Wednesday, September 2, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

دنیا کی زندگی

۔(وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا)- سبزے کے اگنے اس کے نشو ونما پانے اور پھر خشک ہو کر خس و خاشاک کی شکل اختیار کرلینے کے عمل کو انسانی زندگی کی مشابہت کی بنا پر یہاں بیان کیا گیا ہے۔ بارش کے برستے ہی زمین سے طرح طرح کے نباتات نکل آتے ہیں ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے زمین سر سبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ جب یہ سبزہ اپنے جوبن پر ہوتا ہے تو بڑا خوش کن منظر پیش کرتا ہے۔ مگر پھر جلد ہی اس پر زردی چھانے لگتی ہے اور چند ہی دنوں میں لہلہاتا ہوا سبزہ خس و خاشاک کا ڈھیر بن جاتا ہے اور زمین پھر سے چٹیل میدان کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ سبزے یا کسی فصل کے اگنے بڑھنے اور خشک ہونے کا یہ دورانیہ چند ہفتوں پرمحیط ہو یا چند مہینوں پر اس کی اصل حقیقت اور کیفیت بس یہی ہے۔ - اس مثال کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو بالکل یہی کیفیت انسانی زندگی کی بھی ہے۔ جس طرح نباتاتی زندگی کا آغاز آسمان سے بارش کے برسنے سے ہوتا ہے اسی طرح روح کے نزول سے انسانی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ انسانی روح کا تعلق عالم امر سے ہے : (قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ ) ( بنی اسرائیل : ٨٥) شکم مادر میں جسد خاکی کے اندر روح پھونکی گئی بچہ پیدا ہوا خوشیاں منائی گئیں جوان اور طاقتور ہوا تمام صلاحیتوں کو عروج ملا پھر ادھیڑ عمر کو پہنچا جسم اور اس کی صلاحیتیں روز بروز زوال پذیر ہونے لگیں بالوں میں سفیدی آگئی چہرے پر جھریاں پڑگئیں موت وارد ہوئی قبر میں اتارا گیا اور مٹی میں مل کر مٹی ہوگیا۔ اس کا دورانیہ مختلف افراد کے ساتھ مختلف سہی مگر انسانی زندگی کے آغاز و انجام کی حقیقت بس یہی کچھ ہے۔ چناچہ انسان کو یہ بات کسی وقت نہیں بھولنی چاہیے کہ دنیا کا عرصۂ حیات ایک وقفۂ امتحان ہے جسے ہر انسان اپنے اپنے انداز میں گزار رہا ہے۔
 وہ زندگی بھی بخشتا ہے اور موت بھی ۔ وہ عروج بھی عطا کرتا ہے اور زوال بھی ۔ اس کے حکم سے بہار آتی ہے تو خزاں بھی آجاتی ہے ۔ اگر آج تمہیں عیش اور خوشحالی میسر ہے تو اس غرے میں نہ رہو کہ یہ حالت لازوال ہے ۔ جس خدا کے حکم سے یہ کچھ تمہیں ملا ہے اسی کے حکم سے سب کچھ تم سے چھن بھی سکتا ہے ۔
 جس طرح یہ سبزہ ناپائیدار ہے کہ شروع میں اس کی خوب بہار نظر آتی ہے لیکن آخر کار وہ چورا چورا ہو کر ہوا میں بکھر جاتا ہے ، اسی طرح دنیوی زندگی بھی شروع میں بڑی خوبصورت اور بارونق معلوم ہوتی ہے ، لیکن انجام کار وہ فنا ہو جانے والی ہے۔

The Benefits of Reciting the Quran

Abu Umama said he heard Allah's Messenger  say: Recite the Qur'an, for on the Day of Resurrection it will come as an intercessor for those who recite It. Recite the two bright ones, al-Baqara and Surah Al 'Imran, for on the Day of Resurrection they will come as two clouds or two shades, or two flocks of birds in ranks, pleading for those who recite them. Recite Surah al-Baqara, for to take recourse to it is a blessing and to give it up is a cause of grief, and the magicians cannot confront it. (Mu'awiya said: It has been conveyed to me that here Batala means magicians) -

Sahih Muslim 804a (Book 6, Hadith 302) - 

QUICK LESSONS:
Read & Understand The Quran

EXPLANATIONS:

This hadith speaks about the importance of reciting the Quran. It tells us that on the Day of Resurrection it will come as an intercessor for those who recite it. Furthermore, it mentions that reciting Surah al-Baqara and Surah Al 'Imran is especially beneficial because they will come as two clouds or two shades, or two flocks of birds in ranks to plead for those who recite them. Additionally, magicians cannot confront these surahs which further emphasizes their power and importance. Therefore this hadith encourages us to read and understand the Quran so we can benefit from its teachings both in this life and hereafter.

