Friday, April 17, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

پرندوں کو نہیں دیکھا

Honesty and Integrity in Positions of Authority

It has been reported on the authority of 'Adi b. 'Amira al-Kindi who said: I heard the Messenger of Allah  say: Whosoever from you is appointed by us to a position of authority and he conceals from us a needle or something smaller than that, it would be misappropriation (of public funds) and will (have to) produce it on the Day of Judgment. The narrator says: A dark-complexioned man from the Ansar stood up - I can visualize him still - and said: Messenger of Allah, take back from me your assignment. He said: What has happened to you? The man said: I have heard you say so and so. He said: I say that (even) now: Whosoever from you is appointed by us to a position of authority, he should bring everything, big or small, and whatever he is given therefrom he should take, and he should restrain himself from taking that which is forbidden.

Sahih Muslim 1833a (Book 33, Hadith 42)

QUICK LESSONS:
Bring everything big or small; Take whatever you are given therefrom; Remain honest; Have integrity; Be accountable

EXPLANATIONS:

This hadith emphasizes the importance that those who are appointed to positions of authority should be honest and have integrity. It warns against misappropriating public funds, which is a serious offense that will be judged on the Day of Judgment. The hadith also mentions a man from the Ansar who was so moved by this warning that he asked to be relieved from his position. This shows how seriously people should take their responsibilities when it comes to managing public funds or any other resources given to them by an authority figure. The Prophet Muhammad's words serve as a reminder for us all to remain honest and accountable in our dealings with others, especially when it comes to matters involving money or resources entrusted upon us by someone else.

مقررہ وقت

تھوڑی دیرکی مہلت

 آیت ١٠ وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰــکُمْ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ یَّــاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ ” اور خرچ کر دو اس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے “- فَـیَـقُوْلَ رَبِّ لَــوْلَآ اَخَّرْتَنِیْ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍلا فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ ” پھر وہ اس وقت کہے کہ اے میرے رب تو نے مجھے ایک قریب وقت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہوجاتا “- گویا نفاق کی بیماری کا بالمثل علاج انفاق ہے۔ سورة الحدید کی آیت ١٨ کے تحت وضاحت کی جا چکی ہے کہ مال کی محبت کو دل سے نکالنے کے لیے دل کی زمین میں ” انفاق “ کا ہل چلانا پڑتا ہے اور جو لوگ یہ ہل چلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اصل کامیابی انہی کے حصے میں آتی ہے :- اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَھُمْ وَلَھُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ ۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖٓ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ صلے وَالشُّھَدَآئُ عِنْدَ رَبِّھِمْ … - ” یقینا صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ کو قرض حسنہ دیں ‘ ان کو کئی گنا بڑھا کر دیاجائے گا اور ان کے لیے بڑا باعزت اجر ہوگا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر انہی میں سے صدیق اور شہداء ہوں گے اپنے رب کے پاس…“- زیر مطالعہ آیت میں نقشہ کھینچا گیا ہے کہ ایک بڑا حسرت کا وقت آئے گا جب انسان کف ِافسوس ملے گا کہ اے کاش میں اس مال کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرسکتا ۔ آج یہ لوگ دونوں ہاتھوں سے مال جمع کر رہے ہیں اور گھروں کی آرائش و زیبائش پر بےتحاشا خرچ کر رہے ہیں ‘ لیکن ایک وقت آئے گا جب اہل و عیال ‘ عزیز و اقارب ‘ مال و دولت اور جائیداد ‘ سب کو چھوڑ کر یہاں سے جانا ہوگا۔ اس وقت انسان حسرت سے کہے گا کہ پروردگار کیوں نہ تو نے مجھے ذرا اور مہلت دے دی تو اگر ذرا اس وقت کو ٹال دے تو پھر میں یہ سب کچھ تیری راہ میں لٹا دوں ‘ سارا مال صدقہ کر دوں اور میں بالکل سچائی اور نیکوکاری کی راہ اختیار کرلوں۔ لیکن اس وقت اس حسرت کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ اللہ کی یہ سنت ِثابتہ ہے کہ جب کسی کا وقت معین آجائے تو پھر اسے موخر نہیں کیا جاتا 

