Thursday, April 30, 2026

مال اوراولاد ہرانسان کی آزمائش ہے

 آیت ١٥ اِنَّمَآ اَمْوَالُــکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ” تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے امتحان ہیں۔ “- تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مال و دولت دنیا ‘ یہ رشتہ و پیوند تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں : زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَـرَۃِ مِـنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِط (آل عمران : ١٤) ” مزین کردی گئی ہے لوگوں کے لیے مرغوباتِ دنیا کی محبت جیسے عورتیں اور بیٹے اور جمع کیے ہوئے خزانے سونے کے اور چاندی کے اور نشان زدہ گھوڑے اور مال مویشی اور کھیتی “۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دلوں میں یہ محبتیں پیدا ہی ان کو آزمانے کے لیے کی ہیں۔ اس کا تو اعلان ہے کہ میرے جس بندے کے دل میں مجھ تک پہنچنے کی تڑپ ہے ‘ اسے ان تمام رکاوٹوں اور آزمائشوں کو عبور کر کے آنا ہوگا : ؎- انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آئو - مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے - حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے :- (حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّھَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہِ ) (١)- ” جہنم کو نفس کی مرغوب چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ “- ان ناپسندیدہ چیزوں میں مال و اولاد کی محبتوں کی قربانی سرفہرست ہے۔ آج اگر کسی شخص کے بارے میں آپ یہ معلوم کرنا چاہیں کہ اس کے دل میں کتنا ایمان ہے تو یہ دیکھ لیجیے کہ وہ اپنی اولاد کو کیا بنانا چاہتا ہے۔ بظاہر ایک شخص اگر بہت بڑا عالم دین ‘ صوفی ‘ مسند نشین اور پیر طریقت ہے لیکن اپنی اولاد کو وہ ایمان وآخرت کے راستے پر ڈالنے کے بجائے پیسے بنانے والی مشین بنانے کی کوشش میں ہے تو جان لیجیے کہ اس کے باطن میں دین اور دینی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اب اس سلسلے کی تیسری بات سنیے :- وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ۔ ” اور اللہ ہی کے پاس اجر عظیم ہے۔ “- تمہارے اعمال کا اصل اجر اور بدلہ تمہیں اللہ تعالیٰ سے ملے گا ‘ لہٰذا کسی اور سے کسی اجر کی توقع نہ رکھنا۔ اولاد کے بارے میں بھی مت امید رکھنا کہ وہ تمہارے بڑھاپے کا سہارا بنے گی ۔ ہوسکتا ہے یہی اولاد جس کے لیے آج تم اپنا ایمان تک دائو پر لگانے کو تیار ہوجاتے ہو ‘ بڑھاپے میں تمہیں ٹھوکریں مارے اور بعض اوقات اولاد کی زبان کی ٹھوکریں والدین کے لیے ان کی پائوں کی ٹھوکروں سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ اس تکلیف کی کیفیت اس باپ سے پوچھیں جس کا بیٹا اس کے سامنے سینہ تان کر کہتا ہے : ابا جان آپ ہمیشہ بےموقع بات کرتے ہیں ‘ اس معاملے میں آپ خاموش رہیں ‘ آپ کو کیا معلوم کہ زمانہ کہاں سے کہاں چلا گیا ہے

