Friday, July 17, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

قرآن کو بتدریج نازل کیا

اللہ سبحانہ وتعالیٰ

زمین کو فرش

پرہیزگار لوگ

 یہاں متقین کا لفظ مکذبین کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ کی آیات کی اور قیامت کے دن کی تصدیق کرتے تھے۔ اللہ سے اور قیامت کے دن کی سختیوں سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی سے ڈر کر ممکن حد تک اللہ کی فرمانبرداری کرتے رہے تھے۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ جنت کے ٹھنڈے اور پرسکون سایوں میں ہوں گے۔ ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے وہاں وافر تعداد میں ہوں گے۔ کھانے کو اعلیٰ سے اعلیٰ اور حسب پسند پھل ملیں گے۔ وہ جتنا کچھ بھی کھا پی لیں گے اس سے انہیں کسی قسم کی کچھ تکلیف نہ ہوگی ۔ اور ساتھ ہی انہیں یہ کہا جائے گا کہ یہ تمہارے ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم دنیا میں بجا لاتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد محض ان کی قدردانی اور حوصلہ افزائی کے لیے ہوگا ورنہ حقیقت وہی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمائی کہ کوئی شخص بھی اپنے اعمال کی وجہ سے جنت نہیں جاسکتا بلکہ محض اللہ کے فضل اور اس کی مہربانی کی بنا پر جنت میں جائے گا ۔ 

[صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7111] ۔

محشر کا دن

زمین سے انسان کا دائمی تعلق

 آیت ۲۵الم نجعل الارض کفاتاً…:” کفاتا “ ” کفت یکفت “ (ض) سمیٹنا، جمع کرنا) سے مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی سمیٹنے والی۔ ” رواسی “ ” راسیۃ “ کی جمع ہے اور ” راس یرسو “ (ن) زمین میں گڑا ہوا ہونا مراد پہاڑ ہیں۔” شمخت “ بلند۔ ” قراتاً “ بہت ہی میٹھا۔ زمین زندوں کو سمیٹتی ہے، وہ اسی پر زندگی گزارتے ہیں وہ ان کی غلاظتیں سنبھالتی ہے اور مردوں کو ب ھی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اگر زمین مرنے والے انسانوں اور دوسرے جان داروں کو نہ سمیٹی تو تعفن سے زندگی دشوار ہوجاتی۔ اس آیت سے مردوں کو سنبھالنے کے لئے دفن کی دلیل ملتی ہے، جو قومیں اپنے مردوں کو جلاتی ہیں ان کی راکھ اور ہڈیاں بھی زمین ہی کے سپرد ہوتی ہیں۔- 

آیت ٢٦  ”  اَحْیَآئً وَّاَمْوَاتًا ۔     ” زندوں کو بھی اور ُ مردوں کو بھی “-  اللہ تعالیٰ نے یہ زمین ایسی بنائی ہے کہ یہ اپنے اوپر موجود ہر زندہ وجود کی تمام ضروریات پوری کر رہی ہے اور ہر قسم کے مردہ کو بھی تحلیل کر کے اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ اس حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں ایسی گنجائش رکھی ہے کہ یہ تاقیامِ قیامت تمام زندوں اور تمام ُ مردوں کے لیے کفایت کرے گی۔

زمین بجائے خود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک بہت بڑا نشان ہے، پھر اس پر بلند و بالا پہاڑ اور انسان کے پینے کے لئے نہایت میٹھا پانی اللہ کی قدرت کے اتنے بڑے عجائب ہیں کہ ان کو دیکھ کر بھی جو لوگ آخرت کو جھٹلاتے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخلوق کو دوبارہ بنانا ممکن نہیں، ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن بہت بڑی خرابی اور ہلاکت ہے۔ 

کیا ہم نے تمہیں

 آیت ٢٠ اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآئٍ مَّہِیْنٍ ۔ ” کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ “- انسان کا مادئہ تخلیق ایسی گھٹیا چیز ہے کہ جس کا نام بھی کوئی اپنی زبان پر لانا پسند نہیں کرتا۔ سورة الدھر میں اس حقیقت کا ذکر اس طرح آیا ہے : ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا ۔ ” کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا ؟