عالم ہو

پریشانیاں

ذکراللہ سےغافل

نمازجمعہ

موت سے فرار

اللہ کی تسبیح

Thursday, April 16, 2026

لوح محفوظ

 آیت ٢٢ مَـآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ نَّــبْرَاَھَا ” نہیں پڑتی کوئی پڑنے والی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری اپنی جانوں میں مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں درج ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔ “- اَصَابَ یُصِیْبُ (آپڑنا ‘ نازل ہونا) سے اسم الفاعل ” مُصِیْب “ ہے اور اس کی مونث ” مُصِیْبَۃ “ ہے ‘ جس کے معنی ہیں نازل ہونے یا آ پڑنے والی شے۔ چناچہ لغوی اعتبار سے تمام حوادث ‘ واقعات ‘ کیفیات جو ہم پر وارد ہوتی ہیں ‘ وہ سب کی سب اس میں شامل ہوجائیں گی ‘ لیکن عام طور پر یہ لفظ تکلیف دہ ‘ ناگوار اور ناپسندیدہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت کی رو سے مصیبتیں دو قسم کی ہیں۔ یا تو آفاتِ ارضی و سماوی یعنی آفاقی مصیبتیں ‘ جو زمین پر بڑے پیمانے پر نازل ہوتی ہیں ‘ مثلاً سیلاب ‘ زلزلے ‘ طوفانِ باد و باراں وغیرہ ‘ یا انسانوں کی اپنی جانوں پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے ‘ مثلاً کوئی بیماری یا کوئی عارضہ لاحق ہوگیا یا کوئی حادثہ پیش آگیا۔ یہاں واضح فرما دیا گیا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانوں پر اجتماعی یا انفرادی طور پر کسی بھی شکل میں کوئی مصیبت ‘ آفت یا تکلیف آتی ہے اس کے معرض وجود میں آنے سے قبل اس کی پوری تفصیل اللہ کے علم قدیم میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔- اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ” یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ “- انسانوں کو یہ بات بیشک عجیب یا مشکل لگے ‘ مگر اللہ کا علم مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ پر محیط ہے۔ اس کے لیے کائنات کی ایک ایک چیز کا پوری تفصیل سے احاطہ کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ 

الفاظ

وقت

ماں کی دعائیں

Thursday, April 9, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

اللہ کی نعمتیں

اللہ کے سوا

Good Manners and Character

Narrated 'Abdullah bin 'Amr: The Prophet  never used bad language neither a "Fahish nor a Mutafahish. He used to say "The best amongst you are those who have the best manners and character". (See Hadith #56 (B) Vol. 8)

Sahih al-Bukhari 3559 (Book 61, Hadith 68) 

QUICK LESSONS:
Strive to be kind to others; Respect other's opinions; Show humility in interactions; Treat people with compassion; Develop your own character through honesty; Avoid bad habits like lying or cheating.

EXPLANATIONS:
The Prophet Muhammad (peace be upon him) taught us that having good manners and character is essential for being a good person. He said that the best people are those who have the best manners and character. This means that we should always strive to be kind to others, respect their opinions, show humility in our interactions with them, and treat them with compassion. We should also try to develop our own characters by being honest in all of our dealings with others and by avoiding bad habits such as lying or cheating. By doing this we can become better people who are respected by others for their good behavior.