انسان کو دیکھنا چاہیے

محافظ فرشتے

 آیت ٤ اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْہَا حَافِظٌ ۔ ” کوئی جان ایسی نہیں جس پر کوئی نگہبان نہ ہو۔ “- سورة الانفطار کی ان آیات میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آیا ہے : وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ - کِرَامًا کَاتِبِیْنَ - یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ ” جبکہ ہم نے تمہارے اوپر محافظ (فرشتے) مقرر کر رکھے ہیں ۔ بڑے باعزت لکھنے والے ۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو “۔ انسان کے محافظ فرشتوں کا ذکر سورة الانعام کی اس آیت میں بھی ہے : وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃًط (آیت ٦١) ” اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا رہتا ہے “۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ متعدد فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان میں سے کچھ اس کے اعمال کا ریکارڈ مرتب کرنے میں مصروف ہیں جبکہ کچھ کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

 نگہبان سے مراد خود اللہ تعالی کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے جس کے وجود میں لانے سے ہر شے وجود میں آئی ہے جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے ، جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے ، اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمہ لے رکھا ہے ۔ اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں نمودار ہونے والے ہر تارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے ۔ ( النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے ، لیکن مراد اس سے ایک ہی تارا نہیں ہو تا بلکہ تاروں کی جنس ہے ) ۔ یہ قسم اس معنی میں ہے کہ رات کو آسمان میں یہ بے حدو حساب تارے اور سیارے جو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا وجود اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی ہے جس نے اسے بنایا ہے ، روشن کیا ہے ، فضا میں معلق رکھ چھوڑا ہے ، اور اس طرح اس کی حفاظت و نگہبانی کر رہا ہے کہ نہ وہ اپنے مقام سے گرتا ہے ، نہ بے شمار تاروں کی گردش کے دوران میں وہ کسی سے ٹکراتا ہے اور نہ کوئی دوسرا تارا اس سے ٹکراتا ہے 

لوحِ محفوظ

 آیت ٢٢ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ۔ ” لوحِ محفوظ میں (نقش ہے) ۔ “- یعنی اصل قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ میں ہے۔ جس مقام کا ذکر یہاں لوحٍ مَّحْفوظ کے نام سے ہوا ہے ‘ سورة الزخرف کی آیت ٤ میں اسے اُمُّ الْکِتٰب ‘ سورة الواقعہ کی آیت ٧٨ میں کِتٰبٍ مَّـکْنُوْن اور سورة عبس کی آیات ١٣ اور ١٤ میں اسے صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ کہا گیا ہے۔

یہ لوگ جس قرآن کو جھٹلانے کے درپے ہو رہے ہیں وہ بڑی بلند شان والا ہے۔ جس کو جھٹلا دینا ان کے بس کا روگ نہیں ۔ البتہ اپنی اس حرکت کی پاداش میں یہ خود تباہ ہوسکتے ہیں ۔ قرآن کا لکھا ہوا اٹل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی اور ہر طرح کی دستبرد سے، رد و بدل اور ترمیم و تنسیخ سے پاک ہے۔

Wednesday, August 26, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

سارا ، اختیار اللہ ہی کے لیے ہے

 آیت ٤٤ (هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ )- ولایت کے معنی یہاں حکومت اور اقتدار کے ہیں ۔ ” والی “ کسی ملک یا علاقے کے مالک یا حکمران کو کہتے ہیں اور اسی سے یہ لفظ ولایت (واؤ کی زبر کے ساتھ) بنا ہے۔ اس لحاظ سے آیت کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ کل کا کل اقتدار و اختیار اللہ کے لیے ہے جو ” الحق “ ہے۔ اسی مادہ سے لفظ ” ولی “ بھی ہے جس کے معنی دوست اور پشت پناہ کے ہیں ۔ اسی مادے سے ولایت (واؤ کی زیر کے ساتھ) بنا ہے اور یہ دوستی اور محبت کے معنی دیتا ہے۔ درج ذیل آیات میں اسی ولایت کا ذکر ہے : (اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ) (البقرۃ : ٢٥٧) اور (اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ) ( یونس ) ۔ - (هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ عُقْبًا)- انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے۔

The Insignificance of This World

This hadith has been narrated through five different chains of transmitters and all of them are narrated on the authority of Mustaurid, brother of Bani Fihr, that Allah's Messenger  said: By Allah, this world (is so insignificant in comparison) to the Hereafter that if one of you should dip his finger- (and wnile saying this Yahyg pointed with his forefinger) -in the ocean and then he should see as to what has stuck to it. This hadith has been narrated through another chain of transmitters also but with a slight variation of wording.

Sahih Muslim 2858 (Book 53, Hadith 66)-

QUICK LESSONS:
Focus on eternity over worldly matters , Do good deeds , Avoid sins.

EXPLANATIONS:

This hadith emphasizes the importance of focusing on the life after death rather than this world. It is narrated by Mustaurid, brother of Bani Fihr, that Allah's Messenger said that if one were to dip their finger into an ocean and see what sticks to it, it would be insignificant compared to the Hereafter. The Prophet was emphasizing how small and insignificant this world is in comparison to what awaits us in the afterlife. He was reminding us that our focus should be on preparing for our eternal life rather than worrying about worldly matters which are fleeting and temporary. We should strive for a better afterlife by doing good deeds and avoiding sins so we can reap its rewards when we die.

اللہ جل جلالہ

 آیت ١٣ اِنَّہٗ ہُوَ یُـبْدِئُ وَیُعِیْدُ ۔ ” وہی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی اعادہ بھی کرے گا ۔ “- جب اس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے تو دوسری مرتبہ وہ اسے پیدا کرنے پر بھلا کیونکر قادر نہیں ہوگا ؟

رب کی پکڑ

بڑی کامیابی

کبھی نہ ختم ہونے والا اجر

 آیت ٢٥ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوالصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ۔ ” البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ‘ ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ “- مَنَّ یَمُنُّ مَنًّا کے لغوی معنی کسی چیز کو کاٹ دینے کے ہیں ۔ ظاہر ہے جب کسی چیز کو کاٹ دیا جاتا ہے تو اس کی انتہا ہوجاتی ہے۔ چناچہ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْن سے مراد ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔

