Saturday, May 30, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

ناپ تول میں کمی کی ممانعت

 (ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا)

- اگر تم ناپ تول پورا کرتے ہو اور لین دین کے تمام معاملات دیانتداری سے سر انجام دیتے ہو تو حضرت شعیب کے فرمان کے مطابق : (بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ) (ھود : ٨٦) ” اللہ کا دیا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو “۔ دیانتداری سے کمایا ہوا منافع تھوڑا بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا کرے گا۔

 ناپ اور تول میں کمی بیشی کرنا یعنی خود زیادہ لینا اور دوسرے کو کم دینا، ڈنڈی مار جانا اور کاروباری بددیانتی کرنا اتنا بڑا جرم ہے جس کی وجہ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل ہوا تھا اور جو شخص ایسے کام کرتا ہے اس کے رزق سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔  ناپ اور تول پورا پورا دینے سے دنیا میں تو انجام اس لحاظ سے بہتر ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی ساکھ قائم ہوجاتی ہے۔ اور اس کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور اس کے رزق میں برکت ہوتی ہے۔ اور ایسے شخص کا اخروی انجام بہتر ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔

 دنیا میں اس کا انجام اس لیے بہتر ہے کہ اس سے باہمی اعتماد قائم ہوتا ہے ، بائع اور خریدار دونوں ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں ، اور یہ چیز انجام کار تجارت کے فروغ اور عام خوشحالی کی موجب ثابت ہوتی ہے ۔ رہی آخرت ، تو وہاں انجام کی بھلائی کا سارا دارومدار ہی ایمان اور خدا ترسی پر ہے ۔

مطمئن رہو

ایک سا

The Power of Praise

Narrated 'Ali bin Abi Talib: Fatima came to the Prophet  asking for a servant. He said, "May I inform you of something better than that? When you go to bed, recite "Subhan Allah' thirty three times, 'Al hamduli l-lah' thirty three times, and 'Allahu Akbar' thirty four times'.Ali added, 'I have never failed to recite it ever since". Somebody asked, "Even on the night of the battle of Siffin?" He said, "Even on the night of the battle of Siffin".

Sahih al-Bukhari 5362 (Book 69, Hadith 12) 

QUICK LESSONS:
Recite "SubhanAllah", "Alhamdulillah" and "AllaahuAkbar" before going to bed every night.

EXPLANATIONS:
This hadith, narrated by Ali bin Abi Talib, tells us that instead of asking for a servant, we should recite certain phrases praising Allah before going to bed. These phrases are “Subhan Allah” which means “Glory be to God”, “Al hamduli l-lah” which means “Praise be to God” and “Allahu Akbar” which means “God is the Greatest.” Ali also mentioned that he has been reciting these phrases ever since the Prophet Muhammad told him about it and even on the night of the battle of Siffin. This hadith teaches us that praising God is more important than anything else in life and it can bring us closer to Him.

کیا تم نہیں دیکھتے

اللہ کی برتری

 آیت ١٣ مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا ۔ ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کے امیدوار نہیں ہو ؟ “ - اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے ؟ اور دوسرا یہ کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت و سطوت سے خوف کیوں نہیں آتا ؟ فی الحال اللہ تعالیٰ تمہیں ڈھیل دے رہا ہے ‘ لیکن اس کی ڈھیل کی بھی ایک حد ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے : اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ ۔ (البروج:12) کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو پکڑنے پر آتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔ تم ان سب باتوں کا خیال کیوں نہیں کرتے ہو ؟ آخرتم لوگ اس کی نافرمانیاں کرتے ہوئے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے اس کے غصے اور اس کی گرفت سے بےخوف کیوں ہوگئے ہو ؟

