Thursday, January 15, 2026

یاد رکھو

اے بھولےانسان

ہر چیز کے جوڑے

 آیت ٤٩ وَمِنْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ ” اور ہم نے ہر شے کے جوڑے بنائے ہیں شاید کہ تم نصیحت اخذ کرو۔ “- ” جوڑوں “ کی تخلیق میں ہمارے لیے کس کس پہلو سے نصیحت کا سامان ہے ؟ یہ جاننے کے لیے تحقیق کا میدان بہت وسیع ہے۔ یہاں پر اس حوالے سے صرف یہ نکتہ سمجھ لیجیے کہ اس مفہوم کی آیات آخرت سے متعلق عقلی دلیل فراہم کرتی ہیں ۔ یعنی جب ہر شے کا جوڑا ہے تو دنیا کا بھی تو جوڑا ہونا چاہیے اور ظاہر ہے دنیاکا جوڑا آخرت ہے۔

 یعنی ہر چیز کو جوڑا جوڑا، نر اور مادہ یا اس کی مقابل اور ضد کو بھی پیدا کیا ہے۔ جیسے روشنی اور اندھیرا، خشکی اور تری، چاند اور سورج، میٹھا اور کڑوا رات اور دن خیر اور شر زندگی اور موت ایمان اور کفر شقاوت اور سعادت جنت اور دوزخ جن وانس وغیرہ حتی کہ حیوانات کے مقابل جمادات اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کا بھی جوڑا ہو یعنی آخرت، دنیا کے بالمقابل دوسری زندگی۔ یہ جان لو کہ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک اللہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

کائنات کی وسعت

 آیت ٤٧ وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰہَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ ۔ ” اور آسمان کو ہم نے بنایا اپنے ہاتھوں سے اور ہم (اس کو) توسیع دینے والے ہیں۔ “- اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ کا ترجمہ عام طور پر ” ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں “ یا ” ہم بڑی قدرت والے ہیں “ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن لغوی اعتبار سے اس کا یہ ترجمہ زیادہ مناسب اور زیادہ جامع ہے جو اوپر متن میں اختیار کیا گیا ہے ۔ اَوْسَع یُوسِعُ باب افعال ہے ‘ جس کا مطلب ہے کشادہ کرنا ‘ وسعت دینا۔ وَسِعَ ثلاثی مجرد ہے ‘ جس سے اسم الفاعل وَاسِعٌ آتا ہے۔ چناچہ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ کا مطلب ہے : اللہ بڑی وسعت سمائی والا ہے ‘ اس کے خزانے لامحدود ہیں۔ جبکہ مَوْسِع باب افعال سے اسم الفاعل ہے اور اس کے معنی ہوں گے : وسعت دینے والا۔ اس لحاظ سے یہاں اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اس کائنات کو مسلسل وسعت بخش رہے ہیں ‘ اسے وسیع سے وسیع تر کیے جا رہے ہیں۔ اور یہ وہی بات ہے جو آج ہمیں سائنس کی مدد سے معلوم ہوئی ہے۔ آج سے نصف صدی پہلے تک انسان کو یہ سب کچھ معلوم نہیں تھا مگر آج ہم جانتے ہیں کہ کائنات میں ہر گھڑی نئے نئے ستارے پیدا ہو رہے ہیں ‘ ہر آن نئی نئی کہکشائیں وجود میں آرہی ہیں اور یہ کائنات مسلسل پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ ” “ کے اس تصور کو اقبالؔ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے : ؎ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید - کہ آرہی ہے دمادم صدائے کُنْ فَـیَکُوْن - تو اللہ تعالیٰ کی شان کُنْ فَیَکُوْن کا ظہور مسلسل جاری ہے۔ اسی مفہوم کو سورة فاطر کی پہلی آیت میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآئُط ” وہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے اضافہ کرتا رہتا ہے “۔ چناچہ وہ آسمانوں کو یعنی کائنات کو مسلسل وسعت دیے جا رہا ہے۔