اللہ پر ایمان نہی لاتے

فلا اقسم بالشفق، اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کے ساتھ موکد کر کے انسان کو پھر اس چیز کی طرف متوجہ کیا ہے جس کا کچھ ذکر پہلے انک کادح الی ربک میں آ چکا ہے۔ یہ چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اگر غور کرو تو اس مضمون کی شاہد ہیں جو جواب قسم میں آنیوالا ہے یعنی انسان کو ایک حال پر قرار نہیں اس کے حالات اور درجات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ پہلی چیز شفق ہے یعنی وہ سرخی جو آفتاب غروب ہونے کے بعد افق مغرب میں ہوتی ہے یہ رات کی ابتدا ہے جو انسانی احوال میں ایک بڑے انقلاب کا مقدمہ ہے کہ روشنی جا رہی ہے اور تاریکی کا سیلاب آ رہا ہے، اس کے بعد خود رات کی قسم ہے جو اس انقلاب کی تکمیل کرتی ہے، اس کے بعد ان تمام چیزوں کی قسم ہے جن کو رات کی تاریکی اپنے اندر جمع کرلیتی ہے۔ وسق کے اصل معنے جمع کرلینے کے ہیں، اس کے عام معنے مراد لئے جائیں تو اس میں تمام دنیا کی کائنات داخل ہیں جو رات کی تاریکی میں چھپ جاتی ہیں اس میں حیوانات، نباتات، جمادات، پہاڑ اور دریا سبھی شامل ہیں اور جمع کرلینے کی مناسبت سے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ چیزیں جو عادة دن کی روشنی میں منتشر پھیلی ہوئی رہتی ہیں۔ رات کے وقت وہ سب سمٹ کر اپنے پانے ٹھکانوں میں جمع ہوجاتی ہیں، انسان اپنے گھر میں، حیوانات اپنے اپنے گھروں اور گھونسلوں میں جمع ہوجاتے ہیں، کاروبار میں پھیلے ہوئے سامانوں کو سمیٹ کر یکجا کردیا جاتا ہے، یہ ایک عظیم انقلاب خود انسان اور اس کے متعلقات میں ہے۔ چوتھی چیز جس کی قسم کھائی گئی وہ القمر اذا اتسق ہے یہ بھی وسق سے مشتق ہے جس کے معنے جمع کرلینے کے ہیں قمر کے اتساق سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی روشنی کو جمع کرے اور یہ چودھویں رات میں ہوتا ہے جبکہ چاند بالکل مکمل ہوتا ہے۔ اذا اتسق کا لفظ چاند کے مختلف اطوار اور حالات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے ایک نہایت خفیف نحیف قوس کی شکل میں رہتا ہے پھر اس کی روشنی روز کچھ ترقی کرتی ہے یہاں تک کہ بدر کامل ہوجاتا ہے۔ مسلسل اور پیہم انقلابات احوال پر شہادت دینے والی چار چیزوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا تترکبن طبقاً عن طبق جو چیزیں تہ برتہ ہوتی ہیں اس کی ایک تہ کو طبق یا طبقہ کہتے ہیں جمع طبقات آتی ہے لترکبن، رکوب بمعنے سوار ہونے سے مشتق ہے معنے یہ ہیں کہ اے بنی نوع انسان تم ہمیشہ ایک طبقہ سے دوسرے طبقہ پر سوار ہوتے اور چڑھتے چلے جاؤ گے۔ یعنی انسان اپنی تخلیق کے ابتدا سے انتہا تک کسی وقت ایک حال پر نہیں رہتا بلکہ اس کے وجود پر تدریجی انقلابات آتے رہتے ہیں۔- انسانی وجود میں بیشمار انقلابات اور دائمی سفر اور اس کی آخری منزل :۔ نطقہ سے منجمد خون بنا پھر اس سے ایک مضغہ گوشت بنا پھر اس میں ہڈیاں پیدا ہوئیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھا اور اعضاء کی تکمیل ہوئی پھر اس میں روح لا کر ڈالی گئی اور وہ ایک زندہ انسان بنا جس کی غذا بطن مادر کے اندر رحم کا گندہ خون تھا، نو مہینے کے بعد اللہ نے اس کے دنیا میں آنے کا راستہ آسان کردیا اور گندی غذا کی جگہ ماں کا دودھ ملنے لگا۔ دنیا کی وسیع فضا اور ہوا ،دیکھی بڑھنے اور پھیلنے پھولنے لگا، دو برس کے اندر چلنے پھرنے اور بولنے کی قوت بھی حرکت میں آئی ، ماں کا دودھ چھوٹ کر اس سے زیادہ لذیذ اور طرح طرح کی غذائی ملیں، کھیل کود اور لہو و لعب اس کے دن رات کا مشغلہ بنا۔ کچھ ہوش اور شعور بڑھا تو تعلیم و تربیت کے شکنجے میں کسا گیا، جوان ہوا تو پچھلے سب کام متروک ہو کر جوانی کی خواہشات نے ان کی جگہ لے لی اور ایک نیا عالم شروع ہوا۔ نکاح شادی ، اولاد اور خانہ داری کے مشغل دن رات کا مشغلہ بن گئے آخر یہ دور بھی ختم ہونے لگا، قویٰ میں اضمحلال اور ضعیف پیدا ہوا بیماریاں آئے دن رہنے لگیں، بڑھاپا آ گیا اوراس جہان کی آخری منزل یعنی قبر تک پہنچنے کے سامان ہونے لگے۔ یہ سب چیزیں تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں۔ کسی کو مجال انکار نہیں مگر حقیقت سے ناآشنا انسان سمجھتا ہے کہ یہ موت اور قبر اس کی آخری منزل ہے آگے کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ جو خالق کائنات اور علیم وخبیر ہے اس نے آگے آنیوالے مراحل کو اپنے انبیاء کے ذریعہ غافل انسان تک پہنچایا کہ قبر تیری آخری منزل نہیں بلکہ یہ صرف ایک انتظار گاہ (ویٹنگ روم) ہے اور آگے ایک بڑا جہان آنے والا ہے اور اس میں ایک بڑے امتحان کے بعد انسان کی آخری منزل مقرر ہوجائے گی جو راحت و آرام کی ہوگی یا پھر دائمی عذاب و مصیبت کی اور اس آخری منزل پر ہی انسان اپنے حقیقی مستقر پر پہنچ کر انقلابات کے چکر سننے نکلے گا قرآن کریم نے ان الی ربک الرجعی اور الی ربک المنتھی میں یہی مضمون بیان فرما کر غفلت شعار انسان کو حقیت اور اس کی آخری منزل سے آگاہ اور اس پر متنبہ کیا کہ عمر دنیا کے تمام حالات اور انقلابات آخری منزل تک جانے کا سفر اور اس کے مراحل ہیں اور انسان چلتے پھرتے سوتے جاگتے کھڑے بیٹھے ہر حال میں اس سفر کی منزلیں طے کر رہا ہے اور بالاخر اپنے رب کے پاس پہنچتا ہے اور عمر بھر کے اعمال کا حساب دے کر آخری منزل میں قرار پاتا ہے جہاں یا راحت ہی راحت اور غیر منقطع آرام ہی آرام ہے یا پھر معاذ اللہ عذاب ہی عذاب اور غیر منقطع مصائب ہیں، تو عقلمند انسان کا کام یہ ہے کہ دنیا میں اپنے آپ کو ایک مسافر سمجھے اور اپنے وطن اصلی کے لئے سامان تیار کرنے اور بھیجنے کی فکر ہی کو دنیا کا سب سے بڑا مقصد بنائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کن فی الدنیا کانک غریب آؤ عابر سبیل، یعنی دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر چند روز کے لئے کہیں ٹھہر گیا ہو کسی رہگذر میں چلتے چلتے کچھ دیر آرام کے لئے رک گیا ہو۔ طبقا عن طبق کی تفسیر جو اوپر بیان کی گئی ہے ابو نعیم نے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی مضمون کی روایت کی ہے یہ طویل حدیث اسجگہ قرطبی نے بحوالہ ابی نعیم اور ابن کثیر نے بحوالہ ابن ابی حاتم مفصل نقل کی ہے۔ ان آیات میں غافل انسان کو اس کی تخلیق اور عمر دنیا میں اس کو پیش آنے والے حالات و انقلابات سامنے کر کے یہ ہدایت دی کہ غافل اب بھی وقت سے کہ اپنے انجام پر غور اور آخرت کی کفر کر، مگر ان تمام روشن ہدایات کے باوجود بہت سے لوگ اپنی غفلت سے باز نہیں آتے اس لئے آخر میں ارشاد فرمایا فما لھم لایومنون یعنی ان غافل و جاہل انسانوں کو کیا ہوگیا کہ یہ سب کچھ سننے اور جاننے کے بعد بھی اللہ پر ایمان نہی لاتے

