Saturday, March 7, 2026
ہر چیز کی تسبیح کا مفہوم
آیت ١ سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ” تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ “- ان سورتوں (المُسَبِّحات) کا یہ مضمون بہت اہم ہے۔ آگے چل کر سورة الحشر اور سورة الصف میں یہ آیت ” مَا فِیْ “ کے اضافے کے ساتھ اس طرح آئے گی : سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِج اور پھر سورة الجمعہ اور سورة التغابن میں مزید ُ پرزور انداز میں فعل مضارع کے ساتھ یوں آئے گا : یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ۔ کائنات کی ہرچیز کس طرح اللہ کی تسبیح کرتی ہے ؟ اس کی ایک صورت تو ” تسبیح حالی “ کی ہے جو ہماری سمجھ میں آتی ہے کہ ہرچیز اپنی زبان حال سے اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ اس کی مثال ایک تصویر ہے جو اپنے مصور کے کمال فن یا عدم مہارت پر دلالت کرتی ہے ۔ چناچہ جس طرح ایک خوبصورت تصویر زبان حال سے اپنے مصور کی تعریف کرتی نظر آتی ہے اسی طرح اس کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ میرا پیدا کرنے والا ‘ میرا صانع ‘ میرا خالق ‘ میرا مصور ہر عیب سے پاک ‘ ہر نقص سے بالا اور ہر لحاظ سے کامل و اکمل ہے ‘ اس کے علم ‘ اس کی قدرت اور اس کی حکمت میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے۔ دوسری صورت ” زبانی تسبیح “ کی ہے جو کہ خود قرآن مجید سے ثابت ہے۔ سورة حٰمٓ السَّجدۃ کی آیات ٢٠ اور ٢١ میں قیامت کے اس منظر کا ذکر ہے جب انسانوں کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دے رہے ہوں گے۔ اس پر وہ لوگ حیرت سے اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ جواب میں ان کی کھالیں کہیں گی : اَنْقَطَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْئٍ (آیت ٢١) کہ آج اس اللہ نے ہمیں بھی زبان دے دی ہے جس نے ہر شے کو زبان دی ہے۔ اس کے علاوہ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو اپنی تسبیح کے لیے ایک طریقہ تفویض کر رکھا ہے : - تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَّ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ (آیت ٤٤)- ” اسی کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور (وہ تمام مخلوق بھی ) جو ان میں ہے۔ اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ تسبیح کرتی ہے اس کی حمد کے ساتھ ‘ لیکن تم نہیں سمجھ سکتے ان کی تسبیح کو۔ “- بہرحال کائنات کی ہرچیز اپنی زبان حال سے بھی اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اور اللہ کی عطا کردہ اپنی مخصوص زبان سے بھی اس کی تعریف و توصیف میں مشغول و مصروف ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تسبیح کی اور صورتیں بھی ہوسکتی ہیں جو کہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔- وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ ” اور وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔ “- ان سورتوں میں اللہ تعالیٰ کے یہ دو اسماء اکٹھے ایک ساتھ بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کا یہ جوڑا معنوی اعتبار سے بہت اہم ہے ۔ العزیز وہ ہستی ہے جس کا اختیار مطلق ہو ۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانی سطح پر مطلق العنانیت کا تجربہ ہمیشہ بہت تلخ رہا ہے۔ عملی طور پر ہمارے ہاں ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ جہاں مطلق العنانیت آتی ہے ‘ وہاں اختیارات کا ناجائز استعمال ضرور ہوتا ہے۔ بلکہ پولیٹیکل سائنس کا تو اس حوالے سے آزمودہ فارمولا یہ ہے : - " . "- چنانچہ جب کسی ملک کا آئین بنایا جاتا ہے اور معاشرے کے لیے قوانین وضع کیے جاتے ہیں تو متعلقہ ماہرین کی ساری کوشش اختیارات کو مشروط کرنے اور ان میں توازن قائم کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ایسی صاحب اختیار ہستی ہے جس کے اختیارات کی نہ تو کوئی حد ہے اور نہ ہی اس کے اختیارات کسی شرط سے مشروط ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ” الحکیم “ بھی ہے۔ وہ اپنے مطلق اختیارات میں خود ہی اپنی حکمت سے توازن قائم رکھتا ہے۔ چناچہ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ زبردست ہے ‘ وہ اپنی تمام مخلوقات پر غالب ہے ‘ اس کے اختیارات مطلق ہیں ‘ لیکن اس کا کوئی کام ‘ اس کا کوئی عمل اور اس کا کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
The Blessings of Ramadan
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger ﷺ said, "When the month of Ramadan starts, the gates of the heaven are opened and the gates of Hell are closed and the devils are chained".
