Friday, January 30, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

چاند سورج کی گردش کے فوائد

 آیت ١٢ (وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ )- انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رات اپنی جگہ اہم ہے اور دن کی اپنی اہمیت ہے۔ رات میں مجموعی طور پر ایک سکون ہے۔ یہ انسانوں اور دوسرے جانداروں کے لیے باعث راحت ہے ‘ اس میں وہ آرام کرتے ہیں ‘ سوتے ہیں اور صبح تازہ دم ہو کر اٹھتے ہیں۔ دوسری طرف دن میں بھاگ دوڑ ‘ محنت ‘ جدوجہد اور مختلف النوع انسانی سرگرمیاں ممکن ہوتی ہیں۔ اگر اس پہلو سے دنیا کے اجتماعی نظام کو دیکھا جائے تو یہ پورا نظام رات اور دن کے وجود کا مرہون منت نظر آتا ہے۔ نباتاتی نظام کو ہی لے لیجیے۔ اس کے لیے رات اور دن دونوں ہی ناگزیر ہیں۔ دن کو سورج کی روشنی اور تمازت سے نباتات کے لیے کا عمل ممکن ہوتا ہے جو ان کی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے۔ فصلوں اور پھلوں کو بھی پکنے کے لیے سورج کی روشنی اور حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری طرف رات کو نباتات کے عمل کے ذریعے سے آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔ گویا رات اور دن کے بغیر نباتات کا وجود ممکن ہی نہیں ہے اور انسانی زندگی میں نباتات کے عمل دخل کا تصور کریں تو اس ایک مثال سے ہی یہ حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دن اور رات کو انسان کے لیے مسخر کردینا کتنی بڑی نعمت ہے۔- (وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ )- پورا نظام شمسی اور تمام اجرام فلکی اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسان کی نفع رسانی میں مصروف ہیں۔

اور یہ کہ وہی ہے

بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تھوڑا وقت

دل کرتا ہے

سب کچھ اللہ کی طرف سے

 آیت ٤٣ وَاَنَّـہٗ ہُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی ۔ ” اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے۔ “- یعنی اچھے برے حالات ‘ خوشی ‘ غم ‘ تکلیف ‘ بیماری سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔

یعنی خوشی اور غم ، دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں ۔ اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ کسی کو اگر راحت و مسرت نصیب ہوئی ہے تو اسی کے دینے سے ہوئی ہے ۔ اور کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پیش آیا ہے تو اسی کی مشیت سے پیش آیا ہے ۔ کوئی دوسری ہستی اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو ۔

آیت ٤٤ وَاَنَّہٗٗ ہُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا ۔ ” اور یہ کہ وہی ہے جو مارتا بھی ہے اور زندہ بھی رکھتا ہے۔

Thursday, January 29, 2026

صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کی خاص ہدایات وتعلیمات

 آیت ٣٨ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ۔ ” کہ نہیں اٹھائے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو۔ “- قیامت کے دن ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کے لیے خود جواب دہ ہوگا۔ وہاں کوئی کسی کی مدد کو نہیں آئے گا ‘ جیسا کہ سورة مریم کی اس آیت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے : وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا ۔ کہ اس دن ہر شخص اکیلا حاضر ہوگا۔ ماں باپ ‘ اولاد ‘ عزیز و اقارب میں سے کوئی اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔

آیت ٣٩ وَاَنْ لَّــیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ۔ ” اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی کچھ جس کی اس نے سعی کی ہوگی۔ “- انسان کو جو کچھ کرنا ہوگا اپنی محنت اور کوشش کے بل پر کرنا ہوگا ‘ خواہشوں اور تمنائوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ قبل ازیں آیت ٢٤ میں سوال کیا گیا تھا کہ ” کیا انسان کو وہی کچھ مل جائے گا جس کی وہ تمنا کرے گا ؟ “ یہ آیت گویا مذکورہ سوال کا جواب ہے۔

آیت ٤٠ وَاَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی ۔ ” اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب اسے دکھا دی جائے گی۔ “- سورة الزلزال میں اس مضمون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے : فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ۔ ” تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ‘ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۔ “

آیت ٤١ ثُمَّ یُجْزٰٹہُ الْجَزَآئَ الْاَوْفٰی ۔ ” پھر اس کو بدلہ دیا جائے گا پورا پورا بدلہ۔