معاف کردو

گنــاہ

زندگی کا مقصد

دو وجوہات

دوسرا چہرہ

اعلی درجہ

دعاء

Friday, April 24, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

یعنی یہ قرآن

ہر مشکل کے ساتھ آسانی

اللہ پرتوکل

اِلَّا بِاِذْنِ اللہ ِ

قیامت کا دن

قرآن مجید

ہرچیز کا علم

 آیت ٤ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ” وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے “- اب دوسری جہت ملاحظہ کیجیے :- وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ” اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔ “- اور تیسری جہت کیا ہے ؟- وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ ” اور اللہ اس سے بھی باخبر ہے جو تمہارے سینوں کے اندر ہے۔ “- اس آیت کے الفاظ اور مفہوم کے حوالے سے میں بہت عرصہ متردّد رہا کہ بظاہر تو یہاں الفاظ کی تکرار نظر آتی ہے کہ جو کچھ ہم چھپاتے ہیں وہی تو ہمارے سینوں میں ہوتا ہے ‘ لیکن تکرارِ محض چونکہ کلام کا عیب سمجھا جاتا ہے اس لیے مجھے یقین تھا کہ آیت کے تیسرے حصے میں ضرور کوئی نئی بات بتائی گئی ہے۔ پھر یکایک میرا ذہن اس طرف منتقل ہوگیا کہ مَا تُسِرُّوْنَ کے لفظ میں ہمارے ان خیالات و تصورات کا ذکر ہے جنہیں ہم ارادی طور پر چھپاتے ہیں ‘ جبکہ ” سینوں کے رازوں “ سے ہماری سوچوں کے وہ طوفان مراد ہیں جو ہمارے تحت الشعور  میں اٹھتے رہتے ہیں اور جن سے اکثر و بیشتر ہم خود بھی بیخبر ہوتے ہیں ‘ بلکہ بسا اوقات ان خیالات کے بارے میں ہم دھوکہ بھی کھا جاتے ہیں۔ چناچہ آیت کے اس حصے کا مفہوم یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ تو تمہارے تحت الشعور کی تہوں میں اٹھنے والے ان خیالات کو بھی جانتا ہے جنہیں تم خود بھی نہیں جانتے ‘ کیونکہ وہ تو تمہارے جینز  سے بھی واقف ہے- : ہُوَ اَعْلَمُ بِکُمْ اِذْ اَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّــۃٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْج (النجم :  ٣٢)” وہ تمہیں خوب جانتا ہے اس وقت سے جب اس نے تمہیں زمین سے اٹھایا تھا اور جب تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں جنین کی شکل میں تھے۔ “

حکمت و مصلحت

 آیت ٣ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ” اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا حق کے ساتھ “- اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات عبث پیدا نہیں کی ‘ بلکہ یہ ایک بہت ہی بامقصد اور نتیجہ خیز تخلیق ہے اور انسان اس کی تخلیق کی معراج ہے۔ چناچہ کائنات کی تخلیق کے ذکر کے بعد خاص طور پر تخلیق ِانسانی کا ذکر فرمایا :- وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ ” اور اس نے تمہاری صورت گری کی تو بہت ہی عمدہ صورت گری کی۔ “- انسانی ڈھانچے کی ساخت ‘ جسم کی بناوٹ ‘ چہرے کے خدوخال ‘ غرض ایک ایک عضو کی تخلیق ہر پہلو سے کامل ‘ انتہائی متناسب اور دیدہ زیب ہے۔ وَاِلَـیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ ” اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹنا ہے۔ “- کیا تم لوگ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تخلیق کے بہترین درجے پر (فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْم) بنا کر اور بہترین صلاحیتوں سے نواز کر جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کی سی بےمقصد زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا ہے ؟ یا کیا تمہاری حیثیت اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک کھلونے کی سی ہے جسے اس نے صرف دل بہلانے کے لیے بنایا ہے اور اس کے علاوہ تمہاری تخلیق کا کوئی سنجیدہ مقصد نہیں ہے ؟ نہیں ‘ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اپنی نسل کے اعتبار سے تم اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج ہو۔ تمہاری تخلیق ایک بامقصد تخلیق ہے۔ ابھی تم محض ایک وقفہ امتحان سے گزر رہے ہو ‘ اس کے بعد تمہیں پلٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے اور اپنی دنیوی زندگی کے اعمال و افعال کا حساب دینا ہے۔

اللہ کا اس کائنات کو بنانا۔ اس کا مربوط انتظام کرنا۔ اس کے بعد انسان جیسی اشرف المخلوقات اور احسن تقویم والی مخلوق کو پیدا کرنا پھر اس میں لگاتار زندگی اور موت کا سلسلہ جاری کرنا۔ یہ سب کام تو تم دیکھ ہی رہے ہو۔ پھر کیا مرنے کے بعد اسے تمہیں اپنے پاس حاضر کرلینا ہی مشکل بن جائے گا ؟

لالچ

ہمارے اعمال

زندگی

The Blessing of Life

Narrated Sa'd bin Ubaid: (the Maula of 'Abdur-Rahman bin Azhar) Allah's Messenger  said, "None of you should long for death, for if he is a good man, he may increase his good deeds, and if he is an evil-doer, he may stop the evil deeds and repent".