Sahih al-Bukhari 1899 (Book 30, Hadith 9)
The Reward of Fasting
Narrated Sahl: The Prophet ﷺ said, "There is a gate in Paradise called Ar-Raiyan, and those who observe fasts will enter through it on the Day of Resurrection and none except them will enter through it. It will be said, 'Where are those who used to observe fasts?' They will get up, and none except them will enter through it. After their entry the gate will be closed and nobody will enter through it".
Sahih al-Bukhari 1896 (Book 30, Hadith 6)
Abstaining From Evil During Fasting
Narrated Abu Huraira: The Prophet ﷺ said, "Whoever does not give up forged speech and evil actions, Allah is not in need of his leaving his food and drink (ie Allah will not accept his fasting)."
Sahih al-Bukhari 1903 (Book 30, Hadith 13)
The Shield of Fasting
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger ﷺ said, "Fasting is a shield (or a screen or a shelter). So, the person observing fasting should avoid sexual relation with his wife and should not behave foolishly and impudently, and if somebody fights with him or abuses him, he should tell him twice, 'I am fasting". The Prophet ﷺ added, "By Him in Whose Hands my soul is, the smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. (Allah says about the fasting person), 'He has left his food, drink and desires for My sake. The fast is for Me. So I will reward (the fasting person) for it and the reward of good deeds is multiplied ten times".
Sahih al-Bukhari 1894 (Book 30, Hadith 4)
Working Hard During Ramadan
Narrated Aisha: With the start of the last ten days of Ramadan, the Prophet ﷺ used to tighten his waist belt (ie work hard) and used to pray all the night, and used to keep his family awake for the prayers.
Sahih al-Bukhari 2024 (Book 32, Hadith 11)
Hastening to Break Fast
Narrated Sahl bin Sa'd: Allah's Messenger ﷺ said, "The people will remain on the right path as long as they hasten the breaking of the fast".
Sahih al-Bukhari 1957 (Book 30, Hadith 64)
Friday, February 27, 2026
کلمہ کن فیکون کی صورت
Thursday, February 26, 2026
عالم نزع کی بےبسی
آیت ٨٣ فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ ۔ ” تو کیوں نہیں ‘ جب جان حلق میں آ (کر پھنس) جاتی ہے۔ “
آیت ٨٤ وَاَنْتُـمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَ ۔ ” اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو۔ “- ان آیات میں ایک انسان کے وقت ِنزع کی کیفیت کا عبرت انگیز نقشہ پیش کر کے دعوت فکر دی گئی ہے کہ ذرا سوچو جب تم میں سے کسی کی جان حلق میں پھنسی ہوتی ہے۔ تم اس وقت کا تصور کرو جب تم میں سے کسی کے بیٹے ‘ کسی کے بھائی ‘ کسی کے والد ‘ کسی کی والدہ یا کسی کی بیوی پر نزع کا عالم طاری ہوتا ہے اور وہ بےبسی کی تصویر بنے اپنے اس عزیز کی اس کیفیت کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
آیت ٨٥ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ ۔ ” اور ہم تمہارے مقابلے میں اس سے قریب تر ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں پاتے ۔ “- یہ تو تخصیص کے ساتھ عالم نزع کی کیفیت کا ذکر ہے لیکن اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر بندے کے ساتھ ہوتا ہے ‘ جیسا کہ سورة قٓ میں فرمایا گیا ہے : وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ۔ ” اور ہم تو انسان کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں۔ “
