Thursday, January 29, 2026

صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کی خاص ہدایات وتعلیمات

 آیت ٣٨ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ۔ ” کہ نہیں اٹھائے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو۔ “- قیامت کے دن ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کے لیے خود جواب دہ ہوگا۔ وہاں کوئی کسی کی مدد کو نہیں آئے گا ‘ جیسا کہ سورة مریم کی اس آیت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے : وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا ۔ کہ اس دن ہر شخص اکیلا حاضر ہوگا۔ ماں باپ ‘ اولاد ‘ عزیز و اقارب میں سے کوئی اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔

آیت ٣٩ وَاَنْ لَّــیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ۔ ” اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی کچھ جس کی اس نے سعی کی ہوگی۔ “- انسان کو جو کچھ کرنا ہوگا اپنی محنت اور کوشش کے بل پر کرنا ہوگا ‘ خواہشوں اور تمنائوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ قبل ازیں آیت ٢٤ میں سوال کیا گیا تھا کہ ” کیا انسان کو وہی کچھ مل جائے گا جس کی وہ تمنا کرے گا ؟ “ یہ آیت گویا مذکورہ سوال کا جواب ہے۔

آیت ٤٠ وَاَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی ۔ ” اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب اسے دکھا دی جائے گی۔ “- سورة الزلزال میں اس مضمون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے : فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ۔ ” تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ‘ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۔ “

آیت ٤١ ثُمَّ یُجْزٰٹہُ الْجَزَآئَ الْاَوْفٰی ۔ ” پھر اس کو بدلہ دیا جائے گا پورا پورا بدلہ۔

No comments:

Post a Comment