آسان حساب

 ۔(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ…: آسان حساب کا مطلب یہ ہے کہ کرید کرید کر اصلی حساب نہیں ہوگا، فقط اعمال نامہ پیشہ ہو گا اور غلطیاں بھی سامنے لائی جائیں گی ، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(لیس احد یحاسب الا ھلک قالت قلت یا رسول اللہ جعلنی اللہ فذائک الیس یقول اللہ عزو جل :(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوق یحاسب حساباً یسیراً ) (الانشقاق : ٨، ٨) قال ذالک العرض یعرضون، ومن نوقش الحساب ھلک) (بخاری، التفسیر، باب :(فسوق یحاسب حسابا یسیرا): ٣٩٣٩)” جس کسی کا بھی حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا ۔ “ عائشہ (رض) نے عرض کی :” یا رسول اللہ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتے کہ جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس کا حساب آسان ہوگا ؟ “ آپ نے فرمایا :” یہ صرف پیشی ہے (جس میں صرف اس کے اعمال) پیش کئے جائیں گے اور جس سے حساب میں پڑتال کی گئی وہ ہلاک ہو یا۔ “- جن بندوں پر اللہ کی نظر عنایت ہوگی ان کے آسان حساب کی ایک صورت وہ ہوگی جو ابن عمر (رض) عنہما نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(یدنواحدکم من ربہ حتی یضع کنفہ علیہ فیقول عملت کذا و کذا ؟ فیقول نعم و یقول عملت کذا و کذا ؟ فیقول نعم، فیقررہ ثم یقول انی سترت علیک فی الدنیا، فانا اغفرھا لک الیوم) (بخاری، الادب، باب ستر المومن علی نفسہ : ٦٠٨)” تم میں سے ایک (بندہ) اپنے رب کے قریب ہوگا، یہاں تک کہ وہ اپنا دامن اس پر رکھے گا (کہ کسی اور کو خبر نہ ہو ) ، پھر فرمائے گا :” تو نے یہ کام کئے ؟ “ وہ کہے گا :” ہاں “ اور فرمائے گا :” تو نے یہ یہ کام (بھی ) کئے ؟ “ وہ کہے گا :” ہاں “ پس اللہ تعالیٰ اس سے اقرار کروا لے گا، پھر فرمائے گا :” میں نے دنیا میں تجھ پر پردہ ڈالا، سو آج میں تمہیں وہ گناہ معاف کرتا ہوں ۔ “ آسان حساب کی ایک صورت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا تھوڑی نیکی کا ثواب بہت زیادہ عطا فرما دے گا جیسا کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) عنہما نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی امت کے ایک آدمی کے گناہوں کے حد نگاہ تک پھیلے ہوئے نانوے (٩٩) دفتر کاغذ کے ایک پرزے کے مقابلے میں ہلکے ہوجائیں گے جس پر ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ “ لکھا ہوگا۔ (دیکھیے ترمذی، الایمان، باب ما جاء فیمن یموت وھو یشھد ان لا الہ الا اللہ : ٢٦٣٩ و صحیحہ الالبانی) غرض اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے گا حساب آسان کر دے گا، مگر شرط یہے کہ آدمی ہر طرح کے شرک ظاہری اور شرک باطنی یعنی ریا سے پاک ہو، پھر اگر گناہ گار توبہ کے بغیر بھی مرگیا تو اللہ کی ذات سے رحمت اور آسانی حساب کی توقع ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ان اللہ لایغفران یشرک بہ وغفر مادون ذلک لمن یشآئ) (النسائ : ٣٨) بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے جسے چاہے گا بخش دے گا۔ “ مشرک کے لئے معافی نہیں، دوسروں کی مغفرت اللہ کی مشیت پر ہے۔ اس لئے نہ اس کے غضب سے بےخوف ہونا چاہیے اور نہ اس کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے



