کلا بل تحبون العاجلۃ …: یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے جو ” لاتحریک بہ لسانک “ سے پہلے چل رہا تھا۔ فرمایا تمہارے قیامت کا انکار کرنے کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ یہ ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور اس کی محبت میں آخرت کو چھوڑ ہی بیٹھے ہو، کیونکہ دنیا جلدی ملنے والی اور نقد ہے جب کہ آخرت بعد میں آئے گی اور ادھار ہے، حالانکہ اس نقد کی راحتیں اور رنج عارضی ہیں اور آخرت ہمیشہ رہنے والی اور کہیں بہتر ہے، جیسا کہ فرمایا :
(بل توثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی)
(الاعلی : ١٦، ١٨)
بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔
آیت ٢١ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ۔ ” اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ “- یہاں خطاب کا رخ کفار کی طرف ہے ۔ یعنی تمہارا اصل مرض ہی یہ ہے کہ تم لوگ ” حب ِعاجلہ “ میں مبتلا ہو ‘ اپنی دنیا کی زندگی اور دنیا کے مال و اسباب سے محبت کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں آخرت کو بالکل ہی نظر انداز کیے ہوئے ہو۔
.jpg)
No comments:
Post a Comment