پروردگار کی مغفرت بڑی وسیع ہے

 آیت ٣٢ اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ” وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی سے بچتے ہیں سوائے کچھ آلودگی کے۔ “- یہاں پر لَـمَم سے مراد صغائر ہیں (١) ۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة النساء ‘ آیت ٣١ اور سورة الشوریٰ ‘ آیت ٣٧ میں بھی آچکا ہے اور اب یہاں تیسری مرتبہ آیا ہے۔ مذکورہ آیات کے ضمن میں اس مضمون کے مختلف پہلوئوں کی وضاحت کی جا چکی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں بہت زیادہ متفکر ّ بھی نہ ہواجائے اور دوسروں سے درگزر سے بھی کام لیا جائے۔ - یہاں اس حوالے سے میں آپ کی توجہ اس تلخ حقیقت کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں ہر شخص کسی نہ کسی دلیل کے ساتھ ایک دو کبائر کو اپنے لیے ” جائز “ قرار دے لیتا ہے (اِلا ماشاء اللہ) ۔ فیکٹری کا مالک کہتا ہے کہ کیا کریں جی سود کے بغیر تو ہمارے ملک میں کاروبار کا کوئی تصور ہی نہیں۔ اب مجبوری ہے ‘ کیا کریں فیکٹری بند کر کے تو نہیں بیٹھ سکتے نا۔ سرکاری ملازم کہتا ہے کہ سکولوں کی فیسیں ‘ گھر کا کرایہ ‘ یوٹیلٹی بلز کہاں سے ادا کروں ؟ تنخواہ میں تو کسی طرح بھی گزارا ممکن نہیں۔ اب اگر رشوت نہیں لیں گے تو ظاہر ہے بھوکوں مریں گے غرض ہر شخص نے اپنے ضمیر کے سامنے اپنی مجبوری کا رونا رو کر کبائر میں سے کم از کم ایک گناہ کو اپنا لیا ہے اور ضمیر کی تسلی کے لیے اپنی تمام تر ترجیحات صغائر سے ” پرہیز “ کی طرف منتقل کردی ہیں۔ اس حوالے سے یہ لوگ صغائر سے متعلق مسائل بھی دریافت کرتے ہیں ‘ پھر ان مسائل پر بحثیں بھی ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں دوسروں پر اعتراضات بھی کیے جاتے ہیں ‘ بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑوں کی وجہ سے ” من دیگرم تو دیگری “ (میں اور ہوں ‘ تم اور ہو) کے فتوے بھی صادر کیے جاتے ہیں۔ اس معاملے میں کوئی بھی اللہ کا بندہ یہ نہیں سوچتا (الا ماشاء اللہ ) کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ میں اس چند روزہ زندگی کی آسانیوں اور عیاشیوں کے بدلے اصل زندگی کو تو قربان نہ کروں۔ اگر ایک کام سے جائز طور پر گزارا نہیں ہوتا تو کوئی دوسرا کام کرلوں ‘ یا اپنی ضروریات کو سکیڑ کر کم وسائل کے ساتھ زندگی بسر کرلوں ‘ مگر حرام تو نہ کھائوں - اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ ” یقینا آپ کا ربّ بہت ہی وسیع مغفرت والا ہے۔ “- اس کا دامن ِمغفرت بہت وسیع ہے۔ اہل ِایمان بندے اگر کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے رہیں تو وہ ان کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر گرفت نہیں کرے گا اور اپنی رحمت بےپایاں کی وجہ سے ان کو معاف فرما دے گا۔- ہُوَ اَعْلَمُ بِکُمْ اِذْ اَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّۃٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ ” وہ تمہیں خوب جانتا ہے ‘ جبکہ اس نے تمہیں زمین سے اٹھایا اور جب کہ تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں جنین کی شکل میں تھے۔ “- فَلَا تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْط ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی ۔ ” تو تم خود کو بہت پاکباز نہ ٹھہرائو۔ وہ اسے خوب جانتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتا ہے۔ “- یعنی اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو ‘ وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعتا متقی کون ہے۔ دراصل اپنی پرہیزگاری کا ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت اس شخص کو ہی محسوس ہوتی ہے جس کا دل ” تھو تھا چنا باجے گھنا “ کے مصداق تقویٰ سے خالی ہو ۔ جہاں تقویٰ کی روح کو نظر انداز کیا جا رہا ہوگا وہاں سارا زور تقویٰ کے مظاہر پر ہوگا۔ اندر سے حرام خوری جاری ہوگی اور اس کو چھپانے کے لیے اوپر سے چھوٹی چھوٹی دینی علامات کو اپنا کر تقویٰ کا لبادہ اوڑھ رکھا ہو گا۔   

