Monday, January 5, 2026

دانائی کا ذریعہ

 زمین کی تخلیق اور فوائد :۔ یہ دوسری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتنا وسیع بنادیا اور پھیلا دیا کہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے جانوروں اور انسانوں کے لئے مسکن اور مستقر کا کام دے سکے اور وہ اتنی پیداوار اگا سکے جس سے تمام جانداروں اور انسانوں کو تاقیامت رزق مہیا ہوتا رہے۔ نیز ان جانوروں اور انسانوں کے مرنے کے بعد ان کے مدفن کا کام بھی دے سکے۔- [٩] پہاڑوں کی تخلیق اور فوائد :۔ اس آیت اور کئی دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی پیدائش الگ چیز ہے اور پہاڑوں کی پیدائش الگ چیز ہے۔ پہاڑ زمین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ بعد میں پیدا کئے گئے اور پہاڑوں کی پیدائش کا سب سے بڑا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ زمین جب پیدا کی گئی تو اپنی تیز رفتار کی وجہ سے ہلتی، ہچکولے کھاتی اور ڈولتی تھی۔ اور یہ اس قابل نہ تھی کہ اس پر انسان یا جانور زندہ رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کے ایسے ایسے مقامات پر پہاڑوں کا سلسلہ بنایا اور اس توازن و تناسب کے ساتھ بنایا جس سے زمین کا ادھر ادھر جھکنا اور ہچکولے کھانا موقوف ہوگیا اور وہ جانداروں کی رہائش اور مستقر کے قابل بن گئی۔ یہ تو پہاڑوں کا بنیادی فائدہ ہے اس کے علاوہ پہاڑوں کے ضمنی فائدے بھی قرآن میں جابجا مذکور ہیں۔ یہ بات بھی اللہ کی قدرت کاملہ پر دلالت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت تو کافر بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مگر اس قدرت سے انکار کرتے ہیں کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرسکے ؟ فیا للعجب - [١٠] آب وہوا ایک جیسی نباتات مختلف :۔ یعنی قطعہ زمین ایک ہی ہوتا ہے۔ پانی بھی ایک جیسا، آب و ہوا اور موسم بھی ایک ہی لیکن کہیں پودے اگ رہے ہیں جن میں سے کسی کا پھل میٹھا، کسی کا کڑوا اور کسی کا کسیلا ہوتا ہے۔ کہیں غلے اور فصلیں اگ رہی ہیں۔ کہیں درخت اگ رہے ہیں۔ جن میں بعض پھل دار ہیں اور بعض خار دار۔ اور کہیں رنگ برنگ کے خوشنما اور خوشبودار پھول اگ رہے ہیں۔ جب یہ چیزیں اپنے جوبن پر آتی ہیں تو عجب منظر اور عجب بہار پیش کرتی ہیں۔ کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی حیران کن قدرت کاملہ کا ثبوت پیش نہیں کرتیں ؟ تو پھر کیا اللہ تعالیٰ میں اتنی قدرت بھی تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ زمین سے تمہارے بکھرے ہوئے ذرات کو اکٹھا کرکے تمہیں دوبارہ زندہ کر دے۔
آیت ٨ تَـبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ ۔ ” (یہ اللہ کی نشانیاں ہیں) سجھانے اور یاد دہانی کرانے کو ہر اس بندے کے لیے جو رجوع رکھے ہوئے ہو۔ “- عَبْدِ مُنِیْب سے ایسا بندہ مراد ہے جس کی روح اور فطرت کا رخ اللہ کی طرف ہو ۔ مطلب یہ کہ اگر کسی انسان کی فطرت سلیم اور روح زندہ ہو تب ہی یہ ” بصائر “ اس کے لیے مفید ہوں گے۔ ایسی صورت میں اسے کائنات میں بکھری اللہ کی نشانیاں نظر بھی آئیں گی اور ان نشانیوں سے اس کے دل میں خالق حقیقی کی ” یاد “ بھی تازہ ہوتی رہے گی۔ لیکن اگر کسی انسان کی فطرت مسخ اور روح مردہ ہوچکی ہو تو اس کا ” دیکھنا “ اور ” سننا “ اس کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوگا۔ - سورة الغاشیہ کی ان آیات کا انداز بھی اس حوالے سے بہت بصیرت افروز ہے :- اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ ۔ وَاِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ ۔ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ ۔ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ ۔ - ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹوں کو کہ کیسے پیدا کیے گئے ہیں ؟ اور آسمان کو کہ کیسے بلند کیا گیا ہے ؟ اور پہاڑوں کو کہ کیسے گاڑدیے گئے ہیں ؟ اور زمین کو کہ کیسے بچھا دی گئی ہے ؟ “- یعنی پوری کائنات میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں موجود ہیں ‘ جو انسان کو قدم قدم پر یاد دلاتی ہیں کہ ہرچیز کا خالق اور صورت گر وہی ہے : ہُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰیط (الحشر : ٢٤) ” وہی ہے اللہ ‘ پیدا کرنے والا ‘ وجود بخشنے والا ‘ صورتیں بنانے والا ‘ تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔ “- اقبال نے ” آیاتِ خداوندی “ کے مشاہدے کی دعوت ان الفاظ میں دی ہے : ؎- کھول آنکھ ‘ زمین دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ - مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

No comments:

Post a Comment