Friday, July 24, 2026

جنت کی نعمتیں

  مَفَازًا کا لغوی مفہوم :۔ مَفَازًا : فاز بمعنی نجات حاصل کرنا اور مصیبتوں سے نجات حاصل کرکے خیر و عافیت کے ساتھ سلامتی کی جگہ پہنچنا ہے۔ اسی لیے فاز الرجل اور فَوْزَ الرجل کے معنی مرنا اور ہلاک ہونا بھی آتا ہے اور اس میں تصور یہ ہے کہ انسان مر کر دنیا کی پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔ گویا پرہیزگاروں کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہیں قیامت کے دن کے مصائب و آلام اور دوزخ کے عذاب سے نجات مل جائے اور وہ ایسے محفوظ اور سلامتی والے مقام پر پہنچا دیئے جائیں جہاں جہنم کے عذاب کی لو تک بھی نہ پہنچ سکے۔ رہا اس کے بعد جنت میں داخلہ اور جنت کی نعمتوں کا حصول تو وہ اللہ کے فضل اور مہربانی سے زائد انعام ہوگا۔

پرہیزگاروں کو نجات کے بعد زائد انعام جنت یا جنت کی نعمتوں کی صورت میں ملے گا ان میں سے چند ایک کا یہاں ذکر کیا جارہا ہو۔ ان میں پہلی چیز تو حدائق ہیں اور حدائق حدیقہ کی جمع ہے اور حدیقہ ایسے باغ کو کہتے ہیں جس کے گرد حفاظت کی خاطر چار دیواری کی گئی ہے۔ ایسے باغات میں بالخصوص انگوروں کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ یہی ایک ایسا پھل ہے جو پورے کا پورا کھایا جا سکتا ہے نہ اس کا چھلکا اتارنا پڑتا ہے اور نہ اس میں گٹھلی یا بیج ہوتے ہیں اور اگر بیج ہوتے ہیں تو صرف بڑے سائز کے انگور میں جس سے منقیٰ بنتا ہے۔ یہ بیج بھی اگر کوئی شخص کھالے تو کچھ حرج نہیں۔ اور نرم اتنا کہ منہ میں ڈالتے ہی گھل جاتا ہے۔ شیریں بھی ہوتا ہے اور مزیدار بھی۔

 اور بھرے ہوئے جام شراب ہیں، جنتی جنت میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ ، اس جنت میں ایک نیکی کے بدلے دس گنا ان کو ثواب ملے گا یا یہ کہ ان کے اعمال کے موافق اس روز فرشتوں کو بغیر حکم خداوندی کلام کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔

(لایسمعون فیھا لغوا ولا کذباً : جنت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کے کان واں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ یہ سنیں گے کہ کوئی کسی کو جھوٹا کہہ رہا ہے۔ کوئی کسی سے جھگڑے گا ہی نہیں کہ اس کی بات کو جھٹلائے۔ گالی گلوچ اور دنگا فساد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 

 قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کو جنت کی بڑی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے کہ آدمی کے کان وہاں بیہودہ اور جھوٹی اور گندی باتیں سننے سے محفوظ رہیں گے ۔ وہاں کوئی یاوہ گوئی اور فضول گپ بازی نہ ہو گی ، کوئی کسی سے نہ جھوٹ بولے گا نہ کسی کو جھٹلائے گا ، دنیا میں گالم گلوچ ، بہتان ، افترا ، تہمت اور الزام تراشیوں کا جو طوفان برپا ہے اس کا کوئی نام و نشان نہ ہو گا 

آیت ٣٦ جَزَآئً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآئً حِسَابًا ۔ ” یہ بدلہ ہوگا آپ کے رب کی طرف سے ‘ دیا ہوا حساب سے۔ “- یہ سب کچھ ان لوگوں کی محنت اور قربانیوں کے بدلے کے طور پر انہیں عطا کیا جائے گا۔

No comments:

Post a Comment