اپنی موت کو نہ بھولے موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صالح کی طرف آجائے تا کہ آخرت میں نجات ملے۔ آیت مذکورہ میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا کہ غفلت شعار انسان بھول میں رہتا ہے یہاں تک کہ موت سر پر آ کھڑی ہو اور روح ترقوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آ پھنسے اور تیماردار لوگ دوا وعلاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے والوں کو تلاش کرنے لگیں اور ایک پاؤں کی پنڈلی دوسری پر لپٹنے لگے تو یہ وقت اللہ کے پاس جانیکا آ گیا۔ اب نہ توبہ قبول ہوتی ہے نہ کوئی عمل اسلئے عقلمند پرلازم ہے کہ اس وقت سے پہلے اصلاح کی فکر کرے والْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاق میں لفظ ساق کے مشہور معنے پاؤں کی پنڈلی کے ہیں اور پنڈلی کے ایک دوسرے پر لپٹنے کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت اضطراب اور بےچینی سے ایک پنڈلی دوسری پر مارتا ہے اور یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ اس وقت اگر ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا ہے اور اس کو حرکت دے کر ہٹانا چاہتا ہے تو وہ اس کی قدرت میں نہیں ہوتا (کما قال الشعبی والحسن) - اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہاں دو ساقوں سے مراد دوعالم دنیا وآخرت کے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اس وقت دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن جمع ہوا ہے اسلئے دوہری مصیبت میں گرفتار ہے دنیا سے جدائی کا غم اور آخرت کے معاملے کی فکر۔

No comments:
Post a Comment