آیت ٤٨ وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰـہَا فَنِعْمَ الْمٰہِدُوْنَ ۔ ” اور زمین کو ہم نے (فرش کی مانند) بچھا دیا ‘ پس ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں “

یقین والوں کے لئے

  زمین میں مختلف قسم کی قدرت کی نشانیاں :۔ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں اور قرآن میں بار بار ان میں غور و فکر کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ گردش لیل و نہار، یہ موسموں کی تبدیلی اور ان میں تدریج کا دستور، یہ بارش کا پورا نظام۔ اس سے مردہ زمین کا زندہ ہونا۔ مختلف قسم کی نباتات، غلے اور پھل اگانا اور اسی پیداوار سے ساری مخلوق کے رزق کی فراہمی، زمین کے اندر مدفون خزانے، سمندروں اور پہاڑوں بلکہ کائنات کی اکثر چیزوں اور چوپایوں پر انسان بےبنیان کا تصرف اور حکمرانی۔ غرض ایسی نشانیاں ان گنت اور لاتعداد ہیں۔ ان سب میں قدر مشترک کے طور پر جو چیز پائی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کے فائدے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اور ان سب میں ایک ایسا نظم و نسق پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ انسان کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ اگر ان میں ایسا مربوط نظم و نسق نہ پایا جاتا تو ایک ایک چیز انسان کو فنا کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہی بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ ان سب کا خالق صرف ایک ہی ہستی ہوسکتی ہے اور دوسرے اس بات پر کہ کائنات کے اس مربوط نظم و نسق کا کوئی مفید نتیجہ بھی برآمد ہونا چاہئے اور وہ نتیجہ آخرت ہے۔

 انسان کے اپنے وجود میں نشانیاں :۔ انسان کا اپنا وجود اور اس کے اندر کی مشینری کائنات اصغر ہے اور اس میں جو نشانیاں ہیں وہ کائنات اکبر کی نشانیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ انسان کا معدہ ایک چکی کی طرح دن رات کام میں لگا رہتا ہے۔ جو غذا کو پیس کر ایک ملغوبہ تیار کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ جب یہ فارغ ہوجائے تو اور غذا طلب کرتا ہے جسے ہم بھوک کہتے ہیں اس ملغوبہ کی تیاری میں اگر پانی کی کمی ہو تو ہمیں پیاس لگ جاتی ہے اور ہم کھانے پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر اس کے اندر چھلنی بھی ہے جس سے چھن کر یہ ملغوبہ جگر میں چلا جاتا ہے جہاں اچھالنے والی، دفع کرنے والی، صاف کرنے والی، کھینچنے والی مشینیں اور قوتیں کام کر رہی ہیں۔ یہیں دوسری اخلاط بنتی ہیں۔ فالتو پانی کو گردے پیشاب کے راستے سے خارج کردیتے ہیں۔ قوت دافعہ فالتو مواد یا فضلہ کو خارج کرنے کا کام کرتی ہے۔ اور جس طرح انسان کھانے پینے پر مجبور ہوجاتا ہے اسی طرح رفع حاجت پر بھی مجبور ہوجاتا ہے اور اگر روکے تو بیمار پڑجاتا ہے۔ پھر انسان کے جسم میں اتنی باریک نالیاں ہیں جن کا سوراخ خوردبین کے بغیر نظر ہی نہیں آسکتا۔ انہیں کے ذریعے انسان کے جسم کے حصے کو خون پہنچتا ہے۔ اس سلسلہ میں انسان کا دل پمپ کا کام کرتا ہے جو ایک منٹ بھی ٹھہر جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ پھر انسان کا سانس لینا بھی ایک الگ پورا نظام ہے۔ سب سے زیادہ باریک آنکھ کے طبقے اور جھلیاں ہیں جو ایسی لطافت کے ساتھ بنائی گئی ہیں کہ اگر ذرا سا بھی فتور آجائے تو بینائی جواب دے جاتی ہے۔ انسان کا جسم ابتدا سے ہی حکیموں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مگر اس کے بیشتر اسرار آج تک پردہ راز میں ہی ہیں۔ ان جسم کی نشانیوں میں بھی غور کرنے سے وہی دو نتائج حاصل ہوتے ہیں جو کائنات کے نظام میں غور کرنے سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کا سابقہ حاشیہ میں ذکر کردیا گیا ہے۔

