Wednesday, April 1, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

شہد کی مکھی

The Importance of Praying Correctly

Narrated Zaid bin Wahb: Hudhaifa saw a person who was not performing the bowing and prostration perfectly. He said to him, "You have not prayed and if you should die you would die on a religion other than that of Muhammad".

Sahih al-Bukhari 791 (Book 10, Hadith 186)

QUICK LESSONS:
Pray correctly according to teachings of Prophet Muhammed
EXPLANATIONS:

This hadith emphasizes the importance of praying correctly and following the religion of Prophet Muhammad. It is narrated by Zaid bin Wahb that Hudhaifa saw a person who was not performing bowing and prostration perfectly. He warned him that if he should die, he would die on a religion other than that of Prophet Muhammad's. This hadith teaches us to be mindful when we are performing our prayers, as it is an important part in our faith and relationship with Allah SWT. We must strive to perfect our prayer so that we can be sure we are following the teachings of Prophet Muhammad properly. Additionally, this hadith also reminds us to stay true to our faith and not stray away from it, as it will have consequences in both this life and hereafter.

اللہ کو پکارا

قرآن کی عظمت

اللہ کو بھولنے کا لازمی نتیجہ

  یعنی خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے ۔ جب آدمی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کسی کا بندہ ہے تو لازماً وہ دنیا میں اپنی ایک غلط حیثیت متعین کر بیٹھتا ہے اور اس کی ساری زندگی اسی بنیادی غلط فہمی کے باعث غلط ہو کر رہ جاتی ہے ، اسی طرح جب وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے تو وہ اس ایک کی بندگی تو نہین کرتا جس کا وہ درحقیقیت بندہ ہے ، اور ان بہت سوں کی بندگی کرتا رہتا ہے جن کا وہ فی الواقع بندہ نہیں ہے ۔ یہ پھر ایک عظیم اور ہمہ گیرغلط فہمی ہے جو اس کی ساری زندگی کو غلط کر کے رکھ دیتی ہے ۔ انسان کا اصل مقام دنیا میں یہ ہے کہ وہ بندہ ہے ، آزاد و خود مختار نہیں ہے ۔ اور صرف ایک خدا کا بندہ ہے ، اس کے سوا کسی اور کا بندہ نہیں ہے ۔ جو شخص اس بات کو نہیں جانتا وہ حقیقت میں خود اپنے آپ کو نہیں جانتا ۔ اور جو شخص اس کے جاننے کے باوجود کسی لمحہ بھی اسے فراموش کر بیٹھتا ہے اسی لمحے کوئی ایسی حرکت اس سے سرزد ہو سکتی ہے جو کسی منکر یا مشرک ، یعنی خود فراموش انسان ہی کے کرنے کی ہوتی ہے ، صحیح راستے پر انسان کے ثابت قدم رہنے کا پورا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے خدا یاد رہے ۔ اس سے غافل ہوتے ہی وہ اپنے آپ سے غافل ہو جاتا ہے ، اور یہی غفلت اسے فاسق بنا دیتی ہے ۔