آیت ٢١ فَجَعَلْنٰــہُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۔ ” پھر ہم نے اس (نطفے) کو رکھ دیا ایک محفوظ مقام میں۔ “- یعنی اس حقیر پانی کی بوند کو مختلف مراحل سے گزارنے کے لیے ہم نے اسے ایک محفوظ مقام یعنی رحم مادر میں رکھا جو اس کے لیے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتا ہے۔

آیت ٢٢اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ یہ معین وقت اگرچہ عموماً نو ماہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں کمی و بیشی بھی ممکن ہے۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ عورت اور مرد کے نطفہ میں کس قدر قوت یا کمزوری ہے۔ یا ان دونوں میں سے کسی ایک میں ہے تو اسی نسبت سے اس مدت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور بچہ کی نشوونما جب رحم مادر میں مکمل ہوجاتی ہے تو وضع حمل کا وقت آجاتا ہے۔

آیت ٢٣ فَقَدَرْنَاق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ ۔ ” تو ہم نے اندازہ مقرر کیا ‘ اور ہم کیا ہی اچھے ہیں اندازہ مقرر کرنے والے “- اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ اپنی قدرت سے کیا اور ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں

گناہ

قدر کیجئے

 والدین کی قدر کریں !!

والدین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہیں ۔ ان کی بے لوث محبت اور قربانیوں کا کوئی نعم البدل نہیں ، ان کی زندگی میں خدمت ، احترام اور محبت سے پیش آنا ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ ان کی قدر کریں ، کیونکہ یہ انمول تحفہ ایک بار بچھڑ جائے تو دوبارہ نہیں ملتا۔

غلط فہمی

تکبر

حسد

Saturday, July 11, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

اعجاز قرآن

The Reward of Supplication!

Abu Dharr reported that Allah's Messenger  said: There is no believing servant who supplicates for his brother behind his back (in his absence) that the Angels do not say: The same be for you too.

Sahih Muslim 2732a (Book 48, Hadith 119) 

QUICK LESSONS:
Pray and Make Du'a For Others Even If They Are Not Present With Us . Have Good Intentions When Making Du'as . Think Positively About Our Fellow Muslims .

EXPLANATIONS:
This hadith is about the reward of supplicating for others in their absence. It is narrated by Abu Dharr that the Prophet Muhammad said that when a believer supplicates for his brother behind his back in his absence, the angels will say "The same be for you too". This means that Allah will reward the person who supplicates with an equal or greater reward than what they asked for. This hadith teaches us to always pray and make du'a for our brothers and sisters even if they are not present with us. It also encourages us to have good intentions when we make du'a and to think positively about our fellow Muslims. We should always remember that whatever we ask from Allah He will give us something better in return if we are sincere in our intentions.

یا حیُّ یا قیّومُ

رب کے شکرگزار

طرز زندگی

قیامت اور آخرت

 آیت ٧ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَـوَاقِعٌ ۔ ” جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کر رہے گی۔ “- یعنی جس قیامت کے بارے میں تم لوگوں کو بار بار متنبہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آکر رہے گی۔ واضح رہے کہ سورة قٓ سے لے کر سورة الناس تک مکی سورتوں کا موضوع انذارِ آخرت ہے ۔ اس لیے سورة الذاریات کی قسموں کا مقسم علیہ بھی انذارِ آخرت ہی سے متعلق تھا : اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ - وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۔ ” جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی “۔ البتہ سورة الصافات کے آغاز میں مذکور قسموں کا انداز تو بالکل ایسا ہی ہے لیکن وہاں ان قسموں کے مقسم علیہ کا تعلق توحید سے ہے : اِنَّ اِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ ۔ ” یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے “۔ اس لیے کہ سورة الصافات کا تعلق سورتوں کے جس گروپ سے ہے اس گروپ کا مرکزی مضمون ہی توحید ہے۔

آیت ٨ فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ ۔ ” پس جب ستارے مٹا دیے جائیں گے۔ “- یعنی بےنور کردیے جائیں گے اور ان کی روشنی ختم ہوجائے گی۔

