آیت ٢٧ یٰٓــاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ ” اے نفس ِمطمئنہ “ ّ- جو اس امتحانی زندگی میں مطمئن ہو کر یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی میں لگا رہا اور اس کے دین کے ساتھ چمٹارہا۔
یایھا النفس المطمینۃ :” النفس المطمئنۃ “ اطمینان والی جان ، جسے اللہ ، اس کے رسول اور ان کے احکام کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، بلکہ پوری تسلی ہے۔
آیت ٢٨ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۔ ” اب لوٹ جائو اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تم اس سے راضی ‘ وہ تم سے راضی۔ “- سورة البینہ کی آیت ٨ میں ایسے خوش قسمت لوگوں کی یہی کیفیت رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط ” اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی “ کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔
آیت ٢٩ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ۔ ” تو داخل ہو جائو میرے (نیک) بندوں میں۔ “- اللہ تعالیٰ کے ان نیک بندوں کی نشاندہی سورة النساء کی اس آیت میں کی گئی ہے : - وَمَنْ یُّطِـعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَج وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا ۔ - ” اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں معیت حاصل ہوگی ان کی جن پر اللہ کا انعام ہوا ‘ یعنی انبیاء کرام ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین۔ اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے “
آیت ٣٠ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۔ ” اور داخل ہو جائو میری جنت میں “- چناچہ اس نَفسِ مُطمَئنّہ سے کہا جائے گا کہ آئو میرے ان انعام یافتہ بندوں کی صف میں شامل ہو جائو۔ ایسے خوش قسمت لوگوں کے مراتب کی بلندی کے تصور اور اپنی تہی دامنی کے احساس کے پیش نظر ہمارا ان کی معیت کے لیے دعا مانگنا اگرچہ ” چھوٹا منہ بڑی بات “ کے زمرے میں آتا ہے مگر پھر بھی دل سے بےاختیار دعا نکلتی ہے : اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ۔۔۔۔ آمین

No comments:
Post a Comment