ازفۃ قیامت کا ہی صفاتی نام ہے اور ازف میں وقت کی تنگی کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی یہ نہ سمجھو کہ قیامت یا موت کی گھڑی ابھی بہت دور ہے اور سوچنے سمجھنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے۔ انسان کو تو ایک پل کی بھی خبر نہیں اور جس کو موت آگئی بس اس کی قیامت تو اسی وقت قائم ہوگئی۔
یعنی یہ خیال نہ کرو کہ سوچنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے ، کیا جلدی ہے کہ ان باتوں پر ہم فوراً ہی سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور انہیں ماننے کا بلا تاخیر فیصلہ کر ڈالیں ۔ نہیں ، تم میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے لیے زندگی کی کتنی مہلت باقی ہے ۔ ہر وقت تم میں سے ہر شخص کی موت بھی آسکتی ہے ، اور قیامت بھی اچانک پیش آسکتی ہے ۔ اس لیے فیصلے کی گھڑی کو دور نہ سمجھو ۔ جس کو بھی اپنی عاقبت کی فکر کرنی ہے وہ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جائے ۔ کیونکہ ہر سانس کے بعد یہ ممکن ہے کہ دوسرا سانس لینے کی نوبت نہ آئے ۔
آیت ٥٨ لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ ۔ ” نہیں ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی کھولنے والا۔ “- قیامت برپا کرنے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے ۔ گویا اس وقت قیامت کسی کشتی کی طرح ” لنگر انداز “ ہے ‘ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس کا لنگر اٹھا کر اسے برپا کر دے گا۔ پھر یہ کہ اس کے وقوع کا علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔ اللہ کے سوا کوئی کھول کر نہیں بتاسکتا کہ قیامت کب آئے گی۔ اور جب وہ وقت معین آجائے گا تو اللہ کے سوا کوئی اس کو ٹالنے اور دور کرنے پر قادر نہ ہوگا۔
یعنی فیصلے کی گھڑی جب آ جائے گی تو نہ تم اسے روک سکو گے اور نہ تمہارے معبود ان غیر اللہ میں سے کسی کا یہ بل بوتا ہے کہ وہ اس کو ٹال سکے ۔ ٹال سکتا ہے تو اللہ ہی ٹال سکتا ہے ، اور وہ اسے ٹالنے والا نہیں ہے ۔
آیت ٥٩ اَفَمِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ ۔ ” تو کیا تم لوگوں کو اس کلام کے بارے میں تعجب ہورہا ہے ؟ “- ہٰذَا الْحَدِیْثِ سے مراد یہاں قرآن مجید ہے ‘ یعنی کیا تم لوگ قرآن کے بارے میں تعجب کر رہے ہو ؟
اصل میں لفظ ھٰذَا الْحَدِیْث استعمال ہوا ہے جس سے مراد وہ ساری تعلیم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن مجید میں پیش کی جا رہی تھی ۔ اور تعجب سے مراد وہ تعجب ہے جس کا اظہار آدمی کسی انوکھی اور ناقابل یقین بات کو سن کر کیا کرتا ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ یہی کچھ تو ہے جو تم نے سن لی ۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم کان کھڑے کرتے ہو اور حیرت سے اس طرح منہ تکتے ہو کہ گویا کوئی بڑی عجیب اور نرالی باتیں تمہیں سنائی جا رہی ہیں؟
آیت ٦٠ وَتَضْحَکُوْنَ وَلَا تَبْکُوْنَ ۔ ” اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو “
یعنی بجائے اس کے کہ تمہیں اپنی جہالت و گمراہی پر رونا آتا ، تم لوگ الٹا اس صداقت کا مذاق اڑاتے ہو جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ۔
آیت ٦١ وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ۔ ” اور تم خوش فعلیاں کر رہے ہو “
اصل میں لفظ سَامِدُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں ۔ ابن عباس عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں سُمُود کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لیے زور زور سے گانا شروع کر دیتے تھے ۔ دوسرے معنی ابن عباس اور مجاہد نے یہ بیان کیے ہیں کہ السّمود البرْطَمَۃ وھی رفع الراس تکبرا ، کانوا یمرون علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم غضا بامبرطمین ۔ یعنی سُمود تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں ، کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جب گزرتے تو غصے کے ساتھ منہ اوپر اٹھائے ہوئے نکل جاتے تھے ۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں بھی یہی معنی اختیار کیے ہیں ، اور اسی معنی کے لحاظ سے سامدُون کا مفہوم قتادہ نے غافِلون اور سعید بن جبیر نے معرضون بیان کیا ہے ۔
.jpg)
No comments:
Post a Comment