قیامت کا دن

 آیت ١٨ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْـتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍج ” اے اہل ِایمان اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے “- ظاہر ہے یہ اس کل کے دن کی بات ہے جو بعث بعد الموت کے بعد آنے والا ہے ‘ جس دن ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اس دن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر اہل ایمان اپنی زندگی اللہ کے تقویٰ کے سائے میں گزارنے کا اہتمام کرے اور اپنے اعمال کا مسلسل جائزہ لیتا رہے کہ اس نے آخرت کے حوالے سے اب تک کیا کمائی کی ہے اور کائناتی حکومت کے امپیریل بینک میں اپنے کل کے لیے اب تک کتنا سرمایہ جمع کرایا ہے۔- وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْـرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ ” اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ‘ یقینا تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “- اس آیت میں بنیادی طور پر دو باتوں پرز ور دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کا تقویٰ اور فکر آخرت۔ بلکہ اِتَّقُوا اللّٰہَ کا حکم یہاں خصوصی تاکید کے طور پر دو مرتبہ آیا ہے ۔ تقویٰ سے عام طور پر اللہ کا خوف اور ڈر مراد لیا جاتا ہے۔ لیکن اس ضمن میں یہ اہم نکتہ ضرور مدنظر رہنا چاہیے کہ اس خوف میں شیر یا سانپ کے خوف کی طرح دہشت کا عنصر بالکل نہیں ، بلکہ اس کی مثال ایسے خوف کی سی ہے جیسا خوف اولاد اپنے والد سے محسوس کرتی ہے۔ اس خوف میں محبت اور احتیاط کے جذبات غالب ہوتے ہیں کہ ہمارے والد ہم سے ناراض نہ ہوجائیں اور ہم کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے ہمارے والد کے جذبات و احساسات مجروح ہوں ۔ چناچہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے دل میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ڈر رہے۔۔۔۔ تقویٰ کے لغوی معنی بچنے کے ہیں ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ بچ کر زندگی گزارنا۔

ملنا ہے اللہ سے

بعض اوقات

نماز

اے ہمارے پروردگار

آیت ١٠ وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْم بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ ” اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے (مالِ فے پر ان کا بھی حق ہے) وہ کہتے ہیں : اے ہمارے ربّ تو بخش دے ہمیں بھی اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے “- وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رُئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ ۔ ” اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے ‘ اے ہمارے رب ‘ بیشک تو نہایت شفیق اور رحم فرمانے والا ہے۔ “- اس آیت میں واضح کردیا گیا ہے کہ مال فے کی تقسیم میں حاضر و موجود لوگوں کے علاوہ بعد میں آنے والے مسلمانوں اور ان کی آئندہ نسلوں کا حصہ بھی ہے، مزید برآں اس میں ایک اہم اخلاقی درس بھی دیا گیا ہے کہ کسی مسلمان کے دل میں کسی دوسرے مسلمان کے لیے کوئی بغض ، کینہ یا کدورت نہیں ہونی چاہیے ، اور مسلمانوں کے لیے صحیح طرزعمل یہی ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے حق میں دعائے مغفرت کرتے رہیں ، نہ یہ کہ انہیں سب و شتم کا نشانہ بنائیں- یہاں پر پہلا رکوع اختتام پذیر ہوا ۔ اس رکوع میں بنونضیر کے مدینہ سے انخلاء اور ان کی چھوڑی ہوئی املاک (مالِ فے) سے متعلق احکام کا ذکر تھا۔ اب اگلی آیات میں منافقین کا تذکرہ ہے کہ ان لوگوں نے غزوئہ بنونضیر کے حوالے سے کیا کردار ادا کیا۔