Sahih al-Bukhari 7235 (Book 94, Hadith 10)

QUICK LESSONS:
Appreciate life, Do good deeds, Seek forgiveness from Allah

EXPLANATIONS:

This hadith encourages us to appreciate the life we have been given and use it wisely. It reminds us that life is a blessing, and we should strive to do good deeds while we are alive. We should not long for death, as this will take away our chance of doing more good deeds or repenting from our wrongdoings. Instead, we should use our time on earth wisely by doing what is right and avoiding what is wrong. We can also seek forgiveness from Allah if we have done something wrong in the past. In this way, we can make the most out of our lives here on earth before meeting Allah in the hereafter.

گناہ

توبہ کا خیال

Friday, April 17, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

پرندوں کو نہیں دیکھا

Honesty and Integrity in Positions of Authority

It has been reported on the authority of 'Adi b. 'Amira al-Kindi who said: I heard the Messenger of Allah  say: Whosoever from you is appointed by us to a position of authority and he conceals from us a needle or something smaller than that, it would be misappropriation (of public funds) and will (have to) produce it on the Day of Judgment. The narrator says: A dark-complexioned man from the Ansar stood up - I can visualize him still - and said: Messenger of Allah, take back from me your assignment. He said: What has happened to you? The man said: I have heard you say so and so. He said: I say that (even) now: Whosoever from you is appointed by us to a position of authority, he should bring everything, big or small, and whatever he is given therefrom he should take, and he should restrain himself from taking that which is forbidden.

Sahih Muslim 1833a (Book 33, Hadith 42)

QUICK LESSONS:
Bring everything big or small; Take whatever you are given therefrom; Remain honest; Have integrity; Be accountable

EXPLANATIONS:

This hadith emphasizes the importance that those who are appointed to positions of authority should be honest and have integrity. It warns against misappropriating public funds, which is a serious offense that will be judged on the Day of Judgment. The hadith also mentions a man from the Ansar who was so moved by this warning that he asked to be relieved from his position. This shows how seriously people should take their responsibilities when it comes to managing public funds or any other resources given to them by an authority figure. The Prophet Muhammad's words serve as a reminder for us all to remain honest and accountable in our dealings with others, especially when it comes to matters involving money or resources entrusted upon us by someone else.

مقررہ وقت

تھوڑی دیرکی مہلت

 آیت ١٠ وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰــکُمْ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ یَّــاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ ” اور خرچ کر دو اس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے “- فَـیَـقُوْلَ رَبِّ لَــوْلَآ اَخَّرْتَنِیْ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍلا فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ ” پھر وہ اس وقت کہے کہ اے میرے رب تو نے مجھے ایک قریب وقت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہوجاتا “- گویا نفاق کی بیماری کا بالمثل علاج انفاق ہے۔ سورة الحدید کی آیت ١٨ کے تحت وضاحت کی جا چکی ہے کہ مال کی محبت کو دل سے نکالنے کے لیے دل کی زمین میں ” انفاق “ کا ہل چلانا پڑتا ہے اور جو لوگ یہ ہل چلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اصل کامیابی انہی کے حصے میں آتی ہے :- اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَھُمْ وَلَھُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ ۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖٓ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ صلے وَالشُّھَدَآئُ عِنْدَ رَبِّھِمْ … - ” یقینا صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ کو قرض حسنہ دیں ‘ ان کو کئی گنا بڑھا کر دیاجائے گا اور ان کے لیے بڑا باعزت اجر ہوگا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر انہی میں سے صدیق اور شہداء ہوں گے اپنے رب کے پاس…“- زیر مطالعہ آیت میں نقشہ کھینچا گیا ہے کہ ایک بڑا حسرت کا وقت آئے گا جب انسان کف ِافسوس ملے گا کہ اے کاش میں اس مال کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرسکتا ۔ آج یہ لوگ دونوں ہاتھوں سے مال جمع کر رہے ہیں اور گھروں کی آرائش و زیبائش پر بےتحاشا خرچ کر رہے ہیں ‘ لیکن ایک وقت آئے گا جب اہل و عیال ‘ عزیز و اقارب ‘ مال و دولت اور جائیداد ‘ سب کو چھوڑ کر یہاں سے جانا ہوگا۔ اس وقت انسان حسرت سے کہے گا کہ پروردگار کیوں نہ تو نے مجھے ذرا اور مہلت دے دی تو اگر ذرا اس وقت کو ٹال دے تو پھر میں یہ سب کچھ تیری راہ میں لٹا دوں ‘ سارا مال صدقہ کر دوں اور میں بالکل سچائی اور نیکوکاری کی راہ اختیار کرلوں۔ لیکن اس وقت اس حسرت کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ اللہ کی یہ سنت ِثابتہ ہے کہ جب کسی کا وقت معین آجائے تو پھر اسے موخر نہیں کیا جاتا 

