آیت ١٩ وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّط ” اور بالآخر موت کی بےہوشی کا وقت آن پہنچا ہے حق کے ساتھ ۔ “- موت کا آنا تو قطعی اور برحق ہے ‘ اس سے کسی کو انکار نہیں۔ اللہ کے منکر تو بہت ہیں لیکن موت کا منکر کوئی نہیں۔- ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ ۔ ” یہی ہے نا وہ چیز جس سے تو بھاگا کرتا تھا “- اس بات کا انسان کی نفسیات کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہ ہر انسان کی نفسیاتی کمزوری ہے کہ موت کو برحق جانتے ہوئے بھی وہ اس کے تصور کو حتی الوسع اپنے ذہن سے دور رکھنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ وقتی طور پر اگر کسی عزیز کی موت اور تجہیز و تکفین کے موقع پر اپنی موت اور قبر کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آتا بھی ہے تو انسان فوری طور پر اس خیال کو ذہن سے جھٹک کر روز مرہ کے معمولات میں خود کو مصروف کرلیتا ہے۔
موت پر سب حقائق کا انکشاف :۔ اس کے دو مطلب ہیں یعنی موت، اس کی بےہوشیاں اور سختیاں تو وہ ان سب حقیقتوں کو ساتھ ہی لے آئیں جن کی انبیائے کرام (علیہم السلام) اطلاع دیتے رہے۔ موت کے ساتھ ہی اسے معلوم ہوجائے گا کہ جس محاسبہ اور برے انجام سے وہ ڈرایا کرتے تھے اس کا آغاز ہوگیا ہے۔ موت کا فرشتہ، دیکھتے ہی اس پر سب پیش آنے والی حقیقتیں ظاہر ہونے لگیں گی۔-حاد بمعنی سیدھے راستے سے پہلو تہی کرنا، کنی کترانا، سمت بدل لینا اور دور بھاگنا ہے۔ سیدھا راستہ پیغمبروں نے یہ بتایا تھا کہ تمہیں مر کر دوبارہ جی اٹھنا ہے اور تمہارا محاسبہ ہونے والا ہے۔ تو اس بارے میں مشکوک ضرور تھا۔ تیرے نزدیک دونوں احتمال موجود تھے۔ لیکن تیرا نفس یہی چاہتا تھا کہ تیرا محاسبہ نہ ہونا چاہئے لہذا تو طرح طرح کے اعتراض کرکے اپنے آپ کو مطمئن کرلیتا تھا اور سیدھے راستہ سے بہرحال بچنا چاہتا تھا۔
- عائشہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آخری وقت کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دونوں ہاتھ اس میں ڈالتے اور انہیں چہرے پر پھیرتے جاتے تھے اور ساتھ یہ فرماتے تھے :(لا الہ الا اللہ، ان للموت سکراب) (بخاری، المغازی، باب مضر النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و وفاتہ : ٣٣٣٩)” لا الہ الا اللہ، یقینا موت کی بہت سختیاں ہیں۔ “- بالحق : موت کی بےہوشی کے حق کو لے آنے کا مطلب یہ ہے کہ جان نکلنے کی سختی کے ساتھ ہی وہ حقیقت سامنے آجائے گی جس پر دنیا میں پردہ پڑا ہوا ہے اور آدمی آنکھوں سے دیکھ لے گا کہ رسولوں نے جو بات بتائی تھی وہ حق اور سچ تھی۔ - ذلک ما کنت منہ تحید :” حاد یحید حیدۃ “ (باغ بیع) کسی چیز سے کنی کترانا، بچ کر نکلنا، دور بھاگنا۔ ہر انسان ہی طبعی طور پر موت سے بھاگتا ہے، مگر اس سے چارہ نہیں اور نہ ہی انسان کے سدا زندہ رہنے کی خواہش پوری ہوسکتی ہے۔
.jpg)
No comments:
Post a Comment