آیت ٤٠ اِنَّآ اَنْذَرْنٰـکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًاج ” دیکھو ہم نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے اس عذاب سے جو بالکل قریب ہے۔ “- تصور کیجیے ‘ یہ عذاب انسان کے کتنا قریب ہے ادھر انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے ‘ ادھر اسے قبر میں اتارنے کا بندوبست کردیا جاتا ہے۔ اور قبر کیا ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ (اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ ) ” قبر یا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ گویا ہر زندہ انسان اس باغیچے یا گڑھے سے صرف چند گھنٹوں کے فاصلے پر بیٹھا ہے۔- یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰٹہُ ” جس دن انسان دیکھ لے گا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا “- وَیَـقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰبًا ۔ ” اور کافر کہے گا : کاش کہ میں مٹی ہوتا “- کاش مجھے شرفِ انسانیت ملا ہی نہ ہوتا
اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ میں پیدا ہی نہ کیا جاتا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد مٹی میں مل کر مٹی ہی بنا رہتا۔ مجھے دوبارہ زندگی نہ عطا کی جاتی اور نہ یہ سختی کا دن دیکھنا پڑتا۔ تیسرا مطلب سیدنا ابوہریرہ (رض) کی اس حدیث سے ماخوذ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جانور، چرند اور پرند سب کا حشر ہوگا حتیٰ کہ سینگ والی بکری کا بدلہ بےسینگ بکری سے لیا جائے گا جس نے دنیا میں اسے مارا ہوگا۔ (مسلم کتاب ، البرو الصلہ ( باب تحریم الظلم) پھر ان سے کہا جائے گا کہ اب تم خاک بن جاؤ۔ اس وقت کافر آرزو کرے گا کہ کاش میں بھی ان جانوروں کی طرح خاک بن جاتا۔

No comments:
Post a Comment