آیت ٧ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَـوَاقِعٌ ۔ ” جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کر رہے گی۔ “- یعنی جس قیامت کے بارے میں تم لوگوں کو بار بار متنبہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آکر رہے گی۔ واضح رہے کہ سورة قٓ سے لے کر سورة الناس تک مکی سورتوں کا موضوع انذارِ آخرت ہے ۔ اس لیے سورة الذاریات کی قسموں کا مقسم علیہ بھی انذارِ آخرت ہی سے متعلق تھا : اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ - وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۔ ” جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی “۔ البتہ سورة الصافات کے آغاز میں مذکور قسموں کا انداز تو بالکل ایسا ہی ہے لیکن وہاں ان قسموں کے مقسم علیہ کا تعلق توحید سے ہے : اِنَّ اِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ ۔ ” یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے “۔ اس لیے کہ سورة الصافات کا تعلق سورتوں کے جس گروپ سے ہے اس گروپ کا مرکزی مضمون ہی توحید ہے۔
آیت ٨ فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ ۔ ” پس جب ستارے مٹا دیے جائیں گے۔ “- یعنی بےنور کردیے جائیں گے اور ان کی روشنی ختم ہوجائے گی۔
آیت ٩ وَاِذَا السَّمَآئُ فُرِجَتْ ۔ ” اور جب آسمان میں شگاف پڑجائیں گے۔ “- ایسی آیات ہمارے لیے آیات متشابہات کا درجہ رکھتی ہیں ۔ البتہ توقع کی جاسکتی ہے کہ جیسے جیسے سائنسی ترقی کی بدولت انسان کی معلومات بڑھیں گی ‘ ان آیات کا مفہوم بتدریج واضح ہوتا چلا جائے گا۔
آیت ١٠ وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ ۔ ” اور جب پہاڑ (ریت بنا کر) اُڑا دیے جائیں گے۔ “- قیامت کے زلزلے کے باعث پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ریت کے ٹیلوں کی مانند ہوجائیں گے اور ان ٹیلوں کے ذرّات ہوا میں اڑتے پھریں گے۔
آیت ١١ وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ۔ ” اور جب رسولوں (علیہ السلام) (کے کھڑے ہونے) کا وقت آپہنچے گا۔ “- جب انبیاء ورسل - اللہ تعالیٰ کی عدالت میں شہادتیں دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔

No comments:
Post a Comment