رب کی طرف

 آیت ٦ یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ ۔ ” اے انسان تو مشقت پر مشقت برداشت کرتے جا رہا ہے اپنے رب کی طرف ‘ پھر تو اس سے ملنے والا ہے۔ “- یہ دنیا انسان کے لیے دارالمِحن یعنی مشقتوں کا گھر ہے۔ انسانی زندگی کی اس تلخ حقیقت کو سورة البلد میں یوں بیان فرمایا گیا : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ۔ کہ انسان تو پیدا ہی مشقت میں کیا گیا ہے۔ گویا مشقتیں برداشت کرنا ‘ دکھ اٹھانا اور سختیاں جھیلنا انسان کا مقدر ہے۔ اس سے کسی انسان کو رستگاری نہیں۔ مزدور ہے تو وہ صبح سے شام تک جسمانی سختیاں سہہ رہا ہے۔ کارخانہ دار ہے تو انتظامی گتھیوں کو سلجھانے میں جگر خون کر رہا ہے۔ اگر کوئی کسی دفتر کی کرسی پر بیٹھا ہے تو ذہنی مشقت کی چکی ّمیں ِپس رہا ہے۔ پھر اپنی اور اہل و عیال کی بیماریاں ‘ معاشی مشکلات ‘ معاشرتی الجھنیں ‘ مال و جان کی حفاظت کی فکر وغیرہ کی صورت میں ذہنی و نفسیاتی پریشانیاں الگ ہیں جو ہر انسان کے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں۔ دوسروں سے مسابقت اور مقابلے کا غم اس کے علاوہ ہے جو ہر انسان نے اپنے دل و دماغ میں کسی نہ کسی سطح پر ضرور پال رکھا ہے۔ پیدل چلنے والا سائیکل سوار کو رشک بھری نظروں سے دیکھتا ہے ‘ سائیکل سوار کار والے کے حسد میں مبتلا ہے۔ چھوٹی کاروالا بڑی کار والے سے جلن کا شکار ہے۔ غرض مشقت ‘ تکلیف یا غم کی نوعیت تو مختلف ہوسکتی ہے مگر کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی دکھ ‘ پریشانی یا مشقت میں مبتلا نہ ہو۔ ان مشقتوں ‘ تکلیفوں اور پریشانیوں کا سامنا انسان کو روز اوّل سے ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا۔ جیتے جی کوئی انسان اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا۔ مرزا غالب ؔنے اس حوالے سے بڑے پتے کی بات کہی ہے : ؎- قید ِحیات و بند ِغم اصل میں دونوں ایک ہیں - موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں - ان مشقتوں اور مصیبتوں میں گھری انسانی زندگی کی یہ سختیاں اور پریشانیاں اپنی جگہ ‘ لیکن انسان کا اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر اور پریشان کن ہے۔ اور وہ مسئلہ ہے کہ : ؎- اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے - مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ؟- (ابراہیم ذوق) - انسان کے اخروی احتساب کا تصور ذہن میں لائیں اور پھر موازنہ کریں کہ باقی جانداروں کے مقابلے میں ” انسان “ کس قدر مشکل میں ہے۔ ایک بار بردار جانور کی زندگی کا معمول چاہے جتنا بھی مشکل ہو لیکن اس کی مشقت اور تکلیف اس کی زندگی کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے ایک بیل جب ہل یا رہٹ چلاتے چلاتے مرجاتا ہے تو اس مشقت سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں ایک انسان ہے جو کو فت پر کو فت برداشت کرتا اور تکلیف پر تکلیف جھیلتا جب اس دنیا سے جائے گا تو اسے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی دنیوی زندگی کے ایک ایک پل کا حساب دینا ہوگا۔ اس ضمن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : - (لَا تَزُوْلُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدِ رَبِّہٖ حَتّٰی یُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ : عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَا اَفْنَاہُ ، وَعَنْ شَبَابِہٖ فِیْمَا اَبْلَاہُ ، وَمَالِہٖ مِنْ اَیْنَ اکْتَسَبَہٗ وَفِیْمَ اَنَفَقَہٗ ، وَمَاذَا عَمِلَ فِیْمَا عَلِمَ ) (١)- ” ابن آدم کے پائوں قیامت کے روز اپنے رب کے حضور اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کا حساب نہ لے لیا جائے : اس کی عمر کے بارے میں کہ کہاں فنا کی ؟ اس کی جوانی (کی قوتوں ‘ صلاحیتوں اور امنگوں ) کے دور کے بارے میں کہ کیسے گزارا ؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ (حلال ذرائع سے کمایا یا حرام طریقے سے اور اللوں ّتللوں میں خرچ کیا یا ادائے حقوق کے لیے ؟ ) اور جو علم حاصل ہوا تھا اس پر کتنا عمل کیا ؟ “- یعنی دنیا میں باربرداری بھی کرو ‘ جسمانی ‘ ذہنی اور نفسیاتی اذیتیں بھی برداشت کرو۔ مال وجان اور اولاد سے متعلق رنگا رنگ صدمے جھیلتے جھیلتے زندگی بھر کانٹوں پر بھی لوٹتے رہو اور پھر مرنے کے بعد ایک ایسی ہستی کے سامنے کھڑے ہو کر پل پل کا حساب بھی دو جس سے تمہارے قلوب و اذہان کی گہرائیوں میں پیدا ہونے والے جذبات و خیالات بھی پوشیدہ نہیں ۔ یہ ہے ” انسان “ کی اصل ٹریجڈی - یہ مرحلہ ایک انسان کے لیے ایسا مشکل ہے کہ اسے یاد کر کے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اکثر رویا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ کاش میں ایک چڑیا ہوتا - دیکھا جائے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درج بالا فرمان میں مذکور سوالات میں سے آخری سوال سب سے مشکل ہے۔ جس کسی نے دین اور قرآن کا علم جس قدر زیادہ سیکھا اس کے لیے اس کا حساب دینا اسی قدر مشکل ہوگا۔ اگر کسی انسان تک قرآن کی یہ دعوت پہنچ ہی نہیں پائی تو ممکن ہے کہ اس کی طرف سے کوئی عذر بھی قبول ہوجائے۔ (ایسی صورت میں اس کوتاہی کا کچھ نہ کچھ بوجھ ان لوگوں پر بھی ضرور پڑے گا جنہوں نے اسے دعوت پہنچانے میں تساہل برتا ) لیکن جن لوگوں تک قرآن کی دعوت پہنچ گئی اور انہوں نے اپنی استعداد کے مطابق قرآن کے پیغام کو سمجھ بھی لیا تو ظاہر ہے ان کے لیے اس آخری سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہوگا۔