کائنات کی ہر چیز

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

ملاقات کی امید

اے ہمارے پروردگار

قیامت کے روز

اسمائے حسنیٰ

 آیت ٢٤ ہُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ” وہی ہے اللہ ‘ تخلیق کا منصوبہ بنانے والا ‘ وجود بخشنے والا ‘ صورت گری کرنے والا۔ “- اس آیت میں (اللہ کے علاوہ) تین اسمائے حسنیٰ آئے ہیں ۔ ان تینوں اسماء کا تعلق تخلیقی عمل کے مختلف مراحل سے ہے اور اس لحاظ سے یہاں ان کا ذکر ایک فطری اور منطقی ترتیب سے ہوا ہے ۔ ” خلق “ دراصل عمل تخلیق کا وہ مرحلہ ہے جب کسی چیز کا منصوبہ یا نقشہ تیار ہوتا ہے۔ بغرضِ تفہیم اگر ہم انسانوں پر قیاس کرتے ہوئے ایک بڑھئی کی مثال سامنے رکھیں تو عمل تخلیق کے مختلف مراحل اور ان تینوں اسماء کے مابین پائے جانے والے خاص ربط کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ فرض کریں کہ بڑھئی ایک میز بنانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے وہ مطلوبہ سائز اور مطلوبہ شکل کی میز کا ایک نقشہ اپنے ذہن میں تیار کرتا ہے۔ یہ اس میز کی ذہنی تخلیق ہے۔ اس کے بعد بڑھئی مجوزہ نقشے کے مطابق لکڑی کا میز بنا کر اپنی ” ذہنی تخلیق “ کو عالم واقعہ میں ظاہر کردیتا ہے۔ پھر تیسرے اور آخری مرحلے میں وہ اسے دیتے ہوئے رنگ و روغن کر کے میز کو حتمی طور پر تیار کردیتا ہے- مذکورہ بالا تینوں اسمائے حسنیٰ کا تعلق تخلیق کے ان ہی تین مراحل سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کا ایک نقشہ یا نمونہ تیار فرماتا ہے۔ اس مفہوم میں وہ الخالق ہے ‘ پھر وہ اس تخلیق کو عدم سے عالم وجود میں ظاہر کرتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ البارِی ہے۔ (بَرَأَ کے معنی ظاہر کرنے کے ہیں۔ سورة الحدید کی آیت ٢٢ میں ہم پڑھ چکے ہیں : مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّـبْرَأَھَا اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔ “ ) اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کو باقاعدہ ایک صورت یا شکل عطا کرتا ہے۔ اس معنی میں وہ ” الْـمُصَوِّر “ ہے ۔ لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی ” تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔ “- یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ” اسی کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ “- وَہُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ ” اور وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔ “- اس سورت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے آغاز میں بھی اللہ کی تسبیح کا بیان ہے اور اس کا اختتام بھی اللہ کی تسبیح پر ہوتا ہے۔ آغاز میں تسبیح کے حوالے سے ماضی کا صیغہ (سَبَّحَ ) آیا ہے جبکہ اختتام پر مضارع کا صیغہ (یُسَبِّحُ ) ہے۔ اسی طرح اس کی ابتدائی آیت کے اختتام پر جو دو اسمائے حسنیٰ (الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم) آئے ہیں ‘ آخری آیت کا اختتام بھی ان ہی اسمائے حسنیٰ پر ہوتا ہے۔

وہی اللہ ہے

 آیت ٢٣ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَ ” وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ “- اَلْمَلِکُ الْـقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُط ” حقیقی بادشاہ ‘ یکسرپاک ‘ سراپا سلامتی (اور ہر اعتبار سے سالم) ‘ امن دینے والا ‘ پناہ میں لینے والا ‘ زبردست (مطلق العنان ) ‘ اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا ‘ سب بڑائیوں کا مالک۔ “- سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ ” اللہ پاک ہے ان تمام چیزوں سے جو یہ شرک کرتے ہیں۔ “ - اس ایک آیت میں آٹھ اسمائے حسنیٰ مسلسل ‘ بغیر حرفِ ” و “ کے آئے ہیں اور اس لحاظ سے یہ آیت پورے قرآن مجید میں منفرد ہے۔

بھروسہ

گناہ

یا رب

دستبرداری

زندگی

Wednesday, April 1, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

شہد کی مکھی

The Importance of Praying Correctly

Narrated Zaid bin Wahb: Hudhaifa saw a person who was not performing the bowing and prostration perfectly. He said to him, "You have not prayed and if you should die you would die on a religion other than that of Muhammad".

