Tuesday, March 10, 2026

اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ

 آیت ١ اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ ۔ ” یقینا ہم نے اتارا ہے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں۔ “- ” اَنْزَلْنٰـہُ “ کی ضمیر مفعولی کا مرجع بالاتفاق قرآن مجید ہی ہے۔ نوٹ کیجیے ان سورتوں کے مضامین کے اندر ایک ربط پایا جاتا ہے ‘ یعنی پہلی وحی (سورۃ العلق) کے فوراً بعد بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے اس کلام کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ قدر کا معنی تقدیر اور قسمت بھی ہے اور عزت و منزلت بھی ۔ یہاں دونوں معنی مراد لیے جا سکتے ہیں۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو اس رات میں اتارا ہے جو قدر و منزلت کے اعتبار سے بےمثل رات ہے ‘ یا اس رات میں اتارا ہے جو تقدیر ساز ہے۔ سورة الدخان میں اس رات کا ذکر لَیْلَۃ مُبَارَکَۃ کے نام سے آیا ہے : اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ (آیت ٣) یقینا ہم نے نازل کیا ہے اس (قرآن) کو ایک مبارک رات میں “۔ یہ کونسی رات ہے ؟ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (تَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ) (١) ” لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو “۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ ستائیسویں رمضان کی شب ہی لیلۃ القدر ہے۔ لیکن جیسا کہ سورة الفجر کی آیت ٣ کے ضمن میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے ‘ قمری کیلنڈر کی طاق اور جفت راتوں کی گنتی دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً آج ہمارے ہاں جو طاق رات ہے سعودی عرب میں ممکن ہے وہ جفت رات ہو۔ اس لیے لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کا محتاط طریقہ یہی ہے کہ اسے رمضان کے آخری عشرے کی تمام راتوں (جفت اور طاق دونوں) میں تلاش کیا جائے۔ اور اگر واقعی ستائیسویں رمضان کی شب ہی لیلۃ القدر ہے تو اس بارے میں میرا اپنا خیال یہ ہے کہ پھر یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ستائیسویں شب ہے ۔ واللہ اعلم - اس رات میں قرآن نازل کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس رات کو پورا قرآن مجید لوح محفوظ سے حاملین ِوحی فرشتوں کے سپرد کردیا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ٢٣ سال کے دوران میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کی آیات اور سورتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کرتے رہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا اس رات سے ہوئی ۔   

وما ادرک ما لیلۃ القدر : یہ سوال اس رات کی عظمت کے بیان کے لئے ہے، یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسا ہے ہی نہیں جو اس رات کی عظمت جان سکے اور بتا سکے ، یہ جاننا اور بتانا اللہ ہی کا کام ہے۔

آیت ٣  لَیْلَۃَ الْقَدْرِلا خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ ۔ ” لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ “- یہ بہتری اور افضلیت کس اعتبار سے ہے ؟ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس رات کا عمل ِخیر ہزار مہینوں کے عمل ِخیر سے بہتر ہے جس میں لیلۃ القدر نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ) (١) ’ ’ جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ سے اجر کی امید میں کھڑارہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے گئے “۔ اس رات کی افضلیت کے ضمن میں ایک رائے یہ ہے کہ اس ایک رات میں اتنی خیر تقسیم کی جاتی ہے جتنی ایک ہزار مہینہ میں بھی تقسیم نہیں کی جاتی۔ اس رات کی افضلیت کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ انسان کی اصلاح اور فلاح کے لیے جو کام (نزولِ قرآن) اس ایک رات میں ہوا ‘ خیر اور بھلائی کا اتنا بڑا کام کبھی انسانی تاریخ کے کسی طویل زمانے میں بھی نہ ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اہل عرب بڑی کثیر تعداد کا تصور دلانے کے لیے اَلْف (ہزار) کا لفظ بولتے تھے۔

یہاں ہزار مہینوں سے مراد ہزار مہینے کی معینہ مدت نہیں جس کے تراسی سال اور چار مہینے بنتے ہیں۔ اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جب انہیں بہت زیادہ مقدار یا مدت کا اظہار کرنا مقصود ہوتا تو ہزار یعنی الف کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ کیونکہ وہ حساب نہیں جانتے تھے۔ اور ان کے ہاں گنتی کا سب سے بڑا عدد الف یعنی ہزار ہی تھا۔ بلکہ اس سے مراد ایک طویل زمانہ ہے۔ اس وضاحت کے بعد اس آیت کے دو مطلب بیان کیے جاتے ہیں ایک یہ کہ بنی نوع انسان کی خیر و بھلائی کا کام جتنا اس ایک رات میں ہوا (یعنی قرآن نازل ہوا) اتنا کام کسی طویل دور انسانی میں بھی نہیں ہوا تھا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ایک طویل مدت کی عبادت سے بہتر ہے اور اس مطلب کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ (بخاری، کتاب الایمان۔ باب قیام لیلۃ القدر من الایمان) -

 روح سے مراد حضرت جبرائیل ہیں یعنی فرشتے حضرت جبرائیل سمیت، اس رات میں زمین پر اترتے ہیں ان کاموں کو سر انجام دینے کے لیے جن کا فیصلہ اس سال میں اللہ فرماتا ہے۔

آیت ٥ سَلٰــمٌ قف ” سراسر سلامتی ہے۔ “- اس سلامتی کے بہت سے پہلو ہیں ۔ مثلاً اس رات میں لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔- ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۔ ” یہ (رات) رہتی ہے طلوع فجر تک۔

No comments:

Post a Comment