اللہ کی تسبیح

یقیناً اللہ زورآور ، غالب ہے

اور اللہ باخبر ہے

تین آدمیوں کی سرگوشی

 آیت ٧ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ” کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے اس سب کچھ کے بارے میں جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ؟ - مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰـثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ ” نہیں ہوتے کبھی بھی تین آدمی سرگوشیاں کرتے ہوئے مگر ان کا چوتھا وہ (اللہ) ہوتا ہے “- وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمْ ” اور نہیں (سرگوشی کر رہے) ہوتے کوئی پانچ افراد مگر ان کا چھٹا وہ (اللہ) ہوتا ہے “- خفیہ انداز میں سرگوشیاں کرنے کو ” نجویٰ “ کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے یہاں پر ضمنی طور پر یہ بھی سمجھ لیں کہ کسی تنظیم یا جماعت کے اندر نجویٰ کا رجحان یا رواج گروہ بندیوں اور فتنوں کا باعث بنتا ہے۔ کسی بھی اجتماعیت کے افراد میں باہم اختلافِ رائے کا پایا جانا تو بالکل ایک فطری تقاضا ہے ‘ جہاں اجتماعیت ہوگی وہاں لوگ ایک دوسرے کی آراء سے اختلاف بھی کریں گے۔ لیکن ایسے اختلافات کا اظہار اجتماعیت کے قواعد و ضوابط کے مطابق متعلقہ فورم پر کیا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ تخریبی ذہنیت کے حامل کچھ ارکان اپنے اپنے اختلاف کا اظہار نجویٰ کی صورت میں دوسرے ساتھیوں سے کرنا شروع کردیتے ہیں۔ بات آگے بڑھتی ہے تو چند افراد پر مشتمل ایک مخصوص لابی بن جاتی ہے اور یوں تنظیم یا جماعت کے اندر باقاعدہ گروہ بندی کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔ اگر اختلافات کا اظہار مناسب فورم پر ہو تو کھلی اور تعمیری بحث کا نتیجہ ہمیشہ مثبت رہتا ہے۔ اس سے غلط فہمیاں ختم ہوجاتی ہیں ‘ ابہام دور ہوجاتا ہے اور اصل حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ بہرحال نجویٰ (سرگوشیوں) کی حیثیت اجتماعیت کے لیے سم ِقاتل کی سی ہے اور اگر یہ زہر کسی جماعت کی صفوں میں سرایت کر جائے تو اس کا اتحاد پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ - وَلَآ اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْثَرَ اِلَّا ہُوَ مَعَہُمْ اَیْنَ مَا کَانُوْا ” اور نہیں ہوتے وہ اس سے کم (یعنی دو افراد سرگوشی میں مصروف) اور نہ اس سے زیادہ مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔ “- سورة الحدید کی آیت ٤ میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْج ” اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ “- ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ۔ ” پھر وہ ان کو جتلا دے گا قیامت کے دن جو کچھ بھی انہوں نے عمل کیا تھا ‘ یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔ “

ریکارڈ محفوظ

 آیت ٦ یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا ” جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا ‘ پھر انہیں جتلا دے گا ان کے اعمال کے بارے میں جو انہوں نے کیے تھے۔ “- اَحْصٰٹہُ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ اللہ نے ان (اعمال) کو محفوظ کر رکھا ہے جبکہ وہ انہیں بھول چکے ہیں۔ “- یہ لوگ تو بھول چکے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی دنیوی زندگی میں  کس کس کے ساتھ ، کیا کیا زیادتی کی تھی ۔ لیکن ظاہر ہے اللہ کے ہاں تو ہر شخص کے ایک ایک عمل اور ایک ایک حرکت کا ریکارڈ محفوظ ہوگا۔- وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدٌ ۔ ” اور اللہ تو ہرچیز پر خودگواہ ہے۔

یعنی ان کے بھول جانے سے معاملہ رفت گزشت نہیں ہو گیا ہے ۔ ان کے لیے اللہ کی نافرمانی اور اس کے احکام کی خلاف ورزی ایسی معمولی چیز ہو سکتی ہے کہ اس کا ارتکاب کر کے اسے یاد تک نہ رکھیں ، بلکہ اسے کوئی قابل اعتراض چیز ہی نہ سمجھیں کہ اس کی کچھ پروانہیں ہو ۔ مگر اللہ کے نزدیک یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے ۔ اس کے ہاں ان کا ہر کرتوت نوٹ ہوچکا ہے ۔ کس شخص نے ، کب ، کہاں ، کیا حرکت کی ، اس حرکت کے بعد اس کا اپنا رد عمل کیا تھا ، اور اس کے کیا نتائج ، کہاں کہاں کس کس شکل میں برآمد ہوئے ، یہ سب کچھ اس کے دفتر میں لکھ لیا گیا ہے ۔

اتَّقُوا اللہ

اللہ کا تقویٰ

وہی خدا ہے

بڑا کام

صـبــر

اللہ کا احسان

بری عادت

اصل بات

اخلاص