آیت ١ وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا ۔ ” قسم ہے ان ہوائوں کی جو چلائی جاتی ہیں بڑی آہستگی سے۔ “- اللہ تعالیٰ ان ہوائوں کو خاص مقاصد کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلاتا ہے۔
آیت ٤ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا ۔ ” پھر تقسیم کرتی ہیں جدا جدا۔ “- سورة الذاریات میں ہوائوں کی اس خصوصیت کا ذکر فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا ۔ کے الفاظ میں ہوا ہے۔ یعنی ہوائیں سمندر سے بخارات کو بادلوں کی صورت میں دور دراز علاقوں تک لے جاتی ہیں ‘ پھر وہ اس پانی کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مختلف علاقوں میں بارش کی صورت میں تقسیم کرتی ہیں ۔ اس تقسیم میں ان کا معاملہ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا بلکہ ُ جدا جدا ہوتا ہے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے َجل تھل ہوجاتا ہے اور کوئی علاقہ خشک رہ جاتا ہے۔
آیت ٥ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا ۔ ” پھر قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو ذکر کا القاء کرتے ہیں۔ “- گزشتہ چار آیات کے بارے میں تقریباً تمام مفسرین متفق ہیں کہ ان میں ہوائوں کا ذکر ہے۔ البتہ اس آیت کے حوالے سے زیادہ تر مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے فرشتے مراد ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر آتے ہیں ۔ البتہ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں بھی ہوائوں ہی کا تذکرہ ہے ۔ اس حوالے سے ان مفسرین کا استدلال یہ ہے کہ کسی نبی یا کسی داعی کی آواز بھی تو ہوا ہی کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچتی ہے۔ یعنی پیغامات و معلومات کی ترسیل و تقسیم کا ذریعہ تو بہرحال ہوا ہی ہے۔
آیت ٦ عُذْرًا اَوْ نُذْرًا ۔ ” عذر کے طور پر یا خبردار کرنے کے لیے۔ “- وحی یا ذکر (یاد دہانی) کا ابلاغ یا تو اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں پر اتمامِ حجت ہو اور ان کا عذر ختم ہوجائے۔ جیسا کہ سورة النساء کی آیت ١٦٥ میں انبیاء و رسل - کی بعثت کا مقصد واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا : لِئَلاَّ یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِط ” تا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت (دلیل) رسولوں (علیہ السلام) کے آنے کے بعد “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں (علیہ السلام) کو دنیا میں اسی لیے بھیجا تھا کہ ان کی بعثت کے بعد لوگوں کے پاس اس کے ہاں پیش کرنے کے لیے کوئی عذرنہ رہ جائے ۔ وحی یا یاددہانی کا دوسرا مقصد یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ لوگوں کو خبردار کرنے (نُذْرًا) کے لیے ہوتی ہے کہ اگر وہ جاگنا چاہیں تو جاگ جائیں اور راہ راست پر آنا چاہیں تو آجائیں۔ - اب اگلی آیت میں ان قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر ہے کہ یہ قسمیں کس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کھائی گئی ہیں
.jpg)
No comments:
Post a Comment