آیت ٩ وَاِذَا السَّمَآئُ فُرِجَتْ ۔ ” اور جب آسمان میں شگاف پڑجائیں گے۔ “- ایسی آیات ہمارے لیے آیات متشابہات کا درجہ رکھتی ہیں ۔ البتہ توقع کی جاسکتی ہے کہ جیسے جیسے سائنسی ترقی کی بدولت انسان کی معلومات بڑھیں گی ‘ ان آیات کا مفہوم بتدریج واضح ہوتا چلا جائے گا۔

آیت ١٠ وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ ۔ ” اور جب پہاڑ (ریت بنا کر) اُڑا دیے جائیں گے۔ “- قیامت کے زلزلے کے باعث پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ریت کے ٹیلوں کی مانند ہوجائیں گے اور ان ٹیلوں کے ذرّات ہوا میں اڑتے پھریں گے۔

آیت  ١١ وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ۔ ” اور جب رسولوں (علیہ السلام) (کے کھڑے ہونے) کا وقت آپہنچے گا۔ “- جب انبیاء ورسل - اللہ تعالیٰ کی عدالت میں شہادتیں دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔

Friday, July 10, 2026

ہواؤں کی قسم

 آیت ١ وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا ۔ ” قسم ہے ان ہوائوں کی جو چلائی جاتی ہیں بڑی آہستگی سے۔ - اللہ تعالیٰ ان ہوائوں کو خاص مقاصد کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلاتا ہے۔

آیت ٤ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا ۔ ” پھر تقسیم کرتی ہیں جدا جدا۔ “- سورة الذاریات میں ہوائوں کی اس خصوصیت کا ذکر فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا ۔ کے الفاظ میں ہوا ہے۔ یعنی ہوائیں سمندر سے بخارات کو بادلوں کی صورت میں دور دراز علاقوں تک لے جاتی ہیں ‘ پھر وہ اس پانی کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مختلف علاقوں میں بارش کی صورت میں تقسیم کرتی ہیں ۔ اس تقسیم میں ان کا معاملہ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا بلکہ ُ جدا جدا ہوتا ہے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے َجل تھل ہوجاتا ہے اور کوئی علاقہ خشک رہ جاتا ہے۔

آیت ٥ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا ۔ ” پھر قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو ذکر کا القاء کرتے ہیں۔ “- گزشتہ چار آیات کے بارے میں تقریباً تمام مفسرین متفق ہیں کہ ان میں ہوائوں کا ذکر ہے۔ البتہ اس آیت کے حوالے سے زیادہ تر مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے فرشتے مراد ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر آتے ہیں ۔ البتہ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں بھی ہوائوں ہی کا تذکرہ ہے ۔ اس حوالے سے ان مفسرین کا استدلال یہ ہے کہ کسی نبی یا کسی داعی کی آواز بھی تو ہوا ہی کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچتی ہے۔ یعنی پیغامات و معلومات کی ترسیل و تقسیم کا ذریعہ  تو بہرحال ہوا ہی ہے۔

آیت ٦ عُذْرًا اَوْ نُذْرًا ۔ ” عذر کے طور پر یا خبردار کرنے کے لیے۔ “- وحی یا ذکر (یاد دہانی) کا ابلاغ یا تو اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں پر اتمامِ حجت ہو اور ان کا عذر ختم ہوجائے۔ جیسا کہ سورة النساء کی آیت ١٦٥ میں انبیاء و رسل - کی بعثت کا مقصد واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا : لِئَلاَّ یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِط ” تا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت (دلیل) رسولوں (علیہ السلام) کے آنے کے بعد “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں (علیہ السلام) کو دنیا میں اسی لیے بھیجا تھا کہ ان کی بعثت کے بعد لوگوں کے پاس اس کے ہاں پیش کرنے کے لیے کوئی عذرنہ رہ جائے ۔ وحی یا یاددہانی کا دوسرا مقصد یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ لوگوں کو خبردار کرنے (نُذْرًا) کے لیے ہوتی ہے کہ اگر وہ جاگنا چاہیں تو جاگ جائیں اور راہ راست پر آنا چاہیں تو آجائیں۔ - اب اگلی آیت میں ان قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر ہے کہ یہ قسمیں کس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کھائی گئی ہیں 

