Thursday, January 15, 2026

کائنات کی وسعت

 آیت ٤٧ وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰہَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ ۔ ” اور آسمان کو ہم نے بنایا اپنے ہاتھوں سے اور ہم (اس کو) توسیع دینے والے ہیں۔ “- اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ کا ترجمہ عام طور پر ” ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں “ یا ” ہم بڑی قدرت والے ہیں “ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن لغوی اعتبار سے اس کا یہ ترجمہ زیادہ مناسب اور زیادہ جامع ہے جو اوپر متن میں اختیار کیا گیا ہے ۔ اَوْسَع یُوسِعُ باب افعال ہے ‘ جس کا مطلب ہے کشادہ کرنا ‘ وسعت دینا۔ وَسِعَ ثلاثی مجرد ہے ‘ جس سے اسم الفاعل وَاسِعٌ آتا ہے۔ چناچہ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ کا مطلب ہے : اللہ بڑی وسعت سمائی والا ہے ‘ اس کے خزانے لامحدود ہیں۔ جبکہ مَوْسِع باب افعال سے اسم الفاعل ہے اور اس کے معنی ہوں گے : وسعت دینے والا۔ اس لحاظ سے یہاں اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اس کائنات کو مسلسل وسعت بخش رہے ہیں ‘ اسے وسیع سے وسیع تر کیے جا رہے ہیں۔ اور یہ وہی بات ہے جو آج ہمیں سائنس کی مدد سے معلوم ہوئی ہے۔ آج سے نصف صدی پہلے تک انسان کو یہ سب کچھ معلوم نہیں تھا مگر آج ہم جانتے ہیں کہ کائنات میں ہر گھڑی نئے نئے ستارے پیدا ہو رہے ہیں ‘ ہر آن نئی نئی کہکشائیں وجود میں آرہی ہیں اور یہ کائنات مسلسل پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ ” “ کے اس تصور کو اقبالؔ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے : ؎ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید - کہ آرہی ہے دمادم صدائے کُنْ فَـیَکُوْن - تو اللہ تعالیٰ کی شان کُنْ فَیَکُوْن کا ظہور مسلسل جاری ہے۔ اسی مفہوم کو سورة فاطر کی پہلی آیت میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآئُط ” وہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے اضافہ کرتا رہتا ہے “۔ چناچہ وہ آسمانوں کو یعنی کائنات کو مسلسل وسعت دیے جا رہا ہے۔

آیت ٤٨ وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰـہَا فَنِعْمَ الْمٰہِدُوْنَ ۔ ” اور زمین کو ہم نے (فرش کی مانند) بچھا دیا ‘ پس ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں “

یقین والوں کے لئے

  زمین میں مختلف قسم کی قدرت کی نشانیاں :۔ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں اور قرآن میں بار بار ان میں غور و فکر کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ گردش لیل و نہار، یہ موسموں کی تبدیلی اور ان میں تدریج کا دستور، یہ بارش کا پورا نظام۔ اس سے مردہ زمین کا زندہ ہونا۔ مختلف قسم کی نباتات، غلے اور پھل اگانا اور اسی پیداوار سے ساری مخلوق کے رزق کی فراہمی، زمین کے اندر مدفون خزانے، سمندروں اور پہاڑوں بلکہ کائنات کی اکثر چیزوں اور چوپایوں پر انسان بےبنیان کا تصرف اور حکمرانی۔ غرض ایسی نشانیاں ان گنت اور لاتعداد ہیں۔ ان سب میں قدر مشترک کے طور پر جو چیز پائی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کے فائدے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اور ان سب میں ایک ایسا نظم و نسق پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ انسان کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ اگر ان میں ایسا مربوط نظم و نسق نہ پایا جاتا تو ایک ایک چیز انسان کو فنا کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہی بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ ان سب کا خالق صرف ایک ہی ہستی ہوسکتی ہے اور دوسرے اس بات پر کہ کائنات کے اس مربوط نظم و نسق کا کوئی مفید نتیجہ بھی برآمد ہونا چاہئے اور وہ نتیجہ آخرت ہے۔