آیت ٨٦ ‘ ٨٧ فَلَوْلَآ اِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ (رض) تَرْجِعُوْنَہَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ ” تو اگر تم کسی کے اختیار میں نہیں ہو تو اس (جان) کو لوٹا کیوں نہیں لیتے اگر تم سچے ہو ؟ “- یہاں الفاظ کی ترتیب اس طرح ہے کہ ان دونوں آیات کو ملانے سے ایک فقرہ مکمل ہوتا ہے۔ قرآن کے خصوصی اسلوب کی وجہ سے لَوْلَا پہلی آیت کے شروع میں آگیا ہے ‘ لیکن اس کا مفہوم دوسری آیت کے ساتھ ملنے سے واضح ہوتا ہے۔ چناچہ مفہوم کی وضاحت کے لیے یوں سمجھیں کہ ان دونوں آیات میں الفاظ کی اصل ترتیب یوں ہے : فَاِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ ‘ لَوْلَا تَرْجِعُوْنَہَا اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ؟ کہ تم لوگ آئے دن اپنے عزیز و اقارب کی اموات کا مشاہدہ کرتے رہتے ہو ۔ تم میں سے جب کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو تم سب مل کر بھی اور اپنے تمام وسائل استعمال میں لا کر بھی اس کو بچا نہیں پاتے ہو۔ اس معاملے میں تمہارے بڑے بڑے صاحب اختیار و اقتدار لوگ بھی بالکل بےبس ہوجاتے ہیں۔ شاہی اطباء اور ماہر ڈاکٹرز کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور بادشاہ سلامت ان کی آنکھوں کے سامنے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ تم لوگ دعویٰ کرتے ہو کہ تم خود ہی پیدا ہوتے ہو اور خود ہی مرتے ہو اور تمہاری زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں نہیں ہے۔ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو اپنے پیاروں کو موت کے منہ میں جاتے دیکھ کر بےبسی کی تصویر بن کر کیوں رہ جاتے ہو ؟ اپنے وسائل کو استعمال میں لا کر انہیں بچا کیوں نہیں لیتے ہو ؟- اس کے بعد اگلی آیات میں ان تین گروہوں کی جزا و سزا کا تذکرہ ہے جن کا ذکر سورة کے آغاز میں ہوا تھا۔
Wednesday, February 25, 2026
قرآن
آیت ٧٧ اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ ” یقینا یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔ “- یہاں پر ہم میں سے ہر شخص کو پوری دیانت داری سے اپنا جائزہ لیناچاہیے کہ اس نے اپنی حد تک قرآن مجید کی کیا قدر کی ہے اور کس حد تک اس کے حقوق پورے کیے ہیں ؟ بہرحال جہاں تک ان حقوق کی ادائیگی کا تعلق ہے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کسی انسان کو ہزاروں زندگیاں مل جائیں اور وہ انہیں ” قرآن “ کے لیے وقف کر دے ‘ تب بھی قرآن کا حق ادا نہیں ہو سکے گا۔
آیت ٧٨ فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ ” ایک چھپی ہوئی کتاب میں ۔ “- یہ قرآن کریم ایک پوشیدہ کتاب میں محفوظ ہے۔ سورة الزخرف کی آیت ٤ میں اس کتابٍ مَّکْنُوْنٍ کو اُمِّ الْـکِتَاب کا نام دیا گیا ہے : وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْـکِتٰبِ لَدَیْنَا لَـعَلِیٌّ حَکِیْمٌ ۔ ” اور یہ اُمّ الکتاب میں ہے ہمارے پاس بہت بلند وبالا ‘ بہت حکمت والی “ جبکہ سورة البروج میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : بَلْ ھُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ - فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ۔ ” بلکہ یہ قرآن عظیم الشان (کتاب) ہے۔ لوحِ محفوظ میں (لکھا ہوا) ۔ “
