Saturday, June 13, 2026

مشرق و مغرب کا پروردگار

یعنی مشرق و مغرب کا مالک و مربی وہی ہے، ہر وقت اسی کا ذکر کرو، عبات بھی اسی کی کرو اور بھروسہ بھی اسی پر رکھو، جب وہ معبود اور وکیل ہے تو تمام دنیا سے بےپروا ہوجانے میں فکر کس بات کی ؟ عبادت و توکل دونوں کو اللہ کیلئے خاص کرنے کا حکم کئی آیات میں آیا ہے، جیسے فرمایا :(فاعبدہ و توکل علیہ) (ھود : ١٢٣)” سو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔ “ اور فرمایا :(ایاک نعبد وایاک نستعین) (الفاتحۃ : ٣)” ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ “ ” وکیلاً “ ” وکل یکل “ (ض) سپرد کرنا۔ وکیل وہ ہے جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے، یعنی اپنی پوری جدوجہد کے باوجود اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر رکھو اور اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دو ۔ یہی بات اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر سے فرما رہے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود تو پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوجائیے اور اپنے سب معاملات اپنے پروردگار کے سپرد کردیجیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باقی سب معاملات وہ درست کر دے گا۔

No comments:

Post a Comment