Sahih al-Bukhari 791 (Book 10, Hadith 186)

QUICK LESSONS:
Pray correctly according to teachings of Prophet Muhammed
EXPLANATIONS:

This hadith emphasizes the importance of praying correctly and following the religion of Prophet Muhammad. It is narrated by Zaid bin Wahb that Hudhaifa saw a person who was not performing bowing and prostration perfectly. He warned him that if he should die, he would die on a religion other than that of Prophet Muhammad's. This hadith teaches us to be mindful when we are performing our prayers, as it is an important part in our faith and relationship with Allah SWT. We must strive to perfect our prayer so that we can be sure we are following the teachings of Prophet Muhammad properly. Additionally, this hadith also reminds us to stay true to our faith and not stray away from it, as it will have consequences in both this life and hereafter.

اللہ کو پکارا

قرآن کی عظمت

اللہ کو بھولنے کا لازمی نتیجہ

  یعنی خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے ۔ جب آدمی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کسی کا بندہ ہے تو لازماً وہ دنیا میں اپنی ایک غلط حیثیت متعین کر بیٹھتا ہے اور اس کی ساری زندگی اسی بنیادی غلط فہمی کے باعث غلط ہو کر رہ جاتی ہے ، اسی طرح جب وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے تو وہ اس ایک کی بندگی تو نہین کرتا جس کا وہ درحقیقیت بندہ ہے ، اور ان بہت سوں کی بندگی کرتا رہتا ہے جن کا وہ فی الواقع بندہ نہیں ہے ۔ یہ پھر ایک عظیم اور ہمہ گیرغلط فہمی ہے جو اس کی ساری زندگی کو غلط کر کے رکھ دیتی ہے ۔ انسان کا اصل مقام دنیا میں یہ ہے کہ وہ بندہ ہے ، آزاد و خود مختار نہیں ہے ۔ اور صرف ایک خدا کا بندہ ہے ، اس کے سوا کسی اور کا بندہ نہیں ہے ۔ جو شخص اس بات کو نہیں جانتا وہ حقیقت میں خود اپنے آپ کو نہیں جانتا ۔ اور جو شخص اس کے جاننے کے باوجود کسی لمحہ بھی اسے فراموش کر بیٹھتا ہے اسی لمحے کوئی ایسی حرکت اس سے سرزد ہو سکتی ہے جو کسی منکر یا مشرک ، یعنی خود فراموش انسان ہی کے کرنے کی ہوتی ہے ، صحیح راستے پر انسان کے ثابت قدم رہنے کا پورا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے خدا یاد رہے ۔ اس سے غافل ہوتے ہی وہ اپنے آپ سے غافل ہو جاتا ہے ، اور یہی غفلت اسے فاسق بنا دیتی ہے ۔

