ہوتا ہے ‘ اور وہ عزت ‘ شہرت ‘ دولت ‘ گھر ‘ گاڑی وغیرہ کے معاملے میں خود کو ہر قیمت پر دوسروں سے برتر اور آگے دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس کے بعد جب عمر ذرا ڈھلتی ہے تو تَـکَاثُــرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِکا دور آتا ہے۔ اس دور میں انسان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ تفاخر کے دور میں تو سوچ یہ تھی کہ کچھ بھی ہوجائے مونچھ نیچی نہیں ہونی چاہیے ‘ لیکن اب سوچ یہ ہے کہ مال آنا چاہیے ‘ مونچھ رہے یا نہ رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس عمر میں پہنچ کر انسان اپنے مفاد کے معاملے میں بہت حقیقت پسند ہوجاتا ہے ‘ بلکہ جوں جوں بڑھاپے کی طرف جاتا ہے ‘ اس کے دل میں مال و دولت کی ہوس بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک مرحلے پر اسے خود بھی محسوس ہوجاتا ہے کہ اب وہ پائوں قبر میں لٹکائے بیٹھا ہے مگر اس کی ھَلْ مِنْ مَّزِیْد کی خواہش ختم ہونے میں نہیں آتی۔ انسان کی اسی کیفیت کو سورة التکاثر میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : اَلْھٰٹکُمُ التَّـکَاثُرُ - حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۔ ” (لوگو ) تم کو (مال کی) کثرت کی طلب نے غافل کردیا ‘ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ “- بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ‘ لیکن عمر کے ہر مرحلے میں کسی ایک چیز کی دھن اس کے ذہن پر سوار رہتی ہے ۔ اس موضوع پر یہ قرآن حکیم کی واحد آیت ہے اور اس اعتبار سے بہت اہم اور منفرد ہے ‘ مگر حیرت ہے کہ انسانی زندگی کے نفسیاتی مراحل کے طور پر اسے بہت کم لوگوں نے سمجھا ہے۔ - آیت کے اگلے حصے میں انسانی اور نباتاتی زندگی کے مابین پائی جانے والی مشابہت اور مماثلت کا ذکر ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ نباتاتی سائیکل اور انسانی زندگی کے سائیکل دونوں میں بڑی گہری مشابہت اور مناسبت ہے۔ اس تشبیہہ سے انسان کو دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر تم اپنی زندگی کی حقیقت سمجھنا چاہتے ہو تو کسان کی ایک فصل کے سائیکل کو دیکھ لو۔ اس فصل کے دورانیہ میں تمہیں اپنی پیدائش ‘ جوانی ‘ بڑھاپے ‘ موت اور مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کا حقیقی نقشہ نظر آجائے گا۔- کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ” (انسانی زندگی کی مثال ایسے ہے) جیسے بارش برستی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی روئیدگی کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہے “- ثُمَّ یَھِیْجُ ” پھر وہ کھیتی اپنی پوری قوت پر آتی ہے “- فَتَرٰٹہُ مُصْفَرًّا ” پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوجاتی ہے “- ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا ” پھر وہ کٹ کر چورا چورا ہوجاتی ہے۔ “- اس تشبیہہ کے آئینے میں انسانی زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ پھر وہ جوان ہو کر اپنی پوری قوت کو پہنچ جاتا ہے۔ پھر عمر ڈھلتی ہے تو بالوں میں سفیدی آجاتی ہے اور چہرے پر جھریاں پڑجاتی ہیں۔ پھر موت آنے پر اسے زمین میں دبادیا جاتا ہے جہاں وہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے ۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تشبیہہ صرف دنیوی زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہے۔ تم اشرف المخلوقات ہو ‘ نباتات نہیں ہو ‘ تمہاری اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو کہ دائمی اور ابدی ہے اور اس کی نعمتیں اور صعوبتیں بھی دائمی اور ابدی ہیں۔ لہٰذا عقل اور سمجھ کا تقاضا یہی ہے کہ تم اپنی آخرت کی فکر کرو۔- وَفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَّمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٌ ” اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور (یا پھر) اللہ کی طرف سے مغفرت اور (اس کی) رضا ہے۔ “- رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے ابتدائی دور کا ایک خطبہ ” نہج البلاغہ “ میں نقل ہوا ہے۔ اس کے اختتامی الفاظ یوں ہیں :- (… ثُمَّ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ، ثُمَّ لَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبِالسُّوْئِ سُوْئً ، وَاِنَّھَا لَجَنَّـۃٌ اَبَدًا اَوْ لَنَارٌ اَبَدًا ) (١)- ”… پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہوگا اور پھر لازماً تمہیں بدلہ ملے گا اچھائی کا اچھا اور برائی کا برا۔ اور وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یا آگ ہے دائمی۔ “- وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ۔ ” اور دنیا کی زندگی تو سوائے دھوکے کے ساز و سامان کے اور کچھ نہیں ہے۔ “- تمہاری دنیوی زندگی کی حقیقت تو بس یہی ہے ‘ لیکن تم ہو کہ اس حقیقت کو فراموش اور نظر انداز کیے بیٹھے ہو۔ تمہارے دل میں نہ اللہ کی یاد ہے اور نہ آخرت کی فکر۔ بس تم اس عارضی اور دھوکے کی زندگی کی آسائشوں میں مگن اور اسی کی رنگینیوں میں گم ہو۔ یاد رکھو یہ طرز عمل غیروں کی پہچان تو ہوسکتا ہے ‘ ایک بندئہ مومن کے ہرگز شایانِ شان نہیں ہے۔ بقول علامہ اقبال : ؎- کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے - مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
Friday, March 13, 2026
The Importance of Purity and Gratitude in Faith
Abu Malik Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: "Purity is half of iman (faith)'.Al-hamdu lillah (all praise and gratitude belong to Allah)’ fills the scales, and 'subhan-Allah (how far is Allah from every imperfection) and 'Al-Hamdulillah (all praise and gratitude belong to Allah)’ fill that which is between heaven and earth". Muslim.
Riyad as-Salihin 1413 (Book 15, Hadith 6)
صدقہ و خیرات
آیت ١٨ اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَھُمْ وَلَھُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ ۔ ” یقینا صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو قرض دیں اللہ کو قرض حسنہ ‘ ان کو کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا اور ان کے لیے بڑا باعزت اجر ہے۔ “- سورة البقرۃ کے رکوع ٣٥ اور ٣٦ کے مطالعہ کے دوران بھی یہ نکتہ واضح کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے مال خرچ کرنے کی دو مدیں ہیں۔۔۔۔ یعنی ایک صدقہ اور دوسری انفاق فی سبیل اللہ یا اللہ کے لیے قرض حسنہ۔ چناچہ وہ مال جو اللہ کی رضا کے لیے غربائ ‘ مساکین ‘ بیوائوں ‘ یتیموں ‘ بیماروں ‘ مسافروں ‘ مقروضوں ‘ محتاجوں اور ضرورت مند انسانوں کی مدد اور حاجت روائی کے لیے خرچ کیا جائے وہ صدقہ ہے۔ اسی مفہوم میں سورة التوبہ کی آیت ٦٠ میں زکوٰۃ کو بھی ” صدقہ “ قرار دیا گیا ہے ۔ کیونکہ زکوٰۃ بنیادی طور پر غرباء و مساکین اور محتاجوں کے لیے ہے۔ اس میں اللہ کے لیے (فی سبیل اللہ) صرف ایک مد رکھی گئی ہے۔ اس حوالے سے دوسری اصطلاح ” انفاق فی سبیل اللہ “ یا اللہ کے لیے قرض حسنہ کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ باقاعدہ ایک اصطلاح کی بات ہو رہی ہے ‘ ورنہ عرفِ عام میں تو صدقہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہے ‘ کیونکہ وہ بھی اللہ کے لیے اور اس کی رضاجوئی کے لیے ہی دیا جاتا ہے۔ بہرحال ایک باقاعدہ اصطلاح کے اعتبار سے انفاق فی سبیل اللہ ایسا انفاق ہے جو اللہ کے دین کے لیے ‘ دین کی نشرو اشاعت کے لیے اور اس کے غلبہ و اقامت کی جدوجہد کے لیے کیا جائے اور یہی وہ انفاق ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے ۔- اللہ کی مشیت سے مردہ زمین کے زندہ ہوجانے کے ذکرکے بعد یہاں صدقہ اور اللہ کے لیے قرض حسنہ کی ترغیب میں گویا دل کی مردہ زمین کو پھر سے ایمان کی فصل کے لائق بنانے کی ترکیب پنہاں ہے ۔ یعنی اگر تم نے دل کی مردہ زمین کو زندہ کرنا ہے تو اس میں انفاقِ مال کا ہل چلائو اور اس میں سے ُ حب ِدنیا کی جڑوں کو کھود کھود کر نکال باہر کرو۔ یقین رکھو کہ جیسے جیسے تم اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرتے جائو گے ‘ ویسے ویسے تمہارے دل کی زمین میں ایمان کی فصل جڑیں پکڑتی چلی جائے گی۔ دنیا کی محبت کو میں عام طور پر گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دیا کرتا ہوں۔ جس طرح گاڑی کو بریک لگی ہو تو وہ حرکت میں نہیں آسکتی ‘ اسی طرح اگر دنیا کی محبت آپ کے دل میں پیوست ہوچکی ہے تو اس میں اللہ کے راستے پر گامزن ہونے کی امنگ پیدا نہیں ہوسکتی۔ چناچہ دل کی گاڑی کو رضائے الٰہی کی شاہراہ پر رواں دواں کرنے کے لیے اس کی بریک سے پائوں اٹھانا بہت ضروری ہے۔ یعنی اس کے لیے مال کی محبت کو دل سے نکالنا ناگزیر ہے ۔ اور اس محبت کو دل سے نکالنے کی ترکیب یہی ہے کہ اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے۔
نور ایمانی
نور ایمانی کا انحصار ایمان کی کمی بیشی پر :۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت پیش آئے گا جب میدان محشر میں فیصلہ کے بعد مومن مردوں اور عورتوں کو جنت کا پروانہ راہداری مل جائے گا۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ جنت کو جو راستہ جاتا ہے وہ جہنم سے ہو کرجاتا ہے اور ہر جنتی کو لازماً جہنم پر وارد ہونا ہوگا۔ (١٩: ٧١) اور پل صراط سے گزرنا ہوگا اور اس راستہ میں سخت تاریکی ہوگی۔ وہاں مومنوں کے اعمال صالحہ کا نور ہی کام آئے گا۔ جس قدر کسی کا ایمان پختہ اور نیک اعمال زیادہ ہوں گے اتنا ہی اس کا نور یا روشنی بھی زیادہ ہوگی۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ مومنوں کی روشنی اتنی دور تک پہنچے گی جیسے مدینہ اور عدن کا درمیانی فاصلہ ہے۔ بعض کا نور مدینہ سے صنعاء تک کے فاصلہ تک پہنچ رہا ہوگا اور بعض ایسے بھی ہوں گے جن کی روشنی ان کے اپنے قدموں سے آگے نہیں بڑھے گی اس روشنی کی کمی بیشی کی ایک توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جس شخص کی کوششوں سے اسلام جتنی دور تک پھیلا ہوگا اور لوگوں کو ہدایت حاصل ہوئی ہوگی اس نسبت سے اس کے نور میں کمی بیشی ہوگی۔ نیک اعمال اور دائیں جانب کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ اہل جنت کو اعمال نامہ بھی دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک شخص اندھیرے میں روشنی کا کوئی آلہ مثلاً لالٹین، لیمپ یا ٹارچ عموماً اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر چلتا ہے۔ اس کی روشنی سامنے اور دائیں ہاتھ تو خوب پڑتی ہے۔ مگر بائیں ہاتھ یا پیچھے بھی روشنی پڑتی تو ہے مگر بہت کم۔ یہی صورت حال اس دن ہوگی اور آگے جو روشنی پڑے گی اس کا تعلق دل سے ہے جس قدر کسی کا دل ایمان کی پختگی اور اس کے نور سے منور ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کے آگے روشنی ہوگی اور دائیں طرف کی روشنی کا تعلق اس کے اعمال صالحہ سے ہوگا۔
قَرۡضًا حَسَنًا
قرض حسنہ کے سلسلہ میں دس ہدایات :۔ قرض حسنہ سے مراد ہر وہ مال ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے اس کی ہدایات و احکام کے مطابق خرچ کیا جائے۔ خواہ وہ فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہو یا واجبی صدقات ہوں یا نفلی ہوں اور خواہ وہ فی سبیل اللہ خرچ کیا جائے یا کسی محتاج کی احتیاج کو دور کرنے کے لیے اسے دیا جائے۔ قرض حسنہ کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل دس امور کا لحاظ رکھنا اسے افضل صدقہ بنادیں گے۔- (١) حلال کمائی سے خرچ کیا جائے کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ قبول نہیں، (٢) صدقہ میں ناقص مال نہ دے، (٣) اس وقت صدقہ کرے جبکہ خود بھی اسے احتیاج ہو، (٤) اپنی احتیاج پر دوسرے کی احتیاج کو مقدم رکھے، (٥) صدقہ چھپا کردینا زیادہ بہتر ہے۔ (٦) صدقہ دینے کے بعد احسان نہ جتلائے اور نہ ہی کسی دوسری صورت میں اس کا معاوضہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہ باتیں صدقہ کو برباد کردیتی ہیں، (٧) صدقہ میں نمودو نمائش یعنی ریا کا شائبہ تک نہ ہو۔ یہ بات بھی صدقہ کو برباد کردیتی ہے، (٨) اپنے دیئے ہوئے صدقہ کو حقیر جانے۔ صدقہ دے کر اس کا نفس اس نیکی پر پھول نہ جائے، (٩) اگر صدقہ میں اپنا بہترین اور پسندیدہ مال دے تو یہ اس کے اپنے حق میں بہت بہتر ہے۔ (١٠) محتاج کو صدقہ دینے کے بعد یہ نہ سمجھے کہ میں نے اس پر احسان کیا ہے بلکہ یہ سمجھے کہ میرے مال میں اس کا یہ حق تھا اور میں نے اس کا حق ادا کیا ہے اور مستحق کو حق دے کر اپنے سر سے بوجھ ہلکا کیا ہے۔
قرضہ حسنہ کے دو فائدے :۔ قرضہ حسنہ دینے والوں سے اللہ تعالیٰ نے دو وعدے فرمائے ایک یہ کہ اللہ اسے کئی گناہ زیادہ کرکے واپس کرے گا۔ دنیا میں بھی ایسے خرچ کیے ہوئے مال کی واپسی کا اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے۔
(٣٤: ٣٩)
اور آخرت میں تو سات سو گنا یا اس سے بڑھ کر بھی اضافہ ہوسکتا ہے یعنی قرضہ حسنہ کی مندرجہ بالا شرائط کو جتنا زیادہ ملحوظ رکھا جائے گا۔ اسی تناسب سے اس کے اجر میں اضافہ ہوگا۔ اور دوسرا وعدہ یہ کہ انہیں عمدہ اجر عطا کرے گا۔ یہ فقرہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ہی عطا کردہ مال میں سے انسان اس مال کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے کہنے کے مطابق خرچ کردے تو انسان کو بدلہ ملنے کا حق کہاں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ ایسے قرض حسنہ دینے والوں کو بہت عمدہ اجرعطا فرمائے گا۔ واضح رہے کہ اللہ کا بندے کو اصل سے دوگنا یا زیادہ دینے کا معاملہ کوئی سود بیاج کا معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ معاملہ آقا اور اس کے غلام کے درمیان ہے۔ اور غلام کی خدمات کا مالک جتنا بھی صلہ دے دے، برابر برابر دے دوگنا دے، دس بیس گنا دے وہ سود بیاج نہیں کہلا سکتا۔ البتہ یہ اندازہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ آقا اپنے غلام کی خدمات کا کس قدر قدر شناس اور کریم النفس ہے۔
Tuesday, March 10, 2026
اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ
آیت ١ اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ ۔ ” یقینا ہم نے اتارا ہے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں۔ “- ” اَنْزَلْنٰـہُ “ کی ضمیر مفعولی کا مرجع بالاتفاق قرآن مجید ہی ہے۔ نوٹ کیجیے ان سورتوں کے مضامین کے اندر ایک ربط پایا جاتا ہے ‘ یعنی پہلی وحی (سورۃ العلق) کے فوراً بعد بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے اس کلام کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ قدر کا معنی تقدیر اور قسمت بھی ہے اور عزت و منزلت بھی ۔ یہاں دونوں معنی مراد لیے جا سکتے ہیں۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو اس رات میں اتارا ہے جو قدر و منزلت کے اعتبار سے بےمثل رات ہے ‘ یا اس رات میں اتارا ہے جو تقدیر ساز ہے۔ سورة الدخان میں اس رات کا ذکر لَیْلَۃ مُبَارَکَۃ کے نام سے آیا ہے : اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ (آیت ٣) ” یقینا ہم نے نازل کیا ہے اس (قرآن) کو ایک مبارک رات میں “۔ یہ کونسی رات ہے ؟ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (تَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ) (١) ” لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو “۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ ستائیسویں رمضان کی شب ہی لیلۃ القدر ہے۔ لیکن جیسا کہ سورة الفجر کی آیت ٣ کے ضمن میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے ‘ قمری کیلنڈر کی طاق اور جفت راتوں کی گنتی دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً آج ہمارے ہاں جو طاق رات ہے سعودی عرب میں ممکن ہے وہ جفت رات ہو۔ اس لیے لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کا محتاط طریقہ یہی ہے کہ اسے رمضان کے آخری عشرے کی تمام راتوں (جفت اور طاق دونوں) میں تلاش کیا جائے۔ اور اگر واقعی ستائیسویں رمضان کی شب ہی لیلۃ القدر ہے تو اس بارے میں میرا اپنا خیال یہ ہے کہ پھر یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ستائیسویں شب ہے ۔ واللہ اعلم - اس رات میں قرآن نازل کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس رات کو پورا قرآن مجید لوح محفوظ سے حاملین ِوحی فرشتوں کے سپرد کردیا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ٢٣ سال کے دوران میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کی آیات اور سورتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کرتے رہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا اس رات سے ہوئی ۔
وما ادرک ما لیلۃ القدر : یہ سوال اس رات کی عظمت کے بیان کے لئے ہے، یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسا ہے ہی نہیں جو اس رات کی عظمت جان سکے اور بتا سکے ، یہ جاننا اور بتانا اللہ ہی کا کام ہے۔
آیت ٣ لَیْلَۃَ الْقَدْرِلا خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ ۔ ” لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ “- یہ بہتری اور افضلیت کس اعتبار سے ہے ؟ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس رات کا عمل ِخیر ہزار مہینوں کے عمل ِخیر سے بہتر ہے جس میں لیلۃ القدر نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ) (١) ’ ’ جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ سے اجر کی امید میں کھڑارہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے گئے “۔ اس رات کی افضلیت کے ضمن میں ایک رائے یہ ہے کہ اس ایک رات میں اتنی خیر تقسیم کی جاتی ہے جتنی ایک ہزار مہینہ میں بھی تقسیم نہیں کی جاتی۔ اس رات کی افضلیت کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ انسان کی اصلاح اور فلاح کے لیے جو کام (نزولِ قرآن) اس ایک رات میں ہوا ‘ خیر اور بھلائی کا اتنا بڑا کام کبھی انسانی تاریخ کے کسی طویل زمانے میں بھی نہ ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اہل عرب بڑی کثیر تعداد کا تصور دلانے کے لیے اَلْف (ہزار) کا لفظ بولتے تھے۔
یہاں ہزار مہینوں سے مراد ہزار مہینے کی معینہ مدت نہیں جس کے تراسی سال اور چار مہینے بنتے ہیں۔ اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جب انہیں بہت زیادہ مقدار یا مدت کا اظہار کرنا مقصود ہوتا تو ہزار یعنی الف کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ کیونکہ وہ حساب نہیں جانتے تھے۔ اور ان کے ہاں گنتی کا سب سے بڑا عدد الف یعنی ہزار ہی تھا۔ بلکہ اس سے مراد ایک طویل زمانہ ہے۔ اس وضاحت کے بعد اس آیت کے دو مطلب بیان کیے جاتے ہیں ایک یہ کہ بنی نوع انسان کی خیر و بھلائی کا کام جتنا اس ایک رات میں ہوا (یعنی قرآن نازل ہوا) اتنا کام کسی طویل دور انسانی میں بھی نہیں ہوا تھا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ایک طویل مدت کی عبادت سے بہتر ہے اور اس مطلب کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ (بخاری، کتاب الایمان۔ باب قیام لیلۃ القدر من الایمان) -
روح سے مراد حضرت جبرائیل ہیں یعنی فرشتے حضرت جبرائیل سمیت، اس رات میں زمین پر اترتے ہیں ان کاموں کو سر انجام دینے کے لیے جن کا فیصلہ اس سال میں اللہ فرماتا ہے۔
آیت ٥ سَلٰــمٌ قف ” سراسر سلامتی ہے۔ “- اس سلامتی کے بہت سے پہلو ہیں ۔ مثلاً اس رات میں لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔- ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۔ ” یہ (رات) رہتی ہے طلوع فجر تک۔ “
.jpg)
.jpg)



.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)


.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)

.jpg)
.jpg)

.jpg)
.jpg)
%20(3).jpg)

.jpg)
.jpg)