Monday, January 5, 2026

جو رحمٰن سے

 آیت ٣٣ مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ ” جو ڈرتا رہا رحمن سے غیب میں ہونے کے باوجود۔ “- وَجَآئَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ ۔ ” اور لے کر آیا رجوع کرنے والا دل۔ “- قلب منیب سے بھی یہاں قلب سلیم ہی مراد ہے ۔ یہ ایسے شخص کا ذکر ہے جو دنیا میں اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہا۔ اللہ کی امانت کو اس نے پوری حفاظت اور سلامتی کے ساتھ رکھا اور صحیح و سلامت حالت میں لوٹایا۔

آیت ٣٤ نِ ادْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ ۔ ” (ان سے کہا جائے گا : ) داخل ہو جائو اس (جنت) میں سلامتی کے ساتھ ‘ اب یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔ “ - اب ایسا کوئی مرحلہ نہیں آئے گا کہ تمہیں جنت سے نکلنا پڑے۔

 اُدْخُلُوْھَا بِسَلامٍ ۔ سلام کو اگر سلامتی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کے رنج اور غم اور فکر اور آفات سے محفوظ ہو کر اس جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ اور اگر اسے سلام ہی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ آؤ اس جنت میں اللہ اور اس کے ملائکہ کی طرف سے تم کو سلام ہے ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات بتا دی ہیں جن کی بنا پر کوئی شخص جنت کا مستحق ہوتا ہے ، اور وہ ہیں ( 1 ) تقویٰ ، ( 2 ) رجوع الی اللہ ، ( 3 ) اللہ سے اپنے تعلق کی نگہداشت ۔ ( 4 ) اللہ کو دیکھے بغیر اور اس کی رحیمی پر یقین رکھنے کے باوجود اس سے ڈرنا ، اور ( 5 ) قلبِ منیب لیے ہوئے اللہ کے ہاں پہنچنا ، یعنی مرتے دم تک ِانابَت کی روش پر قائم رہنا ۔

آیت ٣٥ لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ ۔ ” ان کے لیے اس میں وہ سب کچھ ہوگاجو وہ چاہیں گے ‘ اور ہمارے پاس مزید بھی بہت کچھ ہے ۔ “- قرآن کے مختلف مقامات پر جنت کی نعمتوں کا جو تعارف ملتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی نعمتوں کے تین درجے ہیں ۔ نفس انسانی کے بنیادی تقاضوں کی تسکین کا بھرپور سامان تو جنت میں پہلے سے موجود ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر شخص اپنی پسند ‘ ذوق اور خواہش کے مطابق جو کچھ طلب کرے گا وہ بھی اسے فراہم کیا جائے گا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی طلب اپنے ذوق اور معیار کے مطابق ہوگی۔ ایک سادہ لوح دیہاتی اپنی پسند کے مطابق کوئی چیز مانگے گا اور ایک حکیم و فلسفی اپنے ذوق کی تسکین چاہے گا۔ البتہ اس حوالے سے کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو کچھ بھی طلب نہیں کریں گے ‘ وہ لوگ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ (الکہف : ٢٨) کے مصداق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی رضا کے طالب ہوں گے۔ جیسے رابعہ بصری (رح) کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک مرتبہ جذب کے عالم میں ایک مشعل اور پانی کا لوٹا لیے گھر سے نکلیں ۔ لوگوں کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ میں اس آگ سے جنت کو جلانے نکلی ہوں اور اس پانی سے میں جہنم کی آگ کو بجھا دینا چاہتی ہوں تاکہ لوگ اللہ سے خالص اس کی ذات کے لیے محبت کریں نہ کہ جنت کے لالچ اور جہنم کے خوف کی وجہ سے اسے چاہیں۔ بہرحال جنت میں وہ لوگ بھی ہوں گے جنہیں اللہ کی رضا کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے ہوگا۔ جبکہ ان دو اقسام کے علاوہ تیسری قسم کی نعمتیں وہ ہوں گی جو انسانی تصور سے بالاتر ہیں اور آیت زیر مطالعہ کے الفاظ ” وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ“ میں انہی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ سورة السجدۃ میں جنت کی ان نعمتوں کا ذکر اس طرح ہوا ہے : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّــآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍج (آیت ١٧) ” پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان (اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے “۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی وضاحت ان الفاظ میں فرمائی ہے :- (قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ، فَاقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) (١)- ” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے (جنت میں) وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا گمان ہی گزرا۔ (پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ) اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : ” پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان (اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کررکھا گیا ہے۔ “

No comments:

Post a Comment