فَلِلّٰہِ الۡاٰخِرَۃُ وَ الۡاُوۡلٰی

اللہ کی حمد و تسبیح

موت

زبان

تاخیر

قبولیت دعاء کی مختلف صورتیں

Friday, January 23, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

اللہ کی ذات ایسی ہے

فقروا الی اللہ

صالح اولاد انمول اثاثہ

  کم درجہ والی اولاد کو والدین سے ملادینا :۔ یعنی والدین نیک اور پرہیزگار تھے۔ اولاد نے اپنے والدین کی پیروی کی کوشش تو کی مگر نیکی اور پرہیزگاری میں اس درجہ تک نہ پہنچے جو والدین کا درجہ تھا تو اللہ تعالیٰ اولاد پر یہ مہربانی فرمائیں گے کہ ان کو بھی ان کے والدین کے درجہ تک پہنچا کر جنت میں ان کے والدین کے ساتھ ملا دیں گے تاکہ والدین اور اولاد جیسے دنیا میں اکٹھے رہے تھے جنت میں بھی اکٹھے رہ سکیں اور والدین اور اولاد دونوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اس سلسلہ میں یہ نہ ہوگا کہ کچھ والدین کا کچھ درجہ کم کردیا اور کچھ اولاد کا کچھ بڑھا دیا اور دونوں کو ایک درمیانی درجہ کے مقام میں جنت میں ملا دیا بلکہ اولاد کا درجہ ہی بڑھایا جائے گا والدین کا کم نہیں کیا جائے گا۔-   ہر شخص کے اللہ کے ہاں گروی ہونے کا مفہوم :۔ یعنی ہر شخص پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور نعمتیں قرض ہیں اور اس کے بدلے انسان کا نفس اللہ تعالیٰ کے پاس بطور رہن یا مرہونہ چیز ہے۔ قرض کی ادائیگی کی صورت یہ ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے۔ اس کے احکام کی تعمیل کرے اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرے۔ جس شخص نے یہ قرض ادا کردیا اس کا نفس عذاب جہنم سے آزاد ہوگیا۔ وہ کامیاب ہوگیا اور بچ نکلا اور جس نے یہ قرض ادا نہ کیا اس کا نفس پہلے ہی اللہ کے پاس رہن رکھا ہوا ہے۔ اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک کہ جنت محض اللہ کے فضل سے ملے گی۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کی نیکی دوسرے کے نفس کو نہ رہا کرا سکے گی اور نہ عذاب جہنم سے بچا سکے گی۔