آیت ٧٩ لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ ” اسے چھو نہیں سکتے مگر وہی جو بالکل پاک ہیں۔ “- یعنی اسے فرشتے ہی چھو سکتے ہیں جو بالکل پاک مخلوق ہے ۔ جیسا کہ قرآن مجید کی عظمت کے ضمن میں سورة عبس میں فرمایا گیا ہے : کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ - فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہٗ - فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ - مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍم - بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ - کِرَامٍم بَرَرَۃٍ ۔ ” ہرگز نہیں ‘ یہ تو ایک نصیحت ہے۔ پس جو کوئی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو باعزت ہیں ‘ بلند مرتبہ ہیں ‘ پاکیزہ ہیں۔ ایسے کاتبوں کے ہاتھوں میں ہیں جو معزز اور نیک ہیں۔ “- آیت زیر مطالعہ میں الْمُطَہَّرُوْنَسے مراد فرشتے ہیں اور یَمَسُّہٗ میں ہٗ کی ضمیر کا تعلق ” کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ “ سے ہے۔ مَوٰقِعِ النُّجُوم کی قسم کا مقسم علیہ یہ ہے کہ یہ ایک نہایت باعزت اور برتر کلام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک محفوظ کتاب میں ہے ‘ جس تک اس کے پاک فرشتوں کے سوا کسی کی بھی رسائی نہیں۔ یعنی اس کو صرف ملائکہ مقربین ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں ‘ جنات اور شیاطین وہاں پھٹک بھی نہیں سکتے۔ - فقہاء نے اس آیت سے یہ حکم بھی استنباط کیا ہے کہ قرآن مجید کو ناپاکی کی حالت میں چھونے کی اجازت نہیں ہے۔ اس بارے میں فقہاء کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید کو چھونے اور چھوکر پڑھنے کے لیے وضو ضروری ہے ‘ جبکہ زبانی تلاوت بغیر وضو بھی کی جاسکتی ہے ‘ البتہ جنابت کی حالت میں قرآن مجید کے الفاظ کو زبانی پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ - اس کے علاوہ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ قرآن کے اصل لب لباب تک پہنچنے اور اس کی ہدایت سے مستفیض ہونے کے لیے باطنی صفائی ضروری ہے ۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے قرآن کے ظاہر اور باطن کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے ۔ جس طرح ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں پڑھتے ہیں : ہُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُج (الحدید : ٣) ” کہ وہ اول بھی ہے ‘ آخر بھی ہے ‘ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ہے “۔ اسی طرح قرآن کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ قرآن کا ظاہر اس کی عبارت اور اس کے الفاظ ہیں۔ جہاں تک قرآن کے اس ظاہر کا تعلق ہے ہر عربی دان شخص اس کے معانی و مطالب کو سمجھ سکتا ہے اور اس کی صرف و نحو پر بحث کرسکتا ہے۔ اس اعتبار سے کئی ایسے غیر مسلموں کی مثالیں بھی موجود ہیں جنہوں نے عربی میں مہارت حاصل کر کے قرآن کے تراجم کیے اور تفسیریں لکھیں۔ لیکن ایسے لوگ قرآن کے باطن تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے ۔ اقبال نے اسی مفہوم میں ایسی ہی بات بندئہ مومن کے بارے میں کہی ہے :- فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا - ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے - اقبال نے اس شعر میں بندئہ مومن کے وجود کے مرکز کا ذکر کیا ہے۔ بالکل اسی مفہوم میں قرآن مجید کا بھی ” مرکز “ ہے۔ قرآن کے مرکز سے مراد اس کی روح باطنی ‘ اس کی ہدایت ‘ اس کا اصل علم اور اس کا لب لباب ہے۔ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ اس حقیقت کی طرف ہماری راہنمائی کرتی ہے کہ قرآن مجید کے مرکز ( ) تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تزکیہ باطنی ضروری ہے۔ اس تزکیہ باطنی کا ذکر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی اس دعا میں بھی ہے : - رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ - (البقرۃ : ١٢٩)- ” پروردگار ان لوگوں میں اٹھائیو ایک رسول خود انہی میں سے جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔ “ - یہاں پر یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اس دعا میں تعلیم کتاب و حکمت کا ذکر پہلے کیا اور تزکیہ کو آخر پر رکھا ‘ لیکن جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے ان ہی چار امور کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو ترتیب بدل دی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تین مقامات (البقرۃ : ١٥١ ‘ آل عمران : ١٦٤ ‘ الجمعہ : ٢) پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ان ذمہ داریوں کا ذکر کیا اور تینوں مقامات پر تزکیہ کا ذکرتعلیم کتاب و حکمت سے پہلے کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن مجید کی روح باطنی تک رسائی کا طالب ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دل کو تکبر ‘ حسد ‘ حب ِدُنیا سمیت تمام خباثتوں سے پاک کرے ‘ ورنہ قرآن مجید کا نور اس کے باطن میں کبھی سرایت نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کا اصل فہم اس پر کبھی منکشف ہوگا ‘ اگرچہ بظاہر وہ قرآن کا بہت بڑا مفسر ہی کیوں نہ بن جائے۔ تزکیہ باطن کے حوالے سے یہاں سورة یونس کی آیت ٥٧ کا پیغام بھی ذہن میں تازہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کو انسانی دل کی تمام باطنی امراض کے لیے شفا قرار دیا ہے : - یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِلا وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ - ” اے لوگو آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں (کے اَمراض ) کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور (بہت بڑی) رحمت۔ “
آیت ٨٠ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ” اس کا اتارا جانا ہے ربّ العالمین کی جانب سے۔ “-
جو آگ تم سلگاتے ہو
آیت ٧١ اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ ” کبھی تم نے سوچا کہ وہ آگ جو تم جلاتے ہو ؟ “
آیت ٧٢ ئَ اَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَہَآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ ” کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے ‘ یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟ “- بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ نوٹ کیجیے پے درپے سوالات کا یہ تیکھا اسلوب پورے قرآن میں اور کہیں نہیں ہے۔
آیت ٧٣ نَحْنُ جَعَلْنٰہَا تَذْکِرَۃً وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَ ” ہم نے بنا دیا اس کو ایک نشانی یاد دلانے کو اور ایک بہت فائدہ مند چیز صحرا کے مسافروں کے لیے ۔ “- جیسا کہ سورة یٰسین کی آیت ٨٠ کے ضمن میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے ‘ بعض صحرائوں میں ایسے درخت پائے جاتے ہیں جن کی سبز گیلی شاخوں کو آپس میں رگڑنے سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ یہاں پر شَجَرَتَہَآ سے وہ مخصوص درخت بھی مراد ہے اور عام درخت بھی۔ کیونکہ درختوں کی لکڑی آگ جلانے کا ایک بہت بڑاذریعہ ہے۔ اور یہ درخت ظاہر ہے اللہ نے پیدا کیے ہیں اور اسی نے ان میں جلنے کی خصوصیت رکھی ہے۔
