آیت ۲۵الم نجعل الارض کفاتاً…:” کفاتا “ ” کفت یکفت “ (ض) سمیٹنا، جمع کرنا) سے مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی سمیٹنے والی۔ ” رواسی “ ” راسیۃ “ کی جمع ہے اور ” راس یرسو “ (ن) زمین میں گڑا ہوا ہونا مراد پہاڑ ہیں۔” شمخت “ بلند۔ ” قراتاً “ بہت ہی میٹھا۔ زمین زندوں کو سمیٹتی ہے، وہ اسی پر زندگی گزارتے ہیں وہ ان کی غلاظتیں سنبھالتی ہے اور مردوں کو ب ھی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اگر زمین مرنے والے انسانوں اور دوسرے جان داروں کو نہ سمیٹی تو تعفن سے زندگی دشوار ہوجاتی۔ اس آیت سے مردوں کو سنبھالنے کے لئے دفن کی دلیل ملتی ہے، جو قومیں اپنے مردوں کو جلاتی ہیں ان کی راکھ اور ہڈیاں بھی زمین ہی کے سپرد ہوتی ہیں۔-
آیت ٢٦ ” اَحْیَآئً وَّاَمْوَاتًا ۔ ” زندوں کو بھی اور ُ مردوں کو بھی “- اللہ تعالیٰ نے یہ زمین ایسی بنائی ہے کہ یہ اپنے اوپر موجود ہر زندہ وجود کی تمام ضروریات پوری کر رہی ہے اور ہر قسم کے مردہ کو بھی تحلیل کر کے اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ اس حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں ایسی گنجائش رکھی ہے کہ یہ تاقیامِ قیامت تمام زندوں اور تمام ُ مردوں کے لیے کفایت کرے گی۔
زمین بجائے خود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک بہت بڑا نشان ہے، پھر اس پر بلند و بالا پہاڑ اور انسان کے پینے کے لئے نہایت میٹھا پانی اللہ کی قدرت کے اتنے بڑے عجائب ہیں کہ ان کو دیکھ کر بھی جو لوگ آخرت کو جھٹلاتے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخلوق کو دوبارہ بنانا ممکن نہیں، ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن بہت بڑی خرابی اور ہلاکت ہے۔

No comments:
Post a Comment