Saturday, July 4, 2026

تخلیق انسانی کی ابتداء کا بیان

آیت ٢ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ” ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ملے جلے نطفے سے “- موجودہ دور میں سائنس نے اس آیت کا مفہوم بہت اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ مرد کی طرف سے اور ماں کی طرف سے ملتے ہیں تو وجود میں آتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے پندرہ سو سال پہلے صحرائے عرب کا ایک بدو تو لفظ ” اَمْشَاج “ کو اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق ہی سمجھا ہوگا۔ گویا قرآن مجید کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم ہر زمانے کے ہر قسم کے انسانوں کے لیے قابل فہم رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان الفاظ کے معانی و مطالب میں نئی نئی جہتیں بھی دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ - نَّـبْـتَلِیْہِ ” ہم اس کو الٹتے پلٹتے رہے “- یعنی رحم مادر میں ہم نے اس ” نُطْفَۃٍ اَمْشَاج “ کو مختلف مراحل سے گزارا۔ نطفہ سے اسے علقہ بنایا۔ علقہ کو مغضہ کی شکل میں تبدیل کیا اور پھر اس کے اعضاء درست کیے۔ ” نَـبْـتَلِیْہِ “  کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے ” تاکہ ہم اس کو آزمائیں “۔ یعنی ہم نے انسان کو امتحان اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔- فَجَعَلْنٰـہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا ۔ ” پھر ہم نے اس کو بنا دیا سننے والا ‘ دیکھنے والا۔ “

 - (٢) نبتلیہ : ہم اسے آزماتے ہیں ، یعنی انسان کو پیدا کرنے کا مقصد اس کی آزمائش ہے کہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے، جیسے فرمایا، (لیبلوکم ایکم احسن عملاً ) ۔  (الملک : ٢) ۔ ”(اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کو اس لئے پیدا فرمایا) تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔ “- (٣) فجعلنہ سمیعاً بصیراً :” ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنایا “ اگرچہ جانور بھی سنتے اور دیکھتے ہیں مگر انہیں ” سمیع وبصیر “ نہیں کہاجاتا کیونکہ وہ عقل کی نعمت سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سننے اور دیکھنے کی ایسی قوتیں دی ہیں جن سے وہ اچھے برے میں تمیز کرسکتا ہے اور بہت دور تک سوچ سکتا ہے۔ گویا دوسرے جانور اس کے مقابل بہرے اور اندھے ہیں۔

No comments:

Post a Comment