۔ أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنى ۔ [ القیامة 37] ۔ کیا وہ منی جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا ؟ مِنْ نُطْفَةٍ إِذا تُمْنى ۔ [ النجم 46] ۔ ( یعنی ) نطفے سے جو ( رحم میں ) ڈالا جاتا ہے ۔ یعنی نطفہ سے جو قدرت الہیٰ کے ساتھ اس چیز کے لئے مقدر ہوتا ہے جو اس سے پیدا ہونا ہوتا ہے ۔ آیت ٣٨ ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً ” پھر وہ ایک علقہ بنا “- یعنی پانی کی اس بوند نے جونک جیسی شکل اختیار کرلی جو رحم مادر کی دیوار کے ساتھ چمٹی رہی - فَخَلَقَ فَسَوّٰی ۔ ” پھر اللہ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے۔ “- اللہ تعالیٰ نے علقہ کو گوشت کے لوتھڑے (مضغہ) میں تبدیل کیا اور پھر اس کا جسم بنایا ‘ جس میں آنکھیں ‘ ناک ‘ کان اور اپنی اپنی جگہ پر دوسرے تمام اعضاء بنا دیے۔ اور یہ سب کچھ ہوتا رہا : فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰـثٍط ۔ (الزمر : ٦) ۔ شکم مادر کے تین پردوں کے اندر ۔
یہ انسان کیا ہے ؟ یہ کس سے بنایا گیا ہے ؟ کس طرح تھا اور کس طرح ہوگیا، اور زندگی کا یہ سفر اس نے کہاں سے شروع کیا اور کہاں تک پہنچا، اس کرہ ارض پر وہ کیسے پہنچا جو ایک چھوٹا سا ستارہ ہے ، کیا وہ پانی کا چھوٹا سا نطفہ نہیں تھا ، پانی کی ایک بوند جو ٹپکتی ہے۔ کیا انسان ایک نہایت ہی خوردبینی نکتہ نہ تھا ، پھر وہ ایک خلیہ بن گیا ، پھر وہ خون کا ایک مخصوص لوتھڑا بن گیا ، یہ لوتھڑا رحم مادر میں بڑھتا رہا ، پہلے یہ رحم کی دیواروں کے ساتھ معلق رہا اور اس کے خون سے اپنی غذا اخذ کرتا رہا ، یہ تمام مراحل سفر، اسے کس نے سکھائے ؟ اور یہ طاقت اسے کس نے دی اور یہ راستہ اسے کس نے بتایا ؟ ۔ اس کے بعد کس نے اسے ایک جنین کی شکل دی ، جس کی قوتوں کے اندراعتدال اور جس کے اعضا باہم ، ہم آہنگ اور متناسب بن گئے ، پھر کس طرح یہ ایک خلیہ اب کئی ملین خلیوں کی شکل اختیار کر گیا ، حالانکہ پہلے یہ ایک خلیہ تھا اور ایک خوردبینی انڈا تھا ، وہ سفر اور تغیر پذیری جو اس خلیے نے ایک جنین تک طے کی ، یہ پیدائش سے موت تک کے مراحل سے طویل تھی ۔ سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اسے ان طویل تغیرات کے لئے تیار کررہا ہے ، حالانکہ آغاز میں وہ ایک نہایت ہی چھوٹی مخلوق تھی ، نہ عقل اور نہ قوائے ادراک اس کے اندر تھیں ، اور نہ دنیاوی تجربات اسے حاصل تھے ۔
آیت ٣٩ فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی ۔ ” پھر اسی سے اس نے دو زوج بنائے ، نر اور مادہ۔ “- کسی کو اس نے مرد بنا دیا اور کسی کو عورت ، پھر ایک ہی مخلوق سے اللہ نے کس طرح مرد اور عورت پیدا کیے ، کیا یہ مخلوق خود اپنے آپ کو مرد اور عورت کی شکل میں ڈھالتی ہے ، کیا یہ مخلوق خود مذکر مونث ہونے کا فیصلہ کرتی ہے یا یہ کوئی دوسری قوت ہے جو ان تاریکیوں میں اسے مذکر ومونث بناتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسی ذات کے تصور کے سوا اس جہاں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا جو قادر مطلق ہے ، جو مدبر ہے ، جو تمام واقعات اور حادثات کا سبب اول ہے ، جو قدرت مطلقہ رکھتی ہے ، یہ وہی ذات ہے جو انسان کو ایک خوردبینی ذرے سے یہاں تک لاتی ہے۔
.jpg)
No comments:
Post a Comment