یدخل من یشآء فی رحمتہ

 آیت ٣١ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ فِیْ رَحْمَتِہٖ ” وہ داخل کرے گا اپنی رحمت میں جس کو چاہے گا۔ “- ظاہر ہے دنیا و آخرت کا کوئی کام بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ہم اللہ کے حکم اور اذن کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ اگر کوئی شخص ایک کام کرنے پر بظاہر قادر بھی ہو تو وہ اس کام کو اس وقت تک انجام نہیں دے سکتا جب تک اس کی مشیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مشیت بھی شامل نہ ہو۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جس طرح ہم خود اللہ کی مخلوق ہیں اسی طرح ہمارے تمام اعمال بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ سورة الصَّافّات میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ کہ اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی ۔ اس مفہوم میں ہر انسان اپنی نیت اور اپنے ارادے کی بنا پر ” کا سب ِاعمال “ ہے ‘ جبکہ ” خالق اعمال “ اللہ تعالیٰ ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اسے ایسے اعمال کی توفیق دے گا جن کی بنا پر وہ اس کی رحمت کا مستحق ٹھہرے گا۔ - اس جملے کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ داخل کرے گا اپنی رحمت میں ‘ اسے جو چاہے گا ۔ یعنی وہ صرف اسی شخص کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا جو اس کی رحمت کا مستحق بننے کے لیے کوشاں ہوگا۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے : وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمْ مَّشْکُوْرًا ۔ یعنی جس شخص نے آخرت کو اپنا اصل مقصود بنا لیا اور اس کے لیے اس نے مقدور بھر محنت بھی کی اور وہ مومن بھی ہو ‘ تو اس کی وہ محنت اور کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول و مشکور ہوگی۔ - وَالظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ۔ ” اور رہے ظالم ‘ تو ان کے لیے اس نے بہت دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “- اَللّٰھُمَّ اَعِذْنَا مِنْ ذٰلِکَ اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنْ ذٰلِکَ 

بغیر اللہ کی مرضی کے

 آیت ٣٠  وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ  ” اور تمہارے چاہے کچھ نہیں ہوسکتا ‘ جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔ “- اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا ۔ ” یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔

تم میں سے کوئی اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ ہدایت کی راہ لگا لے، اپنے لئے کسی نفع کو جاری کرلے، ہاں اگر اللہ چاہے تو ایسا ممکن ہے، اس کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں کرسکتے۔ البتہ صحیح ارادہ نیت پر وہ اجرضرورعطاء فرماتا ہے اعمال کا دارو مدار، نیتوں پر ہے، ہر آدمی کے لئے وہ ہے جس کی وہ نیت کرے چوں کہ وہ علیم وحکیم ہے اس لیے اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے بنابریں ہدایت اور گمراہی کے فیصلے بھی یوں ہی نہیں ہوجاتے بلکہ جس کو ہدایت دی جاتی ہے وہ واقعی اس کا مستحق ہوتا ہے اور جس کے حصے میں گمراہی آتی ہے وہ حقیقتا اسی کے لائق ہوتا ہے۔

یہ ( قرآن ) نصیحت ہے

پیدائش کو مضبوط بنایا

 آیت ٢٨ نَحْنُ خَلَقْنٰـہُمْ وَشَدَدْنَآ اَسْرَہُمْ ” ہم نے ہی ان کو تخلیق فرمایا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں ۔ “- وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَہُمْ تَبْدِیْلًا ۔ ” اور ہم جب چاہیں گے ان جیسے بدل کر اور لے آئیں گے۔ “- عام طور پر اس آیت کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے ایک قوم کو ختم کر کے اس کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے۔ لیکن اس سے پہلے چونکہ انسانی تخلیق اور انسانی جسم کے جو ڑبند درست کرنے کا ذکر ہوا ہے اس لیے میرے نزدیک اس جملے کا درست مفہوم یہ ہے کہ آخرت میں ہم ان لوگوں کو ان کے دنیوی زندگی والے جسموں جیسے اور جسم عطا کردیں گے۔ واضح رہے کہ یہ مضمون قبل ازیں سورة بنی اسرائیل : ٩٩ ‘ سورة الواقعہ : ٦١ اور سورة یٰسٓ : ٨١ میں بھی آچکا ہے۔