اہل تقویٰ

 آیت ١٥ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ ” یقینا اہل تقویٰ باغات اور چشموں کے اندر ہوں گے۔

آیت ١٦ اٰخِذِیْنَ مَآاٰتٰٹہُمْ رَبُّہُمْط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ ۔ ” وہ (شکریے کے ساتھ) لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس سے پہلے نیکوکار تھے۔ “- یہ لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے نیک اعمال کی وجہ سے درجہ احسان تک پہنچے ہوئے تھے۔

آیت ١٧ کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّـیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ ۔ ” رات کا تھوڑا ہی حصہ ہوتا تھا جس میں وہ سوتے تھے۔ “- ان لوگوں کی راتوں کا بیشتر حصہ اپنے رب کے حضور حاضری میں گزرتا تھا۔ سورة الفرقان میں ” عباد الرحمن “ کے اس معمول کا ذکر اس طرح آیا ہے : وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا ۔ اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔ “

آیت ١٨ وَبِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ ” اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔

آیت ١٩ وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۔ ” اور ان کے اموال میں سائل اور محتاج کا حق ہوا کرتا تھا۔ “- انہوں نے اس حقیقت کو قبول کر رکھا تھا کہ ان کے پاس اللہ کا دیا جو کچھ بھی ہے اس میں فقراء و مساکین کا بھی حصہ ہے اور وہ متعلقہ لوگوں کا حق ان تک پہنچایا بھی کرتے تھے۔

یقین مانو

 آیت ٥٦ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ ۔ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۔ ” جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی۔ “- یہ کائنات اور اس کا نظام گواہ ہے کہ بعث بعد الموت ‘ نفخہ اولیٰ ‘ نفخہ ثانیہ وغیرہ سے متعلق جو خبریں تمہیں دی جارہی ہیں وہ یقینا سچی ہیں اور جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے اس میں کچھ شک و شبہ نہیں۔ قیامت ضرور قائم ہوگی اور اس دن تمام انسانوں کو پھر سے ضرور زندہ کیا جائے گا اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔

جس دن

 آیت ٤٤ یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْہُمْ سِرَاعًاط ” جس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ تیزی سے نکل پڑیں گے۔ “- ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ ۔ ” یہ (سب کا) جمع کردینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔ “

یہ جواب ہے کفار کی اس بات کا جو آیت نمبر 3 میں نقل کی گئی ہے ۔ وہ کہتے تھے کہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا کہ جب ہم مر کر خاک ہو چکے ہوں اس وقت ہمیں پھر سے زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے ، یہ واپسی تو بعید از عقل و امکان ہے ۔ ان کی اسی بات کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ یہ حشر ، یعنی سب اگلے پچھلے انسانوں کو بیک وقت زندہ کر کے جمع کر لینا ہمارے لیے بالکل آسان ہے ۔ ہمارے لیے یہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ کس شخص کی خاک کہاں پڑی ہے ہمیں یہ جاننے میں بھی کوئی دقت نہیں پیش آئے گی کہ ان بکھرے ہوئے ذرات میں سے زید کے ذرات کون سے ہیں اور بکر کے ذرات کون سے ۔ ان سب کو الگ الگ سمیٹ کر ایک ایک آدمی کا جسم پھر سے بنا دینا ، اور اس جسم میں اسی شخصیت کو از سر نو پیدا کر دینا جو پہلے اس میں رہ چکی تھی ، ہمارے لیے کوئی بڑا محنت طلب کام نہیں ہے ، بلکہ ہمارے ایک اشارے سے یہ سب کچھ آناً فاناً ہو سکتا ہے ۔ وہ تمام انسان جو آدم کے وقت سے قیامت تک دنیا میں پیدا ہوئے ہیں ہمارے ایک حکم پر بڑی آسانی سے جمع ہو سکتے ہیں ۔ تمہارا چھوٹا سا دماغ اسے بعید سمجھتا ہو تو سمجھا کرے ۔ خالق کائنات کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے ۔

The Difference Between Virtue and Vice

SUMMARY: Virtue is having a kind disposition and vice is something that you would not want others to know about.