بخشش مانگو

وقت مقررہ تک

 آیت ٤ یَغْفِرْ لَــکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ ” اللہ تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے گا “- یہاں پر حرف مِنْ (تبعیضیہ) بہت معنی خیز ہے۔ یعنی سب کے سب گناہ معاف ہونے کی ضمانت نہیں ‘ البتہ کچھ گناہ ضرور معاف ہوجائیں گے۔ اس کی تاویل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو جسے چاہے گا اور جب چاہے گا معاف کر دے گا ‘ لیکن حقوق العباد کے تنازعات کے حوالے سے وہ انصاف کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس کے لیے روز محشر متعلقہ فریقوں کے درمیان باقاعدہ لین دین کا اہتمام کرایا جائے گا۔ مثلاً کسی شخص نے اگر کسی کا حق غصب کیا ہوگا ‘ کسی کی عزت پر حملہ کیا ہوگا یا کسی بھی طریقے سے کسی پر ظلم کیا ہوگا تو ایسے ظالم کی نیکیوں کے ذریعے سے متعلقہ مظلوم کی تلافی کی جائے گی۔ اس لین دین میں اگر کسی ظالم کی نیکیاں کم پڑجائیں گی تو حساب برابر کرنے کے لیے اس کے ظلم کا شکار ہونے والے مظلوموں کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔ - وَیُؤَخِّرْکُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ” اور تمہیں مہلت دے دے گا ایک وقت معین تک۔ “- یعنی اگر تم لوگ اللہ کو معبود مانتے ہوئے اس کا تقویٰ اختیار کرو گے اور میرے احکام کی تعمیل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ کچھ مدت کے لیے تمہیں بحیثیت قوم دنیا میں زندہ رہنے کی مزید مہلت عطا فرما دے گا۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مہلت بھی ایک وقت معین تک ہی ہوگی۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے قوانین بہت سخت اور اٹل ہیں۔ - اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآئَ لَا یُؤَخَّرُ ٧ لَـوْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ ” اللہ کا مقرر کردہ وقت جب آجائے گا تو اسے موخر نہیں کیا جاسکے گا۔ کاش کہ تمہیں معلوم ہوتا “- جب کوئی قوم اپنے رسول کی دعوت کو ٹھکرا دیتی ہے اور اسے غور و فکر کرنے کے لیے جو مہلت دی گئی ہو وہ ختم ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق اس قوم کو نیست و نابود کرنے کا قطعی فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر کوئی طاقت اس فیصلے کو موخر نہیں کرسکتی۔

اہلِ ایمان کے وصف

ان آیات میں اہلِ ایمان کے وصف بیان کئے گئے ہیں ۔

وہ اپنی امانتیں اور اپنے وعدے پورے کرتے ہیں امانت میں خیانت نہیں کرتے بلکہ امانت کی ادائیگی میں سبقت کرتے ہیں وعدے پورے کرتے ہیں اس کے خلاف عادتیں منافقوں کی ہوتی ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے، جھوٹ بولے [ ٢ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے [ ٣ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:7232] ‏‏‏‏ ۔[مسلم : ٥٨] 

پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ نمازوں کی ان اوقات پر حفاظت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ماں باپ سے حسن سلوک کرنا۔ [صحیح بخاری:527] ‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وقت، رکوع، سجدہ وغیرہ کی حفاظت مراد ہے۔ ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالو۔ شروع میں بھی نماز کا بیان ہوا اور آخر میں بھی نماز کا بیان ہوا۔ جس سے ثابت ہوا کہ نماز سب سے افضل ہے۔

 امانت وعہد کی حفاظت ایمان کی اور خیانت و بدعہدی نفاق کی علامت ہے،” امانات “ کو جمع لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ صرف مال ہی نہیں بلکہ ہر اس امانت کی حفاظت کرتے ہیں جس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ پابندیوں کی طرف سے ان کے ذمے ہے۔ اس میں نماز، روزہ اور دوسری فرض عبادات اور واجب حقوق العباد سب شامل ہیں۔

والذین ھم بشھدتھم قآئمون : شہادتوں پر قائم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق کی شہادت نہ چھپاتے ہیں، نہ ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں ، نہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں اور نہ شہادت کی ادائیگی کے وقت اس میں کوئی ہیرا پھیری کرتے ہیں ، کیونکہ یہ سب کام نفاق و کفر کے کام ہیں ۔ ” شہادات ‘ میں ایمان، توحید و رسالت اور لوگوں کے باہمی معاملات، غرض ہر حق بات کی شہادت شامل ہے۔

 یہی لوگ ہیں جو تھڑدلی ، بےصبر اور شدید بخل سے محفوظ ہیں اور انھی کو جنتوں میں عزت عطا ہوگی۔

