Friday, June 5, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

دریا میں کشتیاں

اللہ کی پکڑ

   یعنی میرے تصرف اور اختیار کا تو یہ حال ہے کہ تم کو نفع یا نقصان پہنچانا تو دور کی بات ہے مجھے اپنے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں۔ فرض کرو جو ڈیوٹی اللہ نے میرے ذمہ لگا رکھی ہے میں اس میں کچھ کوتاہی کرتا ہوں تو میں بھی اللہ کی گرفت میں آسکتا ہوں مجھ میں یہ سکت نہیں کہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے بچا سکوں یا کہیں بھاگ کر ہی اس کی گرفت سے بچاؤ حاصل کرسکوں۔

رب کا ذکر

بھلائی کا راستہ

اپنے رب پر

 - فَمَنْ یُّؤْمِنْ مبِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَہَقًا ۔ ” تو جو کوئی بھی ایمان لائے گا اپنے رب پر اسے نہ تو کسی نقصان کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔ “ - اللہ تعالیٰ ہر کسی کے نیک اعمال کا پورا پورا اجر دے گا ‘ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا حق تلفی کا معاملہ نہیں ہوگا۔

اور تم کو زمین سے

  یعنی جس طرح ایک پودا زمین میں مختلف مراحل طے کرکے اُگتا ہے، اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے تمہیں مختلف مراحل سے گزار کر اس زمین میں پیدا فرمایا ہے، نیز جس طرح زمین سے اُگنے والا سبزہ فنا ہوکرمٹی میں مل جاتا ہے، اور پھر جب اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے اُس سبزے کو دوبارہ اُسی مٹی سے اگادیتا ہے، اس طرح تم بھی مر کر مٹی میں مل جاؤگے، پھر جب اﷲ تعالیٰ چاہے گا تو تہیں دوبارہ زندگی عطا فرماکر زمین سے دوبارہ نکال لے گا۔