عالم ہو

پریشانیاں

ذکراللہ سےغافل

نمازجمعہ

موت سے فرار

اللہ کی تسبیح

Thursday, April 16, 2026

لوح محفوظ

 آیت ٢٢ مَـآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ نَّــبْرَاَھَا ” نہیں پڑتی کوئی پڑنے والی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری اپنی جانوں میں مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں درج ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔ “- اَصَابَ یُصِیْبُ (آپڑنا ‘ نازل ہونا) سے اسم الفاعل ” مُصِیْب “ ہے اور اس کی مونث ” مُصِیْبَۃ “ ہے ‘ جس کے معنی ہیں نازل ہونے یا آ پڑنے والی شے۔ چناچہ لغوی اعتبار سے تمام حوادث ‘ واقعات ‘ کیفیات جو ہم پر وارد ہوتی ہیں ‘ وہ سب کی سب اس میں شامل ہوجائیں گی ‘ لیکن عام طور پر یہ لفظ تکلیف دہ ‘ ناگوار اور ناپسندیدہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت کی رو سے مصیبتیں دو قسم کی ہیں۔ یا تو آفاتِ ارضی و سماوی یعنی آفاقی مصیبتیں ‘ جو زمین پر بڑے پیمانے پر نازل ہوتی ہیں ‘ مثلاً سیلاب ‘ زلزلے ‘ طوفانِ باد و باراں وغیرہ ‘ یا انسانوں کی اپنی جانوں پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے ‘ مثلاً کوئی بیماری یا کوئی عارضہ لاحق ہوگیا یا کوئی حادثہ پیش آگیا۔ یہاں واضح فرما دیا گیا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانوں پر اجتماعی یا انفرادی طور پر کسی بھی شکل میں کوئی مصیبت ‘ آفت یا تکلیف آتی ہے اس کے معرض وجود میں آنے سے قبل اس کی پوری تفصیل اللہ کے علم قدیم میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔- اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ” یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ “- انسانوں کو یہ بات بیشک عجیب یا مشکل لگے ‘ مگر اللہ کا علم مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ پر محیط ہے۔ اس کے لیے کائنات کی ایک ایک چیز کا پوری تفصیل سے احاطہ کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ 

الفاظ

وقت

ماں کی دعائیں

Thursday, April 9, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

اللہ کی نعمتیں

اللہ کے سوا

Good Manners and Character

Narrated 'Abdullah bin 'Amr: The Prophet  never used bad language neither a "Fahish nor a Mutafahish. He used to say "The best amongst you are those who have the best manners and character". (See Hadith #56 (B) Vol. 8)

Sahih al-Bukhari 3559 (Book 61, Hadith 68) 

QUICK LESSONS:
Strive to be kind to others; Respect other's opinions; Show humility in interactions; Treat people with compassion; Develop your own character through honesty; Avoid bad habits like lying or cheating.

EXPLANATIONS:
The Prophet Muhammad (peace be upon him) taught us that having good manners and character is essential for being a good person. He said that the best people are those who have the best manners and character. This means that we should always strive to be kind to others, respect their opinions, show humility in our interactions with them, and treat them with compassion. We should also try to develop our own characters by being honest in all of our dealings with others and by avoiding bad habits such as lying or cheating. By doing this we can become better people who are respected by others for their good behavior.


