(وبنینا فوقکم سبعاً شداداً…: آدمی کے نیچے اور گرد و پیش کے عجائب کے بعد اوپر کے عجائب کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسان بنائے جن میں نہ شگاف ہے نہ کوئی کمزوری نہ گرتے ہیں نہ وہاں کسی شیطان کا دخل ہے۔ ” شدیدۃ “ کی جمع ہے، محکم ، مضبوط۔
مضبوط کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ ان کی سرحدیں اتنی مستحکم ہیں کہ ان میں ذرہ برابر تغیر و تبدل نہیں ہونے پاتا اور ان سرحدوں کو پار کر کے عالم بالا کے بے شمار ستاروں اور سیاروں میں سے کوئی نہ ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے نہ تمہاری زمین پر آ گرتا ہے ۔
سورج کی دوری اور فوائد :۔ وَھَّاجاً : الوھج بمعنی سورج یا آگ کی بھڑک جس میں تپش بھی ہو اور چمک بھی۔ یعنی سورج ایک بھڑکتا ہوا گولا ہے جو انسانوں اور اہل زمین کو حرارت بھی مہیا کرتا ہے اور روشنی بھی ۔ یہ سورج زمین سے ٩ کروڑ تیس لاکھ میل کے فاصلہ پر رکھا گیا ہے۔ اگر یہ فاصلہ اس سے کم رکھا جاتا تو انسان سورج کی تپش سے جل بھن کر مرجاتا اور اگر یہ فاصلہ زیادہ کردیا جاتا تو انسان سردی سے ٹھٹھر کر مرجاتا۔ سورج کو زمین سے اتنے مناسب فاصلہ پر رکھنا اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
اصل میں لفظ وھاج استعمال ہوا ہے جس کے معنی نہایت گرم کے بھی ہیں اور نہایت روشن کے بھی ، جس عظیم الشان نشان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا قطر زمین کے قطر سے 109 گنا اور اس کا حجم زمین کے حجم سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے ۔ اس کا درجہ حرارت ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈگری سنٹی گریڈ ہے ۔ زمین سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہونے کے باوجود اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ انسان اگر برہنہ آنکھ سے اس کی طرف نظر جمانے کی کوشش کرے تو اپنی بینائی کھو بیٹھے ، اور اس کی گرمی کا حال یہ ہے کہ زمین کے بعض حصوں میں اس کی تپش کی وجہ سے درجہ حرارت 140 ڈگری فارن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے ۔ یہ اللہ ہی کی حکمت ہے کہ اس نے زمین کو اس سے ٹھیک ایسے فاصلے پر رکھا ہے کہ نہ اس سے بہت قریب ہونے کے باعث یہ بے انتہا گرم ہے اور نہ بہت دور ہونے کی باعث بے انتہا سرد ، اسی وجہ سے یہاں انسان ، حیوان اور نباتات کی زندگی ممکن ہوئی ہے ۔ اسی سے قوت کے بے حساب خزانے نکل کر زمین پر پہنچ رہے ہیں جو ہمارے لیے سبب حیات بنے ہوئے ہیں ۔ اسی سے ہماری فصلیں پک رہی ہیں اور ہر مخلوق کو غذا بہم پہنچ رہی ہے ۔ اسی کی حرارت سمندروں کے پانی کو گرم کر کے وہ بھاپیں اٹھاتی ہیں جو ہواؤں کے ذریعہ سے زمین کے مختلف حصوں پر پھیلتی اور بارش کی شکل میں برستی ہیں ۔ اس سورج میں اللہ نے ایسی زبردست بھٹی سلگا رکھی ہے جو اربوں سال سے روشنی حرات اور مختلف اقسام کی شعاعیں سارے نظام شمسی میں پھینکے چلی جا رہی ہے

No comments:
Post a Comment