Wednesday, February 25, 2026

زمین کے پیٹ میں بیج کے تخلیقی مراحل

 آیت ٦٣ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ” کیا تم نے کبھی غور کیا کہ یہ بیج جو تم بوتے ہو ؟ “- تم لوگ تو بیج کو مٹی میں دبا کر آجاتے ہو ۔ اس کے بعد تم کیا جانو کہ وہ بیج کس کس مرحلے سے گزرتا ہے ‘ کس طرح اس کی جڑیں نکل کر زمین میں پیوست ہوتی ہیں اور کس طرح اس کی کو نپلیں زمین کو پھاڑ کر باہر نکلتی ہیں

آیت ٦٤ ئَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ” کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں ؟ “- یہاں ہماری زبانوں پر بےاختیار یہ الفاظ آجانے چاہئیں : بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ کہ نہیں اے ہمارے پروردگار اسے تو ہی اگاتا ہے ‘ اس میں ہمارا کچھ بھی اختیار نہیں علامہ اقبال کی نظم اَلْاَرْضُ لِلّٰہ کے درج ذیل اشعار میں ان ہی آیات کے اسلوب اور مضمون کی جھلک نظر آتی ہے : ؎- پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون ؟- کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟- کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار ؟- خاک یہ کس کی ہے ‘ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟- کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب ؟- موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب ؟- دہ خدایا یہ زمین تیری نہیں ‘ تیری نہیں - تیرے آباء کی نہیں ‘ تیری نہیں ‘ میری نہیں - یعنی یہ زمین ‘ یہ کائنات ‘ کائنات کا پورا نظام یہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے اور اسی کی قدرت و مشیت سے اس کائنات کا یہ نظام چل رہا ہے۔

آیت٦٥ لَـوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنٰہُ حُطَامًا ” اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں “- اگر ہم چاہیں تو کسی آسمانی آفت ‘ طوفان ‘ جھکڑ یا ژالہ باری سے تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری لہلہاتی فصلوں کو برباد کر کے رکھ دیں۔- فَظَلْتُمْ تَفَکَّہُوْنَ ” پھر تم بیٹھے رہو باتیں بناتے ہوئے۔ “

No comments:

Post a Comment