آیت ١٤ وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآئً ثَجَّاجًا ۔ ” اور ہم نے اتار دیا نچڑنے والی بدلیوں سے چھاجوں پانی۔ “- یعنی ہم پانی سے لبریز بادلوں سے موسلا دھار بارش برساتے ہیں۔
تاکہ اس سے اناج اور سبزہ اگائیں ۔
شاخوں کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے درخت یعنی گھنے باغ۔
سورج کی حرات سے سطح سمندر سے آبی بخارات اٹھتے ہیں جو کسی سرد طبقہ میں پہنچ کر پانی کے قطرے بن کر برسنے لگتے ہیں ۔ یہی بارش زمین سے نباتات اور درختوں کی روئیدگی کا سبب بنتی ہے اور یہی نباتات روئے زمین پر بسنے والی تمام جاندار مخلوق کے رزق کا ذریعہ اور زندگی کی بقا کا سبب بنتی ہے۔

No comments:
Post a Comment