Friday, February 6, 2026

اللہ کا ہر چیز کواندازے سے پیدا کرنا

 آیت ٤٩ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ ۔ ” یقینا ہم نے ہرچیز ایک اندازے کے مطابق پیدا کی ‘ ہے۔

 یعنی دنیا کی کوئی چیز بھی اَلَل ٹپ نہیں پیدا کر دی گئی ہے ، بلکہ ہر چیز کی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق وہ ایک مقرر وقت پر بنتی ہے ، ایک خاص شکل اختیار کرتی ہے ، ایک خاص حد تک نشو و نما پاتی ہے ، ایک خاص مدت تک باقی رہتی ہے ، اور ایک خاص وقت پر ختم ہو جاتی ہے ۔ اسی عالمگیر ضابطہ کے مطابق خود اس دنیا کی بھی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق ایک وقت خاص تک یہ چل رہی ہے اور ایک وقت خاص ہی پر اسے ختم ہونا ہے ۔ جو وقت اس کے خاتمہ کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے نہ اس سے ایک گھڑی پہلے یہ ختم ہو گی ، نہ اس کے ایک گھڑی بعد یہ باقی رہے گی ۔ یہ نہ ازلی و ابدی ہے کہ ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ قائم رہے ۔ اور نہ کسی بچے کا کھلونا ہے کہ جب تم کہو اسی وقت وہ اسے توڑ پھوڑ کر دکھا دے ۔

آیت ٥٠ وَمَــآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍ م بِالْبَصَرِ ۔ ” اور ہمارا امر تویکبارگی ہوتا ہے ‘ جیسے نگاہ کا لپک جانا۔ “- یعنی اللہ تعالیٰ کا امر بیک دفعہ پلک جھپکنے کی طرح پورا ہوتا ہے۔ اللہ کے امر کی یہ وہی شان ہے جو قرآن میں جگہ جگہ ” کُن فَیکون “ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے ۔ یعنی وہ جب کسی چیز کو حکم دیتا ہے کہ ہو جاتو وہ اس کی مشیت کے مطابق اسی وقت ہوجاتی ہے۔

 یعنی قیامت برپا کرنے کے لیے ہمیں کوئی بڑی تیاری نہیں کرنی ہو گی اور نہ اسے لانے میں کوئی بڑی مدت صرف ہو گی ۔ ہماری طرف سے بس ایک حکم صادر ہونے کی دیر ہے ۔ اس کے صادر ہوتے ہی پلک جھپکاتے وہ برپا ہو جائے گی

 یعنی جس طرح جنین کی رحم مادر میں پرورش پانے کی مدت اللہ کے ہاں مقرر ہے، اگرچہ اس میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے تاہم ہر ایک جنین کی مدت الگ الگ اللہ کے ہاں مقرر ہے۔ اسی طرح ہر ایک کی موت کی مدت بھی مقرر ہے اور قیامت کے قائم ہونے کی بھی۔ اگرچہ اللہ کے سوا کوئی بھی انہیں جان نہیں سکتا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جب وہ مدت پوری ہوچکتی ہے تو اللہ کے حکم کے مطابق وہ فوراً ظہور پذیر ہوجاتی ہے اور اس میں ایک لمحہ کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ قیامت کا بھی یہی حال ہے جب اللہ کا حکم ہوگا پلک جھپکنے سے بھی پہلے وہ واقع ہوجائے گی۔

No comments:

Post a Comment