Wednesday, June 24, 2026
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے؟
اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَہٗ ۔ کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں ۔ [القيامة:3] ۔ یعنی کیوں نہیں ہم انہیں جمع کریں گے، اس حال میں کہ ہم اس بات پر قادر ہیں…۔ “ - قیامت کے منکرین یہ ماننے کیلئے تیار نہ تھے کہ جب ان کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو کر ذرات کی صورت میں بکھر جائیں تو انہیں پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (انسان اگر یہ خیال کرے کہ اس کی ہڈیاں خود بخود مع نہیں ہوسکتیں یا مخلوق میں سے کوئی انہیں دوبارہ جمع نہیں کرسکتا تو اسے یہ سمجھنے کا حق ہے، مگر) کیا وہ ہمارے متعلق گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کرسکیں گے ؟ پہلی دفعہ جب اس کا نام و نشان تک نہ تھا، ہم نے ایدا کردیا تو اب اس کی ہڈیاں کیوں جمع نہیں کرسکتے ؟ یقینا ہم انہیں جمع کریں گے اور بڑی ہڈیاں ہی نہیں بلکہ ہم یہ بھی قدرت رکھتے ہیں کہ اس کے پورے ، جو نہایت باریک اور نازک ہڈیوں پر مشتمل ہیں، دوبارہ درست کر کے بنادیں۔ سورة یٰسین (77 تا 79) اور سورة بنی اسرائیل (49 تا 51) میں یہ مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ قیامت کے دن جسم دوبارہ زندہ کئیج ائیں گے اور وہ بھی حساب، عذاب اور ثواب میں روح کے ساتھ شریک ہوں گے۔ صحیح بخاری (3481) میں بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر آیا ہے جس کے بیٹوں نے اس کے کہنے کے مطابق اسے مرنے کے بعد جلا کر اور ہڈیوں کو پیس کر کچھ راکھ ہوا میں اڑا دی اورکچھ پانی میں بہا دی، تو اللہ تعالیٰ کے کہنے کے مطابق اسے مرنے کے بعد جلا کراورہڈیوں کو پیس کر کچھ راکھ ہوا میں اڑا دی اور کچھ پانی میں بہا د ی ، تو اللہ تعالیٰ نے ہوا اور پانی کو حکم دے کر اس کے ذرات اکٹھے کر کے اسے دوبارہ زندہ کردیا۔ اگر روح ہی سے باز پرس ہو تو ذرات جمع کر کے اسے دوبارہ سامنے کھڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ۔ بَلٰی قٰدِرِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ ۔ ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کر دیں ۔ [القيامة:4] ۔ انسان کی سوچ یہ ہے کہ ہم اس کے مرنے کے بعد اس کی گلی سڑی ہڈیوں کو کیونکر اکٹھا کرسکیں گے اور کیسے اسے دوبارہ زندہ کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی بڑی بڑی ہڈیاں تو دور کی بات ہے۔ ہم تو اس کی انگلیوں کے ایک ایک پور کو مکمل کرکے اسے اٹھا کھڑا کریں گے۔ پس اسے تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ اپنی پہلی پیدائش پر جو رحم مادر میں ہوئی ، غور کرلے تو بات اسے پوری طرح سمجھ میں آ سکتی ہے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
.jpg)
No comments:
Post a Comment