ہمیشہ یاد رکھو

صبر

استغفار

کردار

سچی عاجزی

تیرا رب

اکڑ

Wednesday, August 19, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

ماشاء اللہ

Kindness Rewarded

Narrated Abu Huraira: The Prophet  said, "A man saw a dog eating mud from (the severity of) thirst. So, that man took a shoe (and filled it) with water and kept on pouring the water for the dog till it quenched its thirst. So Allah approved of his deed and made him to enter Paradise".

Sahih al-Bukhari 173 (Book 4, Hadith 39)

QUICK LESSONS:
Show kindness towards all living creatures

EXPLANATIONS:

This hadith is about the reward of kindness and mercy. It tells us that Allah rewards those who show mercy to others, even if it is an animal. The hadith narrates the story of a man who saw a dog suffering from thirst and decided to help it by pouring water into its mouth with his shoe until it quenched its thirst. As a result, Allah approved of his deed and made him enter paradise as a reward for his kind act. This hadith teaches us that we should always be kind to all living creatures, no matter how small or insignificant they may seem, because Allah will reward us for our good deeds in this life or in the hereafter. We should also remember that even small acts of kindness can have great rewards from Allah if done with sincerity and compassion.

نماز

جب قیامت برپا ہوگی

آیت ١ اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ ۔ ” جب آسمان پھٹ جائے گا۔ “- نوٹ کیجیے ان تمام سورتوں کا بنیادی موضوع ” تذکیر آخرت “ ہے۔ زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں ، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی ۔

آیت ٢ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۔ ” اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔ “- اَذِنَتْ لِرَبِّہَا کا لفظی ترجمہ یوں ہوگا کہ وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے ہوئے ہے اور جو بات کان لگا کر سنی جائے اس کے مطابق عمل بھی کیا جاتا ہے۔ اَذِنَتْ کا معنی اِسْتَمَعَتْ وَاِنْقَادَتْ کیا گیا ہے۔ یعنی اس نے غور سے سنا اور تعمیل کی۔ حُقَّتْ یہاں مجہول ہے حَقَّ یَحِقُّ سے۔ یعنی وہ اسی لائق ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ بےچون و چرا اپنے خالق کے حکم پر سرتسلیم خم کرے۔

 زمین کو کھینچ کر لمبا کرنے کا مفہوم :۔ مُدَّتْ ۔ مَدَّ بمعنی کسی چیز کو لمبائی میں کھینچ کر پھیلانا اور اسے لمبا کردینا۔ جیسے اللہ تعالیٰ سایوں کو یا بادلوں کو لمبا کرتا اور پھیلا دیتا ہے واضح رہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ زمین کو کھینچ کر چپٹی بنادے گا۔ زمین کو اللہ نے پہلے ہی پھیلا دیا اور لمبا کردیا ہے۔ اس دن صرف یہ ہوگا کہ سارے سمندر خشک کرکے زمین میں شامل کردیے جائیں گے جس سے زمین کا رقبہ چار گنا ہوجائے گا پھر پہاڑوں کو زمین بوس کردیا جائے گا اس کی اونچی اور نیچی سب جگہیں برابر کردی جائیں گی۔ اس طرح اسی زمین کا رقبہ اتنا زیادہ ہوجائے گا کہ اسی زمین پر سیدنا آدم (علیہ السلام) سے لے کے قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں اور قیامت تک جنوں کی تمام نسل کو یکجا اکٹھا کردیا جائے گا۔ یہی زمین میدان محشر بن جائے گی ۔ 

