Friday, July 24, 2026

فیصلہ کا دن

 آیت ١٧ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا ۔ ” یقینا فیصلے کا دن ایک معین وقت ہے۔ “- یہ ہے وہ اصل بات جس کے لیے بطور تمہید گزشتہ آیات میں اللہ کی رنگا رنگ نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لیے اپنی نعمتوں کا اس قدر وسیع دستر خوان بچھایا ہے تو اس نے انسانوں پر لازماً کچھ ذمہ داریاں بھی ڈالی ہوں گی ۔ جب خود انسانوں کے ہاں اصول ہے کہ ذمہ داریاں  اور مراعات  ایک ساتھ چلتی ہیں تو یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان پر اپنی عطائوں کی بارش تو کرتا رہے اور اس پر ذمہ داری کوئی بھی نہ ڈالے۔ اس لیے تم لوگ یہ مت سمجھو کہ تم من مانی زندگی گزارتے رہو گے اور تم سے کوئی جوابدہی نہیں ہوگی۔ نہیں ‘ تم سے ایک ایک ذمہ داری اور ایک ایک نعمت کا حساب ہوگا اور اس کے لیے ہم نے فیصلے کا ایک دن پہلے سے مقرر کر رکھا ہے ۔

آیت ١٨ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا ۔ ” جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو تم سب چلے آئو گے فوج در فوج۔ “- اس کیفیت کا نقشہ سورة المعارج میں اس طرح دکھایا گیا ہے : یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ ۔ ” جس دن وہ نکلیں گے اپنی قبروں سے دوڑتے ہوئے ‘ جیسے کہ نشان زدہ اہداف کی طرف بھاگے جا رہے ہوں۔ “

آسمان کھول دیا جائے گا ۔ سے مراد یہ ہے کہ عالم بالا میں کوئی بندش اور رکاوٹ باقی نہ رہے گی اور ہر طرف سے ہر آفت سماوی اس طرح ٹوٹی پڑ رہی ہو گی کہ معلوم ہو گا گویا اس کے آنے کے لیے سارے دروازے کھلے ہیں اور اس کو روکنے کے لیے کوئی دروازہ بھی بند نہیں رہا ہے ۔ پہاڑوں کے چلنے اور سراب بن کر رہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھتے دیکھتے پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اڑیں گے اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر اس طرح پھیل جائیں گے کہ جہاں پہلے کبھی پہاڑ تھے وہاں ریت کے وسیع میدانوں کے سوا اور کچھ نہ ہو گا ۔ اس کیفیت کو سورہ طہٰ میں یوں بیان کیا گیا ہے یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ اس سے کہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ تک نہ دیکھو گے ۔ آیات 105 تا 107 مع حاشیہ 83 ) ۔   

No comments:

Post a Comment