اِنْفَطَرَتْ : فطر کے معنی کسی چیز کو لمبائی میں یوں پھاڑنا کہ اس میں شگاف پڑجائے اور فطور شگاف کے معنی میں آتا ہے۔ اس لحاظ سے انفطر کا معنی چِر جانا بھی درست ہے اور پھٹ جانا بھی۔ جو صورت بھی ہو اس سے آسمان میں شگاف پڑجائیں گے۔
انتثار کا لغوی مفہوم :۔ اِنْتَثرَتْ : نثر ہراس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز سے جھڑ کر پراگندہ ہوجائے۔ اور انتثار ناک جھاڑنے کو کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح ناک کی رطوبت کے اجزا نہایت بےترتیبی سے جھڑ کر زمین پر ادھر ادھر جا پڑتے ہیں بس یہی اس لفظ کا معنی ہے۔ نیز واضح رہے کہ یہ لفظ صرف غیر جاندار چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ستاروں کی آپس میں باہمی کشش ختم ہوجانے کی وجہ سے وہ نہایت بےترتیبی سے ادھر ادھر گرپڑیں گے۔
فُجِّرَتْ : فجر بمعنی کسی چیز کو وسیع پیمانے پر پھاڑنا اور فجر کو فجر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سارے افق پر نمودار ہوتی ہے اور فجر کے معنی پانی وغیرہ کو پھاڑ کر وسیع علاقے تک چلانا یا جاری کرنا۔ گویا سمندروں کو پھاڑ کر اس کے پانی کو دور دور علاقوں پر زمین میں بہا دیا جائے گا۔ پیچھے سورت التکویر میں سمندروں کے لیے سُجّرَتْ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی ان میں تلاطم بپا ہوجائے گا اور پانی باہر دور دور تک پھیل جائے گا۔ پھر یہی پانی گیسوں میں تبدیل ہو کر جلنے لگے گا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بہرحال یہ مختلف اوقات کی مختلف حالتیں مذکور ہوئی ہیں۔
بعثر کا لغوی مفہوم :۔ بُعْثِرَتْ ۔ بعثر دراصل دو لفظوں کا مرکب ہے۔ بعث اور عثر کا۔ بعث کا ایک معنی (زمین وغیرہ کا) کھودنا اورڈھونڈنا یا ڈھونڈھ نکالنا بھی ہے۔ اورعثر کے معنی کسی دوسری چیز کے دوران کسی اور چیز کا خود بخود ظاہر ہوجانا، کھل جانا یا سامنے آجانا۔ مطلب یہ ہے کہ جب قبروں کو الٹ پلٹ کیا اور کھودا جائے گا تو مردے خود بخود زمین سے باہر نکل پڑیں گے۔
آیت ٥ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ ۔ ” (اُس وقت) ہر جان ‘ جان لے گی کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ “- اس دن ہر شخص کو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس نے کیا کیا اچھے یا برے اعمال آگے بھیجے تھے اور ان کے آثار و نتائج کی شکل میں کیا کچھ وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا۔ اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورة القیامہ کی آیت ١٣ کے تحت بھی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو بتادیا جائے گا کہ اس نے کس شے کو آگے کیا تھا اور کس شے کو پیچھے رکھا تھا۔ یعنی دنیا اور آخرت میں سے اس نے کس کو مقدم رکھا تھا اور کس کو موخر کیا تھا۔ آیت کے اس مفہوم سے واضح ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کسی انسان کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار کلی طور پر اس ” طرزِعمل “ پر ہے جو وہ اپنی زندگی میں دنیا اور آخرت کے بارے میں اختیار کرتا ہے۔ یعنی انسان کا ایک طرزعمل یہ ہوسکتا ہے کہ میرا اصل مطلوب و مقصود تو آخرت ہے ‘ دنیا کا کیا ہے جو مل گیا وہی غنیمت ہے اور اگر کبھی نہ بھی ملے تب بھی کوئی بات نہیں۔ دوسرا ممکنہ رویہ یہ ہے کہ میرا اصل مقصود تو دنیا ہے ‘ اس کے ساتھ ساتھ اگر آخرت بھی مل جائے تو اچھا ہے ‘ چاہے وہ کسی کی سفارش سے مل جائے یا کسی اور حیلے سے۔ لیکن میری پہلی ترجیح بہرحال دنیا اور اس کا مال و متاع ہے ‘ اور زندگی میں میری ساری تگ و دو اسی کے لیے ہے۔

No comments:
Post a Comment