Nawwas b. Sam'an al-Ansari reported: I asked Allah's Messenger  about virtue and vice. He said: Virtue is a kind disposition and vice is what rankles in your heart and that you disapprove that people should come to know of it.

QUICK LESSONS:
Strive for virtue; have a kind disposition; stay away from vices
EXPLANATIONS:

This hadith explains the difference between virtue and vice. Virtue is having a kind disposition towards others while vice is something that one would not want others to know about. It could be an action or thought that one has done or had which they are ashamed of or do not want to be known by other people. This hadith teaches us to always strive for virtue in our lives as it will bring us closer to Allah and make us better people overall. We should also try our best to stay away from vices as they can lead us astray from the path of righteousness and cause harm both spiritually and physically.

بندے کو

دعــاء

بڑی سلطنت

نمی کا سبب

Thursday, January 8, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

عبادت

 

زندگی اور موت کا سلسلہ

اور سن رکھیں

 آیت ٤١ وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُـنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّـکَانٍ قَرِیْبٍ ۔ ” اور کان لگائے رکھو جس دن پکارنے والا پکارے گا بہت قریب کی جگہ سے۔ “- یعنی اس دن کے منتظررہو جب صور میں پھونکا جائے گا اور ہر شخص کو اس کی آواز بہت قریب سے آتی ہوئی محسوس ہوگی۔ صور کی آواز ایسی زوردار اور خوفناک ہوگی کہ اس سے ہر جان دار کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس کے بعد سب انسانوں کو زندہ کر کے محشر میں جمع کرنے کے لیے پھر صور پھونکا جائے گا۔ یہاں اسی دوسرے صور کا ذکر ہے ۔

 یعنی جو شخص جہاں مرا پڑا ہوگا ، یا جہاں بھی دنیا میں اس کی موت واقع ہوئی تھی ، وہیں خدا کے منادی کی آواز اس کو پہنچے گی کہ اٹھو اور چلو اپنے رب کی طرف اپنا حساب دینے کے لیے ۔ یہ آواز کچھ اس طرح کی ہوگی روئے زمین کے چپے چپے پر جو شخص بھی زندہ ہوکر اٹھے گا وہ محسوس کرے گا کہ پکارنے والے نے کہیں قریب ہی سے اس کو پکارا ہے ۔ ایک ہی وقت میں پورے کرہ ارض پر ہر جگہ یہ آوز یکساں سنای دے گی ، اس سے بھی کچھ اندازہ ہوسکتا ہے کہ عالم آخرت میں زمان و مکان کے اعتبارات ہماری موجودہ دنیا کی بہ نسبت کس قدر بدلے ہوئے ہوں گے اور کیسی قوتیں کس طرح کے قوانین کے مطابق وہاں کارفرما ہوں گی ۔

آیت ٤٢ یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بِالْحَقِّ ط ” جس دن کہ وہ سنیں گے ایک چنگھاڑ حق کے ساتھ۔ “- ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ ۔ ” وہ ہوگا نکلنے کا دن۔ “- یعنی وہ زمین سے ُ مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔

انسان نہیں جانتا

اگر سچ ہے

مثبت سوچ

آزمائش

Monday, January 5, 2026

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

اللہ جب

رب کی تسبیح وتحمید

اللہ کی تسبیح

چھ دن میں

جو رحمٰن سے

 آیت ٣٣ مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ ” جو ڈرتا رہا رحمن سے غیب میں ہونے کے باوجود۔ “- وَجَآئَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ ۔ ” اور لے کر آیا رجوع کرنے والا دل۔ “- قلب منیب سے بھی یہاں قلب سلیم ہی مراد ہے ۔ یہ ایسے شخص کا ذکر ہے جو دنیا میں اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہا۔ اللہ کی امانت کو اس نے پوری حفاظت اور سلامتی کے ساتھ رکھا اور صحیح و سلامت حالت میں لوٹایا۔