منظرجنت

بیشک

رزاق صرف اللہ تعالیٰ

عبادت کا وسیع مفہوم

 آیت ٥٦ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ۔ ” اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔ “- شیخ سعدی (رح) نے اس مفہوم کی ترجمانی اس طرح کی ہے : ؎- زندگی آمد برائے بندگی - زندگی بےبندگی شرمندگی - یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں تخلیق انسانی کی غایت بیان کی گئی ہے۔ کائنات کی تخلیق کے حوالے سے عام طور پر ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس تخلیق کا سبب کیا ہے ؟ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ سوال ہے جس کے جواب میں ہر زمانے کے فلاسفر اور حکماء نے اپنی اپنی آراء دی ہیں ۔ یہ ان تفاصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ ایک عام شخص کے لیے تخلیق کائنات کے سبب کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری نہیں اور اس لاعلمی کی وجہ سے اسے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی نہیں ۔ البتہ اپنی تخلیق کی غرض وغایت کے بارے میں جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ اگر انسان کو اپنی غایت تخلیق ہی کا علم نہیں ہوگا تو گویا اس کی ساری زندگی رائیگاں جائے گی۔ چناچہ اس آیت میں بنی نوع انسان کو ان کی غایت تخلیق واضح طور پر بتادی گئی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ” بندگی “ کے لیے پیدا کیا ہے۔ - بندگی یا عبادت کے بارے میں قبل ازیں بھی میں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ اس کے تین حصے ہیں : اوّلاً ہمہ تن اطاعت ثانیاً اطاعت کی روح یعنی اللہ تعالیٰ کی غایت درجے کی محبت۔ عبادت اصلاً ان دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے (اَلْعِبَادَۃُ تَجْمَعُ اَصْلَیْنِ : غَایَۃَ الْحُبِّ مَعَ غَایَۃِ الذُّلِّ وَالْخُضُوْعِ ) ۔ جبکہ تیسری چیز مراسم ِعبودیت ہے ‘ جس کی حیثیت عبادت کے ظاہر یا جسم کی ہے۔ مثلاً اللہ کے سامنے عاجزی کی حالت (قنوت) میں کھڑے ہونا (قیام) ‘ رکوع ‘ سجدہ ‘ حمدیہ کلمات ادا کرنا ‘ نماز وغیرہ مراسم عبودیت ہیں اور ان کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر ہم عبادت کی اس تعریف (اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت) کی روشنی میں آج اپنی حالت کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت واضح ہوگی کہ ہم میں سے جو لوگ اپنے زعم میں شب و روز پابندی کے ساتھ اللہ کی عبادت پر کمر بستہ ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ دس یا پندرہ فیصد تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہے ہیں۔

صرف اللہ کے لیے

گناہوں سے توبہ کرنے والا

انسانوں سے محبت

اللہ پر یقین

امید

Thursday, January 15, 2026

یاد رکھو

اے بھولےانسان

ہر چیز کے جوڑے

 آیت ٤٩ وَمِنْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ ” اور ہم نے ہر شے کے جوڑے بنائے ہیں شاید کہ تم نصیحت اخذ کرو۔ “- ” جوڑوں “ کی تخلیق میں ہمارے لیے کس کس پہلو سے نصیحت کا سامان ہے ؟ یہ جاننے کے لیے تحقیق کا میدان بہت وسیع ہے۔ یہاں پر اس حوالے سے صرف یہ نکتہ سمجھ لیجیے کہ اس مفہوم کی آیات آخرت سے متعلق عقلی دلیل فراہم کرتی ہیں ۔ یعنی جب ہر شے کا جوڑا ہے تو دنیا کا بھی تو جوڑا ہونا چاہیے اور ظاہر ہے دنیاکا جوڑا آخرت ہے۔

 یعنی ہر چیز کو جوڑا جوڑا، نر اور مادہ یا اس کی مقابل اور ضد کو بھی پیدا کیا ہے۔ جیسے روشنی اور اندھیرا، خشکی اور تری، چاند اور سورج، میٹھا اور کڑوا رات اور دن خیر اور شر زندگی اور موت ایمان اور کفر شقاوت اور سعادت جنت اور دوزخ جن وانس وغیرہ حتی کہ حیوانات کے مقابل جمادات اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کا بھی جوڑا ہو یعنی آخرت، دنیا کے بالمقابل دوسری زندگی۔ یہ جان لو کہ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک اللہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

