آیت ٣ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ” اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا حق کے ساتھ “- اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات عبث پیدا نہیں کی ‘ بلکہ یہ ایک بہت ہی بامقصد اور نتیجہ خیز تخلیق ہے اور انسان اس کی تخلیق کی معراج ہے۔ چناچہ کائنات کی تخلیق کے ذکر کے بعد خاص طور پر تخلیق ِانسانی کا ذکر فرمایا :- وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ ” اور اس نے تمہاری صورت گری کی تو بہت ہی عمدہ صورت گری کی۔ “- انسانی ڈھانچے کی ساخت ‘ جسم کی بناوٹ ‘ چہرے کے خدوخال ‘ غرض ایک ایک عضو کی تخلیق ہر پہلو سے کامل ‘ انتہائی متناسب اور دیدہ زیب ہے۔ وَاِلَـیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ ” اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹنا ہے۔ “- کیا تم لوگ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تخلیق کے بہترین درجے پر (فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْم) بنا کر اور بہترین صلاحیتوں سے نواز کر جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کی سی بےمقصد زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا ہے ؟ یا کیا تمہاری حیثیت اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک کھلونے کی سی ہے جسے اس نے صرف دل بہلانے کے لیے بنایا ہے اور اس کے علاوہ تمہاری تخلیق کا کوئی سنجیدہ مقصد نہیں ہے ؟ نہیں ‘ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اپنی نسل کے اعتبار سے تم اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج ہو۔ تمہاری تخلیق ایک بامقصد تخلیق ہے۔ ابھی تم محض ایک وقفہ امتحان سے گزر رہے ہو ‘ اس کے بعد تمہیں پلٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے اور اپنی دنیوی زندگی کے اعمال و افعال کا حساب دینا ہے۔
اللہ کا اس کائنات کو بنانا۔ اس کا مربوط انتظام کرنا۔ اس کے بعد انسان جیسی اشرف المخلوقات اور احسن تقویم والی مخلوق کو پیدا کرنا پھر اس میں لگاتار زندگی اور موت کا سلسلہ جاری کرنا۔ یہ سب کام تو تم دیکھ ہی رہے ہو۔ پھر کیا مرنے کے بعد اسے تمہیں اپنے پاس حاضر کرلینا ہی مشکل بن جائے گا ؟
.jpg)
No comments:
Post a Comment