آیت ٢٠ اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآئٍ مَّہِیْنٍ ۔ ” کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ “- انسان کا مادئہ تخلیق ایسی گھٹیا چیز ہے کہ جس کا نام بھی کوئی اپنی زبان پر لانا پسند نہیں کرتا۔ سورة الدھر میں اس حقیقت کا ذکر اس طرح آیا ہے : ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا ۔ ” کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا ؟ “
آیت ٢١ فَجَعَلْنٰــہُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۔ ” پھر ہم نے اس (نطفے) کو رکھ دیا ایک محفوظ مقام میں۔ “- یعنی اس حقیر پانی کی بوند کو مختلف مراحل سے گزارنے کے لیے ہم نے اسے ایک محفوظ مقام یعنی رحم مادر میں رکھا جو اس کے لیے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتا ہے۔
آیت ٢٢اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ یہ معین وقت اگرچہ عموماً نو ماہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں کمی و بیشی بھی ممکن ہے۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ عورت اور مرد کے نطفہ میں کس قدر قوت یا کمزوری ہے۔ یا ان دونوں میں سے کسی ایک میں ہے تو اسی نسبت سے اس مدت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور بچہ کی نشوونما جب رحم مادر میں مکمل ہوجاتی ہے تو وضع حمل کا وقت آجاتا ہے۔
آیت ٢٣ فَقَدَرْنَاق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ ۔ ” تو ہم نے اندازہ مقرر کیا ‘ اور ہم کیا ہی اچھے ہیں اندازہ مقرر کرنے والے “- اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ اپنی قدرت سے کیا اور ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں

No comments:
Post a Comment