کائنات کی وسعت

 آیت ٤٧ وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰہَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ ۔ ” اور آسمان کو ہم نے بنایا اپنے ہاتھوں سے اور ہم (اس کو) توسیع دینے والے ہیں۔ “- اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ کا ترجمہ عام طور پر ” ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں “ یا ” ہم بڑی قدرت والے ہیں “ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن لغوی اعتبار سے اس کا یہ ترجمہ زیادہ مناسب اور زیادہ جامع ہے جو اوپر متن میں اختیار کیا گیا ہے ۔ اَوْسَع یُوسِعُ باب افعال ہے ‘ جس کا مطلب ہے کشادہ کرنا ‘ وسعت دینا۔ وَسِعَ ثلاثی مجرد ہے ‘ جس سے اسم الفاعل وَاسِعٌ آتا ہے۔ چناچہ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ کا مطلب ہے : اللہ بڑی وسعت سمائی والا ہے ‘ اس کے خزانے لامحدود ہیں۔ جبکہ مَوْسِع باب افعال سے اسم الفاعل ہے اور اس کے معنی ہوں گے : وسعت دینے والا۔ اس لحاظ سے یہاں اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اس کائنات کو مسلسل وسعت بخش رہے ہیں ‘ اسے وسیع سے وسیع تر کیے جا رہے ہیں۔ اور یہ وہی بات ہے جو آج ہمیں سائنس کی مدد سے معلوم ہوئی ہے۔ آج سے نصف صدی پہلے تک انسان کو یہ سب کچھ معلوم نہیں تھا مگر آج ہم جانتے ہیں کہ کائنات میں ہر گھڑی نئے نئے ستارے پیدا ہو رہے ہیں ‘ ہر آن نئی نئی کہکشائیں وجود میں آرہی ہیں اور یہ کائنات مسلسل پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ ” “ کے اس تصور کو اقبالؔ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے : ؎ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید - کہ آرہی ہے دمادم صدائے کُنْ فَـیَکُوْن - تو اللہ تعالیٰ کی شان کُنْ فَیَکُوْن کا ظہور مسلسل جاری ہے۔ اسی مفہوم کو سورة فاطر کی پہلی آیت میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآئُط ” وہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے اضافہ کرتا رہتا ہے “۔ چناچہ وہ آسمانوں کو یعنی کائنات کو مسلسل وسعت دیے جا رہا ہے۔

آیت ٤٨ وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰـہَا فَنِعْمَ الْمٰہِدُوْنَ ۔ ” اور زمین کو ہم نے (فرش کی مانند) بچھا دیا ‘ پس ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں “

یقین والوں کے لئے

  زمین میں مختلف قسم کی قدرت کی نشانیاں :۔ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں اور قرآن میں بار بار ان میں غور و فکر کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ گردش لیل و نہار، یہ موسموں کی تبدیلی اور ان میں تدریج کا دستور، یہ بارش کا پورا نظام۔ اس سے مردہ زمین کا زندہ ہونا۔ مختلف قسم کی نباتات، غلے اور پھل اگانا اور اسی پیداوار سے ساری مخلوق کے رزق کی فراہمی، زمین کے اندر مدفون خزانے، سمندروں اور پہاڑوں بلکہ کائنات کی اکثر چیزوں اور چوپایوں پر انسان بےبنیان کا تصرف اور حکمرانی۔ غرض ایسی نشانیاں ان گنت اور لاتعداد ہیں۔ ان سب میں قدر مشترک کے طور پر جو چیز پائی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کے فائدے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اور ان سب میں ایک ایسا نظم و نسق پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ انسان کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ اگر ان میں ایسا مربوط نظم و نسق نہ پایا جاتا تو ایک ایک چیز انسان کو فنا کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہی بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ ان سب کا خالق صرف ایک ہی ہستی ہوسکتی ہے اور دوسرے اس بات پر کہ کائنات کے اس مربوط نظم و نسق کا کوئی مفید نتیجہ بھی برآمد ہونا چاہئے اور وہ نتیجہ آخرت ہے۔

