Saturday, March 7, 2026

ہر ایک چیز پرغالب

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی

ہر چیز کی تسبیح کا مفہوم

 آیت ١ سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ” تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ “- ان سورتوں (المُسَبِّحات) کا یہ مضمون بہت اہم ہے۔ آگے چل کر سورة الحشر اور سورة الصف میں یہ آیت ” مَا فِیْ “ کے اضافے کے ساتھ اس طرح آئے گی : سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِج اور پھر سورة الجمعہ اور سورة التغابن میں مزید ُ پرزور انداز میں فعل مضارع کے ساتھ یوں آئے گا : یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ۔ کائنات کی ہرچیز کس طرح اللہ کی تسبیح کرتی ہے ؟ اس کی ایک صورت تو ” تسبیح حالی “ کی ہے جو ہماری سمجھ میں آتی ہے کہ ہرچیز اپنی زبان حال سے اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ اس کی مثال ایک تصویر ہے جو اپنے مصور کے کمال فن یا عدم مہارت پر دلالت کرتی ہے ۔ چناچہ جس طرح ایک خوبصورت تصویر زبان حال سے اپنے مصور کی تعریف کرتی نظر آتی ہے اسی طرح اس کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ میرا پیدا کرنے والا ‘ میرا صانع ‘ میرا خالق ‘ میرا مصور ہر عیب سے پاک ‘ ہر نقص سے بالا اور ہر لحاظ سے کامل و اکمل ہے ‘ اس کے علم ‘ اس کی قدرت اور اس کی حکمت میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے۔ دوسری صورت زبانی تسبیح “ کی ہے جو کہ خود قرآن مجید سے ثابت ہے۔ سورة حٰمٓ السَّجدۃ کی آیات ٢٠ اور ٢١ میں قیامت کے اس منظر کا ذکر ہے جب انسانوں کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دے رہے ہوں گے۔ اس پر وہ لوگ حیرت سے اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ جواب میں ان کی کھالیں کہیں گی : اَنْقَطَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْئٍ (آیت ٢١) کہ آج اس اللہ نے ہمیں بھی زبان دے دی ہے جس نے ہر شے کو زبان دی ہے۔ اس کے علاوہ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو اپنی تسبیح کے لیے ایک طریقہ تفویض کر رکھا ہے : - تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَّ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ (آیت ٤٤)- ” اسی کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور (وہ تمام مخلوق بھی ) جو ان میں ہے۔ اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ تسبیح کرتی ہے اس کی حمد کے ساتھ ‘ لیکن تم نہیں سمجھ سکتے ان کی تسبیح کو۔ “- بہرحال کائنات کی ہرچیز اپنی زبان حال سے بھی اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اور اللہ کی عطا کردہ اپنی مخصوص زبان سے بھی اس کی تعریف و توصیف میں مشغول و مصروف ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تسبیح کی اور صورتیں بھی ہوسکتی ہیں جو کہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔- وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ ” اور وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔ “- ان سورتوں میں اللہ تعالیٰ کے یہ دو اسماء اکٹھے ایک ساتھ بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کا یہ جوڑا معنوی اعتبار سے بہت اہم ہے ۔ العزیز وہ ہستی ہے جس کا اختیار مطلق ہو ۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانی سطح پر مطلق العنانیت کا تجربہ ہمیشہ بہت تلخ رہا ہے۔ عملی طور پر ہمارے ہاں ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ جہاں مطلق العنانیت آتی ہے ‘ وہاں اختیارات کا ناجائز استعمال ضرور ہوتا ہے۔ بلکہ پولیٹیکل سائنس کا تو اس حوالے سے آزمودہ فارمولا یہ ہے : - " . "- چنانچہ جب کسی ملک کا آئین بنایا جاتا ہے اور معاشرے کے لیے قوانین وضع کیے جاتے ہیں تو متعلقہ ماہرین کی ساری کوشش اختیارات کو مشروط کرنے اور ان میں توازن قائم کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ایسی صاحب اختیار ہستی ہے جس کے اختیارات کی نہ تو کوئی حد ہے اور نہ ہی اس کے اختیارات کسی شرط سے مشروط ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ الحکیم “ بھی ہے۔ وہ اپنے مطلق اختیارات میں خود ہی اپنی حکمت سے توازن قائم رکھتا ہے۔ چناچہ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ زبردست ہے ‘ وہ اپنی تمام مخلوقات پر غالب ہے ‘ اس کے اختیارات مطلق ہیں ‘ لیکن اس کا کوئی کام ‘ اس کا کوئی عمل اور اس کا کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

روزوں کی حفاظت

The Blessings of Ramadan

Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger  said, "When the month of Ramadan starts, the gates of the heaven are opened and the gates of Hell are closed and the devils are chained".

Sahih al-Bukhari 1899 (Book 30, Hadith 9)

QUICK LESSONS:
Engage in acts such as fasting, praying extra prayers at night and reading Quran regularly
EXPLANATIONS:

The hadith narrated by Abu Huraira states that during the month of Ramadan, Allah opens up the gates to Heaven and closes off those to Hell. Additionally, He chains up all devils so that they cannot cause any harm or mischief. This is a great blessing from Allah for us as it allows us to focus on our worship and spiritual growth without any distractions or temptations from Shaytan. Furthermore, this hadith also serves as a reminder for us to take advantage of this blessed month by engaging in acts such as fasting, praying extra prayers at night and reading Quran regularly.

The Reward of Fasting

Narrated Sahl: The Prophet  said, "There is a gate in Paradise called Ar-Raiyan, and those who observe fasts will enter through it on the Day of Resurrection and none except them will enter through it. It will be said, 'Where are those who used to observe fasts?' They will get up, and none except them will enter through it. After their entry the gate will be closed and nobody will enter through it".

Sahih al-Bukhari 1896 (Book 30, Hadith 6) 

QUICK LESSONS:
Observe fasts regularly to receive rewards from Allah on the Day of Judgment .

EXPLANATIONS:
This hadith speaks about the reward for those who observe fasting. On the Day of Resurrection, there will be a special gate in Paradise called Ar-Raiyan, and only those who have observed fasting will enter through it. It is an exclusive reward for them, and no one else can enter through this gate. This hadith teaches us that we should strive to do good deeds such as observing fasts so that we can receive rewards from Allah on the Day of Judgment. We should also remember that Allah is watching our every action and He will reward us accordingly for our deeds in this life.

Abstaining From Evil During Fasting

Narrated Abu Huraira: The Prophet  said, "Whoever does not give up forged speech and evil actions, Allah is not in need of his leaving his food and drink (ie Allah will not accept his fasting)."

Sahih al-Bukhari 1903 (Book 30, Hadith 13)

QUICK LESSONS:
Abstain from evil actions and forged speech while fasting

EXPLANATIONS:

This hadith emphasizes the importance of abstaining from more than just food and drink during fasting. The Prophet Muhammad taught that it is necessary to also refrain from evil actions and forged speech in order to have a successful fast. This means that one should not lie, cheat, or do anything else that goes against Islamic teachings while fasting. Additionally, this hadith teaches us the importance of being mindful of our words and deeds at all times, not just when we are fasting. It reminds us that Allah will not accept our fast if we do not strive to be better people overall.