آیت ٣ خَلَقَ الْاِنْسَانَ ۔ ” اسی نے انسان کو بنایا۔ “- اس سلسلے کا تیسرا اہم نکتہ یہ نوٹ کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج انسان ہے۔ انسان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ نے عالم ِامر اور عالم خلق (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : سورة النحل ‘ آیت ٤٠ کی تشریح) دونوں کو جمع فرما دیا ہے ۔ اسی لیے انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا : خَلَقْتُ بِیَدَیَّ (ص : ٧٥) کہ میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔
آیت ٤ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ ۔ ” اس کو بیان سکھایا۔ “- یعنی اسے بولنا سکھایا ‘ اسے گویائی کی صلاحیت بخشی ۔ آیات زیر مطالعہ کے حوالے سے یہاں چوتھا اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان کی صلاحیتوں میں سے جو چوٹی کی صلاحیت ہے وہ قوت بیان (گویائی) ہے۔ آج میڈیکل سائنس کی تحقیق سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انسان کی قوت گویائی کا تعلق اس کے دماغ کی خصوصی بناوٹ سے ہے۔
بولنا وہ امتیازی وصف ہے جو انسان کو حیوانات اور دوسرے ارضی مخلوقات سے ممیز کرتا ہے ۔ یہ محض قوت ناطقہ کام نہیں کر سکتی ۔ اس لیے بولنا دراصل انسان کے ذی شعور اور ذی اختیار مخلوق ہونے کی صریح علامت ہے ۔ اور یہ امتیازی وصف جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمایا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے لئے تعلیم کی نوعیت بھی وہ نہیں ہو سکتی جو بے شعور اور بے اختیار مخلوق کی رہنمائی کے لیے موزوں ہے ۔ اسی طرح انسان کا دوسرا اہم ترین امتیازی وصف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر ایک اخلاقی حِس رکھ دی ہے جس کی وجہ سے وہ فطری طور پر نیکی اور بدی ، حق اور ناحق ، ظلم اور انصاف ، بجا اور بے جا کے درمیان فرق کرتا ہے ، اور یہ وجدان اور احساس انتہائی گمراہی و جہالت کی حالت میں بھی اس کے اندر سے نہیں نکلتا ۔ ان دونوں امتیازی خصوصیات کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان کی شعوری و اختیاری زندگی کے لیے تعلیم کا طریقہ اس پیدائشی طریق تعلیم سے مختلف ہو جس کے تحت مچھلی کو تیرنا اور پرندے کو اڑنا ، اور خود انسانی جسم کے اندر پلک کو جھپکنا ، آنکھ کو دیکھنا ، کان کو سننا ، اور معدے کو ہضم کرنا سکھایا گیا ہے ۔ انسان خود اپنی زندگی کے اس شعبے میں استاد اور کتاب اور مدرسے اور تبلیغ و تلقین اور تحریر و تقریر اور بحث و استدلال جیسے ذرائع ہی کو وسیلہ تعلیم مانتا ہے اور پیدائشی علم و شعور کو کافی نہیں سمجھتا ۔ پھر یہ بات آخر کیوں عجیب ہو کہ انسان کے خالق پر اسکی رہنمائی کی جو ذمی داری عائد ہوتی ہے اسے ادا کرنے کے لیے اس نے رسول اور کتاب کو تعلیم کا ذریعہ بنایا ہے؟ جیسی مخلوق ویسی ہی اس کی تعلیم ۔ یہ سراسر ایک معقول بات ہے بیان جس مخلوق کو
سکھایا گیا ہو اس کے لیے قرآن ہی ذریعہ تعلیم ہو سکتا ہے نہ کہ کوئی ایسا ذریعہ جو ان مخلوقات کے لیے موزوں ہے جنہیں بیان نہیں سکھایا گیا ہے ۔
.jpg)
No comments:
Post a Comment