دنیا کی محبت

لالچ یا حرص

ہم چاہتے ہیں

Saturday, July 4, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

قرآن نسخہ کیمیا اور شفا بخش

آیت ٨٢ (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ )- یہاں پر پھر قرآن کا لفظ ملاحظہ ہو۔ نوٹ کیجیے کہ خود قرآن کا ذکر اس سورت میں جتنی مرتبہ آیا ہے کسی اور سورت میں نہیں آیا۔ اس آیت میں قرآن کے احکام کو اہل ایمان کے لیے شفا اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہی مضمون سورة یونس میں اس طرح بیان ہوا ہے : (یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ) ” اے لوگو آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں ( کے امراض) کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت “ ۔ یعنی قرآن ایک مؤمن کے سینے کو تمام آلائشوں اور بیماریوں (مثلاً کفر شرک تکبر حسد حب مال حب جاہ حب اولاد وغیرہ) سے صاف اور پاک کردیتا ہے۔- (وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا)- جیسا کہ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : (يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا ۙ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا ۭ وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ ) ۔

The Consequences of Debt

Narrated 'Aisha: Allah's Messenger  used to invoke Allah in the prayer saying, "O Allah, I seek refuge with you from all sins, and from being in debt". Someone said, O Allah's Messenger ! (I see you) very often you seek refuge with Allah from being in debt. He replied, "If a person is in debt, he tells lies when he speaks, and breaks his promises when he promises".

Sahih al-Bukhari 2397 (Book 43, Hadith 13)

QUICK LESSONS:
Pay off debts quickly; Be honest with your words; Keep your promises; Strive for financial responsibility.

EXPLANATIONS:

In this hadith, narrated by 'Aisha, Allah's Messenger is teaching us about the consequences of being in debt. He says that if someone is in debt, they will tell lies when they speak and break their promises when they make them. This teaches us to be careful with our finances and to avoid getting into debt as much as possible. It also reminds us to be honest with our words and keep our promises so we can stay away from the consequences of being in debt. We should strive to pay off any debts we have as soon as possible so that we can remain truthful and trustworthy people.

حب دنیا

 آیت ٢٧ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ہُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا ۔ ” یقینا یہ لوگ فوری ملنے والی چیز (دنیا) سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن جو ان کے پیچھے آنے والا ہے ، اس کا دھیان چھوڑے بیٹھے ہیں۔ “- یعنی قیامت کا سخت دن : یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا ۔ (المزمل) ” وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا “۔ اس آیت کے مضمون کا ربط سورة القیامہ کی ان آیات کے ساتھ ہے : کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ - وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ۔ ” ہرگز نہیں اصل میں تم لوگ عاجلہ (جلد ملنے والی چیز) سے محبت کرتے ہو۔ اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ “

بتدریج قرآن نازل کیا

تخلیق انسانی کی ابتداء کا بیان

آیت ٢ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ” ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ملے جلے نطفے سے “- موجودہ دور میں سائنس نے اس آیت کا مفہوم بہت اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ مرد کی طرف سے اور ماں کی طرف سے ملتے ہیں تو وجود میں آتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے پندرہ سو سال پہلے صحرائے عرب کا ایک بدو تو لفظ ” اَمْشَاج “ کو اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق ہی سمجھا ہوگا۔ گویا قرآن مجید کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم ہر زمانے کے ہر قسم کے انسانوں کے لیے قابل فہم رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان الفاظ کے معانی و مطالب میں نئی نئی جہتیں بھی دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ - نَّـبْـتَلِیْہِ ” ہم اس کو الٹتے پلٹتے رہے “- یعنی رحم مادر میں ہم نے اس ” نُطْفَۃٍ اَمْشَاج “ کو مختلف مراحل سے گزارا۔ نطفہ سے اسے علقہ بنایا۔ علقہ کو مغضہ کی شکل میں تبدیل کیا اور پھر اس کے اعضاء درست کیے۔ ” نَـبْـتَلِیْہِ “  کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے ” تاکہ ہم اس کو آزمائیں “۔ یعنی ہم نے انسان کو امتحان اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔- فَجَعَلْنٰـہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا ۔ ” پھر ہم نے اس کو بنا دیا سننے والا ‘ دیکھنے والا۔ “