اس آگ کو یاد دہانی کا ذریعہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ چیز ہے جو ہر وقت روشن ہو کر انسان کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے ۔ اگر آگ نہ ہوتی تو انسان کی زندگی حیوان کی زندگی سے مختلف نہ ہو سکتی ۔ آگ ہی سے انسان نے حیوانات کی طرح کچی غذائیں کھانے کے بجائے ان کو پکا کر کھانا شروع کیا اور پھر اس کے لیے صنعت و ایجاد کے نئے نئے دروازے کھلتے چلے گئے ۔ ظاہر ہے کہ اگر خدا وہ ذرائع پیدا نہ کرتا جن سے آگ جلائی جا سکے ، اور وہ آتش پذیر مادے پیدا نہ کرتا جو آگ سے جل سکیں ، تو انسان کی ایجادی صلاحیتوں کا قفل ہی نہ کھلتا ۔ مگر انسان یہ بات فراموش کر گیا ہے کہ اس کا خالق کوئی پروردگار حکیم ہے جس نے اسے ایک طرف انسانی قابلیتیں دے کر پیدا کیا تو دوسری طرف زمین میں وہ سرو سامان بھی پیدا کر دیا جس سے اس کی یہ قابلیتیں رو بعمل آ سکیں ۔ وہ اگر غفلت میں مد ہوش نہ ہو تو تنہا ایک آگ ہی اسے یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ کس کے احسانات اور کس کی نعمتیں ہیں جن سے وہ دنیا میں متمتع ہو رہا ہے ۔ سورة الْوَاقِعَة حاشیہ نمبر :34 اصل میں لفظ مُقْوِیْن استعمال کیا گیا ہے ۔ اس کے مختلف معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں ۔ بعض اسے صحرا میں اترے ہوئے مسافروں کے معنی میں لیتے ہیں ۔ بعض اس کے معنی بھوکے آدمی کے لیتے ہیں ۔ اور بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو آگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، خواہ وہ کھانا پکانے کا فائدہ ہو یا روشنی کا یا تپش کا
زمین کے پیٹ میں بیج کے تخلیقی مراحل
آیت ٦٣ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ” کیا تم نے کبھی غور کیا کہ یہ بیج جو تم بوتے ہو ؟ “- تم لوگ تو بیج کو مٹی میں دبا کر آجاتے ہو ۔ اس کے بعد تم کیا جانو کہ وہ بیج کس کس مرحلے سے گزرتا ہے ‘ کس طرح اس کی جڑیں نکل کر زمین میں پیوست ہوتی ہیں اور کس طرح اس کی کو نپلیں زمین کو پھاڑ کر باہر نکلتی ہیں
آیت ٦٤ ئَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ” کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں ؟ “- یہاں ہماری زبانوں پر بےاختیار یہ الفاظ آجانے چاہئیں : بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ کہ نہیں اے ہمارے پروردگار اسے تو ہی اگاتا ہے ‘ اس میں ہمارا کچھ بھی اختیار نہیں علامہ اقبال کی نظم اَلْاَرْضُ لِلّٰہ کے درج ذیل اشعار میں ان ہی آیات کے اسلوب اور مضمون کی جھلک نظر آتی ہے : ؎- پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون ؟- کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟- کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار ؟- خاک یہ کس کی ہے ‘ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟- کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب ؟- موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب ؟- دہ خدایا یہ زمین تیری نہیں ‘ تیری نہیں - تیرے آباء کی نہیں ‘ تیری نہیں ‘ میری نہیں - یعنی یہ زمین ‘ یہ کائنات ‘ کائنات کا پورا نظام یہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے اور اسی کی قدرت و مشیت سے اس کائنات کا یہ نظام چل رہا ہے۔
آیت٦٥ لَـوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنٰہُ حُطَامًا ” اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں “- اگر ہم چاہیں تو کسی آسمانی آفت ‘ طوفان ‘ جھکڑ یا ژالہ باری سے تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری لہلہاتی فصلوں کو برباد کر کے رکھ دیں۔- فَظَلْتُمْ تَفَکَّہُوْنَ ” پھر تم بیٹھے رہو باتیں بناتے ہوئے۔ “
Saturday, February 21, 2026
ہر شخص کی موت کا وقت مقرر ہے