 انسان کے اپنے وجود میں نشانیاں :۔ انسان کا اپنا وجود اور اس کے اندر کی مشینری کائنات اصغر ہے اور اس میں جو نشانیاں ہیں وہ کائنات اکبر کی نشانیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ انسان کا معدہ ایک چکی کی طرح دن رات کام میں لگا رہتا ہے۔ جو غذا کو پیس کر ایک ملغوبہ تیار کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ جب یہ فارغ ہوجائے تو اور غذا طلب کرتا ہے جسے ہم بھوک کہتے ہیں اس ملغوبہ کی تیاری میں اگر پانی کی کمی ہو تو ہمیں پیاس لگ جاتی ہے اور ہم کھانے پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر اس کے اندر چھلنی بھی ہے جس سے چھن کر یہ ملغوبہ جگر میں چلا جاتا ہے جہاں اچھالنے والی، دفع کرنے والی، صاف کرنے والی، کھینچنے والی مشینیں اور قوتیں کام کر رہی ہیں۔ یہیں دوسری اخلاط بنتی ہیں۔ فالتو پانی کو گردے پیشاب کے راستے سے خارج کردیتے ہیں۔ قوت دافعہ فالتو مواد یا فضلہ کو خارج کرنے کا کام کرتی ہے۔ اور جس طرح انسان کھانے پینے پر مجبور ہوجاتا ہے اسی طرح رفع حاجت پر بھی مجبور ہوجاتا ہے اور اگر روکے تو بیمار پڑجاتا ہے۔ پھر انسان کے جسم میں اتنی باریک نالیاں ہیں جن کا سوراخ خوردبین کے بغیر نظر ہی نہیں آسکتا۔ انہیں کے ذریعے انسان کے جسم کے حصے کو خون پہنچتا ہے۔ اس سلسلہ میں انسان کا دل پمپ کا کام کرتا ہے جو ایک منٹ بھی ٹھہر جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ پھر انسان کا سانس لینا بھی ایک الگ پورا نظام ہے۔ سب سے زیادہ باریک آنکھ کے طبقے اور جھلیاں ہیں جو ایسی لطافت کے ساتھ بنائی گئی ہیں کہ اگر ذرا سا بھی فتور آجائے تو بینائی جواب دے جاتی ہے۔ انسان کا جسم ابتدا سے ہی حکیموں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مگر اس کے بیشتر اسرار آج تک پردہ راز میں ہی ہیں۔ ان جسم کی نشانیوں میں بھی غور کرنے سے وہی دو نتائج حاصل ہوتے ہیں جو کائنات کے نظام میں غور کرنے سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کا سابقہ حاشیہ میں ذکر کردیا گیا ہے۔

اہل تقویٰ

 آیت ١٥ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ ” یقینا اہل تقویٰ باغات اور چشموں کے اندر ہوں گے۔

آیت ١٦ اٰخِذِیْنَ مَآاٰتٰٹہُمْ رَبُّہُمْط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ ۔ ” وہ (شکریے کے ساتھ) لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس سے پہلے نیکوکار تھے۔ “- یہ لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے نیک اعمال کی وجہ سے درجہ احسان تک پہنچے ہوئے تھے۔

آیت ١٧ کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّـیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ ۔ ” رات کا تھوڑا ہی حصہ ہوتا تھا جس میں وہ سوتے تھے۔ “- ان لوگوں کی راتوں کا بیشتر حصہ اپنے رب کے حضور حاضری میں گزرتا تھا۔ سورة الفرقان میں ” عباد الرحمن “ کے اس معمول کا ذکر اس طرح آیا ہے : وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا ۔ اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔ “

آیت ١٨ وَبِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ ” اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔

آیت ١٩ وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۔ ” اور ان کے اموال میں سائل اور محتاج کا حق ہوا کرتا تھا۔ “- انہوں نے اس حقیقت کو قبول کر رکھا تھا کہ ان کے پاس اللہ کا دیا جو کچھ بھی ہے اس میں فقراء و مساکین کا بھی حصہ ہے اور وہ متعلقہ لوگوں کا حق ان تک پہنچایا بھی کرتے تھے۔

یقین مانو

 آیت ٥٦ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ ۔ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۔ ” جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی۔ “- یہ کائنات اور اس کا نظام گواہ ہے کہ بعث بعد الموت ‘ نفخہ اولیٰ ‘ نفخہ ثانیہ وغیرہ سے متعلق جو خبریں تمہیں دی جارہی ہیں وہ یقینا سچی ہیں اور جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے اس میں کچھ شک و شبہ نہیں۔ قیامت ضرور قائم ہوگی اور اس دن تمام انسانوں کو پھر سے ضرور زندہ کیا جائے گا اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔

جس دن

 آیت ٤٤ یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْہُمْ سِرَاعًاط ” جس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ تیزی سے نکل پڑیں گے۔ “- ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ ۔ ” یہ (سب کا) جمع کردینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔ “

یہ جواب ہے کفار کی اس بات کا جو آیت نمبر 3 میں نقل کی گئی ہے ۔ وہ کہتے تھے کہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا کہ جب ہم مر کر خاک ہو چکے ہوں اس وقت ہمیں پھر سے زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے ، یہ واپسی تو بعید از عقل و امکان ہے ۔ ان کی اسی بات کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ یہ حشر ، یعنی سب اگلے پچھلے انسانوں کو بیک وقت زندہ کر کے جمع کر لینا ہمارے لیے بالکل آسان ہے ۔ ہمارے لیے یہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ کس شخص کی خاک کہاں پڑی ہے ہمیں یہ جاننے میں بھی کوئی دقت نہیں پیش آئے گی کہ ان بکھرے ہوئے ذرات میں سے زید کے ذرات کون سے ہیں اور بکر کے ذرات کون سے ۔ ان سب کو الگ الگ سمیٹ کر ایک ایک آدمی کا جسم پھر سے بنا دینا ، اور اس جسم میں اسی شخصیت کو از سر نو پیدا کر دینا جو پہلے اس میں رہ چکی تھی ، ہمارے لیے کوئی بڑا محنت طلب کام نہیں ہے ، بلکہ ہمارے ایک اشارے سے یہ سب کچھ آناً فاناً ہو سکتا ہے ۔ وہ تمام انسان جو آدم کے وقت سے قیامت تک دنیا میں پیدا ہوئے ہیں ہمارے ایک حکم پر بڑی آسانی سے جمع ہو سکتے ہیں ۔ تمہارا چھوٹا سا دماغ اسے بعید سمجھتا ہو تو سمجھا کرے ۔ خالق کائنات کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے ۔

The Difference Between Virtue and Vice

SUMMARY: Virtue is having a kind disposition and vice is something that you would not want others to know about.

Nawwas b. Sam'an al-Ansari reported: I asked Allah's Messenger  about virtue and vice. He said: Virtue is a kind disposition and vice is what rankles in your heart and that you disapprove that people should come to know of it.

QUICK LESSONS:
Strive for virtue; have a kind disposition; stay away from vices
EXPLANATIONS:

This hadith explains the difference between virtue and vice. Virtue is having a kind disposition towards others while vice is something that one would not want others to know about. It could be an action or thought that one has done or had which they are ashamed of or do not want to be known by other people. This hadith teaches us to always strive for virtue in our lives as it will bring us closer to Allah and make us better people overall. We should also try our best to stay away from vices as they can lead us astray from the path of righteousness and cause harm both spiritually and physically.

بندے کو

دعــاء

بڑی سلطنت

نمی کا سبب

Thursday, January 8, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

عبادت

 

زندگی اور موت کا سلسلہ

اور سن رکھیں

 آیت ٤١ وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُـنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّـکَانٍ قَرِیْبٍ ۔ ” اور کان لگائے رکھو جس دن پکارنے والا پکارے گا بہت قریب کی جگہ سے۔ “- یعنی اس دن کے منتظررہو جب صور میں پھونکا جائے گا اور ہر شخص کو اس کی آواز بہت قریب سے آتی ہوئی محسوس ہوگی۔ صور کی آواز ایسی زوردار اور خوفناک ہوگی کہ اس سے ہر جان دار کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس کے بعد سب انسانوں کو زندہ کر کے محشر میں جمع کرنے کے لیے پھر صور پھونکا جائے گا۔ یہاں اسی دوسرے صور کا ذکر ہے ۔

 یعنی جو شخص جہاں مرا پڑا ہوگا ، یا جہاں بھی دنیا میں اس کی موت واقع ہوئی تھی ، وہیں خدا کے منادی کی آواز اس کو پہنچے گی کہ اٹھو اور چلو اپنے رب کی طرف اپنا حساب دینے کے لیے ۔ یہ آواز کچھ اس طرح کی ہوگی روئے زمین کے چپے چپے پر جو شخص بھی زندہ ہوکر اٹھے گا وہ محسوس کرے گا کہ پکارنے والے نے کہیں قریب ہی سے اس کو پکارا ہے ۔ ایک ہی وقت میں پورے کرہ ارض پر ہر جگہ یہ آوز یکساں سنای دے گی ، اس سے بھی کچھ اندازہ ہوسکتا ہے کہ عالم آخرت میں زمان و مکان کے اعتبارات ہماری موجودہ دنیا کی بہ نسبت کس قدر بدلے ہوئے ہوں گے اور کیسی قوتیں کس طرح کے قوانین کے مطابق وہاں کارفرما ہوں گی ۔

آیت ٤٢ یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بِالْحَقِّ ط ” جس دن کہ وہ سنیں گے ایک چنگھاڑ حق کے ساتھ۔ “- ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ ۔ ” وہ ہوگا نکلنے کا دن۔ “- یعنی وہ زمین سے ُ مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