آیت ٣٤ نِ ادْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ ۔ ” (ان سے کہا جائے گا : ) داخل ہو جائو اس (جنت) میں سلامتی کے ساتھ ‘ اب یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔ “ - اب ایسا کوئی مرحلہ نہیں آئے گا کہ تمہیں جنت سے نکلنا پڑے۔

 اُدْخُلُوْھَا بِسَلامٍ ۔ سلام کو اگر سلامتی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کے رنج اور غم اور فکر اور آفات سے محفوظ ہو کر اس جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ اور اگر اسے سلام ہی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ آؤ اس جنت میں اللہ اور اس کے ملائکہ کی طرف سے تم کو سلام ہے ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات بتا دی ہیں جن کی بنا پر کوئی شخص جنت کا مستحق ہوتا ہے ، اور وہ ہیں ( 1 ) تقویٰ ، ( 2 ) رجوع الی اللہ ، ( 3 ) اللہ سے اپنے تعلق کی نگہداشت ۔ ( 4 ) اللہ کو دیکھے بغیر اور اس کی رحیمی پر یقین رکھنے کے باوجود اس سے ڈرنا ، اور ( 5 ) قلبِ منیب لیے ہوئے اللہ کے ہاں پہنچنا ، یعنی مرتے دم تک ِانابَت کی روش پر قائم رہنا ۔

آیت ٣٥ لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ ۔ ” ان کے لیے اس میں وہ سب کچھ ہوگاجو وہ چاہیں گے ‘ اور ہمارے پاس مزید بھی بہت کچھ ہے ۔ “- قرآن کے مختلف مقامات پر جنت کی نعمتوں کا جو تعارف ملتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی نعمتوں کے تین درجے ہیں ۔ نفس انسانی کے بنیادی تقاضوں کی تسکین کا بھرپور سامان تو جنت میں پہلے سے موجود ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر شخص اپنی پسند ‘ ذوق اور خواہش کے مطابق جو کچھ طلب کرے گا وہ بھی اسے فراہم کیا جائے گا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی طلب اپنے ذوق اور معیار کے مطابق ہوگی۔ ایک سادہ لوح دیہاتی اپنی پسند کے مطابق کوئی چیز مانگے گا اور ایک حکیم و فلسفی اپنے ذوق کی تسکین چاہے گا۔ البتہ اس حوالے سے کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو کچھ بھی طلب نہیں کریں گے ‘ وہ لوگ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ (الکہف : ٢٨) کے مصداق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی رضا کے طالب ہوں گے۔ جیسے رابعہ بصری (رح) کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک مرتبہ جذب کے عالم میں ایک مشعل اور پانی کا لوٹا لیے گھر سے نکلیں ۔ لوگوں کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ میں اس آگ سے جنت کو جلانے نکلی ہوں اور اس پانی سے میں جہنم کی آگ کو بجھا دینا چاہتی ہوں تاکہ لوگ اللہ سے خالص اس کی ذات کے لیے محبت کریں نہ کہ جنت کے لالچ اور جہنم کے خوف کی وجہ سے اسے چاہیں۔ بہرحال جنت میں وہ لوگ بھی ہوں گے جنہیں اللہ کی رضا کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے ہوگا۔ جبکہ ان دو اقسام کے علاوہ تیسری قسم کی نعمتیں وہ ہوں گی جو انسانی تصور سے بالاتر ہیں اور آیت زیر مطالعہ کے الفاظ ” وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ“ میں انہی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ سورة السجدۃ میں جنت کی ان نعمتوں کا ذکر اس طرح ہوا ہے : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّــآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍج (آیت ١٧) ” پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان (اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے “۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی وضاحت ان الفاظ میں فرمائی ہے :- (قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ، فَاقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) (١)- ” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے (جنت میں) وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا گمان ہی گزرا۔ (پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ) اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : ” پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان (اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کررکھا گیا ہے۔ “