کم ہمت

 ان الانسان خلق ھلوعا…: یعنی انسان میں پیدائشی طور پر یہ کمزوری رکھی گئی ہے کہ وہ تھڑولا ہے، بےصبرا ہے۔ تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے، مال یا کوئی اور نعمت ملتی ہے تو روک کر بیٹھ جاتا ہے اور حق داروں کو نہیں دیتا، مگر یہ کمزوری ایسی نہیں کہ انسان اس پر قابو نہ پا سکے۔ اہل ایمان نہ مصیبت میں گھبراتے ہیں اور نہ خوش حالی میں اتراتے ہیں۔ صہیب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(عجباً لامر المومن ان امرۃ کلہ خیر ولیس ذاک لاحد الا للمومن ان اصابتہ سراء شکر فکان خیرالہ و ان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرلہ ) (مسلم، الزھد ، باب المومن امرہ کلہ خیر : ٢٩٩٩)” مومن کا معاملہ عیجب ہے کہ اس کے سب کام ہی (اس کے لئے) خیر ہیں اور مومن کے علاوہ یہ چیز کسی کو حاصل نہیں، (اس طرح کہ) اسے کوئی خوش پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے، سو وہ اس کے لئے خیر ہوتی ہے اور اگر تکلیف پہنتچی ہے تو صبر کرتا ہے، سو وہ (بھی) اس کے لئے خیر ہوتی ہے۔ “ مگر اس کے لئے کوشش یقینا کرنا پڑتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(ومن یستعف یعفہ اللہ ومن یستغن یعنہ اللہ ومن یصبر یصبرہ اللہ) (مسلم، الزکاۃ باب فضل العفف والصبر…: ١٠٥٣)” جو شخص سوال سے بچے گا اللہ اسے بچا لے گا، جو اللہ سے غنا مانگے گا اللہ اسے غنی کر دے گا اور جو صبر کی کوشش کرے گا اللہ اسے صابر بنا دے گا۔ “   

دعائیں

تقدیر

اے رب کائنات

گناہ

Saturday, May 23, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

The Mercy of Allah on the Day of 'Arafa

A'isha (Allah be pleased with her) reported Allah's Messenger  as saying: There is no day when God sets free more servants from Hell than the Day of 'Arafa. He draws near, then praises them to the angels, saying: What do these want?

Sahih Muslim 1348 (Book 15, Hadith 492) 

QUICK LESSONS:
Be grateful for all we have been given, Strive for Allah's forgiveness, Obey His commands .

EXPLANATIONS:
This hadith speaks about the mercy and forgiveness that Allah bestows upon us on the day of Arafa. It is said that on this day, more people are freed from Hell than any other day. This shows how merciful and forgiving Allah is to His servants. He even goes so far as to ask His angels what these people want, showing how much He cares for them. This hadith teaches us to be grateful for all that we have been given by our Creator and to always strive for His forgiveness in order to be saved from Hellfire.

یتیم کا مال

معاف کرنا

یہ اللہ کا کلام ہے

یہ قرآن

نعمت بھری جنتیں

اللہ پر ہمارا بھروسہ ہے

وہی ( اللہ ) ہے

 آیت ٢٣ قُلْ ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ وَجَعَلَ لَـکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ ” کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے۔ “- لغوی اعتبار سے لفظ ’ اَنْشَاَ ‘ اٹھانے اور پرورش کرنے کا مفہوم بھی دیتا ہے۔ لفظ ” فواد “ کے مفہوم کی وضاحت سورة بنی اسرائیل کی آیت ٣٦ کے تحت گزر چکی ہے۔ عام طور پر اس لفظ کا ترجمہ ” دل “ کیا جاتا ہے لیکن اصل میں اس سے مراد انسان کی وہ صلاحیت ہے جس کی مدد سے وہ دستیاب معلومات کا تجزیہ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے ۔ چناچہ اس لفظ میں عقل یا سمجھ بوجھ کا مفہوم بھی شامل ہے۔- یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید میں جب انسان کی طبعی صلاحیتوں یا حواس کا تذکرہ ہوتا ہے تو السَّمْع (سماعت) کا ذکر پہلے آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی علم کے ذرائع میں پہلا اور بنیادی ذریعہ اس کی سماعت ہے۔ پچھلی نسلوں کے علمی آثار اور تجرباتی علم سے استفادہ کرنا ہر دور کے انسان کی ضرورت رہی ہے ۔ اس علم کو بھی نسل در نسل منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ انسان کی سماعت ہی ہے ۔ دوسرے حواس یا ذرائع اس میں اپنا اپنا حصہ بعد کے مراحل میں شامل کرتے ہیں۔ - قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ ” بہت ہی کم شکر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔

اللہ رحمان

 صفت۔ صف یعنی صف بنانا، سیدھی قطار بنانا اور صف بمعنی ہر شے کی سیدھی قطار اور صف الطیر بمعنی پرندوں نے اپنی اڑان میں اپنے پروں کو قطار کی طرح سیدھا کردیا۔ نیز اس کا معنی پرندوں کا اپنے پروں کو ہوا میں پھیلا دینا اور بالکل بےحرکت بنادینا بھی ہے۔ جبکہ سب ایک ہی حالت میں ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے کبھی اپنے پر پھیلا بھی دیتے ہیں اور کبھی سکیڑ بھی لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہوا سے وزنی اجسام ہیں لیکن پھر بھی زمین پر گر نہیں پڑتے۔ نہ ہی زمین کی کشش ثقل انہیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ ہوا جو ایک کاغذ کا بھی بوجھ برداشت نہیں کرتی اور وہ بھی آہستہ آہستہ زمین پر آگرتا ہے۔ تو پرندوں کے وزنی اجسام کو ہوا میں کون تھامے رکھتا ہے اور زمین پر گرنے نہیں دیتا۔ آخر ان کو ہوا میں تیرتے پھرنے کا یہ طریقہ کس نے سکھایا ہے ؟ ، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے پرندوں کے جسم کی ساخت ہی ایسی بنادی ہے کہ وہ بےتکلف ہوا میں اڑ بھی سکتے ہیں اور ٹھہر بھی سکتے ہیں۔ پر کھول کر بھی اور پر بند کرکے بھی۔ پھر انسان نے یہی اصول دریافت کرکے ہوائی جہاز ایجاد کیا جس کی شکل تک پرندوں سے ملتی جلتی ہے۔ اور وہ اپنے پر کھول بھی لیتے ہیں اور بند بھی کرلیتے ہیں۔

یعنی اس کائنات کی ایک ایک مخلوق اور ایک ایک چیز جس قانونِ طبعی پر چل رہی ہے وہ اللہ ہی کا وضع کردہ ہے۔

تکبر

اللھم آمیــــن

Protection from the Dajjal through Memorization

Abu Darda' reported Allah's Apostle  as saying: If anyone learns by heart the first ten verses of the Surah al-Kahf, he will be protected from the Dajjal.

Sahih Muslim 809a (Book 6, Hadith 311)

QUICK LESSONS:
Learn and recite these verses daily for spiritual protection. Seek Allah's guidance in our lives.

EXPLANATIONS:

This hadith is about how memorizing the first ten verses of Surah al-Kahf can provide protection from the Dajjal. The Dajjal is an antichrist figure in Islamic eschatology who will appear before Judgment Day and attempt to lead people astray. By memorizing these verses, one can be protected against his influence and remain on a righteous path. This hadith encourages Muslims to learn and recite these verses as part of their daily worship, as it provides spiritual protection for them in this life and beyond. It also serves as a reminder that Allah's power is greater than any force that may try to lead us astray, so we should always seek His guidance in our lives.

Thursday, May 14, 2026

خالی ہاتھ

Supplicating for Guidance, Protection and Freedom

Abdullah reported that Allah's Messenger  used to supplicate (in these words): " O Allah. I beg of Thee the right guidance, safeguard against evils, chastity and freedom from want".

Sahih Muslim 2721a (Book 48, Hadith 97)

QUICK LESSONS:
Ask God sincerely with faith in Him to provide us with what we need in our lives; Stay on the path of righteousness by following His commands; Protect ourselves against any kind of evil or harm; Remain chaste and free from any kind of materialistic desires or wants which can lead us astray.

EXPLANATIONS:

This hadith is about the supplication of Allah's Messenger to God for guidance, protection from evil, chastity and freedom from want. The Prophet Muhammad was known to make this supplication often in order to seek help and guidance in his life. He asked God for right guidance so that he could stay on the path of righteousness; he asked for protection against evils so that he could be safe; he asked for chastity so that his heart would remain pure; and finally he asked for freedom from want so that his needs would be fulfilled. Through this hadith we learn the importance of asking God sincerely with faith in Him to provide us with what we need in our lives. We should also strive to stay on the path of righteousness by following His commands as well as protecting ourselves against any kind of evil or harm. Lastly, we should always remember to remain chaste and free from any kind of materialistic desires or wants which can lead us astray.