کائنات کی ہر چیز

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

ملاقات کی امید

اے ہمارے پروردگار

قیامت کے روز

اسمائے حسنیٰ

 آیت ٢٤ ہُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ” وہی ہے اللہ ‘ تخلیق کا منصوبہ بنانے والا ‘ وجود بخشنے والا ‘ صورت گری کرنے والا۔ “- اس آیت میں (اللہ کے علاوہ) تین اسمائے حسنیٰ آئے ہیں ۔ ان تینوں اسماء کا تعلق تخلیقی عمل کے مختلف مراحل سے ہے اور اس لحاظ سے یہاں ان کا ذکر ایک فطری اور منطقی ترتیب سے ہوا ہے ۔ ” خلق “ دراصل عمل تخلیق کا وہ مرحلہ ہے جب کسی چیز کا منصوبہ یا نقشہ تیار ہوتا ہے۔ بغرضِ تفہیم اگر ہم انسانوں پر قیاس کرتے ہوئے ایک بڑھئی کی مثال سامنے رکھیں تو عمل تخلیق کے مختلف مراحل اور ان تینوں اسماء کے مابین پائے جانے والے خاص ربط کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ فرض کریں کہ بڑھئی ایک میز بنانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے وہ مطلوبہ سائز اور مطلوبہ شکل کی میز کا ایک نقشہ اپنے ذہن میں تیار کرتا ہے۔ یہ اس میز کی ذہنی تخلیق ہے۔ اس کے بعد بڑھئی مجوزہ نقشے کے مطابق لکڑی کا میز بنا کر اپنی ” ذہنی تخلیق “ کو عالم واقعہ میں ظاہر کردیتا ہے۔ پھر تیسرے اور آخری مرحلے میں وہ اسے دیتے ہوئے رنگ و روغن کر کے میز کو حتمی طور پر تیار کردیتا ہے- مذکورہ بالا تینوں اسمائے حسنیٰ کا تعلق تخلیق کے ان ہی تین مراحل سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کا ایک نقشہ یا نمونہ تیار فرماتا ہے۔ اس مفہوم میں وہ الخالق ہے ‘ پھر وہ اس تخلیق کو عدم سے عالم وجود میں ظاہر کرتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ البارِی ہے۔ (بَرَأَ کے معنی ظاہر کرنے کے ہیں۔ سورة الحدید کی آیت ٢٢ میں ہم پڑھ چکے ہیں : مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّـبْرَأَھَا اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔ “ ) اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کو باقاعدہ ایک صورت یا شکل عطا کرتا ہے۔ اس معنی میں وہ ” الْـمُصَوِّر “ ہے ۔ لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی ” تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔ “- یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ” اسی کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ “- وَہُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ ” اور وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔ “- اس سورت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے آغاز میں بھی اللہ کی تسبیح کا بیان ہے اور اس کا اختتام بھی اللہ کی تسبیح پر ہوتا ہے۔ آغاز میں تسبیح کے حوالے سے ماضی کا صیغہ (سَبَّحَ ) آیا ہے جبکہ اختتام پر مضارع کا صیغہ (یُسَبِّحُ ) ہے۔ اسی طرح اس کی ابتدائی آیت کے اختتام پر جو دو اسمائے حسنیٰ (الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم) آئے ہیں ‘ آخری آیت کا اختتام بھی ان ہی اسمائے حسنیٰ پر ہوتا ہے۔

وہی اللہ ہے

 آیت ٢٣ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَ ” وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ “- اَلْمَلِکُ الْـقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُط ” حقیقی بادشاہ ‘ یکسرپاک ‘ سراپا سلامتی (اور ہر اعتبار سے سالم) ‘ امن دینے والا ‘ پناہ میں لینے والا ‘ زبردست (مطلق العنان ) ‘ اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا ‘ سب بڑائیوں کا مالک۔ “- سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ ” اللہ پاک ہے ان تمام چیزوں سے جو یہ شرک کرتے ہیں۔ “ - اس ایک آیت میں آٹھ اسمائے حسنیٰ مسلسل ‘ بغیر حرفِ ” و “ کے آئے ہیں اور اس لحاظ سے یہ آیت پورے قرآن مجید میں منفرد ہے۔

بھروسہ