سوچ سمجھ کر بولا کریں

رب کی رحمت

اور جنت کو

 آیت ٣١ وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّـۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ۔ ” اور جنت قریب لائی جائے گی اہل تقویٰ کے لیے ‘ کچھ بھی دور نہیں ہوگی۔ “

آیت ٣٢ ہٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ ” (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جس کا وعدہ تم لوگوں سے کیا جاتا تھا “- لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ ۔ ” ہر اس شخص کے لیے جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا اور حفاظت کرنے والا ہو۔ “- یعنی اس امانت کی حفاظت کرنے والا جو ہم نے اس کے سپرد کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں جو روح پھونکی ہے وہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہے ‘ جیسا کہ سورة الاحزاب کی اس آیت سے واضح ہوتا ہے : اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط (آیت ٧٢) ” ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر تو ان سب نے انکار کردیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا “۔ چناچہ ” حَفِیْظ “ سے ایسا شخص مراد ہے جس نے اس امانت کا حق ادا کیا اور اپنی روح کو گناہ کی آلودگی سے محفوظ رکھا۔ سورة الشعراء میں ایسی محفوظ اور پاکیزہ روح کو ” قلب سلیم “ کا نام دیا گیا ہے : یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ۔ اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ۔ ” جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے۔ سوائے اس کے جو آئے اللہ کے پاس قلب ِسلیم لے کر “۔ اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورة الاحزاب کی آیت ٧٢ کی تشریح۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ

 آیت ٢٠ وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِط ذٰلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ ۔ ” اور صور میں پھونکا جائے گا ‘ یہ ہے وعدے کا دن “- پہلے انفرادی موت کی بات کی گئی تھی ۔ اب اس آیت میں پوری دنیا کی اجتماعی موت کا ذکر ہے۔ جب کسی شخص کو موت آتی ہے تو اس کے لیے تو گویا وہی قیامت ہے ۔ اس لیے انسان کی انفرادی موت کو قیامت ِصغریٰ اور تمام انسانوں کی اجتماعی موت کو قیامت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ چناچہ گزشتہ آیت میں قیامت صغریٰ کا بیان تھا ‘ اب یہاں قیامت کبریٰ کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے۔

آیت ٢١ وَجَآئَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّشَہِیْدٌ ۔ ” اور ہر جان آئے گی (اس حالت میں کہ) اس کے ساتھ ہوگا ایک دھکیلنے والا اور ایک گواہ۔ “- دنیا میں ہر انسان کے ساتھ جو دو فرشتے (کِرَامًا کَاتِبِیْنَ ) مامور ہیں وہی قیامت کے دن اسے لا کر اللہ کی عدالت میں پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک فرشتہ اس کا اعمال نامہ اٹھائے ہوئے ہوگا جب کہ دوسرا اسے عدالت کی طرف دھکیل رہا ہوگا۔

وجآء ت سکرۃ الموت

 آیت ١٩ وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّط اور بالآخر موت کی بےہوشی کا وقت آن پہنچا ہے حق کے ساتھ ۔ “- موت کا آنا تو قطعی اور برحق ہے ‘ اس سے کسی کو انکار نہیں۔ اللہ کے منکر تو بہت ہیں لیکن موت کا منکر کوئی نہیں۔- ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ ۔ ” یہی ہے نا وہ چیز جس سے تو بھاگا کرتا تھا “- اس بات کا انسان کی نفسیات کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہ ہر انسان کی نفسیاتی کمزوری ہے کہ موت کو برحق جانتے ہوئے بھی وہ اس کے تصور کو حتی الوسع اپنے ذہن سے دور رکھنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ وقتی طور پر اگر کسی عزیز کی موت اور تجہیز و تکفین کے موقع پر اپنی موت اور قبر کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آتا بھی ہے تو انسان فوری طور پر اس خیال کو ذہن سے جھٹک کر روز مرہ کے معمولات میں خود کو مصروف کرلیتا ہے۔