وَ اِلَیۡہِ النُّشُوۡرُ

 : یعنی زمین کی تمام چیزیں اﷲ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اﷲ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا، لہٰذا یہاں کی ہر چیز کو اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔

سب اللہ کے علم میں ہے

تو زندگی میں

گناہوں کا بوجھ

اپنا اپنا سـفر

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

ایمان بالغیب

  ایمان بالغیب کے علاوہ کوئی بنیاد انسان کو گناہوں سے باز رکھ سکتی ہے نہ اخلاق فاضلہ پیدا کرسکتی ہے :۔ اللہ سے بن دیکھے ڈرنا ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کے اخلاق فاضلہ کی تعمیر اٹھتی ہے اور اخلاقی لحاظ سے اس کی زندگی سنورتی ہے۔ اس بنیاد کے علاوہ جتنی بھی بنیادیں ہیں وہ سب کمزور اور ناپائیدار ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ وہ خود کسی برائی کو برائی سمجھتا ہو۔ دوسری یہ کہ لوگ اس کام کو برا سمجھتے ہوں۔ تیسری یہ کہ اس کام کے معاشرہ کے دوسرے افراد پر برے اثرات پڑتے ہوں اور چوتھے یہ کہ وہ کام حکومت کے قانون کے مطابق قابل مواخذہ برائی ہو۔ ان میں سے کوئی بھی بنیاد ایسی نہیں جو ایک انسان کو شریف اور بااخلاق بناسکتی ہو۔ نہ لوگ اسے ہر وقت دیکھ رہے ہوتے ہیں اور نہ حکومت۔ لہذا جب اس کے ذاتی مفاد کا مسئلہ ہو تو انسان لوگوں کی یا قانون کی گرفت سے بچنے کی ہزاروں راہیں تلاش کرلیتا ہے۔ انسان کو اگر کوئی چیز گناہوں سے باز رکھ سکتی ہے تو وہ یہی عقیدہ ہے کہ اللہ اسے ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ وہ اس کے دل کے خیالات تک سے واقف ہے۔ پھر وہ اس سے بازپرس کرنے اور سزا دینے کی پوری قدرت بھی رکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کی زندگی خود بخود سنورنے لگتی ہے۔ چھوٹے موٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کردے گا پھر اس کے لئے ایسے لوگوں کو جنت بھی عطا فرمائے گا۔

سات آسمان اور ان کی کیفیت

موت وحیات کی حقیقت

آمـــیـن

مشکل وقت

اچھی باتیں

یہ قرآن

یا رب مصطفیٰ ﷺ

خالص توبہ

اے اہل ایمان

 آیت ٦ یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْآ اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا ” اے اہل ایمان بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے “- اس سے پہلے سورة التغابن میں اہل ایمان کو ان کے اہل و عیال کے بارے میں اس طرح متنبہ کیا گیا ہے : یٰٓــاَیـُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّــکُمْ فَاحْذَرُوْہُمْج (آیت ١٤) ” اے ایمان کے دعوے دارو تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں تمہارے دشمن ہیں ‘ پس ان سے بچ کر رہو “۔ سورة التغابن کے اس حکم کے تحت اہل ایمان کو منفی انداز میں متنبہ کیا گیا ہے ‘ جبکہ آیت زیر مطالعہ میں انہیں ان کے اہل و عیال کے بارے میں مثبت طور پرخبردارکیا جا رہا ہے کہ بحیثیت شوہر اپنی بیویوں کو اور بحیثیت باپ اپنی اولاد کو دین کے راستے پر ڈالنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ یہ مت سمجھو کہ ان کے حوالے سے تمہاری ذمہ داری صرف ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کی حد تک ہے ‘ بلکہ ایک مومن کی حیثیت سے اپنے اہل و عیال کے حوالے سے تمہارا پہلا فرض یہ ہے کہ تم انہیں جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کرو۔ اس کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کرو جس سے ان کے قلوب و اذہان میں دین کی سمجھ بوجھ ‘ اللہ کا تقویٰ اور آخرت کی فکر پیدا ہوجائے تاکہ تمہارے ساتھ ساتھ وہ بھی جہنم کی اس آگ سے بچ جائیں :- وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ” جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر “- عَلَیْھَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ ” اس پر بڑے تند خو ‘ بہت سخت دل فرشتے مامور ہیں “- وہ فرشتے مجرموں کو جہنم میں جلتا دیکھ کر ان پر رحم نہیں کھائیں گے ‘ اور نہ ہی وہ ان کے نالہ و شیون سے متاثر ہوں گے۔ تو کیا ہم ناز و نعم میں پالے ہوئے اپنے لاڈلوں کو جہنم کا ایندھن بننے کے لیے ان سخت دل فرشتوں کے سپرد کرنا چاہتے ہیں ؟ بہرحال ہم میں سے ہر ایک کو اس زاویے سے اپنی ترجیحات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنے اہل و عیال کو جنت کی طرف لے جا رہے ہیں یا جہنم کا راستہ دکھا رہے ہیں ؟ اپنے بہترین وسائل خرچ کر کے اپنی اولاد کو ہم جو تعلیم دلوا رہے ہیں کیا وہ ان کو دین کی طرف راغب کرنے والی ہے یا ان کے دلوں میں دین سے بغاوت کے بیج بونے والی ہے ؟ اگر تو ہم اپنے اہل و عیال کو اچھے مسلمان بنانے کی کوشش نہیں کر رہے اور ان کے لیے ایسی تعلیم و تربیت کا اہتمام نہیں کر رہے جو انہیں دین کی طرف راغب کرنے اور فکر آخرت سے آشنا کرنے کا باعث بنے تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہم محبت کے نام پر ان سے عداوت کر رہے ہیں۔ - لاَّ یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ ” اللہ ان کو جو حکم دے گا وہ فرشتے اس کی نافرمانی نہیں کریں گے “- اللہ تعالیٰ جس کو جیسا عذاب دینے کا حکم دے گا وہ فرشتے اسے ویسا ہی عذاب دیں گے۔ کسی کے رونے دھونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتیں گے۔- وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ۔ ” اور وہ وہی کریں گے جس کا انہیں حکم دیا جائے گا۔ “   