 انسان کے اپنے وجود میں نشانیاں :۔ انسان کا اپنا وجود اور اس کے اندر کی مشینری کائنات اصغر ہے اور اس میں جو نشانیاں ہیں وہ کائنات اکبر کی نشانیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ انسان کا معدہ ایک چکی کی طرح دن رات کام میں لگا رہتا ہے۔ جو غذا کو پیس کر ایک ملغوبہ تیار کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ جب یہ فارغ ہوجائے تو اور غذا طلب کرتا ہے جسے ہم بھوک کہتے ہیں اس ملغوبہ کی تیاری میں اگر پانی کی کمی ہو تو ہمیں پیاس لگ جاتی ہے اور ہم کھانے پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر اس کے اندر چھلنی بھی ہے جس سے چھن کر یہ ملغوبہ جگر میں چلا جاتا ہے جہاں اچھالنے والی، دفع کرنے والی، صاف کرنے والی، کھینچنے والی مشینیں اور قوتیں کام کر رہی ہیں۔ یہیں دوسری اخلاط بنتی ہیں۔ فالتو پانی کو گردے پیشاب کے راستے سے خارج کردیتے ہیں۔ قوت دافعہ فالتو مواد یا فضلہ کو خارج کرنے کا کام کرتی ہے۔ اور جس طرح انسان کھانے پینے پر مجبور ہوجاتا ہے اسی طرح رفع حاجت پر بھی مجبور ہوجاتا ہے اور اگر روکے تو بیمار پڑجاتا ہے۔ پھر انسان کے جسم میں اتنی باریک نالیاں ہیں جن کا سوراخ خوردبین کے بغیر نظر ہی نہیں آسکتا۔ انہیں کے ذریعے انسان کے جسم کے حصے کو خون پہنچتا ہے۔ اس سلسلہ میں انسان کا دل پمپ کا کام کرتا ہے جو ایک منٹ بھی ٹھہر جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ پھر انسان کا سانس لینا بھی ایک الگ پورا نظام ہے۔ سب سے زیادہ باریک آنکھ کے طبقے اور جھلیاں ہیں جو ایسی لطافت کے ساتھ بنائی گئی ہیں کہ اگر ذرا سا بھی فتور آجائے تو بینائی جواب دے جاتی ہے۔ انسان کا جسم ابتدا سے ہی حکیموں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مگر اس کے بیشتر اسرار آج تک پردہ راز میں ہی ہیں۔ ان جسم کی نشانیوں میں بھی غور کرنے سے وہی دو نتائج حاصل ہوتے ہیں جو کائنات کے نظام میں غور کرنے سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کا سابقہ حاشیہ میں ذکر کردیا گیا ہے۔

اہل تقویٰ

 آیت ١٥ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ ” یقینا اہل تقویٰ باغات اور چشموں کے اندر ہوں گے۔

آیت ١٦ اٰخِذِیْنَ مَآاٰتٰٹہُمْ رَبُّہُمْط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ ۔ ” وہ (شکریے کے ساتھ) لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس سے پہلے نیکوکار تھے۔ “- یہ لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے نیک اعمال کی وجہ سے درجہ احسان تک پہنچے ہوئے تھے۔

آیت ١٧ کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّـیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ ۔ ” رات کا تھوڑا ہی حصہ ہوتا تھا جس میں وہ سوتے تھے۔ “- ان لوگوں کی راتوں کا بیشتر حصہ اپنے رب کے حضور حاضری میں گزرتا تھا۔ سورة الفرقان میں ” عباد الرحمن “ کے اس معمول کا ذکر اس طرح آیا ہے : وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا ۔ اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔ “

آیت ١٨ وَبِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ ” اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔

آیت ١٩ وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۔ ” اور ان کے اموال میں سائل اور محتاج کا حق ہوا کرتا تھا۔ “- انہوں نے اس حقیقت کو قبول کر رکھا تھا کہ ان کے پاس اللہ کا دیا جو کچھ بھی ہے اس میں فقراء و مساکین کا بھی حصہ ہے اور وہ متعلقہ لوگوں کا حق ان تک پہنچایا بھی کرتے تھے۔

یقین مانو

 آیت ٥٦ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ ۔ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۔ ” جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی۔ “- یہ کائنات اور اس کا نظام گواہ ہے کہ بعث بعد الموت ‘ نفخہ اولیٰ ‘ نفخہ ثانیہ وغیرہ سے متعلق جو خبریں تمہیں دی جارہی ہیں وہ یقینا سچی ہیں اور جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے اس میں کچھ شک و شبہ نہیں۔ قیامت ضرور قائم ہوگی اور اس دن تمام انسانوں کو پھر سے ضرور زندہ کیا جائے گا اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔

جس دن

 آیت ٤٤ یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْہُمْ سِرَاعًاط ” جس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ تیزی سے نکل پڑیں گے۔ “- ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ ۔ ” یہ (سب کا) جمع کردینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔ “

یہ جواب ہے کفار کی اس بات کا جو آیت نمبر 3 میں نقل کی گئی ہے ۔ وہ کہتے تھے کہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا کہ جب ہم مر کر خاک ہو چکے ہوں اس وقت ہمیں پھر سے زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے ، یہ واپسی تو بعید از عقل و امکان ہے ۔ ان کی اسی بات کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ یہ حشر ، یعنی سب اگلے پچھلے انسانوں کو بیک وقت زندہ کر کے جمع کر لینا ہمارے لیے بالکل آسان ہے ۔ ہمارے لیے یہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ کس شخص کی خاک کہاں پڑی ہے ہمیں یہ جاننے میں بھی کوئی دقت نہیں پیش آئے گی کہ ان بکھرے ہوئے ذرات میں سے زید کے ذرات کون سے ہیں اور بکر کے ذرات کون سے ۔ ان سب کو الگ الگ سمیٹ کر ایک ایک آدمی کا جسم پھر سے بنا دینا ، اور اس جسم میں اسی شخصیت کو از سر نو پیدا کر دینا جو پہلے اس میں رہ چکی تھی ، ہمارے لیے کوئی بڑا محنت طلب کام نہیں ہے ، بلکہ ہمارے ایک اشارے سے یہ سب کچھ آناً فاناً ہو سکتا ہے ۔ وہ تمام انسان جو آدم کے وقت سے قیامت تک دنیا میں پیدا ہوئے ہیں ہمارے ایک حکم پر بڑی آسانی سے جمع ہو سکتے ہیں ۔ تمہارا چھوٹا سا دماغ اسے بعید سمجھتا ہو تو سمجھا کرے ۔ خالق کائنات کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے ۔

The Difference Between Virtue and Vice

SUMMARY: Virtue is having a kind disposition and vice is something that you would not want others to know about.

Nawwas b. Sam'an al-Ansari reported: I asked Allah's Messenger  about virtue and vice. He said: Virtue is a kind disposition and vice is what rankles in your heart and that you disapprove that people should come to know of it.

QUICK LESSONS:
Strive for virtue; have a kind disposition; stay away from vices
EXPLANATIONS:

This hadith explains the difference between virtue and vice. Virtue is having a kind disposition towards others while vice is something that one would not want others to know about. It could be an action or thought that one has done or had which they are ashamed of or do not want to be known by other people. This hadith teaches us to always strive for virtue in our lives as it will bring us closer to Allah and make us better people overall. We should also try our best to stay away from vices as they can lead us astray from the path of righteousness and cause harm both spiritually and physically.

بندے کو