 - (٢) نبتلیہ : ہم اسے آزماتے ہیں ، یعنی انسان کو پیدا کرنے کا مقصد اس کی آزمائش ہے کہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے، جیسے فرمایا، (لیبلوکم ایکم احسن عملاً ) ۔  (الملک : ٢) ۔ ”(اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کو اس لئے پیدا فرمایا) تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔ “- (٣) فجعلنہ سمیعاً بصیراً :” ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنایا “ اگرچہ جانور بھی سنتے اور دیکھتے ہیں مگر انہیں ” سمیع وبصیر “ نہیں کہاجاتا کیونکہ وہ عقل کی نعمت سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سننے اور دیکھنے کی ایسی قوتیں دی ہیں جن سے وہ اچھے برے میں تمیز کرسکتا ہے اور بہت دور تک سوچ سکتا ہے۔ گویا دوسرے جانور اس کے مقابل بہرے اور اندھے ہیں۔

حیات بعد موت

آیت ٤٠ اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰی ۔ ” تو کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ُ مردوں کو زندہ کردے ؟ “- کیا تم لوگ جانتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گندے پانی کی بوند سے پیدا کیا ہے ؟ اولادِ آدم (علیہ السلام) میں سے افلاطون ، بقراط اور سقراط کی تخلیق بھی اسی بوند سے ہوئی اور تمام انبیاء اور اولیاء اللہ بھی ایسے ہی پیدا ہوئے۔ صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے استثناء کے علاوہ نسل انسانی کے تمام افراد ، اللہ تعالیٰ نے اسی طریقے سے پیدا کیے۔ اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِط ۔ (قٓ: ١٥) ۔ ” تو کیا پہلی مرتبہ تم لوگوں کو پیدا کرنے کے بعد اب ہم عاجز آگئے ہیں ؟ “ تو اے عقل کے اندھو! کیا تم یہ بھی نہیں سوچتے کہ جو ذات پانی کی ایک بوند سے زندہ سلامت ، خوبصورت ، بہترین صلاحیتوں کے مالک انسان کو پیدا کرسکتی ہے ، کیا وہ مردہ انسانوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوگی ؟ اس آیت کا انداز چونکہ سوالیہ ہے اس لیے اسے سن کر یا پڑھ کر ہماری زبانوں پر بےساختہ یہ الفاظ آجانے چاہئیں : ” کیوں نہیں اے ہمارے پروردگار تیری ذات پاک ہے۔ ہم گواہ ہیں کہ تو ُ مردوں کو زندہ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ “- متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس آیت کو پڑھتے تو اس سوال کے جواب میں کبھی بَلٰی (کیوں نہیں ) اور کبھی سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ فَـبَلٰی (پاک ہے تیری ذات ، اے اللہ کیوں نہیں) جیسے الفاظ فرمایا کرتے تھے۔


استغفار

چپ رہنا

وہ ذات قادرِ مطلق ہے

۔ أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنى ۔ [ القیامة 37]  ۔ کیا وہ منی جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا ؟ مِنْ نُطْفَةٍ إِذا تُمْنى ۔ [ النجم 46] ۔ ( یعنی ) نطفے سے جو ( رحم میں ) ڈالا جاتا ہے ۔ یعنی نطفہ سے جو قدرت الہیٰ کے ساتھ اس چیز کے لئے مقدر ہوتا ہے جو اس سے پیدا ہونا ہوتا ہے ۔ آیت ٣٨ ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً ” پھر وہ ایک علقہ بنا “- یعنی پانی کی اس بوند نے جونک جیسی شکل اختیار کرلی جو رحم مادر کی دیوار کے ساتھ چمٹی رہی - فَخَلَقَ فَسَوّٰی ۔ ” پھر اللہ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے۔ “- اللہ تعالیٰ نے علقہ کو گوشت کے لوتھڑے (مضغہ) میں تبدیل کیا اور پھر اس کا جسم بنایا ‘ جس میں آنکھیں ‘ ناک ‘ کان اور اپنی اپنی جگہ پر دوسرے تمام اعضاء بنا دیے۔ اور یہ سب کچھ ہوتا رہا : فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰـثٍط ۔ (الزمر : ٦) ۔  شکم مادر کے تین پردوں کے اندر  ۔  

