Sunday, April 10, 2022

آمــیـن


 

ٴصلی اللہ علــیـہ والہ وســلم ❤

درود کی کثرت کیجئے ، اجر سمیٹ لیجئے


 

چاند دیکھنے کا حکم

 چاند دیکھنے کا حکم


◄رسول اللہ صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا:
لا تصوموا حتى تروا الهلال و لا تفطروا حتى تروه فان غم عليكم فاقدروا له
(متفق عليه)
’’ چاند دیکھے بغیر رمضان کے روزے شروع نہ کرو اور چاند دیکھے بغیررمضان ختم نہ کرو
اگر مطلع ابر آلود ہوتو مہینے کے تیس دن پورے کرلو ۔‘‘
(بخاری و مسلم)

◄سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے
رسول ﷲصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا
کہ جب تم رمضان کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا شروع کر دو اور جب تم عید ا لفطر کا چاند دیکھو تو روزہ رکھنا ترک کر دو۔
اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تم اس کے لیے اندازہ کر لو۔
(صحیح بخاری)

◄نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم کا ارشاد ہے:
صوموا لرؤيته وافطروا لرؤيته فان غمي عليکم فأکملوا العدد.
''چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔ اگرمطلع صاف نہ ہو تو گنتی پوری کرو۔''
(صحیح مسلم، رقم 1081)



بیمار اور مسافر

1

۔   یہ بیمار اور مسافر کو رخصت دے دی گئی ہے کہ بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان المبارک میں جتنے روزے نہ رکھ سکے ہوں وہ بعد میں رکھ کر گنتی پوری کرلیں۔ 184۔ 

2

ـ  يُطِيقُونَهُ کا ترجمہ یتجشمونہ (نہایت مشقت سے روزہ رکھ سکیں) کیا گیا ہے۔ یعنی جو شخص بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے جسے شفایابی کی امید نہ ہو روزہ رکھنے میں مشقت محسوس کرے وہ ایک مسکین کو کھانا بطور فدیہ دے دے لیکن زیادہ تر مفسرین نے اس کا ترجمہ طاقت ہی کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدا اسلام میں روزے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے طاقت رکھنے والوں کو بھی رخصت دے دی گئی تھی کہ اگر وہ روزہ نہ رکھیں تو اس کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا دیا کریں۔ لیکن بعد میں (فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ) 002:185 کے ذریعے سے منسوخ کر کے ہر صاحب طاقت کے لئے روزہ فرض کردیا گیا تاہم زیادہ بوڑھے دائمی مریض کے لئے اب بھی یہ حکم ہے کہ وہ فدیہ دے دیں، دودھ پلانے والی عورتیں اگر مشقت محسوس کریں تو وہ مریض کے حکم میں ہونگی یعنی وہ روزہ نہ رکھیں بعد میں روزے کی قضا دیں۔  

3

ـ  جو خوشی سے ایک مسکین کے بجائے دو یا تین مسکینوں کو کھانا کھلا دے تو اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔


اے ایمان والو


 

رمــضـان وہ مہینہ ہے


 

روزہ کی حالت میں جھوٹ بولنا

روزہ کی حالت میں غیبت، جھوٹ، فحش کلامی کسی طور بھی جائز نہیں، کیونکہ اس کی وجہ سے روزہ میں کراہت آتی ہے۔ روزہ فرض کرنے کا مقصد صرف روزہ دار کا بھوکا، پیاسا رہنا کافی نہیں ہے بلکہ دنیاوی لذتوں کی خواہشات اور برے اعمال مثلا جھوٹ بولنا، فحش کلامی کرنا اور غیبت سے بچنا بھی ضروری ہے۔

1

۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ
’’اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا (روزہ رکھ کر) نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالیٰ کو اسکی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا، پینا، چھوڑ دے۔‘‘
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب من لم يدع قول الزور والعمل به فی الصوم، 2 : 673، رقم : 1804

2

۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے :
’’ابن آدم کا روزے کے سوا ہر عمل اس کے اپنے لئے ہے روزہ بالخصوص میرے لئے ہے۔ اس کی جزا میں ہی دوں گا اور روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی شخص کا روزہ ہو، تو وہ بے ہودہ گوئی کرے نہ فحش گوئی کرے۔ اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔‘‘
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب هل يقول إنی صائم إذا شتم، 2 : 673، رقم : 1805

پس مذکورہ بالا احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ روزہ کی حالت میں جھوٹ بولنا، غیبت کرنا اور فحش کلامی کرنا ممنوع ہے۔ ان امورِ رذیلہ سے اس لے ممانعت کی گئی کہ ان سے روزہ رکھنے کا مقصد ختم ہو جاتا ہے اور روزہ دار، روزہ کے برکات و ثمرات سے محروم رہتا ہے۔