آیت ١٥ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ ” یقینا اہل تقویٰ باغات اور چشموں کے اندر ہوں گے۔ “
آیت ١٦ اٰخِذِیْنَ مَآاٰتٰٹہُمْ رَبُّہُمْط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ ۔ ” وہ (شکریے کے ساتھ) لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس سے پہلے نیکوکار تھے۔ “- یہ لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے نیک اعمال کی وجہ سے درجہ احسان تک پہنچے ہوئے تھے۔
آیت ١٧ کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّـیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ ۔ ” رات کا تھوڑا ہی حصہ ہوتا تھا جس میں وہ سوتے تھے۔ “- ان لوگوں کی راتوں کا بیشتر حصہ اپنے رب کے حضور حاضری میں گزرتا تھا۔ سورة الفرقان میں ” عباد الرحمن “ کے اس معمول کا ذکر اس طرح آیا ہے : وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا ۔ ” اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔ “
آیت ١٨ وَبِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ ” اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔ “
آیت ١٩ وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۔ ” اور ان کے اموال میں سائل اور محتاج کا حق ہوا کرتا تھا۔ “- انہوں نے اس حقیقت کو قبول کر رکھا تھا کہ ان کے پاس اللہ کا دیا جو کچھ بھی ہے اس میں فقراء و مساکین کا بھی حصہ ہے اور وہ متعلقہ لوگوں کا حق ان تک پہنچایا بھی کرتے تھے۔
.jpg)
No comments:
Post a Comment