یہ انسان کیا ہے ؟ یہ کس سے بنایا گیا ہے ؟ کس طرح تھا اور کس طرح ہوگیا، اور زندگی کا یہ سفر اس نے کہاں سے شروع کیا اور کہاں تک پہنچا، اس کرہ ارض پر وہ کیسے پہنچا جو ایک چھوٹا سا ستارہ ہے  ، کیا وہ پانی کا چھوٹا سا نطفہ نہیں تھا ، پانی کی ایک بوند جو ٹپکتی ہے۔ کیا انسان ایک نہایت ہی خوردبینی نکتہ نہ تھا  ،   پھر وہ ایک خلیہ بن گیا ، پھر وہ خون کا ایک مخصوص لوتھڑا بن گیا ، یہ لوتھڑا رحم مادر میں بڑھتا رہا ، پہلے یہ رحم کی دیواروں کے ساتھ معلق رہا اور اس کے خون سے اپنی غذا اخذ کرتا رہا ، یہ تمام مراحل سفر، اسے کس نے سکھائے ؟ اور یہ طاقت اسے کس نے دی اور یہ راستہ اسے کس نے بتایا ؟ ۔ اس کے بعد کس نے اسے ایک جنین کی شکل دی ، جس کی قوتوں کے اندراعتدال اور جس کے اعضا باہم ، ہم آہنگ اور متناسب بن گئے ، پھر کس طرح یہ ایک خلیہ اب کئی ملین خلیوں کی شکل اختیار کر گیا ، حالانکہ پہلے یہ ایک خلیہ تھا اور ایک خوردبینی انڈا تھا ، وہ سفر اور تغیر پذیری جو اس خلیے نے ایک جنین تک طے کی ، یہ پیدائش سے موت تک کے مراحل سے طویل تھی ۔ سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اسے ان طویل تغیرات کے لئے تیار کررہا ہے ، حالانکہ آغاز میں وہ ایک نہایت ہی چھوٹی مخلوق تھی ، نہ عقل اور نہ قوائے ادراک اس کے اندر تھیں ، اور نہ دنیاوی تجربات اسے حاصل تھے ۔ 

آیت ٣٩ فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی ۔ ” پھر اسی سے اس نے دو زوج بنائے ، نر اور مادہ۔ “- کسی کو اس نے مرد بنا دیا اور کسی کو عورت ،  پھر ایک ہی مخلوق سے اللہ نے کس طرح مرد اور عورت پیدا کیے ، کیا یہ مخلوق خود اپنے آپ کو مرد اور عورت کی شکل میں ڈھالتی ہے ، کیا یہ مخلوق خود مذکر مونث ہونے کا فیصلہ کرتی ہے یا یہ کوئی دوسری قوت ہے جو ان تاریکیوں میں اسے مذکر ومونث بناتی ہے ۔  حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسی ذات کے تصور کے سوا اس جہاں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا جو قادر مطلق ہے ، جو مدبر ہے ، جو تمام واقعات اور حادثات کا سبب اول ہے ، جو قدرت مطلقہ رکھتی ہے ،  یہ وہی ذات ہے جو انسان کو ایک خوردبینی ذرے سے یہاں تک لاتی ہے۔

کیا انسان یہ سمجھتا ہے

 آیت ٣٦ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی ۔ ”  کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ “ - کیا یہ لوگ اپنی دنیوی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں ؟ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا اور ان کا حساب کتاب نہیں ہوگا ؟ اور انہیں ان کے کرتوتوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑے گا ؟