آیت ٥٤ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَـہَرٍ ۔ ” یقینا متقین باغات اور نہروں (کے ماحول) میں ہوں گے۔ “- یہ مقام ان خوش نصیب لوگوں کو عطا ہوگا جو اپنی دنیا کی زندگی میں اللہ سے ڈرنے والے ‘ آخرت کے خیال سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہنے والے ‘ اللہ کے احکام کی پابندی کرنے والے ‘ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے والے اور اس حوالے سے پھونک پھونک کر قدم رکھنے والے تھے۔
آیت ٥٥ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ ۔ ” بہت اعلیٰ راستی کے مقام میں اس بادشاہ کے پاس جو اقتدارِ مطلق کا مالک ہے۔ “- ان خوش قسمت لوگوں کے مقام و مرتبہ کا ذکر ایسے ہی الفاظ کے ساتھ سورة یونس کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ ط (آیت ٢) ” ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت اونچا مرتبہ ہے “۔ یعنی ان لوگوں کو آخرت میں شہنشاہِ ارض و سما کا خصوصی قرب حاصل ہوگا۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ آمین یاربَّ العَالَمین
.jpg)
No comments:
Post a Comment