آیت ٤ وَاَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ ۔ ” اور وہ نکال باہر کرے گی جو کچھ اس کے اندر تھا اور خالی ہوجائے گی۔ “- سورة الزلزال میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے : وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا ۔ ” اور جب زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی “۔ قیامت کے دن زمین اپنے اندر مدفون تمام انسانوں کے اجسام اور ان کے تمام اجزاء کو نکال کر باہرکرے گی ۔ اس کے علاوہ بھی زمین میں جو کچھ معدنیات اور خزانے مخفی ہیں وہ قیامت کے دن نکال کر باہر پھینک دے گی۔

آیت ٥ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۔ ” اور وہ بھی اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔ “- جس طرح اطاعت وانقیاد کا مظاہرہ آسمان کرے گا ‘ اسی طرح زمین بھی حکم الٰہی بجا لائے گی۔

علیین کیا ہے؟


سجین کیا ہے؟

ناپ تول میں کمی

 آیت ١ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ ۔ ” ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔ “- وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے ۔ بہرحال اس آیت میں کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی نوید سنائی گئی ہے۔

 ڈنڈی مارنے کی مختلف صورتیں :۔ ناپ کر اپنا حق پورا لینا کوئی جرم کی بات نہیں۔ یہ جرم صرف اس وقت بنتا ہے جب اپنا حق تو پورا لیا جائے اور دوسروں کو کم دیا جائے۔ پھر اس جرم میں کمی بیشی کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اپنا حق بھی کم لے اور دوسروں کو بھی کم دے۔ بالفاظ دیگر اس کا پیمانہ یا باٹ ہی چھوٹا ہو اسی سے وہ لاتا بھی ہو اوردیتا بھی ہو اور ڈنڈی بھی نہ مارتا ہو۔ اس صورت میں بھی یہ جرم ہے مگر جرم کی شدت کم ہوجاتی ہے۔ دوسری یہ کہ آدمی لیتے وقت پورا یا زیادہ لے اور دیتے وقت کم دے۔ اس صورت میں جرم دگنا بلکہ تگنا ہوجاتا ہے۔ لین دین کی اصل بنیاد عدل ہے یعنی پورا پورا دو ۔ اور قرآن کریم میں بیشمار مقامات پر اس کی سخت تاکید آئی ہے کہ جب تولو تو سیدھی ڈنڈی سے تولو اور اور کسی کو اس کا حق کم نہ دو ۔ پورا یا زیادہ لینا اور دوسروں کو کم دینا اتنا بڑا جرم ہے 

ان آیتوں میں اُن لوگوں کے لئے بڑی سخت وعید بیان فرمائی گئی ہے جو دُوسروں سے اپنا حق وصول کرنے میں تو بڑی سرگرمی دِکھاتے ہیں، لیکن جب دُوسروں کا حق دینے کا وقت آتا ہے تو ڈنڈی مارتے ہیں۔ یہ وعید صرف ناپ تول ہی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کے حقوق کو شامل ہے، اور اس طرح ڈنڈی مارنے کو عربی میں ’’تطفیف‘‘ کہتے ہیں، اسی لئے اس سورت کا نام تطفیف ہے۔

روز جزا کیا ہے؟

۔ (ان الابرار لفی نعیم…:) فرشتوں کے تیار کردہ اعمال ناموں کا نتیجہ یہ ہے کہ نیک لوگ نعمت میں اور نافرمان بھڑکتی ہوئی آگ میں ہوں گے۔” الابرار “ ” بر “ کی جمع ہے، وہ شخص جس میں ” بر “ (نیکی ) پائی جائے۔ نیکی کیا ہے اور نیک کون ہے اس کی تفصیل سورة بقرہ کی آیت (١٧٧) یعنی ” آیت بر “ میں ملاحظہ فرمائیں۔ (الفجار)فاجر“ کی جمع ہے، یہاں مراد کافرہیں، کیونکہ مومن ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔

۔ (یصلونھا یوم الذین…:)بغآئبین “ پر باء نفی کی تاکید کیلئے ہے، اس لئے ترجمہ ” کبھی غائب ہونے والے نہیں۔ “ کیا گیا ہے۔ فاجر لوگ قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے، کبھی اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگرچہ وہ قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوں گے مگر اس سے پہلے قبر میں بھی وہ آگ سے غائب نہیں ہیں ، جیسا کہ آل فرعون کے متعلق فرمایا :(وحاق بال فرعون سوء العذاب ، النار یعرضون علیھا غدواً وغشیاً ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب) (المومن : ٣٥، ٣٦)” اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا جو آگ ہے۔ اس پر صبح اور شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (کہا جائے گا کہ) آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔ “

۔ (وما ادرک ما یوم الدین…:) قیامت کی عظمت و اہمیت ذہن میں بٹھانے کے لئے سوال اور پھر تکرار سوال ہے۔ یعنی آپ خواہ کتنا ہی سوچیں اور غور کریں اس ہولناک دن کی پوری کیفیت کبھی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ مختصراً یہ سمجھ لو کہ اس دن جتنے رشتے ناطے ہیں سب ختم ہوجائیں گے۔ ہر ایک کو بس اپنی ہی پڑی ہوگی۔ کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ نہ ہی اللہ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا۔

