Wednesday, September 2, 2026

محافظ فرشتے

 آیت ٤ اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْہَا حَافِظٌ ۔ ” کوئی جان ایسی نہیں جس پر کوئی نگہبان نہ ہو۔ “- سورة الانفطار کی ان آیات میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آیا ہے : وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ - کِرَامًا کَاتِبِیْنَ - یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ ” جبکہ ہم نے تمہارے اوپر محافظ (فرشتے) مقرر کر رکھے ہیں ۔ بڑے باعزت لکھنے والے ۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو “۔ انسان کے محافظ فرشتوں کا ذکر سورة الانعام کی اس آیت میں بھی ہے : وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃًط (آیت ٦١) ” اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا رہتا ہے “۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ متعدد فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان میں سے کچھ اس کے اعمال کا ریکارڈ مرتب کرنے میں مصروف ہیں جبکہ کچھ کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

 نگہبان سے مراد خود اللہ تعالی کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے جس کے وجود میں لانے سے ہر شے وجود میں آئی ہے جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے ، جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے ، اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمہ لے رکھا ہے ۔ اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں نمودار ہونے والے ہر تارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے ۔ ( النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے ، لیکن مراد اس سے ایک ہی تارا نہیں ہو تا بلکہ تاروں کی جنس ہے ) ۔ یہ قسم اس معنی میں ہے کہ رات کو آسمان میں یہ بے حدو حساب تارے اور سیارے جو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا وجود اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی ہے جس نے اسے بنایا ہے ، روشن کیا ہے ، فضا میں معلق رکھ چھوڑا ہے ، اور اس طرح اس کی حفاظت و نگہبانی کر رہا ہے کہ نہ وہ اپنے مقام سے گرتا ہے ، نہ بے شمار تاروں کی گردش کے دوران میں وہ کسی سے ٹکراتا ہے اور نہ کوئی دوسرا تارا اس سے ٹکراتا ہے 

No comments:

Post a Comment