نیند بھی اللہ تعالیٰ کے معجزہ نما عجائب میں سے ہے۔ نیند کیا چیز ہے ؟ اس کی حقیقت آج تک انسان کے لیے ايک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ جب انسان کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے تو اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن محض کام چھوڑ دینے سے تھکاوٹ دور نہیں ہوتی جب تک نیند نہ آئے۔ نیند ایک اضطراری امر ہے جو تھکے ہوئے انسان کو لیٹنے پر مجبور کردیتی ہے پھر اس پر چھا جاتی ہے۔ کام کرتے کرتے انسان کے جسم سے جو خلیے جل کر تباہ ہوجاتے ہیں۔ نیند کی حالت میں ان کی جگہ نئے خلیے پیدا ہوتے ہیں۔ اور انسان کی نیند اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک تلافی مافات ہو نہ جائے۔ پھر جب انسان کے جسم کی تعمیر و مرمت پوری ہوجاتی ہے تو انسان کی نیند کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور وہ تازہ دم ہو کر از خود جاگ اٹھتا ہے۔
وجعلنا نومکم سباتاً…” سباتاً “ اور ” سبت “ باب ” نصر “ اور ” ضرب “ سے مصدر ہیں ، راحت و سکون، قطع کرنا۔ اپنی نید کو دیکھ لو جو موت کی طرح تمہاری تمام حرکات قطع کر کے تمہیں مکمل سکون کی وادی میں لے جاتی ہے۔ ہر روز مرنے اور جی اٹھنے کا یہ منظر دیکھ کر بھی تمہیں دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے ؟ علاوہ ازیں تمہارے جسم کی ٹوٹ پھوٹ اور تھکن دور کرنے کے لئے نیند کو راحت و سکون کا ذریعہ بنادیا۔ روشنی راحت میں خلل اندازہو سکتی تھی، اس لئے ہم نے رات کو تاریک بنادیا جو لباس کی طرح ہر چیز کو چھپا لیتی ہے۔ پھر ہماری مہربانی دیکھو کہ مسلسل رات نہیں رکھی، بلکہ روزی کی تلاش کے لے دن بنادیا۔ اگر رات ہی رہتی تو تم روزی کس طرح تلاش کرتے ؟
کام کرنے کے لیے دن :۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ فطری ذرائع یہ ہیں کہ انسان دن کو کام کرے جبکہ اسے قدرتی روشنی آسانی سے میسر آتی ہے۔ اور رات کو آرام کرے اور نیند لے کیونکہ نیند کے لیے جس تاریکی کی ضرورت ہے وہ اسے رات کو آسانی سے قدرتی ذرائع سے مہیا ہوجاتی ہے اس کے برعکس اگر کوئی شخص رات کو کام کرتا رہے اور دن کو سویا کرے تو وہ نہ گہری نیند کا لطف حاصل کرسکتا ہے اور نہ اس کے پورے فوائد حاصل کرسکتا ہے۔ بلکہ کچھ عرصہ بعد اس کی صحت خراب ہوجاتی ہے۔
.jpg)
No comments:
Post a Comment