Wednesday, September 2, 2026
دنیا کی زندگی
The Benefits of Reciting the Quran
Abu Umama said he heard Allah's Messenger ﷺ say: Recite the Qur'an, for on the Day of Resurrection it will come as an intercessor for those who recite It. Recite the two bright ones, al-Baqara and Surah Al 'Imran, for on the Day of Resurrection they will come as two clouds or two shades, or two flocks of birds in ranks, pleading for those who recite them. Recite Surah al-Baqara, for to take recourse to it is a blessing and to give it up is a cause of grief, and the magicians cannot confront it. (Mu'awiya said: It has been conveyed to me that here Batala means magicians) -
Sahih Muslim 804a (Book 6, Hadith 302) -
محافظ فرشتے
آیت ٤ اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْہَا حَافِظٌ ۔ ” کوئی جان ایسی نہیں جس پر کوئی نگہبان نہ ہو۔ “- سورة الانفطار کی ان آیات میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آیا ہے : وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ - کِرَامًا کَاتِبِیْنَ - یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ ” جبکہ ہم نے تمہارے اوپر محافظ (فرشتے) مقرر کر رکھے ہیں ۔ بڑے باعزت لکھنے والے ۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو “۔ انسان کے محافظ فرشتوں کا ذکر سورة الانعام کی اس آیت میں بھی ہے : وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃًط (آیت ٦١) ” اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا رہتا ہے “۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ متعدد فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان میں سے کچھ اس کے اعمال کا ریکارڈ مرتب کرنے میں مصروف ہیں جبکہ کچھ کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
نگہبان سے مراد خود اللہ تعالی کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے جس کے وجود میں لانے سے ہر شے وجود میں آئی ہے جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے ، جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے ، اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمہ لے رکھا ہے ۔ اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں نمودار ہونے والے ہر تارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے ۔ ( النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے ، لیکن مراد اس سے ایک ہی تارا نہیں ہو تا بلکہ تاروں کی جنس ہے ) ۔ یہ قسم اس معنی میں ہے کہ رات کو آسمان میں یہ بے حدو حساب تارے اور سیارے جو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا وجود اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی ہے جس نے اسے بنایا ہے ، روشن کیا ہے ، فضا میں معلق رکھ چھوڑا ہے ، اور اس طرح اس کی حفاظت و نگہبانی کر رہا ہے کہ نہ وہ اپنے مقام سے گرتا ہے ، نہ بے شمار تاروں کی گردش کے دوران میں وہ کسی سے ٹکراتا ہے اور نہ کوئی دوسرا تارا اس سے ٹکراتا ہے
لوحِ محفوظ
آیت ٢٢ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ۔ ” لوحِ محفوظ میں (نقش ہے) ۔ “- یعنی اصل قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ میں ہے۔ جس مقام کا ذکر یہاں لوحٍ مَّحْفوظ کے نام سے ہوا ہے ‘ سورة الزخرف کی آیت ٤ میں اسے اُمُّ الْکِتٰب ‘ سورة الواقعہ کی آیت ٧٨ میں کِتٰبٍ مَّـکْنُوْن اور سورة عبس کی آیات ١٣ اور ١٤ میں اسے صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ کہا گیا ہے۔
یہ لوگ جس قرآن کو جھٹلانے کے درپے ہو رہے ہیں وہ بڑی بلند شان والا ہے۔ جس کو جھٹلا دینا ان کے بس کا روگ نہیں ۔ البتہ اپنی اس حرکت کی پاداش میں یہ خود تباہ ہوسکتے ہیں ۔ قرآن کا لکھا ہوا اٹل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی اور ہر طرح کی دستبرد سے، رد و بدل اور ترمیم و تنسیخ سے پاک ہے۔








