Friday, February 6, 2026
سمندروں کے فوائد
آیت ٤١ (وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا)- سمندری خوراک ہمیشہ سے انسانی زندگی میں بہت اہم رہی ہے۔ دور جدید میں اس کی افادیت مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔- (وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا)- سمندر سے موتی اور بہت سی دوسری ایسی اشیاء نکالی جاتی ہیں جن سے زیورات اور آرائش و زیبائش کا سامان تیار ہوتا ہے۔
پھر ٹھاٹھیں مارنے والے سمندر کو اور تلاطم خیز موجوں کو اپنے مخصوص قوانین کا پابند بنادیا حتیٰ کہ انسان سمندر کے پانی کے اندر اور اوپرتصرف کرنے کے قابل بن گیا۔ ورنہ ایسے وسیع اور مہیب سمندر کے مقابلہ میں بےچارے انسان کی حقیقت ہی کیا تھی۔ اب وہ سمندری جانوروں کا شکار کرکے اپنی غذائی ضروریات بھی فراہم کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سمندر کا پانی تو سخت شور اور کڑوا ہوتا ہے جبکہ اس کے جانوروں اور بالخصوص مچھلی کا گوشت انتہائی لذیذ ہوتا ہے۔ اس میں شور کا اثر نام کو نہیں ہوتا پھر اس سے گھونگے، صدف اور مرجان اور کئی دوسری چیزیں نکال کر اپنے زیور اور آرائش کی چیزیں بھی بناتا ہے پھر کشتیوں اور جہازوں کے ذریعہ سمندر کی پشت پر سوار ہو کر ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک جاپہنچتا ہے اور اس طرح ایک ملک کی چیزیں دوسرے ملک پہنچا کر تجارتی فوائد حاصل کرتا ہے۔ اگر پانی اپنے مخصوص فطری قوانین کا پابند نہ ہوتا یا نہ رہے تو انسان اس سے کبھی ایسے فوائد حاصل نہ کرسکتا تھا۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے تمام اشیاء کے لیے مخصوص قوانین بنا دیئے ہیں جن کی وہ بہرحال پابند رہتی ہیں۔ اس طرح انسان ان سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوجاتا ہے۔
اللہ کا ہر چیز کواندازے سے پیدا کرنا
آیت ٤٩ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ ۔ ” یقینا ہم نے ہرچیز ایک اندازے کے مطابق پیدا کی ‘ ہے۔
یعنی دنیا کی کوئی چیز بھی اَلَل ٹپ نہیں پیدا کر دی گئی ہے ، بلکہ ہر چیز کی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق وہ ایک مقرر وقت پر بنتی ہے ، ایک خاص شکل اختیار کرتی ہے ، ایک خاص حد تک نشو و نما پاتی ہے ، ایک خاص مدت تک باقی رہتی ہے ، اور ایک خاص وقت پر ختم ہو جاتی ہے ۔ اسی عالمگیر ضابطہ کے مطابق خود اس دنیا کی بھی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق ایک وقت خاص تک یہ چل رہی ہے اور ایک وقت خاص ہی پر اسے ختم ہونا ہے ۔ جو وقت اس کے خاتمہ کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے نہ اس سے ایک گھڑی پہلے یہ ختم ہو گی ، نہ اس کے ایک گھڑی بعد یہ باقی رہے گی ۔ یہ نہ ازلی و ابدی ہے کہ ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ قائم رہے ۔ اور نہ کسی بچے کا کھلونا ہے کہ جب تم کہو اسی وقت وہ اسے توڑ پھوڑ کر دکھا دے ۔
آیت ٥٠ وَمَــآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍ م بِالْبَصَرِ ۔ ” اور ہمارا امر تویکبارگی ہوتا ہے ‘ جیسے نگاہ کا لپک جانا۔ “- یعنی اللہ تعالیٰ کا امر بیک دفعہ پلک جھپکنے کی طرح پورا ہوتا ہے۔ اللہ کے امر کی یہ وہی شان ہے جو قرآن میں جگہ جگہ ” کُن فَیکون “ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے ۔ یعنی وہ جب کسی چیز کو حکم دیتا ہے کہ ہو جاتو وہ اس کی مشیت کے مطابق اسی وقت ہوجاتی ہے۔
یعنی قیامت برپا کرنے کے لیے ہمیں کوئی بڑی تیاری نہیں کرنی ہو گی اور نہ اسے لانے میں کوئی بڑی مدت صرف ہو گی ۔ ہماری طرف سے بس ایک حکم صادر ہونے کی دیر ہے ۔ اس کے صادر ہوتے ہی پلک جھپکاتے وہ برپا ہو جائے گی
یعنی جس طرح جنین کی رحم مادر میں پرورش پانے کی مدت اللہ کے ہاں مقرر ہے، اگرچہ اس میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے تاہم ہر ایک جنین کی مدت الگ الگ اللہ کے ہاں مقرر ہے۔ اسی طرح ہر ایک کی موت کی مدت بھی مقرر ہے اور قیامت کے قائم ہونے کی بھی۔ اگرچہ اللہ کے سوا کوئی بھی انہیں جان نہیں سکتا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جب وہ مدت پوری ہوچکتی ہے تو اللہ کے حکم کے مطابق وہ فوراً ظہور پذیر ہوجاتی ہے اور اس میں ایک لمحہ کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ قیامت کا بھی یہی حال ہے جب اللہ کا حکم ہوگا پلک جھپکنے سے بھی پہلے وہ واقع ہوجائے گی۔
قرآن کی خوبیاں اورآسان زبان
آنے والی گھڑی قریب آگئی ہے
ازفۃ قیامت کا ہی صفاتی نام ہے اور ازف میں وقت کی تنگی کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی یہ نہ سمجھو کہ قیامت یا موت کی گھڑی ابھی بہت دور ہے اور سوچنے سمجھنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے۔ انسان کو تو ایک پل کی بھی خبر نہیں اور جس کو موت آگئی بس اس کی قیامت تو اسی وقت قائم ہوگئی۔
