Monday, January 5, 2026

وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ

 آیت ٢٠ وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِط ذٰلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ ۔ ” اور صور میں پھونکا جائے گا ‘ یہ ہے وعدے کا دن “- پہلے انفرادی موت کی بات کی گئی تھی ۔ اب اس آیت میں پوری دنیا کی اجتماعی موت کا ذکر ہے۔ جب کسی شخص کو موت آتی ہے تو اس کے لیے تو گویا وہی قیامت ہے ۔ اس لیے انسان کی انفرادی موت کو قیامت ِصغریٰ اور تمام انسانوں کی اجتماعی موت کو قیامت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ چناچہ گزشتہ آیت میں قیامت صغریٰ کا بیان تھا ‘ اب یہاں قیامت کبریٰ کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے۔

آیت ٢١ وَجَآئَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّشَہِیْدٌ ۔ ” اور ہر جان آئے گی (اس حالت میں کہ) اس کے ساتھ ہوگا ایک دھکیلنے والا اور ایک گواہ۔ “- دنیا میں ہر انسان کے ساتھ جو دو فرشتے (کِرَامًا کَاتِبِیْنَ ) مامور ہیں وہی قیامت کے دن اسے لا کر اللہ کی عدالت میں پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک فرشتہ اس کا اعمال نامہ اٹھائے ہوئے ہوگا جب کہ دوسرا اسے عدالت کی طرف دھکیل رہا ہوگا۔

No comments:

Post a Comment