موت پر سب حقائق کا انکشاف :۔ اس کے دو مطلب ہیں یعنی موت، اس کی بےہوشیاں اور سختیاں تو وہ ان سب حقیقتوں کو ساتھ ہی لے آئیں جن کی انبیائے کرام (علیہم السلام) اطلاع دیتے رہے۔ موت کے ساتھ ہی اسے معلوم ہوجائے گا کہ جس محاسبہ اور برے انجام سے وہ ڈرایا کرتے تھے اس کا آغاز ہوگیا ہے۔ موت کا فرشتہ، دیکھتے ہی اس پر سب پیش آنے والی حقیقتیں ظاہر ہونے لگیں گی۔-حاد بمعنی سیدھے راستے سے پہلو تہی کرنا، کنی کترانا، سمت بدل لینا اور دور بھاگنا ہے۔ سیدھا راستہ پیغمبروں نے یہ بتایا تھا کہ تمہیں مر کر دوبارہ جی اٹھنا ہے اور تمہارا محاسبہ ہونے والا ہے۔ تو اس بارے میں مشکوک ضرور تھا۔ تیرے نزدیک دونوں احتمال موجود تھے۔ لیکن تیرا نفس یہی چاہتا تھا کہ تیرا محاسبہ نہ ہونا چاہئے لہذا تو طرح طرح کے اعتراض کرکے اپنے آپ کو مطمئن کرلیتا تھا اور سیدھے راستہ سے بہرحال بچنا چاہتا تھا۔

-  عائشہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آخری وقت کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دونوں ہاتھ اس میں ڈالتے اور انہیں چہرے پر پھیرتے جاتے تھے اور ساتھ یہ فرماتے تھے :(لا الہ الا اللہ، ان للموت سکراب) (بخاری، المغازی، باب مضر النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و وفاتہ : ٣٣٣٩)” لا الہ الا اللہ، یقینا موت کی بہت سختیاں ہیں۔ “بالحق : موت کی بےہوشی کے حق کو لے آنے کا مطلب یہ ہے کہ جان نکلنے کی سختی کے ساتھ ہی وہ حقیقت سامنے آجائے گی جس پر دنیا میں پردہ پڑا ہوا ہے اور آدمی آنکھوں سے دیکھ لے گا کہ رسولوں نے جو بات بتائی تھی وہ حق اور سچ تھی۔ - ذلک ما کنت منہ تحید :حاد یحید حیدۃ(باغ بیع) کسی چیز سے کنی کترانا، بچ کر نکلنا، دور بھاگنا۔ ہر انسان ہی طبعی طور پر موت سے بھاگتا ہے، مگر اس سے چارہ نہیں اور نہ ہی انسان کے سدا زندہ رہنے کی خواہش پوری ہوسکتی ہے۔

حاضر اور تیار

 آیت ١٨ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ ۔ ” وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا ہے مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔ “- یعنی کوئی انسان جو لفظ بھی اپنی زبان سے بولتا ہے متعلقہ فرشتہ اس کو فوراً ریکارڈ کرلیتا ہے اور ظاہر ہے فرشتوں کی یہ ریکارڈنگ بھی عالم امر کی چیز ہے ‘ اس لیے اس کی کیفیت بھی ہمارے تصور میں نہیں آسکتی۔ ریکارڈنگ کے شعبے میں گزشتہ چند دہائیوں میں انسانی سطح پر جو ترقی دیکھنے میں آئی ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب انسان کی ” ریکارڈنگ “ کا معیار یہ ہے اور اس معیار میں مزید ترقی بھی رکنے کا نام نہیں لے رہی تو اللہ کی قدرت سے جو ریکارڈنگ ہو رہی ہے اس کا معیار کیا ہوگا