آیت١٩ یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّـنَفْسٍ شَیْئًاط وَالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰہِ ۔ ” جس روز کسی جان کو کسی دوسری جان کے لیے کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا ‘ اور امر ُ کل کا کل اس دن اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ “- اس دن سرمحشر پکارا جائے گا : لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ط (المومن ١٦) کہ اے نسل انسانی کے لوگو ‘ دیکھو آج حکومت ‘ اختیار اوراقتدارکس کے ہاتھ میں ہے ؟ اور اس سوال کا جواب بھی پھر خود ہی دیا جائے گا : لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ (المومن : ١٦) یعنی آج کے دن اختیار کل کا کل اللہ ہی کے پاس ہے جو اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے۔ اس دن انسانوں کی اکثریت کو بےبسی اور نفسانفسی کی جس کیفیت کا سامنا ہوگا ‘ سورة البقرۃ میں اس کا نقشہ یوں دکھایا گیا ہے : وَاتَّقُوْا یَوْماً لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلاَ یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ ” اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن کام نہ آسکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ کسی سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد ہی مل سکے گی۔ 

انسان کا کام

سچی خوشی

Thursday, August 13, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

باقیات صالحات

 آیت ٤٦ (اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا)- اس سورت میں دنیوی زندگی کی زیب وزینت کا ذکر یہاں تیسری مرتبہ آیا ہے۔ اس سے پہلے ہم آیت ٧ میں پڑھ آئے ہیں کہ روئے زمین کی آرائش و زیبائش اور تمام رونقیں انسانوں کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہیں : (اِنَّاجَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) پھر آیت ٢٨ میں رسول اللہ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا : (تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) کہ اے نبی کہیں ان لوگوں کو یہ گمان نہ ہو کہ آپ کا مطلوب و مقصود بھی دنیوی زندگی کی آرائش و زیبائش ہی ہے (معاذ اللہ ) ۔ گویا یہ موضوع اس سورت کے مضامین کا عمود ہے۔ لہٰذا یہ حقیقت ہروقت ہمارے ذہن میں مستحضر رہنی چاہیے کہ یہ زندگی اور دنیوی مال و متاع سب عارضی ہیں۔ یہاں کے رشتے ناطے اور تمام تعلقات بھی اسی چار روزہ زندگی تک محدود ہیں۔ انسان کی آنکھ بند ہوتے ہی تمام رشتے اور تعلقات منقطع ہوجائیں گے اور اللہ کی عدالت میں ہرانسان کو تن تنہا پیش ہونا ہوگا : (وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا) ( مریم) وہاں نہ باپ اولاد کی مدد کرے گا نہ بیٹا والدین کو سہارا دے گا اور نہ بیوی شوہر کا ساتھ دے گی۔ اس دن کے محاسبے کا سامنا ہر شخص کو اکیلے ہی کرنا ہوگا۔- (وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ اَمَلًا)- اس مختصر زندگی کی کمائی میں اگر کسی چیز کو بقا حاصل ہے تو وہ نیک اعمال ہیں۔ آخرت میں صرف وہی کام آئیں گے۔ چناچہ دنیوی مال و اسباب سے امیدیں نہ لگاؤ اولاد سے توقعات مت وابستہ کرو۔ یہ سب عارضی چیزیں ہیں جو تمہاری موت کے ساتھ ہی تمہارے لیے بےوقعت ہوجائیں گی۔ آخرت کا سہارا چاہیے تو نیک اعمال کا توشہ جمع کرو اوراسی پونجی سے اپنی امیدیں وابستہ کرو۔   

باقیات صالحات :۔ یہ مال و دولت اور بیٹے وغیرہ انسان کے لیے دلچسپی کا سامان ضرور ہیں لیکن ان چیزوں پر ایسا فریفتہ نہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اور اخروی زندگی کو بھول ہی جائے اور انہی چیزوں پر تکیہ کر بیٹھے بلکہ اسے ایسی چیزوں پر امید وابستہ رکھنی چاہیے جو فنا ہونے والی نہیں بلکہ باقی رہنے والی ہیں اور وہ اس کے نیک اعمال ہیں جن کا بدلہ بھی بہت اچھا ملے گا اور ان پر توقع بھی لگائی جاسکتی ہے اور آپ نے فرمایا کہ یہ کلمات : (سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولا الّٰہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ) باقیات صالحات ہیں۔ بعض دفعہ انسان ایسے نیک اعمال کی داغ بیل ڈال جاتا ہے کہ بعد میں مدتوں لوگ اس سے مستفیض ہوتے رہتے ہیں ایسے اعمال کا اجر اسے اس کی موت کے بعد بھی ملتا رہتا ہے جیسے کوئی شخص نیک اولاد چھوڑ جائے جو اس کے حق میں دعا کرتی رہے یا کوئی دینی مدرسہ قائم کر جائے جب تک اس میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رہے گا اس کو حصہ رسدی ثواب پہنچتا رہے گا یا کوئی رفاہ عامہ کا کام کر جائے جیسے کنواں یا سرائے، ہسپتال یا باغ یا کوئی اور چیز عام لوگوں کے فائدہ کے لیے وقف کرجائے (مسلم:کتاب الوصیت:باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاته:1631 )۔ یہی چیزیں اس لائق ہیں جن میں انسان کو اپنی کوششیں صرف کرنا چاہییں۔ دنیا کی فانی چیزوں میں مستغرق نہ ہونا چاہیے۔