قیامت کا دن

 آیت ١٨ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْـتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍج ” اے اہل ِایمان اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے “- ظاہر ہے یہ اس کل کے دن کی بات ہے جو بعث بعد الموت کے بعد آنے والا ہے ‘ جس دن ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اس دن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر اہل ایمان اپنی زندگی اللہ کے تقویٰ کے سائے میں گزارنے کا اہتمام کرے اور اپنے اعمال کا مسلسل جائزہ لیتا رہے کہ اس نے آخرت کے حوالے سے اب تک کیا کمائی کی ہے اور کائناتی حکومت کے امپیریل بینک میں اپنے کل کے لیے اب تک کتنا سرمایہ جمع کرایا ہے۔- وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْـرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ ” اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ‘ یقینا تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “- اس آیت میں بنیادی طور پر دو باتوں پرز ور دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کا تقویٰ اور فکر آخرت۔ بلکہ اِتَّقُوا اللّٰہَ کا حکم یہاں خصوصی تاکید کے طور پر دو مرتبہ آیا ہے ۔ تقویٰ سے عام طور پر اللہ کا خوف اور ڈر مراد لیا جاتا ہے۔ لیکن اس ضمن میں یہ اہم نکتہ ضرور مدنظر رہنا چاہیے کہ اس خوف میں شیر یا سانپ کے خوف کی طرح دہشت کا عنصر بالکل نہیں ، بلکہ اس کی مثال ایسے خوف کی سی ہے جیسا خوف اولاد اپنے والد سے محسوس کرتی ہے۔ اس خوف میں محبت اور احتیاط کے جذبات غالب ہوتے ہیں کہ ہمارے والد ہم سے ناراض نہ ہوجائیں اور ہم کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے ہمارے والد کے جذبات و احساسات مجروح ہوں ۔ چناچہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے دل میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ڈر رہے۔۔۔۔ تقویٰ کے لغوی معنی بچنے کے ہیں ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ بچ کر زندگی گزارنا۔

ملنا ہے اللہ سے

بعض اوقات

نماز

اے ہمارے پروردگار

آیت ١٠ وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْم بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ ” اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے (مالِ فے پر ان کا بھی حق ہے) وہ کہتے ہیں : اے ہمارے ربّ تو بخش دے ہمیں بھی اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے “- وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رُئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ ۔ ” اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے ‘ اے ہمارے رب ‘ بیشک تو نہایت شفیق اور رحم فرمانے والا ہے۔ “- اس آیت میں واضح کردیا گیا ہے کہ مال فے کی تقسیم میں حاضر و موجود لوگوں کے علاوہ بعد میں آنے والے مسلمانوں اور ان کی آئندہ نسلوں کا حصہ بھی ہے، مزید برآں اس میں ایک اہم اخلاقی درس بھی دیا گیا ہے کہ کسی مسلمان کے دل میں کسی دوسرے مسلمان کے لیے کوئی بغض ، کینہ یا کدورت نہیں ہونی چاہیے ، اور مسلمانوں کے لیے صحیح طرزعمل یہی ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے حق میں دعائے مغفرت کرتے رہیں ، نہ یہ کہ انہیں سب و شتم کا نشانہ بنائیں- یہاں پر پہلا رکوع اختتام پذیر ہوا ۔ اس رکوع میں بنونضیر کے مدینہ سے انخلاء اور ان کی چھوڑی ہوئی املاک (مالِ فے) سے متعلق احکام کا ذکر تھا۔ اب اگلی آیات میں منافقین کا تذکرہ ہے کہ ان لوگوں نے غزوئہ بنونضیر کے حوالے سے کیا کردار ادا کیا۔