یعنی یہ خیال نہ کرو کہ سوچنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے ، کیا جلدی ہے کہ ان باتوں پر ہم فوراً ہی سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور انہیں ماننے کا بلا تاخیر فیصلہ کر ڈالیں ۔ نہیں ، تم میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے لیے زندگی کی کتنی مہلت باقی ہے ۔ ہر وقت تم میں سے ہر شخص کی موت بھی آسکتی ہے ، اور قیامت بھی اچانک پیش آسکتی ہے ۔ اس لیے فیصلے کی گھڑی کو دور نہ سمجھو ۔ جس کو بھی اپنی عاقبت کی فکر کرنی ہے وہ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جائے ۔ کیونکہ ہر سانس کے بعد یہ ممکن ہے کہ دوسرا سانس لینے کی نوبت نہ آئے ۔
آیت ٥٨ لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ ۔ ” نہیں ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی کھولنے والا۔ “- قیامت برپا کرنے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے ۔ گویا اس وقت قیامت کسی کشتی کی طرح ” لنگر انداز “ ہے ‘ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس کا لنگر اٹھا کر اسے برپا کر دے گا۔ پھر یہ کہ اس کے وقوع کا علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔ اللہ کے سوا کوئی کھول کر نہیں بتاسکتا کہ قیامت کب آئے گی۔ اور جب وہ وقت معین آجائے گا تو اللہ کے سوا کوئی اس کو ٹالنے اور دور کرنے پر قادر نہ ہوگا۔
یعنی فیصلے کی گھڑی جب آ جائے گی تو نہ تم اسے روک سکو گے اور نہ تمہارے معبود ان غیر اللہ میں سے کسی کا یہ بل بوتا ہے کہ وہ اس کو ٹال سکے ۔ ٹال سکتا ہے تو اللہ ہی ٹال سکتا ہے ، اور وہ اسے ٹالنے والا نہیں ہے ۔
آیت ٥٩ اَفَمِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ ۔ ” تو کیا تم لوگوں کو اس کلام کے بارے میں تعجب ہورہا ہے ؟ “- ہٰذَا الْحَدِیْثِ سے مراد یہاں قرآن مجید ہے ‘ یعنی کیا تم لوگ قرآن کے بارے میں تعجب کر رہے ہو ؟
اصل میں لفظ ھٰذَا الْحَدِیْث استعمال ہوا ہے جس سے مراد وہ ساری تعلیم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن مجید میں پیش کی جا رہی تھی ۔ اور تعجب سے مراد وہ تعجب ہے جس کا اظہار آدمی کسی انوکھی اور ناقابل یقین بات کو سن کر کیا کرتا ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ یہی کچھ تو ہے جو تم نے سن لی ۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم کان کھڑے کرتے ہو اور حیرت سے اس طرح منہ تکتے ہو کہ گویا کوئی بڑی عجیب اور نرالی باتیں تمہیں سنائی جا رہی ہیں؟
آیت ٦٠ وَتَضْحَکُوْنَ وَلَا تَبْکُوْنَ ۔ ” اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو “
یعنی بجائے اس کے کہ تمہیں اپنی جہالت و گمراہی پر رونا آتا ، تم لوگ الٹا اس صداقت کا مذاق اڑاتے ہو جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ۔
آیت ٦١ وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ۔ ” اور تم خوش فعلیاں کر رہے ہو “
اصل میں لفظ سَامِدُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں ۔ ابن عباس عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں سُمُود کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لیے زور زور سے گانا شروع کر دیتے تھے ۔ دوسرے معنی ابن عباس اور مجاہد نے یہ بیان کیے ہیں کہ السّمود البرْطَمَۃ وھی رفع الراس تکبرا ، کانوا یمرون علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم غضا بامبرطمین ۔ یعنی سُمود تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں ، کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جب گزرتے تو غصے کے ساتھ منہ اوپر اٹھائے ہوئے نکل جاتے تھے ۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں بھی یہی معنی اختیار کیے ہیں ، اور اسی معنی کے لحاظ سے سامدُون کا مفہوم قتادہ نے غافِلون اور سعید بن جبیر نے معرضون بیان کیا ہے ۔
Weeping for the Deceased and its Consequences
Narrated Al-Mughira:
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Ascribing false things to me is not like ascribing false things to anyone else. Whosoever tells a lie against me intentionally then surely let him occupy his seat in Hell-Fire." I heard the Prophet (ﷺ) saying, "The deceased who is wailed over is tortured for that wailing."
Sahih al-Bukhari 1291
In-book reference : Book 23, Hadith 49
It was narrated from Ibn 'Umar, from 'Umar, that the Prophet said: "The deceased is punished due to the weeping of his family for him".
Sunan an-Nasai 1848 (Book 21, Hadith 31)


.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
%20(2).jpg)
.jpg)


.jpg)
.jpeg)