Saturday, May 30, 2026

اہلِ ایمان کے وصف

ان آیات میں اہلِ ایمان کے وصف بیان کئے گئے ہیں ۔

وہ اپنی امانتیں اور اپنے وعدے پورے کرتے ہیں امانت میں خیانت نہیں کرتے بلکہ امانت کی ادائیگی میں سبقت کرتے ہیں وعدے پورے کرتے ہیں اس کے خلاف عادتیں منافقوں کی ہوتی ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے، جھوٹ بولے [ ٢ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے [ ٣ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:7232] ‏‏‏‏ ۔[مسلم : ٥٨] 

پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ نمازوں کی ان اوقات پر حفاظت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ماں باپ سے حسن سلوک کرنا۔ [صحیح بخاری:527] ‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وقت، رکوع، سجدہ وغیرہ کی حفاظت مراد ہے۔ ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالو۔ شروع میں بھی نماز کا بیان ہوا اور آخر میں بھی نماز کا بیان ہوا۔ جس سے ثابت ہوا کہ نماز سب سے افضل ہے۔

 امانت وعہد کی حفاظت ایمان کی اور خیانت و بدعہدی نفاق کی علامت ہے،” امانات “ کو جمع لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ صرف مال ہی نہیں بلکہ ہر اس امانت کی حفاظت کرتے ہیں جس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ پابندیوں کی طرف سے ان کے ذمے ہے۔ اس میں نماز، روزہ اور دوسری فرض عبادات اور واجب حقوق العباد سب شامل ہیں۔

والذین ھم بشھدتھم قآئمون : شہادتوں پر قائم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق کی شہادت نہ چھپاتے ہیں، نہ ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں ، نہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں اور نہ شہادت کی ادائیگی کے وقت اس میں کوئی ہیرا پھیری کرتے ہیں ، کیونکہ یہ سب کام نفاق و کفر کے کام ہیں ۔ ” شہادات ‘ میں ایمان، توحید و رسالت اور لوگوں کے باہمی معاملات، غرض ہر حق بات کی شہادت شامل ہے۔

 یہی لوگ ہیں جو تھڑدلی ، بےصبر اور شدید بخل سے محفوظ ہیں اور انھی کو جنتوں میں عزت عطا ہوگی۔

No comments:

Post a Comment