Friday, May 1, 2026

اللہ کوقرض حسنہ

 آیت ١٧ اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَــکُمْ وَیَغْفِرْ لَـکُمْ ” اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو گے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا ۔ “- وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ ۔ ” اور اللہ شکور (یعنی قدر دان) بھی ہے اور حلیم (یعنی بردبار) بھی ۔ “- وہ ایسا شکور ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ اس کی قدر کرتا ہے اور حلیم ایسا ہے کہ اس کے بار بار ترغیب دلانے کے باوجود بھی اگر کوئی شخص کچھ نہیں دیتا وہ فوری طور پر اس کی گردن نہیں ناپتا۔

 اﷲ تعالیٰ کو قرض دینے سے مراد یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر نیک کاموں میں خرچ کیا جائے، اس تعبیر میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح کسی کو قرض دیتے وقت اِنسان کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ قرض اسے کسی وقت واپس مل جائے گا، اسی طرح نیک کاموں میں خرچ کرتے وقت اِنسان کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ ﷲ تعالیٰ اس کے بدلے میں بہترین اجر عطا فرمائیں گے، اور اچھی طرح قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ اِنسان نیک کاموں میں اخلاص سے خرچ کرے، نام ونمود اور دِکھاوا مقصود نہ ہو

No comments:

Post a Comment