اللہ کی تسبیح

یقیناً اللہ زورآور ، غالب ہے

اور اللہ باخبر ہے

تین آدمیوں کی سرگوشی

 آیت ٧ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ” کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے اس سب کچھ کے بارے میں جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ؟ - مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰـثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ ” نہیں ہوتے کبھی بھی تین آدمی سرگوشیاں کرتے ہوئے مگر ان کا چوتھا وہ (اللہ) ہوتا ہے “- وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمْ ” اور نہیں (سرگوشی کر رہے) ہوتے کوئی پانچ افراد مگر ان کا چھٹا وہ (اللہ) ہوتا ہے “- خفیہ انداز میں سرگوشیاں کرنے کو ” نجویٰ “ کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے یہاں پر ضمنی طور پر یہ بھی سمجھ لیں کہ کسی تنظیم یا جماعت کے اندر نجویٰ کا رجحان یا رواج گروہ بندیوں اور فتنوں کا باعث بنتا ہے۔ کسی بھی اجتماعیت کے افراد میں باہم اختلافِ رائے کا پایا جانا تو بالکل ایک فطری تقاضا ہے ‘ جہاں اجتماعیت ہوگی وہاں لوگ ایک دوسرے کی آراء سے اختلاف بھی کریں گے۔ لیکن ایسے اختلافات کا اظہار اجتماعیت کے قواعد و ضوابط کے مطابق متعلقہ فورم پر کیا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ تخریبی ذہنیت کے حامل کچھ ارکان اپنے اپنے اختلاف کا اظہار نجویٰ کی صورت میں دوسرے ساتھیوں سے کرنا شروع کردیتے ہیں۔ بات آگے بڑھتی ہے تو چند افراد پر مشتمل ایک مخصوص لابی بن جاتی ہے اور یوں تنظیم یا جماعت کے اندر باقاعدہ گروہ بندی کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔ اگر اختلافات کا اظہار مناسب فورم پر ہو تو کھلی اور تعمیری بحث کا نتیجہ ہمیشہ مثبت رہتا ہے۔ اس سے غلط فہمیاں ختم ہوجاتی ہیں ‘ ابہام دور ہوجاتا ہے اور اصل حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ بہرحال نجویٰ (سرگوشیوں) کی حیثیت اجتماعیت کے لیے سم ِقاتل کی سی ہے اور اگر یہ زہر کسی جماعت کی صفوں میں سرایت کر جائے تو اس کا اتحاد پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ - وَلَآ اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْثَرَ اِلَّا ہُوَ مَعَہُمْ اَیْنَ مَا کَانُوْا ” اور نہیں ہوتے وہ اس سے کم (یعنی دو افراد سرگوشی میں مصروف) اور نہ اس سے زیادہ مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔ “- سورة الحدید کی آیت ٤ میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْج ” اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ “- ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ۔ ” پھر وہ ان کو جتلا دے گا قیامت کے دن جو کچھ بھی انہوں نے عمل کیا تھا ‘ یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔ “

ریکارڈ محفوظ

 آیت ٦ یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا ” جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا ‘ پھر انہیں جتلا دے گا ان کے اعمال کے بارے میں جو انہوں نے کیے تھے۔ “- اَحْصٰٹہُ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ اللہ نے ان (اعمال) کو محفوظ کر رکھا ہے جبکہ وہ انہیں بھول چکے ہیں۔ “- یہ لوگ تو بھول چکے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی دنیوی زندگی میں  کس کس کے ساتھ ، کیا کیا زیادتی کی تھی ۔ لیکن ظاہر ہے اللہ کے ہاں تو ہر شخص کے ایک ایک عمل اور ایک ایک حرکت کا ریکارڈ محفوظ ہوگا۔- وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدٌ ۔ ” اور اللہ تو ہرچیز پر خودگواہ ہے۔

یعنی ان کے بھول جانے سے معاملہ رفت گزشت نہیں ہو گیا ہے ۔ ان کے لیے اللہ کی نافرمانی اور اس کے احکام کی خلاف ورزی ایسی معمولی چیز ہو سکتی ہے کہ اس کا ارتکاب کر کے اسے یاد تک نہ رکھیں ، بلکہ اسے کوئی قابل اعتراض چیز ہی نہ سمجھیں کہ اس کی کچھ پروانہیں ہو ۔ مگر اللہ کے نزدیک یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے ۔ اس کے ہاں ان کا ہر کرتوت نوٹ ہوچکا ہے ۔ کس شخص نے ، کب ، کہاں ، کیا حرکت کی ، اس حرکت کے بعد اس کا اپنا رد عمل کیا تھا ، اور اس کے کیا نتائج ، کہاں کہاں کس کس شکل میں برآمد ہوئے ، یہ سب کچھ اس کے دفتر میں لکھ لیا گیا ہے ۔

اتَّقُوا اللہ

اللہ کا تقویٰ

وہی خدا ہے