آیت ٦٠ : نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّـبَدِّلَ اَمْثَالَـکُمْ ” ہم نے تمہارے مابین موت کو ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری مثل بدل کر لائیں “- یہ مقام بھی مشکلات القرآن میں سے ہے۔ بہرحال اس کی ایک توجیہہ جو میری سمجھ میں آتی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہاں دو انسانی زندگیوں اور ان کے درمیان طے شدہ موت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی ایک دنیا کی زندگی ہے اور دوسری آخرت کی زندگی اور درمیان میں اللہ تعالیٰ نے موت کا پردہ حائل کردیا ہے۔ موت کی اس سرحد کے اس طرف بھی تم ہو اور دوسری طرف بھی تم ہو۔ گویا موت کے وقفے کے بعد زندگی کا تسلسل پھر سے بحال ہوجائے گا۔ بقول شاعر ؎- موت اِک زندگی کا وقفہ ہے - یعنی آگے چلیں گے دم لے کر - یہاں سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم تو مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے ‘ جبکہ اس کی روح کو موت نہیں آتی ‘ روح زندہ رہتی ہے۔ قیامت میں انسان کو جس جسم کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا وہ بعینہٖ اس کا دنیا والا جسم نہیں ہوگا ‘ بلکہ ” اس جیسا “ جسم ہوگا۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی سمجھنے کا ہے کہ انسان کا دنیوی زندگی والا جسم تو اس زندگی میں بھی مسلسل بدلتا رہتا ہے ۔ زندہ جسم کے اربوں خلیے مسلسل ختم ہوتے رہتے ہیں اور ایسے ہی نئے خلیے مسلسل بنتے رہتے ہیں۔ جلد کی جھلی بھی بدلتی رہتی ہے اور ناخن بھی لگاتار گھستے اور نئے بنتے رہتے ہیں۔ اس عمل کو ذہن میں رکھیں تو یہ حقیقت بخوبی سمجھ میں آجاتی ہے کہ ایک انسان کا چند سال پہلے جو جسم تھا آج اس کا جسم وہ نہیں ہے اور جو جسم اس کا آج ہے چند سال بعد بعینہٖ یہ نہیں رہے گا۔ چناچہ جب انسان کا جسم مسلسل تبدیل ہو رہا ہے تو آخرت میں اسے بعینہٖ دنیا والا جسم ملنا ویسے ہی بعید از قیاس ہے۔ اگر وقتی طور پر یہ فرض کرلیا جائے کہ انسان کو آخرت میں دنیا والا جسم ملے گا تو پھر اس سوال کا جواب بھی دینا پڑے گا کہ وہ اس کا کون سا جسم ہوگا ؟ بیس برس کی عمر والا ؟ چالیس سال کی عمر والا ؟ یا ساٹھ سال کی عمر والا ؟ لہٰذا یہ بات عقل اور منطق ہی کے خلاف ہے کہ انسان کو دوبارہ دنیا والے جسم کے ساتھ زندہ کیا جائے گا۔ - چناچہ آخرت میں انسان کو دنیا کے جسم جیسا جسم دیا جائے گا اور اس کی روح کو اس کے اس جسم سے ملا کر اسے نئی زندگی بخشی جائے گی۔ یہ مضمون قرآن میں تین مقامات (بنی اسرائیل : ٩٩ ‘ یٰسٓ: ٨١ ‘ الدھر : ٢٨) پر آیا ہے۔ بہرحال دوبارہ زندہ ہونے کے بعد انسان کی جان اور روح جب نئے جسم میں منتقل ہوجائے گی تو اس کے شعور اور اس کی یادداشت کا دنیوی تسلسل بعینہٖ بحال کردیا جائے گا۔ دنیا میں وہ کیا تھا ؟ وہاں اس نے کب کیا کیا تھا ؟ زندہ ہوتے ہی اسے سب کچھ یاد آجائے گا۔ کیونکہ دنیوی زندگی کے دوران اس کا جسم تو بدلتا رہا تھا لیکن اس کے شعور ذات کا تسلسل بغیر کسی خلل کے آخر تک برقرار رہا تھا۔ اس لیے وہ سلسلہ موت کے باعث جہاں سے ٹوٹا تھا عین وہیں سے اسے جوڑ دیا جائے گا ۔ چناچہ ان آیات کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ اے لوگو تمہاری دو زندگیوں کے درمیان ہم نے ہی موت کا پردہ حائل کر رکھا ہے ‘ تو کیا ہم اس پر قادر نہیں ہیں کہ تم جیسے وجود دوبارہ پیدا کردیں۔- وَنُنْشِئَـکُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ ” اور تمہیں ایسی تخلیق میں اٹھائیں جسے تم نہیں جانتے “- اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ تمہیں ہم ایسے عالم میں اٹھا کھڑا کریں گے جس کی کیفیت سے آج تم واقف نہیں ہو یعنی عالم آخرت میں۔
%20(3).jpg)

.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)







.jpg)
.jpg)

.jpg)
.jpg)
.jpg)



.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)

.jpg)
.jpg)
.jpg)