آیت ٢١ اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا ۔ ” یقینا جہنم گھات میں ہے۔ “- جہنم تو مجرم انسانوں کی صورت میں اپنے ایندھن کا انتظار کر رہی ہے۔
گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جو شکار کو پھانسنے کے لیے بنائی جاتی ہے تاکہ وہ بے خبری کی حالت میں آئے اور اچانک اس میں پھنس جائے ۔ جہنم کے لیے یہ لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ خدا کے باغی اس سے بے خوف ہو کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے اچھل کود کرتے پھر رہے ہیں کہ خدا کی خدائی ان کے لیے ایک کھلی آماجگاہ ہے ، اور یہاں کسی پکڑ کا خطرہ نہیں ہے ، لیکن جہنم ان کے لیے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ یکایک پھنسیں گے اور بس پھنس کر ہی رہ جائیں گے ۔
مِرْصَاد بمعنی گھات یا تاک لگا کر بیٹھنے کی جگہ جہاں شکاری غافل شکار کو پھانسنے کے لیے بیٹھتا ہے۔ پھر جب شکار اس کی زد میں آجاتا ہے تو یکدم اسے قابو کرلیتا ہے۔ آخرت کے منکر بھی جہنم کے غافل شکار ہیں جو انجام سے بیخبر اور لاپروا ہو کر زمین میں آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ ان کے مرنے کی دیر ہے کہ جہنم فوراً انھیں اپنے قبضہ میں لے لے گی ۔ وہ تو پہلے ہی اس انتظار میں ہے کہ اسے کب کوئی شکار مہیا ہوتا ہے ؟
اصل عربی لفظ ’’احقاب ہے‘‘ جو ’’حقبہ‘‘ کی جمع ہے جو بڑی طویل مدت کو کہتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دوزخ میں رہنے کی مدتیں یکے بعد دیگرے بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے جو اِستدلال کیا ہے کہ جن سرکش لوگوں کا ذِکر ہورہا ہے، وہ بھی طویل مدتیں گذرنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے، وہ غلط استدلال ہے، اس لئے کہ قرآنِ کریم نے بہت سے مقامات پر صریح لفظوں میں وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔
مثلا دیکھئے سورۃ مائدہ(۵:۳۷)۔
تو وہاں سے ان لوگوں کو نجات حاصل نہیں ہوگی اور دوزخ میں نہ تو وہ ٹھنڈے پانی یا یہ کہ نیند کا مزہ چکھیں گے اور نہ ٹھنڈی پینے کی چیز کا سوائے سخت گرم پانی اور زمہریر، یا یہ کہ پیپ کے ، یہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا ۔ یہ لوگ دنیا میں نہ تو عذاب آخرت سے ڈرتے تھے اور نہ اس پر ایمان ہی لاتے تھے اور ہماری کتاب اور ہمارے رسول کی تکذیب کرتے تھے۔
اصل میں لفظ غساق استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق پیپ ، لہو ، کچ لہو ، اور آنکھوں اور کھالوں سے بننے والی ان تمام رطوبتوں پر ہوتا ہے جو شدید تعذیب کی وجہ سے بہ نکلتی ہوں ۔ اس کے علاوہ یہ لفظ ایسی چیز کے لیے بھی بولا جاتا ہے جس میں سخت تعفن اور سڑاند ہو ۔
آیت ٢٦ جَزَآئً وِّفَاقًا ۔ ” بدلہ (ان کے اعمال کا) پورا پورا۔ “- ان لوگوں نے جیسے اعمال کیے ہوں گے ‘ ویسا ہی ان لوگوں کے ساتھ وہاں سلوک کیا جائے گا ۔ یہ ہے وہ سبب جس کی بنا پر وہ جہنم کے اس خوفناک عذاب کے مستحق ہوں گے ۔ ایک یہ کہ دنیا میں وہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں ، اللہ تعالی کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہو ، دوسرے یہ کہ اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے ان کی ہدایت کے لیے جو آیات بھیجی تھیں انہیں ماننے سے انہوں نے قطعی انکار کر دیا اور ان کو جھوٹ قرار دیا ۔
.jpg)
No comments:
Post a Comment