اللہ وہ ہے

 آیت ١٢ اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے ہیں اور زمین میں سے بھی انہی کی مانند۔ “- یہ آیت ” آیاتِ متشابہات “ میں سے ہے۔ ابھی تک انسان سات آسمانوں کی حقیقت سے بھی واقف نہیں ہوسکا۔ ” زمین میں سے انہی کی مانند “ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جتنے آسمان بنائے اتنی ہی زمینیں بھی بنائیں ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے اس نے متعدد آسمان بنائے ہیں ویسے ہی متعدد زمینیں بھی بنائی ہیں۔ قرآن حکیم کے بعض مقامات پر ایسے اشارے ملتے ہیں کہ جاندار مخلوقات صرف زمین پر ہی نہیں ہیں ‘عالم بالا میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مفسرین نے اپنے اپنے اندازوں سے اس آیت کی تفسیر کی ہے ‘ لیکن اس کا قطعی مفہوم ہم ابھی نہیں جان سکتے۔ بہرحال کسی وقت اس کی حقیقت انسان پر منکشف ہوجائے گی۔- یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَہُنَّ ” ان کے درمیان (اللہ کا) امر نازل ہوتا ہے “- اس سے مراد تدبیر ِکائنات سے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں۔ اس بارے میں مزید وضاحت سورة السجدۃ کی اس آیت میں ملتی ہے :- یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۔ - ” وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف پھر وہ (اَمر) چڑھتا ہے اس کی طرف (یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے) ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس ہے۔ “- گویا یہ اللہ تعالیٰ کی ہزار سالہ منصوبہ بندی سے متعلق احکام کا ذکر ہے جو زمین کی طرف ارسال کیے جاتے ہیں۔ متعلقہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ان احکام کی تنفیذ عمل میں لاتے رہتے ہیں ‘ یہاں تک کہ ہزار سال کے اختتام پر یہ ” امر “ اٹھا لیا جاتا ہے اور اگلے ہزار سال کا امر نازل کر دیاجاتا ہے- لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْــرٌلا ” تاکہ تم یقین رکھو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے “- اس دورئہ ترجمہ قرآن کے دوران کئی مرتبہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں دو صفات خصوصی اہمیت کی حامل ہیں اور قرآن مجید میں ان دو صفات کی بہت تکرار ملتی ہے۔ یعنی اللہ کا عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْــرٌاور بِکُلِّ شَیْئٍ عِلِیْمٍ ہونا۔ لہٰذا ان دو صفات کے بارے میں ایک بندئہ مومن کا مراقبہ بہت گہرا ہونا چاہیے ‘ تاکہ اللہ تعالیٰ کے علم اور اختیار کے بارے میں اس کے یقین میں کسی لمحے کوئی کمزوری نہ آنے پائے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی ان دونوں صفات کا ذکر آیا ہے۔- وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمًا ۔ ” اور یہ کہ اللہ نے اپنے علم سے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ “- پہلے اللہ کی قدرت کے بارے میں بتایا گیا اور اب اس کے علم کا ذکر آگیا۔ یعنی کائنات کی کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں اور نہ ہی کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ ہے۔